سماجی ہم آہنگی ،مذہبی رواداری اور تعلیم

کالجز اور جامعات کے اساتذہ کے ساتھ مکالماتی نشست

8,062
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز 2006ء سے معاشرے میں عدم برداشت ، قیام امن، انتہا پسندی کے خاتمے جیسے موضوعات پر مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔اس سال بھی کالج اور یونیورسٹی اساتذہ کے ساتھ ’’سماجی ہم آہنگی مذہبی رواداری اور تعلیم ‘‘کے موضوع پر 28اور 29اکتوبر 2018ء کو ایک دوروزہ ورکشاپ اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔ورکشاپ کا آغا ز محمد اسماعیل خان نے موضوع کے تعارف سے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے دس مکالمے کئے جن کے بعد سامنے آنے والی تجاویز کو’’ محفوظ اور ہم آہنگ پاکستان ‘‘کے نام سے شائع کیا گیا۔پاکستان مذاہب اور نسلوں کے حوالے سے ایک متنوع ملک ہے یہاں شدت پسندی کی وجوہات کئی ایک ہیں تاہم تعلیم اور انتہا پسندی کا باہمی تعلق بھی ہے اس حوالے سے اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہے۔
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے اپنی افتتاحی خطاب میں کہا کہ مکالمے کی بنیادیں ہماری تہذیب ،معاشرت اور مذہب میں موجود ہیں آج کی دنیا گلوبل ویلج ہے جہاں ممالک اپنے رویوں اور سماج سے پہچانے جاتے ہیں ۔بڑی حد تک معاشی اشاریئے بھی سماجی انڈیکس کے اتار چڑھاؤ کے محتاج ہوتے ہیں جہاں سماجی ہم آہنگی اور گڈ گورننس ہو گی وہاں معاشی استحکام بھی ہو گا آج ہیومن انڈیکس میں ہمارا نمبر 150واں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ہاں شہری آزادیوں کی صورتحال کیا ہے ؟
اس موقع پر اساتذہ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے مندرجہ ذیل امور کی نشاندہی کی :
۱۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں تو برداشت موجود ہے مگر باہم مسالک میں یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے ۔
۲۔ جب لوگ مکالمہ نہیں کرتے تو تشدد پر اتر آتے ہیں ۔
۳۔ ہمارا ورلڈ ویو محدود ہے اور ایک طرح کی نرگسیت کا شکار ہیں۔
۴۔ اساتذہ ،والدین اور مساجد کے امام طلبا ء کے اندر سماجی شعور پیدا نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں ۔
۵۔ ہمارا مجموعی رویہ اختلاف رائے کا حق دیتا ہی نہیں جس کی وجہ سے ہم مکالمے کی برکات بھی نہیں سمیٹتے ۔
۶۔ پاکستان کی آزادی اور جنگوں میں اقلیتوں کا اہم کردار ہے مگر یہ نصاب کا حصہ نہیں ہے ۔
تجاویز :
۱۔ 1973ء کے آئین میں مسلمان کی تعریف کی گئی ہے ا س لئے کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانے کی ممانعت ہونی چاہئے۔
۲۔ معاشی تفاوت بھی انتہا پسندی کی وجہ ہے ا س لئے حکومت اپنی توجہ غربت کے خاتمے پر مرکوز کرے ۔
۳۔ مذاہب اور مسالک کے مشترکات کو نصاب میں شامل کیا جائے اور علماء سماجی رواداری کا چارٹر بنائیں ۔
۴۔ ملکی سطح پر یکساں نصاب ہو ۔
