مکاں و لا مکاں کے بیچ،بھٹ شاہ کے راگی فقیروں کی زندگیوں میں پیار، محبت اور درد کی داستان

پی لنگ ہانگ , ترجمہ: شوذب عسکری

مصنفہ پی لنگ ہانگ ہارورڈ یونیورسٹی میں میوزیکل ایتھنولوجی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ ان کا یہ مضمون ہیرالڈ میں شائع ہوا۔اس مضمون میں انہوں نے سندھ کے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر بیٹھے راگی فقیروں کے حالات کا تذکرہ کیا ہے یہ راگی کون ہیں ؟ کہاں سے آتے ہیں اور کن منزلوں کے مسافر ہیں ؟ اس کا جائزہ اس فیچر میں لیا گیا ہے۔ شاہ لطیف کے کلام میں سرمست یہ راگی جب گاتے ہیں تو روح میں جلترنگ بج اٹھتے ہیں مگر ان کی اپنی روحیں کس قدر چین میں ہیں ؟ان کے اپنے خاندان کس حال میں ہیں ؟یہ جاننے کیلیے یہ فیچر معلومات افزا ہے ۔(مدیر )

جو کہانی میں ابھی بیان کرنے جارہی ہوں اسے میں نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے خاموشی سے ترقی کرتے ہوئے قصبے بھٹ شاہ میں اس کہانی کو مختلف انداز میں سنا ہے ۔
جب بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے بھٹ شاہ کا دورہ کیا جہاں انہیں دربار بھٹ شاہ کے راگی فقیروں نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کا وہ کلام سنایا جسے ان کی روایات کے مطابق پڑھا جاتا ہے اور یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی میں جب خود شاہ عبدالطیف بھٹائی حیات تھے تب سے جاری ہے۔ ان راگی فقیروں میں سے ایک نے وزیر اعظم کو بھٹ شاہ کے فنکاروں کے لیے 1980ء میں آباد کی گئی سرکاری کالونی کا حوالہ دیتے ہوئے گزارش کی کہ ان کی برادری کے لیے بھی ایک ایسی ہی سرکاری رہائشی کالونی بنائی جائے۔ تو اس پہ وزیر اعظم مزاحاََ جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’ فقیروں کو مکان کی کیا ضرورت؟ وہ تو لامکان میں رہتے ہیں‘‘۔
اگر مکان کا ترجمہ محض رہائش گاہ اور لامکان کا ترجمہ اس کے الٹ کردیا جائے تو تصوف میں ان اصطلاحات کے مروجہ معنوں کا حق ادا نہیں ہوگا کیونکہ تصوف کے درجات میں مکان سے لامکان کا سفر ایک طویل ریاضت مانگتا ہے اور مقامِ لامکان پرفائز ہونا تصوف کا اعلیٰ درجہ ہے۔ تاہم اس ساری کہانی سے جو سبق مجھے ملا وہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان میں شاہ لطیف کے راگی فقیروں کو اپنی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کس قدر مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
ایک راگی فقیر نے مجھے بتایا کہ وہ دیگر مذہبی فقیروں جیسے نہیں ہیں جنہوں نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے کیونکہ انہیں اپنے گھربار بال بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے۔ اگرچہ ان راگیوں کے آباو اجداد نے اپنے اہل و عیال کو وداع کرکے اس سفر پر روانگی شروع کی تھی تاہم آج کے راگیوں کو اپنی” ڈیوٹی” (دربار کے داخلے پر بیٹھ کر بھٹ شاہ کا کلام گانا)کے ساتھ ساتھ اپنے گھر بار کو بھی چلانا ہوتا ہے۔ ان فقیروں کے مختلف گروہ ہفتہ وار صبح دوپہر اور شام کے اوقات میں ’’شاہ جو رسالو‘‘ سے منتخب کلام شاہ لطیف کے مزار پر بیٹھ کرگاتے ہیں۔
’’حاضری‘‘ کے مراحل جنہیں فقیر اپنی مقامی زبان میں ”ڈیوٹی” کہتے ہیں کے مختلف انداز ہوسکتے ہیں۔ دربار کے صحن میں جھاڑو دینا، مریدوں کو پانی پلانے کے لیے پانی بھر کرلانا، سماع، حلقہ اور دھمال میں شامل ہونا ، کھانا پکانا اور نیاز بانٹنا ، یہ سب اپنے مرشد بھٹائی کی خدمت بجا لانے کے مختلف انداز ہیں۔ وہ فقیر جو شاہ جو رسالو گاتے ہیں انہیں مقامی زبان میں ”راگی ” کی شناخت ملتی ہے۔
