نظریات کی جنگ ،سوشل میڈیا کیسے مختلف قسم کے بیانیوں کے لئے میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ؟

رمشہ جہانگیر , تلخیص و ترجمہ :سجاد اظہر

297

یہ ابلاغ کی دنیا ہے یہاں سچ بھی دلیلوں کا محتاج ہے۔ اکثر اوقات سچ کے متوازی ایسی ایسی دلیلیں دی جاتی ہیں کہ جھوٹ پر بھی سچ کا گمان ہوتا ہے ۔یہ سب کچھ کبھی میڈیا کے ذریعے ہوتا تھا مگر اب سوشل میڈیا نے مین سٹریم میڈیا کی ہیئت ہی بدل کر رکھ دی ہے ۔دنیا میں اب ہر فرد جس کا سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ ہے وہ دنیا کے سچ اور جھوٹ پر برابر اثر انداز ہونے کی اہلیت رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آنے والی سیاسی و سماجی تبدیلیوں میں اس میڈیا کاکردار سب سے نمایاں ہے ۔ امریکی انتخابات سے پاکستانی انتخابات تک ،اصل معرکہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ہو رہا ہے، اس لیے بعض نادیدہ قوتیں بھی اپنے مخصوص مفادات کیلیے پوری طرح متحرک ہیں ۔بہت سے اکاؤنٹ فرضی ہیں جہاں سے خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ مطلوبہ اہداف حاصلکیے جا سکیں ۔پاکستان کے پس منظر میں رمشہ جہانگیر نے اس کا نہایت دقیق جائزہ لیا ہے ۔یہ مضمون ہیرالڈ کے دسمبر 2018ء کے شمارے میں شائع ہوا جس کا اردو ترجمہ قارئینِ تجزیات کے لیے دیا جا رہاہے ۔(مدیر)

یہ صحیح نہیں ہے ۔یہ گھڑی ہوئی بات ہے اور اسے کسی خاص مقصد کے لئے پھیلایا گیا ہے۔
چینلوں کے نام سے ایسے جعلی سکرین شاٹس فیس بک پر زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ٹویٹر کے مقابلے میں ہر مکتب فکر کے لوگ موجود ہیں جبکہ ٹویٹر پر زیادہ تر لوگ سیاسی عمل میں کسی نہ کسی سطح پر شریک ہیں، اسی لیے ٹویٹر پر موجود لوگ فیس بک کے مقابلیمیں زیادہ باشعور ہیں ۔لیکن کسی بھی خبر کی صداقت کو پرکھنے تک وہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہوتی ہے ۔یہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ کوئی بھی جعلی خبر پلک جھپکتے کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے ۔
نیو امریکہ، جسے پہلے نیو امریکہ فاؤنڈیشن کہا جاتا تھا امریکہ کا ایک غیر سرکاری تحقیقی ادارہ ہے اس سے منسلک ایمرسن ٹی بروکنگ اور پی ڈبلیو سنگر جنہوں نے مشترکہ طور پرLike War:The Weaponization of Social Mediaنامی کتاب بھی لکھ رکھی ہے ،ان کا کہنا ہے کہ ہر رو زاندازاً پانچ کروڑ ٹویٹس ہوتی ہیں جبکہ یو ٹیوب پردنیا کی 76زبانوں میں تقریباً سات گھنٹے کی فوٹیج ہر سیکنڈ میں اپ لوڈ ہو رہی ہے ۔دنیا میں تین ارب چالیس کروڑ لوگ جو دنیا کی آدھی آبادی سے کچھ ہی کم ہیں ،وہ انٹر نیٹ استعمال کر رہے ہیں ۔
پاکستان میں بھی صورتحال اس سے ملتی جلتی ہے ۔پی ٹی اے کے مطابق ملک میں چھ کروڑ بیس لاکھ لوگ ہائی سپیڈ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں ۔اتنے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل دنیا کی تشکیل یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ یہاں کسی بھی تصویر ، وڈیو کے ساتھ کوئی بھی سلوک کیا جا سکتا ہے ۔اگرچہ تیکنیکی طور پر کافی ترقی ہو چکی ہے مگر پھر بھی اس جعل سازی کو روکنا بہت دشوار ہے ۔کسی بھی وڈیو کو اس کی اصل رفتار سے کم یا زیادہ رفتار سے چلانا اور اس کے ساتھ ہی اس میں مرضی کا موادشامل کر دینا اب ممکن ہے ۔