دوسرے سیشن کا عنوان’’ شدت پسندی ایک فکری چیلنج ‘‘تھا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کی ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ تنوع ایک خوبصورتی ہے مگر ہم اسے ختم کرنے پر تلے ہیں جس کے پیچھے ہماری سوچ مقابلے اور غلبے کی ہے مگر جدید ریاست کے ادارے کو ہم سمجھ نہیں پا رہے یہ طے کرتی ہے کہ وہا ں تعلیم کیا ہو گی ،افراد کو باہمی تعلق کس نوع کو ہو گا ؟ہم جدید ریاست کے باشندے تو ہیں مگر ا س کے لوازمات سے عاری ہیں ۔عدم رواداری کی سماجی ، مذہبی اور فکری وجوہات ہیں ۔جب بھی اسلام کی تاریخ پڑھائی جاتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ قبل از اسلام کا دور جاہلیت کا تھا ۔حالانکہ ایسا نہیں تھا اور قرآن بھی غلو سے منع کرتا ہے اور کہتا ہے پہلی امتوں نے دین میں غلو کر لیا تھا اور وہ سیدھے راستے سے ہٹ گئے تھے ۔جب غلو آیا توہم بھی تکفیر کی طرف چلے گئے ۔پھر ہم نے ایسی احادیث کا سہارا لیا جن کی روایتیں کمزور ہیں مثلاً رسولِ اکرم ؐ نے فرمایا کہ آخری عمر میں تم بنی اسرائیل کی طرح ہو جاؤ گے ،بنی اسرائیل میں 72فرقے ہیں تم میں 73ہوں گے اور جنت میں صرف ایک جائے گا۔ ترمذی کے مطابق یہ حدیث مشہور نہیں ہے۔ پھر مسئلہ اس وقت ہوا جب ہم نے جہاد کی روح کو فراموش کر کے فتوحات شروع کیں ۔اسلام اگر دوسری ثقافتوں کو تسلیم نہ کرتا تو شاید عربوں تک ہی محدود ہوتا ۔ڈاکٹر خالد مسعود نے اساتذہ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذہب کے لئے ریاست کی ضرورت ہوتی تو قرآن میں اس کے لئے تفصیلی احکامات آتے اور رسول ؐ بھی ہدایات دیتے ۔اسلامی ریاست کا تصور یہ ہے کہ اللہ کی حاکمیت اور شریعت کی برتری ،اسی پر 1973ء کا دستور استوار ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل نے اس دستور کا جائزہ 1997ء میں دیا تھا کہ صرف پانچ فی صد قوانین ایسے ہیں جو قرآن و سنت کے منافی ہیں ۔ ہمارے مسئلے آئین میں حل ہو چکے ہیں مگر چونہ ہمارا اختلاف علمی اور فکری نہیں بلکہ صحیح معنوں میں اقتدار کا ہے ۔ علماء حضرات کہتے ہیں کہ پاکستان کے قوانین اسلامی ہونے چاہئیں یہ ضروری نہیں کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف نہ ہوں ۔علماء کے نزدیک اسلامی قانون وہ ہے جو فقہ کے مطابق ہو اگر فقہ میں عورت کو طلاق کا حق نہیں تو نہیں دے سکتے ۔اسی طرح حدود میں ساری ایسی باتیں ہیں جن کا قانونِ شہادت سے ٹکراؤ ہے مثلاً زنا اور زنا بالجبر میں کوئی فرق نہیں ہے اس لئے جو خواتین کیس کرتی ہیں انہیں خود بھی جیل جانا پڑتا ہے۔
معاشرے میں عدم برداشت میں میڈیا کے کرادر پر اظہار خیال کرتے ہوئے حارث خلیق نے کہا کہ کچھ مسائل تو تمام مسلم معاشروں کے ہیں مگر کچھ ایسے ہیں جو صرف پاکستانی معاشرے کا خاصا ہیں اسی طرح بعض مسائل کو تعلق نو آبادیاتی دور سے ہے ،پاکستانی ریاست پر اشرافیہ کا غلبہ ہے اس لئے ایک خاص قسم کی ریاست نظر آتی ہے جو سماج کو تقسیم رکھنا چاہتی ہے ۔