ڈاکٹر طارق رحمان، جنوبی ایشیا میں جہاد کی تعبیر کی علمیاتی تاریخ، بوسٹن: ڈی خروئٹر،2018

تبصرہ: ڈاکٹر خالد مسعود

پاکستان میں لسانیات کے حوالے سے ڈاکٹر طارق رحمان ایک معتبر نام ہے۔ آپ سماجی لسانیات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان میں ”پاکستان میں انگریزی ادب کی تاریخ” (1991)، ”پاکستان کی لسانی سیاست” (1996) اور ”زبان، نظریہ اور اقتدار: پاکستان اور شمالی ہندوستان میں زبان کی تعلیم” (2002)، ”ہندی سے اردو تک: سماجی اور سیاسی تاریخ” (2011) آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہیں۔ ”جنوبی ایشیا میں جہاد کی تعبیر کی علمیاتی تاریخ” ان کی تازہ تصنیف ہے جو امریکہ کی معروف یونیورسٹی پرنسٹن اور ڈی خروئٹرکے اشتراک سے شائع ہوئی ہے۔ یہ اشتراک اعلی معیار کی علمی تحقیقات کو عالمی سطح پرمتعارف کرانے کے لیے قائم ہوا ہے۔
طارق رحمان کی یہ کتاب اسلام اور جہاد کے بارے میں تحقیقی نگارشات میں نہایت وقیع اضافہ ہے۔ کتاب کے عنوان میں شامل الفاظ ”علمیاتی تاریخ”(انٹلیکچوئل ہسٹری) تجزیاتی تاریخ میں ایک نئے رجحان کی عکاسی کر رہے ہیں۔ مصنف کی وضاحت کے مطابق یہ کتاب جہاد کی کلامی اور فقہی تعبیر سے ہٹ کر ان علمیاتی بنیادوں کی دریافت کے لیے لکھی گئی ہے جو کلامی اور فقہی تعبیرات کا اصل تاریخی سیاق ہیں۔ اس سیاق میں جدیدیت اور روایت کے مابین سیاسی کش مکش، اور اسلامی ریاست اور جہاد کے لازم و ملزوم ہونے کے نظریے کی ابتدا اور نشو و نما شامل ہیں۔ علمیاتی زاویے سے تاریخ نویس سماجی اور سیاسی واقعات کی بجائے ان افکار اور نظریات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے جن کی روشنی میں ان واقعات کو دیکھا اور سمجھا جاتا ہے اور جو اس کی تشریح اور تعبیر کا رخ طے کرتے ہیں۔ اس تاریخ کے مصادر میں متن کی عبارتوں، اور ان کی تعبیر اور تفسیر کے وہ قواعد شامل ہیں جو متکلمین اور فقہا وضع کرتے ہیں۔ مثلاً دہشت گردی کی تاریخ نگاری کا ایک اسلوب یہ ہے کہ مصنف صرف حالات اور واقعات بیان کرے۔ دوسرا یہ ہے کہ وہ ان کا تجزیہ کرتے ہو ئے ان کے ا سباب اور نتائج تلاش کرے۔ تیسرا انداز یہ ہے کہ ان واقعات کے قانونی اور سیاسی جواز یا عدم جواز کا ثبوت لائے۔ علمیاتی تاریخ ان تمام اسالیب سے ہٹ کر اس جواز و عدم جواز کے پس منظر میں موجود نظریاتی اور فکری مسلمات کے تجزیے کا نام ہے۔ علمیاتی تاریخی اسلوب کی اہم مثالوں میں منٹگمری واٹ، ”اسلام اور معاشرتی انضمام”(ن،1968 (، ڈینیل براون، ”جدید اسلامی فکر میں روایت کی نئی تفہیم ” (1996)، محمد قاسم زمان، ”انتہا پسندی کے دور میں جدید فکر اسلامی: مذہبی استناد اور اندرونی انتقاد” (2012) شامل ہیں۔
یہ کتاب اسلامی روایت میں جہاد کی ان تعبیرات کا تاریخی تجزیہ پیش کرتی ہے جو اٹھارہویں صدی سے لے کر آج تک زیر بحث رہی ہیں۔ تاریخی سیاق و سباق کی اہمیت کے اعتبار سے ان چار صدیوں کو سات زمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان کا عہد، استعماری جدیدیت کا دور، استعمار کے خلاف جہادی مزاحمت کا زمانہ، مولانا مودودی کا عہد، انتہا پسند تعبیروں کی پاکستان میں درآمد کا دور، پاکستان میں انتہا پسندوں کا عروج، اور انتہا پسندوں کے خلاف ردعمل کا دور۔ کتاب کے آخر میں کتابیات، اصطلاحات اور اشاریے کے علاوہ تین ضمیمے بھی شامل ہیں جن میں جہاد سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث اور ان کی بدلتی تعبیرات کے چارٹ کی شکل میں خلاصے دیے گئے ہیں۔
