شیطان نے رہا ہونے سے انکار کردیا

786

جمعۃ الوداع سے پہلےرویت ہلال کے امورمیں عالمی شہرت کے حامل جناب پلپل ہلالزئی کو گفت و شنید کے ذریعےخصوصی طیارے کے ذریعے دبئی بلالیا گیا تھا۔ لیکن پریس ریلیزکی توثیق کے بعد اب ان کو وہیں روک لیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔ نمائندہ خصوصی۔ ۲۵ جون۔ شیطان کے ترجمان نے آج صبح  پریس ریلیزمیں اس خبرکی توثیق کردی ہے کہ شیطان نے رہا ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو یہ افواہ دو تین دن سے وائرل ہوگئی تھی کہ شیطان نے  آخری جمعہ کے موقع پر ٹویٹ پر رہا ہونے سے انکار کر دیا ہے ۔ عموماً شوال کے چاند کی رویت کے اعلان کے فوراً بعد  شیطان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہو سکا ۔ عرب ممالک میں تشویش ہے کہ اس سے عید الفطر مشکوک ہو گئی ہے ۔ پاکستان میں رویت کا اعلان باقی ہے اس لئے شبہ کیا جارہا ہے کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ جمعۃ الوداع  سے پہلےرویت ہلال  کے امورمیں عالمی شہرت کے حامل جناب پلپل ہلالزئی کو گفت و شنید کے ذریعےخصوصی طیارے کے ذریعے دبئی بلالیا گیا تھا۔ لیکن پریس ریلیزکی توثیق کے بعد اب ان کو وہیں روک لیا گیا ہے۔

نمائندہ خصوصی کو پریس ریلیز کی کاپی مل گئی ہے جس میں شیطان کے ترجمان نے بہت تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ شیطان نے رہائی سے انکار کیوں کیا ہے۔ اس بیان میں دو ہزار سترہ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ پتا چلا ہے کہ یہ پریس ریلیز عنقریب کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے گا۔ ہم ان میں سے چیدہ چیدہ وجوہات  کا خلاصہ بیان کریں گے۔ ان وجوہات میں سے اکثر کا انداز گلوں شکووں کا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیطان خود کو آج کی دنیا میں فالتو اور ناکارہ محسوس کر رہاہے۔

سیاسی وجوہات میں شیطان کو اس بات پر بے حد دکھ ہے کہ گناہوں، برائیوں، قتل و غارت اور دہشت گردی کے واقعات کا کریڈٹ شیطان کو نہیں دیا جارہا۔ ایک سازش کے تحت بعض ناعاقبت اندیش فوری طور پران کی ذمہ داری قبول کرکے شیطان سے غداری کرہے ہیں۔ حتیٰ    کہ پانامہ جیسے معاملات میں بھی شیطان کا نام نہیں لیا جارہا۔ سیاسی بے بصیرتی کے جوش میں مخالف سیاسی لیڈروں اور  یہود و ہنود   کو اس کا سہرا پہنایا جارہا ہے۔ پانامہ کا رشتہ نظریہ پاکستان سے جوڑا جارہاہے۔ دور کی کوڑیاں گھسیٹ کر لائی جارہی ہیں۔ شیطان کا نام لینے سے جان بوجھ کر گریز کیا جا رہا ہے۔

شیطان کو افسوس ہے کہ ٹرمپ جیسے لوگ جو اس کی آشیر باد سے حکمران بنے وہ بھی اس کا احسان نہیں مانتے۔ روس کا نام تو لیتے ہیں لیکن شیطان کا نام لینے سے کتراتے ہیں۔ پیسے مانگنے عربوں کے پاس جاتے ہیں۔ گھر میں بیٹھے بزرگ سے بات کرتے شرم آتی ہے۔ پریس ریلیز میں ان سب حکمرانوں کے ناموں کی لمبی فہرست شامل ہےجو ان کارناموں کو اپنے نام منسوب کرتے ہیں۔ شیطان کا کہنا ہے کہ اس طرح انہوں نے  اپنے کو خود کفیل اورشیطان کو فالتو چیز بنا دیا ہے۔ اس کے پاس کرنے کو کیا رہ گیا ہے۔ اس  کےلئے  قید اور رہائی برابر ہو گئے ہیں۔

شیطان کو سب سے زیادہ مسلمان والدین سے گلہ ہے۔ شیطان کو بے کار اور ناکارہ بنانے میں وہ سب سے پیش پیش ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی ایسے تربیت کر رہے ہیں  جیسے شیطان کی فوجوں میں بھرتی انہی کے ذمے ہے۔ بچے کی ذرا ذرا سی حرکتوں پر خوش ہوکر سب کو کہتے ہیں اس شیطان کو دیکھو ابھی سے بچیوں کو چھیڑتا ہے۔ جب وہ بڑا ہوکر یہی کچھ کرتا ہے تو شکایت کرتے ہیں کہ بچے ہمارا کہنا نہیں مانتے۔ جب وہ اور بڑے ہوکر والدین کو ایدھی کے حوالے کردیتے ہیں تب بھی خود کو کوستے ہیں۔ شیطان کے احسان مند نہیں ہوتے کہ جب انہوں نے ان بچوں کی تربیت سے ہاتھ اٹھا لیا تھا تو ان کی تربیت کا بوجھ کس نے اٹھایا۔ جب یہ بچے خود کش بمبار بنتے ہیں اور دہشت گردی کے کارنامے سرانجام دیتے ہیں ۔ اس وقت بھی منہ پھوڑ کے یہی کہتے ہیں کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ شیطان کا نام نہیں لے سکتے۔ ناشکرے ہیں کہ اپنی ذمہ داری بھی نہیں نبھاتے اورشیطان نے انہیں کسی قابل کیا تو اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔

شیطان کو اسی طرح کے شکوے تاجروں، استادوں، افسروں، اور جسمانی اور روحانی معالجوں سے بھی ہیں کہ وہ ہر کام میں جگاڑ لگاتے ہیں۔ شارٹ کٹ لیتے ہیں۔ ملاوٹ، منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، مہنگائی سارے شیطانی کام کرتے ہیں لیکن مجال ہے جو شیطان کا نام لیں۔ دکان پر کتبہ لگواتے ہیں رزق دینے والا اللہ ہے۔ مکان پر لکھواتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے فضل سے ہے۔

شیطان نے سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوے مطالبہ کیا ہے کہ اسے قید میں ہی رہنے دیا جائے۔

توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد او آئی سی کا اجلاس بلا کر شیطان کو زبردستی رہا کرنے کے امکانات پر غور کیا جائے۔ پانامہ زدگان کی ایسوسی ایشن نے جو اسی سال چاند پر منتقل ہوے ہیں او آئی سی مطالبہ کیا ہے کہ شیطان کو چاند پر قید کر دیا جائے۔ جہاں اسے وی آئی پی سٹیٹس دیا جائے گا۔ قید کے دوران اسے پانامہ زدگان کے مشیر کا تا حیات  پورٹ فولیو دیا جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...