پھر مسلم معاشروں میں احیائے علوم نہیں ہوا پچھلے پانچ سوسال میں جن علوم میں ترقی ہوئی ان میں مسلمانوں کاکوئی حصہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا پاکستان میں جب سے میڈیا کا انقلاب آیا ہے اس کے بعد شدت پسندی میں زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ پہلے صرف لکھا ہوا پڑھنے کو ملتا تھا اور لکھنے والے لوگ فکری اور ادبی تحریکوں سے جڑے ہوئے تھے ۔پھر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا آ گئے جو سماج کا عکس ہیں چنانچہ ان میں جیسا سماج ہوتا ہے ویسا نظر آتا ہے ۔شدت پسند رویئے میڈیا کے ذریعے پھیلتے ہیں ت ومزید شدت پسندی پروان چڑھتی ہے ۔
پاکستان میں غیر مسلموں کے مسائل پر کالم نگار اور ماہر انسانی حقوق پیٹر جیکب نے اظہار خیال کیا انہوں نے کہا کہ غیرمسلم ترقی کے انڈیکس میں مسلمانوں سے بھی پیچھے ہیں پاکستان کے بچوں میں اموات کی مجموعی شرح سے غیر مسلموں کے بچوں میں ہونے والی شرح اموات دو فیصد زیادہ ہیں ان میں بیروزگاری کا تناسب بھی زیادہ ہے ۔توہینِ رسالت کا قانون ان کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے لوگ ذاتی رنجشیں بھی اسی قانون کے تحت مٹاتے ہیں ۔1987ء سے لے کر اب تک اس قانون کے تحت 1135کیس رجسٹر ہوئے جن میں سے 750مسلمانوں کے خلاف تھے ۔پیٹر جیکب نے کہا کہ غیر مسلموں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کئے جائیں ۔سپریم کورٹ کے حکم کے تحت نیشنل کونسل فار مینارٹیز قائم کی جائے اور اقلیتوں کو قومی دھارے کا حصہ بنایاجائے ۔
نامور کالم نگار اور اینکر خورشید ندیم نے ’’آئینِ پاکستانِ سے پیغامِ پاکستان تک ‘‘ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ایک عمرانی معاہدہ ہے جبکہ پیغامِ پاکستان ایک بیانیہ ہے ۔علماء اور دینی مفکرین کو جمع کر کے ایک دستاویز پر دستخط لئے گئے ۔بیس نکات کی روشنی میں مستقبل کا تعین کر دیا گیا ہے ۔اسے ریاست اور سماج کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے ۔1973ء کا آئین جس بیانئے پر کھڑا ہے
؂وہ قرار دادِ مقاصد ہے کیونکہ پاکستان بننے کے بعد ہمارے پاس متعین اہداف نہیں تھے ۔تحریکِ پاکستان کا بیانیہ مسلم اقلیت کا بیانیہ تھا جو پاکستان بننے کے بعد اکثریت بن گئی ۔اس لئے آئین سازی کا عمل التوا کاشکار رہا ۔بعض لوگ اٹھ کھڑے ہوئے کہ اسلام ہی بنیادی بیانیہ ہونا چاہئے لیکن یہاں کئی مکاتب فکر تھے جس کی وجہ سے قرار دادِ مقاصد آئی جسے قومی بیانئے قرار دے کر قبول کر لیا گیا ۔1973ء کے آئین میں آپ نے اسلام کو ریاست کا دین قرار دے دیا جبکہ یہ نیشن سٹیٹ کی روح کے خلاف تھاکیونکہ نیشن سٹیٹ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ وہ لبرل جمہوری روایات پر کھڑی ہوتی ہے ۔لیکن آپ نے ریاست کا مذہبی فریم ورک بنانے کی کوشش کی ۔آپ نے اپنی جنگوں کو جہاد کا نام دیا ۔جب یہ سب کچھ ہو گیا تو اگلہ مرحلہ اقلیتوں کا آیا آپ نے طے کردیا کہ صدر اور وزیر اعظم غیر مسلم نہیں ہو سکتے ۔اسی طرح جب آپ نے سرحدوں سے باہر جہاد کے نام پر جنگیں کیں تو ایک نیا بیانیہ خود بخود ہی تشکیل پاتا گیا ۔