اس حوالے سے ایک حالیہ وڈیو بہت مشہور ہوئی ہے جس میں سی این این کا ایک رپورٹر جم اکوسٹا وہائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک سوال پوچھنے کیلیے مائیکرو فون تھامے ہوئے ہے ۔سی این این نے ٹرمپ انتظامیہ پروڈیو کو متاثر کرنے کا الزام لگایا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جب وہائٹ ہاؤس کا کارندہ ان سے مائیکرو فون لینے کے لیے آگے بڑھا تو اکوسٹا نے اسے دھکا دے دیا ۔اسی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ایک تصویربھی اس سال یکم اکتوبر کو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جس میں دکھایا گیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہیں اور ان کا پرجوش استقبال ہو رہا ہے ۔شاہ محمود قریشی کی یہ تصویر اس کیپشن کے ساتھ پھیلائی گئی کہ جب لیڈرشپ دیانتدار ہو تو دنیا ان کی ایسے عزت کرتی ہے ، امریکہ میں ان کی عزت کے پیچھے عمران خان کی سچی اور باعتماد قیادت ہے ۔یہ تصویر بھی حقیقی نہیں تھی۔ یہ تالیاں 24جولائی 2018کو ترکی کے صدر طیب اردگان کے لیے بج رہی تھیں اور منظر اقوامِ متحدہ کی بجائے ترکی کی قومی اسمبلی کا تھا۔
قدیم دور سے ایک دیو مالائی داستان چلی آتی ہے کہ ایک نہایت بدصورت دیوجو غاروں میں رہتا ہے جو کوئی ا س کے قریب سے گزرتاہے وہ اس کے لیے ترنوالہ ثابت ہوتا ہے ۔نیوایرک کی ایک ویب سائٹ lifewireنے انٹرنیٹ کو دور جدید کا وہی دیو قرار دیا ہے ۔وہ کمپیوٹروں کے عقب میں رہتا ہے اور کسی کو بھی نوالہ بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے اور دیومالائی دیو کی طرح یہ بھی فسادی ہے ۔
پاکستان میں اس دیو کو ’’محبِ وطن‘‘،’’مسلمان‘‘، فوج کا حمایتی ،کشمیر کا حمایتی یا پی ٹی آئی کا سپورٹر کہا جاتا ہے ۔اسی طرح یہاں پر لبرلز اور دائیں بازو کے بھی دیو ہیں جو ظاہری طور پر خود کو نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حمایتی گردانتے ہیں ۔یہ دیو اس کی جان کو آتا ہے جو اس کے نظریے کی مخالفت کرتا ہے اور اگر کوئی ڈٹ جائے تو فوراً تتر بتر بھی ہوجاتا ہے ۔
بہت سے دیو ایسے ہیں جن کے فالورز کی تعداد بہت زیادہ ہے جن سے یہ اپنے ذاتی ، سیاسی خیالات اور نظریات بیان کرتے ہیں، ان دیو کی پروفائل پر لگی تصویریں بیرونِ ملک کی ہوتی ہیں ۔سوشل میڈیا پر سرگرم بعض ایسے دیو کافی مشہور ہیں کیونکہ وہ کئی پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہوتے ہیں ۔حال ہی میں جب دس بڑے ہیش ٹیگز کا مطالعہ کیا گیا جن میں بائیکاٹ بیکن ہاؤس اور ففتھ جنریشن وار شامل ہیں تویہ بات سامنے آئی کہ فرحان ورک ان سب کا حصہ ہیں ۔وہ حالیہ سالوں میں پی ٹی آئی کی حمایت اور قوم پرستی پر مبنی ٹویٹر ٹرینڈز کو شروع کرنے میں کافی مشہور ہوئے ہیں ۔ہیرالڈ کے ساتھ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ کیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے بہت سی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ ’’اس کے لیے صرف کرنا یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑے اکاؤنٹ جس کے بہت زیادہ فالورز ہوں، اس کے نام سے جعلی ری ٹویٹ کریں پھر دیکھیں کہ یہ کیسے وائرل ہوتی ہے ‘‘۔عام طور پر وہ زید حامد کے ہیش ٹیگز کو استعمال کرتے ہیں جو خاص قسم کے سازشی نظریات کے حوالے سے مشہور ہیں۔
سوشل میڈیا کا ایسا ہی ایک اور اکاؤنٹ ڈاکٹر عالیہ کریم کا ہے ۔انہوں نے دسمبر2011ء میں اکاؤنٹ بنایا اور اب ان کے پچاس ہزار فالورز ہیں ۔ان کی پروفائل میں لکھا ہے کہ وہ ٹیکس دیتی ہیں ،انہیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور وہ پاک فوج اور عمران خان سے محبت کرتی ہیں ۔ٹویٹر پر ان کی تصویر عمران خان کے پوسٹر کے ساتھ ہے مگر ان کے انسٹا گرام اور فیس بک پر مختلف تصویریں ہیں ۔انسٹا گرام میں انہوں نے خود کو میڈیسن کی طالبہ کہا ہے جو کراچی میں رہتی ہے ۔انہوں نے 16نومبر تک253000ٹویٹس کی تھیں جن میں سے زیادہ تر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والوں کی ری ٹویٹ تھیں جن میں پارٹی کی تعریف و توصیف کی گئی تھی ۔اسی طرح کے کئی اکاؤنٹس ہیں جو حقیقی نہیں ہیں ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رو سے انہیں ہیومن بوٹس کہا جاتا ہے جو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کسی خاص گروہ ، جماعت یا اداروں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر متحرک ہوتے ہیں جو انہیں اس کام پر مامور کرتے ہیں،