مصنف نے جہاد کی تعبیرات کے تجزیے میں چھ پہلؤوں کو پیش نظر رکھا ہے۔ 1۔ جہاد کی اہم تعبیرات۔2۔ جہاد کے تعلق سے دارالحرب کے مفہوم پر مباحث۔3۔ جہاد کی روایتی اور جدید تعبیرات کے امتیازی پہلو۔4۔ جہادی گروہوں کی تعبیرات۔ 5۔ تاریخی نظائر۔ 6۔ جہاد کے موضوع پر مغربی فکر کے تجزیاتی مطالعات۔ دوسرے باب میں تعبیر اور تفسیر کے میدان میں جدید دور میں ”ہرمینیوٹکس” کے عنوان سے جو نئی علمیات وجود میں آئی ہے اس کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس علمیات کا مقصد بیان کرتے ہوے لکھا ہے کہ یہ متن اور عبارت کی بھر پور تعبیر کے عمل کی تفہیم کا نام ہے۔ تعبیر میں تعصب اور تاریخی سیاق کی روایت کے اثرات سے انکارنہیں۔ لیکن اس ضمن میں ان کا مفہوم مختلف ہے۔ تعصب سے مراد وہ رجحان ہے جس کی روسے افکار اور متون کی تعبیر کسی مخصوص نظریاتی زاویے سے کی جاتی ہے۔ اور روایت وہ افق ہے جس سے تاریخ کو وابستہ رکھا جاتا ہے۔ افق کا مطلب وہ حد نظر ہے جو مخصوص نظریاتی مسلمات کی مد د سے متعین ہوتی ہے۔
جدیدیت اور روایت کے مابین کش مکش کے دوران جدید تعبیرات کے رجحانات روایت کی تین خصوصیات کی تردید کرتے ہیں: توہمات، معجزات اور جمود۔ اس کے نتیجے میں تین علمیاتی اصول سامنے آئے ہیں۔1۔ نظریاتی مسلمات کی لازمی حیثیت۔2۔ تاکید۔3۔ تحدید۔ انہی اصولوں کی روشنی میں جہاد کے دفاعی ہونے کا نظریہ وجود میں آیا۔
تیسرے، چوتھے اور پانچویں باب میں جہاد کے نظریے میں بتدریج تبدیلیوں کا جائزہ ملتا ہے۔ تیرہویں سے سولہویں صدی تک بر صغیر کے مسلم حکمرانوں نے جہاد کواپنے اقتدار کے جواز کی سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ تاہم یہ اصطلاح صرف ہندؤوں کے خلاف جنگوں کے لیے مخصوص رہی۔ جہاد فرض کفایہ اور حکمرانوں کا حق اور فریضہ رہا۔ شاہ ولی اللہ کے عہد تک علما نے خود ہتھیار اٹھانے کی بات نہیں کی۔ ہمسایہ مسلم حکمرانوں کو ہی جہاد کی دعوت دی۔ مصنف نے اس دعوے کا بھی جائزہ لیا ہے کہ ولی اللہی خاندان میں شاہ عبد العزیز اور سید احمد شہید نے شاہ صاحب کی روایت سے ہٹ کر جہادکی دعوت دی۔ پانچویں باب میں استعماری دور میں یہ سوال کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا یا دعوت و تبلیغ کے پر امن طریقے سے، دراصل ولیم میور اور دوسرے یورپی اور مقامی غیر مسلم مورخین نے اٹھایا تھا۔ آرنلڈ، شبلی نعمانی اور متعدد تاریخ نویسوں سے دعوت اور تبلیغ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ اسلام تلوار سے پھیلا۔ یوں جہاد کے دفاعی ہونے کی ایک نئی تعبیر نے زور پکڑا۔ شاہ ولی اللہ کے زمانے تک جہاد کے دفاعی اور اقدامی دونوں نظریات موجود رہے۔ استعماری دور کے مخصوص سیاق میں جہاد کی تعبیر میں روایت سے ہٹ کر تین موقف سامنے آئے۔ ایک مرزا غلام احمد کی تعبیر تھی کہ اس دور میں جہاد کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔ دوسر ی تعبیر دیوبندی اور بہت سے جمہور علما کی تھی کہ جہاداستعمار کے خلاف جنگ ہے۔ استعمار کے خلاف جنگ کا موقف غیر مسلم لوگوں میں بھی مقبول تھا۔ اس موقف کے قائل بعض گروہ انفرادی مسلح جدو جہد پر زور دیتے تھے۔ تیسرا موقف سرسید اور ان کے مکتب فکر کا تھا جو تاریخ اسلام میں بھی جہاد کو دفاعی مانتے تھے۔ اور برطانوی دور میں تو دفاعی جہاد کی بجائے جدید نظام میں شامل ہوکر مسلمانوں کی ترقی پر زور دیتے تھے۔ سرسید نے جدید علم الکلام کی ضرورت پر زور دیا اور اس کی روسے تفسیر کے جدید اصول بھی ترتیب دیے۔ قرآن کریم میں ناسخ اور منسوخ کی علمی بحث بھی اب روایتی تعبیرمیں نسخ کے اصول پر نظر ثانی کی قائل تھی۔