کوئی بھی، چاہے وہ کوئی بھی ہو، جسے رات میں آوارہ گھومنے کا شوق ہو اور جسے دربار کے صحن میں چین ملتا ہو وہ راگی فقیر بن سکتا ہے۔ یہ سب عشق کا معاملہ ہے جیسا کہ راگی فقیر منٹھار علی جونیجو بیان کرتے ہیں کہ میرے استاد نے کہا تھا کہ کوئی تو ایسا ہوگا جسے راگ کی چاہ ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا کہ جسے یہ چاہ نہیں ہوگی۔ لیکن وہ سب جنہیں اس راستے پر چلنا ہوگا وہ ضرور چلیں گے چاہے انہیں موت ہی کیوں نہ آجائے۔
ان فقیروں کی کوئی خاص نسل یا ذات نہیں ہوتی۔ ان کی اکثریت بھٹ شاہ کے اطراف کے زرعی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے جہاں یہ مختلف سماجی حیثیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان میں اکثر مزارع اور مزدور طبقے سے ہوتے ہیں لیکن ایسے بھی ہیں جو زمیندار گھرانوں سے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے شجرے سادات کے گھرانوں سے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سماجی مرتبے کی وہ حیثیت جو سماجی رتبے سے ملتی ہے وہ اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب تمام فقیر ایک ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں اور ”شاہ جو رسالو” گاتے ہیں یہاں رتبے کی درجہ بندیوں کی ایک نئی صورت جنم لیتی ہے جس میں برتری کا معیار علم اور راگ کی پرکھ ہے۔
راگی فقیر بننے کے لیے جو صلاحیتیں لازم ہیں ان میں باقاعدہ حاضری کے ساتھ ساتھ شاہ جو رسالو میں شاہ لطیف کے کلام کی بے شمار کافیوں کو یاد کرنا اور انہیں مختلف ابواب کے ساتھ راگ کی بندشوں کو سمجھ کر گانے کی مشق کرنا لازم ہے۔ ”اگوان ” یعنی راگی فقیروں کی ٹولی کا رہنما بننے کے لیے لازم ہے کہ نہ صرف بہت سا کلام یاد ہو بلکہ اپنے ساتھ گانے والے ہمنوا راگیوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ سر سنگیت کے راگوں پر بھی عبور ہو،نیز ”دنبورو” ساز بھی بجانا آتا ہو جسے ”شاہ جو رسالو” گاتے وقت بجایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ”وائی ” گانے کے ساتھ ساتھ ”دعا” کے مقررہ اوقات کا فہم بھی لازم ہے۔
فقیر بننے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس کی مثال یہی ہے کہ بس بیٹھ کرراگ گاتے رہو۔ وہ نشست جس پر فقیر بیٹھ کر راگ گاتے ہیں اسے ”اڈی ” کہا جاتا ہے جس کا اصطلاحاََ مطلب قصاب کی دکان پر لگا گوشت کاٹنے کا پھٹہ ہے۔ لفظی طور پر اس کے معنی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ عملی طور پر بھی ایسا ہی ہے کیونکہ فقیر اس نشست پہ بیٹھ کر اپنے وجود کو کاٹنے جیسے عمل کے لیے پیش کرتے ہیں۔ مسلسل بیٹھ کر گاتے رہنے سے فقیروں کے جسم پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ فقیر خان محمد چانڈیو بیان کرتے ہیں۔
”یہ کوئی راگ نہیں ہے کہ جس سے ناچنا اور خوشی وابستہ ہو بلکہ یہ تو ”وراگ” (بین) ہیں۔یہ تو دل کا راگ ہے۔ یہ اندر سے آتا ہے۔ پھیپھڑوں اور گردوں سے، میں اپنی عمر سے پانچ سال پہلے گزر جاؤں گا۔ کیوں؟ کیونکہ میرے پھیپھڑے یا میرے گردے ناکارہ ہوجائیں گے۔ وجہ یہی ہے کہ میں رات رات بھر بیٹھ کر گاتا رہتا ہوں۔”
تاہم آپ جس قدر شوق سے گاتے ہیں اتنا ہی آپ کی زندگی میں سکون آتا ہے۔جب میں نے ایک فقیر سے پوچھا کہ آپ کے لیے حاضری کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ عبادت ہے۔ مجھے یہاں حاضری دے کر سکون ملتا ہے۔
” جب کہیں پیار ملے تو امن وہاں اس کے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے ”۔ فقیر شاہنواز نظامانی نے کہا۔ ” جب میں بیمار پڑتا ہوں یا مجھے تکلیف ہوتی ہے تو میں یہاں آتا ہوں اور راگ گاتا ہوں۔ میں اس کی وجہ سے پھر سے بھلا چنگا ہوجاتا ہوں۔میری بیماری دور ہوجاتی ہے۔”
خبر سومرو، ایک دوسرا فقیر مجھے بتارہا تھا کہ اسے پیٹ میں کینسر تھا مگر اس کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ ” یہ راگ کا شوق ایسا ہی ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے بیمار ہو۔ ایک بار اس میں لگ گئے تو بس پھر لگ گئے۔ میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ جب تم راگ گاتے ہو تو تمہاری روح کو خوراک ملتی ہے۔ جب تم نہیں گاؤ گے تو تم مردہ ہوجاؤ گے۔ ”