کراچی کے صحافی اور ڈیٹا صحافت کے ماہر شہریار پوپلزئی کے مطابق یہ سب ایک منظم مہم کا حصہ ہے ،کوئی انہیں ایسامواد فراہم کرتا ہے جو آگے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے اور جب آپ ان سے کوئی سوال کرتے ہیں تو وہ آگے سے جواب بھی نہیں دیتے کیونکہ یہ وقتی طور پر لوگوں کی توجہ مبذول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک عرصے سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پراجیکٹ شکاری کے نام سے مصروف ہیں جو انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلزم کی مدد سے کیا جارہا ہے تاکہ ہیش ٹیگز پر نظررکھیں کہ کیسے سیاسی مقاصد کے لیے مخصوص سیاسی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے ۔ان کے مطابق ہیومن بوٹس ورچوئل روبوٹس سے مختلف ہوتے ہیں۔یہ وقفے وقفے سے حرکت میں آتے ہیں مثال کے طور ر دن میں پانچ ٹویٹس کریں گے جبکہ ہیومن بوٹس کو جب بھی کوئی خاص ٹارگٹ دیا جاتا ہے وہ ا س پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں ۔اور چونکہ ان کی اہمیت اسی وقت ہو گی جب ان کے زیادہ سے زیادہ فالورز ہوں گے ۔
گوگل پر سرچ کریں تو زیڈ وی مارکیٹ کے نام سے ایک آن لائن مارکیٹ ملتی ہے جہاں درجنوں لوگ اپنے حقیقی فالورز کی سیل لگائے بیٹھے ہیں اور دو امریکی ڈالر میں ایک اکاؤنٹ مل جاتا ہے ۔ایک جگہ درج ہے کہ ایک سو سے پچاس لاکھ فالورز تک والے ا کاؤنٹ دستیاب ہیں، آپ اپنی ضرورت کے مطابق لے سکتے ہیں ۔ جب ہم نے ان سے رابطہ کیا تو دوسری جانب سے بتایا گیا کہ یہ مارکیٹ ٹویٹر کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہے جس کی انہوں نے توجیہ یہ بیان کی کہ جو فالورز آپ کو دیے جا رہے ہیں یہ حقیقی ہیں، انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ فالورز کی تعداد میں کمی بھی نہیں ہو گی ۔اگر کوئی ایک فالور بھی کم ہوا تو میں آپ کی پوری رقم واپس کر دوں گا۔
پوپلزئی کے مطابق ایسے فالورز حقیقی نہیں ہوتے بلکہ وہ جعلی ہوتے ہیں اور ان کا یہ دعوی ٰ بھی درست نہیں کہ یہ کبھی کم نہیں ہو ں گے کیونکہ ٹویٹر اکثر کو ڈیلیٹ کرتا رہتا ہے ۔
بھارت میں ایک صحافی سواتی چترویدی نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ بھوتوں کی یہ فوج کیسے کام کرتی ہے ۔انہوں نے دعوی ٰ کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسے رضاکار بڑی تعداد میں بھرتی کیے ہیں جو صحافیوں اور سیاسی مخالفین پرحملے کرتے ہیں ۔یہ ایسی تصویریں اور جعلی اعدادو شمار بھی پھیلاتی ہیں جس سے نسلی فساد کو بھی ہوا ملتی ہے ۔انہوں نے فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ واٹس ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر انہیں ہدایات ملتی ہیں ۔اور ہر ایک کا رابطہ پارٹی کے سنٹرل میڈیا سیل کے ساتھ ہوتا ہے ۔سواتی کی کتاب ’’I am a Troll‘‘ کو حال ہی میں Reportrs Sans Frontieresکی جانب سے ایوارڈ بھی دیا گیا ہے ۔بی جے پی کے یہ ٹرولز مسلمانوں اور لبرل اشرافیہ کے خلاف بھی ہیں ۔یہ ہر ا س فردکے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو ان کی جماعت کے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے ۔سواتی کے مطابق نریندر مودی خود دو درجن سے زیادہ ایسے اکاؤنٹس کو فالو کررہے ہیں کیونکہ ان کے کام کو بی جے پی اعلیٰ لیڈر شپ بھی سراہتی ہے ۔بی جے پی کے صدر امیت شا نے ایک بار کہا تھا کہ جھوٹ اور سچ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم جس کو چاہیں وائرل کر دیں ۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سیاسی نظریات پھیلانے کے چلن کو پاکستان میں روشناس کرانے کی بانی سمجھی جاتی ہے ۔