مکتب ولی اللہی کے علمیاتی نظریے کے تحت منسوخ آیات کی تعداد صر ف پانچ رہ گئی تھی۔ مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے تلامذہ ان پانچ آیات کے بھی منسوخ ہونے کے قائل نہیں تھے۔ نسخ کی بحث نے جہاد کے حوالے سے بھی یہ نکتہ اٹھایا کہ جو قرآنی احکام زمان و مکان سے مشروط ہیں ان کو غیر مشروط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سورہ توبہ میں ان غیر مسلموں سے جنگ کی اجازت نہیں دی گئی جن سے مسلمانوں نے جنگ نہ کرنے کے معاہدے کیے ہوے ہیں۔ تاہم مسلم دنیا میں استعمار کے خلاف جنگ کا تصور بتدریج مقبول ہوتا گیا اورسرسید کے مقابلے میں جمال الدین افغانی کی جہاد کی جدید تعبیر کوجنوبی ایشیا میں بھی قبول عام حاصل ہو گیا جو عالمی خلافت کی بحالی کے لیے جہاد کو ضروری سمجھتے تھے۔
چھٹے اور ساتویں باب میں جہاد اور اسلام کے احیا کی پانچ تحریکوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں بنگال میں فرائضی تحریک، شمالی ہند میں تحریک مجاہدین، ریشمی رومال ، تحریک خلافت اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔ یہ تحریکیں زیادہ تربرطانوی استعمار کے خلاف تھیں۔ ساتویں باب کو’ عہد مولانا مودودی’ کا عنوان دے کر’ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاد کی تعبیر اور اس کی بنیاد پر سب سے زیادہ موثر تحریک بننے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ان پانچ تحریکوں کے اہداف مختلف تھے۔ اس پس منظر میں جہاد کی مختلف تعبیریں اور جواز زیر بحث آئے۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد خلافت کے بحالی کے لیے جہاد لازم ٹھہرایا گیا تو عالمگیر جنگوں کے بعد آزادی اور قومی و اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ شروع میں پہلے کی طرح بیرونی طاقتوں سے مدد کا جواز بھی فراہم کیا گیا، سلطان ٹیپو نے فرانس سے مدد اور ریشمی رومال میں جرمنی اور روس سے جہادی روابط قائم کیے گئے۔ ان تحریکوں نے جہاد کوقتال کی روایت سے نکال کر غیر ریاستی، انفرادی اور گوریلا لڑائی اور انقلاب کی مسلح شکلوں کو جہاد کا تصور دیا اور اس کیلیے ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے افکار سے جواز فراہم کیے۔
مولانا مودودی جدید عہد، بیسویں صدی کے سب سے زیادہ موثر مسلم مفکر تھے۔ ان کی جہاد کی تعبیر روایتی فکر سے مختلف تھی ۔وہ اسے انقلاب کا راستہ تو سمجھتے تھے لیکن انقلاب کیلیے سیاسی جد وجہد کا راستہ اختیار کرنے کے قائل تھے۔ ہمعصروں کے ساتھ اس موضوع پر جو علمی مکالمے ہوئے اس میں جہاد کے بارے میں تین آرا سامنے آئیں: 1۔ جہاد کفر کی مخالفت ہے۔2۔ جہاد کافروں کے خلاف جنگ کا نام ہے۔3۔ جہاد دفاعی ہے۔ مولانا مودوددی کے نزدیک غیر صالح مسلم حکمران بھی طاغوت شمار ہوتے ہیں اور اگر استطاعت ہو تو انکے خلاف جہاد ضروری ہو جاتا ہے۔ولی رضا نصر کی رائے میں مولانا مودودی نے جہاد کو احیائے اسلام سے جوڑ کر مسلمانوں کو ایک نئی عالمی شناخت دی اور مغرب کی جاری بالا دستی کے جواب میں عالمگیر جہاد کی تعبیر کو رواج دیا۔