جب آپ کو اپنے ہی مذہب والوں کے ساتھ لڑنے کی ضرورت پیش آئی ت وپھر ایک نئے بیانئے کی ضرورت پیش آئی ۔آپ نے علماء کو جمع کیا یہ ذمہ داری نیکٹا کو سونپی گئی جس میں کچھ اور ادارے بھی شامل ہوتے گئے اس طرح ’’پیغامِ پاکستان ‘‘کے نام سے ایک دستاویز سامنے آئی۔اس دستاویز یا بیانئے کی روشنی میں تعلیم کا نظام استوار ہونا ہے ،ریاستی اور سماجی اداروں کی تشکیل نو ہونی ہے ۔مگر یہاں تو ابھی تک اساتذہ کو بھی معلوم نہیں کہ پیغامِ پاکستان کیا ہے۔ دراصل ابھی تک یہ ابہام ختم نہیں ہوا کہ پاکستان ایک نیشن سٹیٹ ہے یا اسلامی ریاست ہے ۔ریاست میں ہر ادارے کی حدود آئین متعین کرتا ہے ۔بعد ازاں خورشید ندیم نے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ دو قومی نظریہ پاکستان بننے کے بعد ختم ہو گیا تھا اب ہم ایک قوم ہیں جس کا بیانیہ قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر میں ملتا ہے ۔
جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کو معاشرے کی سمت متعین کری چاہئے وہ اپنا کردار میڈیا کے تابع نہ کریں ۔اسلام کی روح سے جہاد کسی فرد کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ہماری ریاست نے جو پراکسی وار لڑی ہیں وہ جہاد نہیں تھا ۔اساتذہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں اور مذہب ، مسلک ، نسل اورزبان کی بنیاد پر نفرتوں کو ختم کریں ۔
نامور ماہر تعلیم ڈاکٹر اے ایچ نیئر نے ’’سماجی ، مذہبی علوم کی تدریس اور نئے فکری رجحانات ‘‘ کے تحت اظہار خیال کیا ۔انہوں نے کہا کہ نصاب سازی میں استاد کا کردار محدود ہے جس کی وجہ سے پنجاب ٹکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں بدھ مت کا ذکر تو ملتا ہے مگر ہندؤں اور چندرگپت موریہ کو نہیں ملتا ۔اسی طرح ہماری تعلیم میں تنقیدی فکر موجود نہیں ہے اسے نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئیاور اساتذہ کی تربیت اس بنیاد پر کی جائے ۔بی ایڈ کی ٹیچرز ٹریننگ کے 162گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے تنقیدی فکر کے ہوتے ہیں ۔جس کی وجہ سے طلبا سوال نہیں کرتے اور ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو جب صحت مند مکالمہ نہیں ملتا تو وہ تشدد کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔
مذہبی سکالر اور ماہنامہ الشریعہ کے مدیر عمار خان ناصر نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور مدارس میں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے ا س میں نئی فکر کو بالکل دیکھا ہی نہیں جا رہا ۔بلکہ ایک مصنوعی ماحول میں طلبا ء کی ذہنی پرداخت کی جا رہی ہے ۔عمومی تعلیم میں بھی کئی طرح کی درجہ بندی ہے ۔اساتذہ اسی وقت اپنا کردار ادا کر سکیں گے جب انہیں وہ ماحول ملے گا ۔ریاست تعلیم کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے وگرنہ یہ تعلیمی نظام قوم میں ہم آہنگی کی بجائے ا س میں تقسیم اور نفرت کو ہی ہوا دیتا رہے گا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...