اگرچہ ان فقیروں نے راگ کے اندر اپنے جیون کے معنی تلاش کرلیے ہیں مگر ان میں بہت سارے غریب پس منظر سے آتے ہیں اور انہیں اپنے بال بچوں کے پیٹ پالنے کے لیے اور بیماریوں کے علاج میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جونیجو جیسے فقیروں کو اپنے بچوں کی تعلیم اور ملازمتوں کا بھی خیال پریشان رکھتا ہے کیونکہ ان کے علاقے میں نوکری کا حصول طاقتور حلقوں سے تعلق کے بنا ممکن نہیں ہے۔
60 کی دہائی سے ریاستی میڈیا اور سندھ کلچرل ڈیپارٹمنٹ نے راگی فقیروں کو عالمی سطح پر متعارف کروانا شروع کیا جس کے نتیجے میں ان کے سامعین کی تعداد بڑھنے لگی۔ اب یہ پاکستان کے شہری علاقوں میں اور بیرون ملک بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے جاتے ہیں جو ان کی آمدن کا بہتر ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ کوششیں سندھی دانشوران کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جو 1920ء کی دہائی میں شروع ہوئیں جن کا مقصد سندھ کی تہذیب میں شاہ لطیف کی شخصیت اور کلام کوسندھی ثقافت کا مرکز بنانا شامل تھا۔ شاہ لطیف کے سالانہ عرس پر راگی گانے کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان، ملکی ٹیلی ویژن، عالمی سطح کے میوزک فیسٹیولز میں اپنے فن کا مظاہرہ کرکے راگی فقیروں نے دنیا بھرمیں اپنے سامعین کی ایک بڑی تعداد بنا لی ہے۔ فن کے ان مظاہروں اور دیگرحکومتی پالیسیوں ،مثلاََ وزارت ثقافت کی جانب سے بزرگ راگیوں کی خدمت میں اعزازیے پیش کرنے کے سبب یہ راگی اب حکومتی سطح کی ثقافتی پالیسی کا اہم موضوع بن چکے تھے۔
تاہم حکومتی سطح کی تقریبات اور ان کے دعوت نامے اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ غیر سرکاری ادارے اور دیگر مارکیٹس راگیوں کو دعوت دیتی ہیں تاہم وہاں تک محض چند راگی فقیروں کی ہی رسائی ممکن ہے۔ سڑکوں اور رابطوں میں بہتری کے سبب ایسا ضرور ہوا ہے کہ کچھ راگی فقیروں نے سندھ بھر میں اور اس کے پار جنوبی پنجاب میں شاہ لطیف کے مریدین تک اپنی رسائی بنا لی ہے اور اب وہ ان کی دعوتوں پر ان کے علاقوں میں جا کر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہ تصور کرنا کہ اس راگ سے وہ کچھ کمائیں گے اپنی اصل میں ایک متضاد سوچ ہے کیونکہ ایک اصلی فقیر جس نے خدا سے لو لگا رکھی ہو اسے مادیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے اور اسی طرح کے رویے کی توقع بھٹ شاہ کے چاہنے والے راگی فقیروں سے رکھتے ہیں۔اسی لیے یہ فقیر اس راستے پر فن، کمائی، اخلاقیات اور عشق کے جذبوں میں توازن قائم رکھنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں۔
جب سے بے نظیر بھٹو نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھٹ شاہ کے راگی فقیروں کے لیے ایک رہائشی کالونی تعمیر کروائیں گی تب سے آج تک میرے استاد اور دوسرے فقیر سادہ سے گھروں میں رہتے ہیں۔ قریبی گاؤں کے ایک بے زمین کسان کا بیٹا جس کا نام جونیجو ہے، اس نے 40 سال پہلے شاہ جو راگ سے عشق کاجب تہیہ کیا تھا تب اس نے کبھی یہ توقع بھی نہیں کی تھی کہ اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس کے پاس بھی کوئی گھر ہوگا۔ اب اس کی زندگی حاضری کرنے میں اور ”دنبورے” بنانے میں گزر رہی ہے۔
”ہمیں قرض لوٹانے ہیں۔ بیٹے پڑھانے ہیں اور بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں۔ ہمیں ہمارے مرشد لطیف کی برکتوں پریقین ہے کہ ہمارے سب کام کسی نہ کسی طرح ہوہی جائیں گے۔ ”

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...