عالمگیر جہاد کا یہ تصور ان جہادی تحریکوں میں مقبول ہوا جو کشمیر، فلسطین اور شیشان میں مسلمانوں پر ظلم کے خلاف جاری تھیں۔ انہوں نے اس تعبیر کو آگے بڑھاتے ہوے امام کے بغیر جہاد، عام شہریوں کے قتل اور خود کش حملوں کو بھی جائز قرار دیا۔ اس سے تکفیر، خروج اور دہشت کی کلامی بحثیں جہاد کی تعبیر میں شامل ہوگئیں۔ ان مباحث میں اختلاف کی کثرت کی وجہ سے ابہام پھیلا۔ پاکستان میں اس صورت حال کی وجہ سے ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت پیدا ہوئی۔ بہت سے علما اور اداروں نے اس بیانیے کی تشکیل اور جہاد میں تعبیرات کے اختلاف کو پر امن بقائے باہمی میں بدلنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے مصنف نے آخری تین ابواب میں ان کا بھر پور تجزیہ پیش کیا ہے۔
آخری باب میں ان تجزیات کا خلاصہ دیا ہے کہ جہاد کی روایتی تعبیروں میں جہاد کے دفاعی اور اقدامی دونوں صورتوں کو جائز قرار دیا جاتا رہا۔ آزادی کے بعد قومی ریاستوں میں غیر مسلم آبادی اور عالمی سطح پر غیر مسلم ریاستوں سے تعلقات کے پہلو سے جہاد کی تعبیر میں جنگ اور امن کے سوال پر نظر ثانی کی بحث چھڑی۔ جہادی گروہوں نے
آیات السیف اور احادیث السیف کے حوالے سے غیر مسلموں کے ساتھ ابدی امن کے تعلقات کو شرعی لحاظ سے ناممکن قراردیا۔دوسروں نے ان آیات اور احادیث میں مذکور احکام کو مشروط بتایا تو جہاد کی تعبیر میں تین رجحانات سامنے آئے: ایک رجحان ابن کثیر کی تفسیر کی بنیاد پر جہاد کی روایتی تفسیر پر زور دیتا تھا۔ جنوبی ایشیا میں جہاد کی احیائی تفسیر یعنی غلبہ اسلام کے لیے عالمی جہاد کی تفسیر مقبول ہوئی۔ تیسرا رجحان مسلح جہاد کی تعبیر کا شدت سے قائل تھا۔ اس کے مقابلے میں جدیدیت پسند فکر نئے عالمی نظام کے حوالے سے نظریہ امن اور بین الاقوامی معاہدات کو بنیادی اصول قرار دیتی تھی۔ قرآن میں جہاد کے احکامات میں وہ امن کو اصل الاصول مانتی تھی۔
جہاد کے موضوع پر گذشتہ ادوار میں زیادہ تر تاریخ، فقہ اور قانون کے زاویے سے لکھا گیا۔پچھلے چند سالوں میں جہاد کی عالمگیریت اور بین الاقوامی قوانین کے تعلق سے پیدا ہونے والے سوالات اٹھے تو متعدد تفصیلی مطالعے اور تجزیات شائع ہوے ہیں۔ان میں علامہ یوسف القرضاوی کی کتاب” فقہ الجہاد”(2015)فقہی اور استدلالی پہلو سے نہایت جامع مطالعہ شمار کی جاتی ہے۔اکیسویں صدی میں جہاد کا موضوع زیادہ وسیع ہوگیااور بہت سے نئے زاویے اور نئے سوالات سامنے آئے تو اس کی تاریخ، تصورات، مذہبیات، تعبیرات، محرکات اور آج کے دور میں اس کی تفہیم کی ضرورت بھی بحث و تحقیق کا عنوان بنے۔حالیہ تصنیفات میں نظریہ جہاد کی تاریخ پر رچرڈ بونی کی ” جہاد: قرآن سے بن لادن تک ”(2004)، مائیکل بونر کی ”جہاد کی اسلامی تاریخ: احکام اور عمل” (2006)، جہاد کی سرگرمیوں پر عائشہ جلال کی ” خدا کے حامی” (2008)، اسما افسرالدین کی ”جہاد فی سبیل اللہ: فکر اسلامی میں جہاد اور شہادت” (2013) اور ثمینہ یاسمین کی ” جہاد اور دعوہ” (2017) قابل ذکر ہیں۔ان کتابوں نے مزید سوالات اٹھائے۔
جدید مطالعات میں جہاد کے تعبیری اختلافات کو اقتدار کی تقسیم، منقسم اجتہاد ) فریگمنٹیشن آف اتھارٹی( کا مظہر بتا یا گیا ہے۔ جو دراصل علما کے حلقوں میں دینی اقتدار کی تعریف کے بارے اختلافات ہیں۔محمد قاسم زمان )”انتہا پسندی کے دور میں اسلامی فکر: دینی اقتدار اور داخلی تنقید”، 2012 ( نے دینی قیادت کے تناظر میں ان اختلافات کا جائزہ لیتے ہوے بتایا ہے کہ یہ دینی قیادت کے سوال پر تقسیم کا مسئلہ نہیں ہے۔ دراصل اسلامی روایت میں متن اور تواتر کے اصول پر بحث ہے۔ عزیز العزمہ) ” کئی اسلام اور کئی جدیدیتیں ”، (1993نے اسے اسلام میں تنوع کا ظہور قرار دیا ہے۔ جس کی وجہ سے متعدد اسلام اور متعدد جدیدیتیں سامنے آئی ہیں۔ شہاب احمد ”) اسلام کیا ہے؟ اسلامی ہونے کی اہمیت”،2016 ( کے نزدیک یہ ایک نیا سماجی دینی رویہ ہے جسے وہ ”اسلامی ہونے” )بی انگ مسلم( کا نام دیتے ہیں۔ مسلمان اجتماعی حیثیت میں اسلام سے جڑے رہنے کے عمل میں متن کی تعبیر کا جو طریقہ اختیار کرتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے شہاب احمد متن کی تفہیم میں تین مدارج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک متن کی تدوین سے پہلے کا درجہ ہے۔ دوسرا متن اور تیسرا ہم متن ہے۔ قبل متن کا پس منظر اور سیاق عقلی، صوفی ، علم غیب اور دوسری روایات ہیں۔ جو متن تو نہیں لیکن متن کی مادی تشکیل کے پس منظرمیں شامل ہیں۔متن سے مراد وہ نصوص ہیں جو وحی کی بنا پر قطعی قرار پائیں۔ ہم متن کے درجے میں تاریخ اور تعامل وغیرہ داخل ہیں۔” تعبیرات اسلامی” سے مراد ایسے معانی کی دریافت ہے جس میں متن کے تینوں درجے شامل ہیں۔ اس تعبیر کی روسے تشدد کی اسلامی تشکیل سے مراد تشدد سمیت مسلمانوں کا ہر وہ فعل ہے جو ان کی نظر میں اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔
کونسی تعبیر کب اور کیسے مقبول ہوتی ہے ؟ جہاد کی تعبیرات کے تفصیلی تجزیے سے مصنف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ بعض مخصوص تاریخی واقعات ہیں جن کے پس منظر میں یہ تعبیرات جواز کے طور پر پیش کی گئیں۔ ہماری رائے میں جہاد کے بارے میں حالیہ مطالعات میں ڈاکٹر طارق رحمان کی یہ کتاب دو لحاظ سے بے حد اہم ہے۔ ایک تو جہاد کے موضوع نے جدید دور میں انسانی فکر کو وسعت دینے میں جو کردار ادا کیا ہے اس کا تقاضا تھا کہ اس کی علمیات پر بھی بات ہو۔ اس کتاب میں جس عرق ریزی اور تفصیل سے بر صغیر میں تاریخی، لسانی اور فکری پہلوؤں سے جہاد کی علمیات کا تجزیہ پیش کیا ہے وہ جہاد کی تفہیم میں قابل قدر اضافہ ہے۔انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سماجی اور مذہبی رویے کے علاوہ علمیاتی اور فکری مسئلے کی حیثیت سے مطالعہ بھی ضروری ہے۔
اس کتاب کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ یہ تعبیرات کس حد تک اور کیسے انسانی رویے پر اثر انداز ہوتی ہیں؟ تاہم مصنف نے یہ کہتے ہوے کہ یہ سوال اس کتاب کا موضوع نہیں اس سوال کے جواب کی علمی بنیادوں پرتلاش کی دعوت دی ہے۔ تعبیرات خود بخود مقبول نہیں ہوتیں۔ ان کی قبولیت کے لیے سماجی ماحول بنایا جاتا ہے۔ سماجی ماحول ہی کسی تعبیر کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنا کر اسے حقیقت اور واقعیت کا رنگ دیتا ہے اور قبولیت کی راہ ہموار کرتا ہے۔جہادی تحریکیں بیانیے کے ذریعے جواز اور تربیت اور مشقوں کے تکرار کے ذریعے اسے عادت، طبیعت اور مزاج کا حصہ بناتی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...