پاکستان کے موجودہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 2012ء میں، جب وہ مخالف پارٹی میں تھے ، کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ماہانہ بنیادوں پر 780لوگ بھرتی کیے ہوئے ہیں جو فیس بک اور ٹویٹر پر سرگرم رہتے ہیں ۔لیکن پھر وقت بدل گیا ۔اب اسی جماعت کو آن لائن پراپیگنڈے کا سامنا ہے ۔اقتدار میں آنے کے چند ہفتے بعد ہی اسی جماعت کے وزیر اطلاعات کے نام سے ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ۔اب عام لوگوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ کیسے فیصلہ کریں کہ جعلی کون سا ہے اور اصلی کون سا ہے ۔
حال ہی میں ایک معروف ٹی وی اینکر نے ایک ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک پیغام ری ٹویٹ کرنے پر معذرت کی، یہ ٹویٹر اکاؤنٹ بظاہر بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا لگتا تھا ۔سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ کے جعلی اکاؤنٹ پر ٹویٹ بھیج رکھی ہیں ۔
24نومبر کو کرتار پور راہداری کے افتتاح کے چند دن پہلے ہی نوجوت سنگھ سدھوکے ایک جعلی اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی کہ ’’کرتار پور راہ داری کھولنے پر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان ، آرمی چیف کا شکر گزار ہوں اور تمام سکھ کمیونٹی کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان میرا دوسرا گھر ہے اور میں ہر صورت اس موقع پر پاکستان آؤں گا‘‘۔ اس پیغام کو 20500لائکس ملے اور فواد چوہدری نے اسے یہ جانے بغیر ری ٹویٹ بھی کردیا کہ یہ اصلی ہے یا جعلی ۔
عاصمہ شیرازی ،جو اسلام آباد میں ایک ٹی وی شو کی میزبان ہیں و ہ سابق وزیر اعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم کے ساتھ لندن سے اسلام آباد جہاز میں آ رہی تھیں جب انہیں کرپشن کیس میں سزا سنائی جا چکی تھی ۔اس سال جولائی میں جب انہیں سزا سنائی گئی تو ا س کے فوراً بعد نواز شریف اور عاصمہ کی ایک آڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ۔اس آڈیو کو کافی زیادہ ایڈیٹ کیا گیا جس کے بعد ایسے محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف عاصمہ سے اس خصوصی انٹرویو کی بابت پوچھ رہے ہیں جو آن ائیر نہیں ہو سکا ۔جس پر وہ بتاتی ہیں کہ انٹرویو کس کی مداخلت پر نہیں چل سکا ۔اس کلپ کا آنا تھا کہ سوشل میڈیا پر عاصمہ کے خلاف ایک مہم شروع کر دی گئی ۔ٹویٹر کے کئی اکاؤنٹس سے انہیں نوازشریف کی لفافہ صحافی کاخطاب دیا گیا۔جبکہ کئی نے دعویٰ کیا کہ جب نوازشریف اور ان کی بیٹی کو گرفتار کیا گیا تو عاصمہ چلائی تھیں۔
لاہور کی ایک تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن جو اس قسم کے معاملات پر گہری نظر رکھتی ہے اسے اسلیے بھی شدید تشویش ہیکہ جب ہدف خواتین ہوتی ہیں تو اس مہم میں بے ہودگی کاعنصر زیادہ ہوتا ہے اور یہ تیزی کے ساتھ پھیلتی ہے ۔اس تنظیم نے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی 40سیاسی خواتین کے فیس بک اکاؤنٹس پر آنے والے کمنٹس کا تجزیہ کیا ۔کل 2,262کمنٹس میں سے صرف پانچ فیصد مہذب کہلائے جا سکتے تھے جبکہ 25 فیصدایسے تھے جس میں انہیں پر کشش قرار دیا گیا تھا،23فیصد گالیوں پر مشتمل تھے ،دو فیصد میں دھمکیاں دی گئی تھیں جبکہ ایک فیصد تعصب انگیز تھے ۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری جو ویانا میں رہتی ہیں اور یو ٹیوب پروی لاگز بولتی ہیں۔ ان کے مطابق جب کسی کو گالیاں دی جاتی ہیں اور اس پر لعن طعن کی جاتی ہے تویہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے ۔اور جب لوگ گالیاں دیتے ہیں تو تمام تر توجہ اس ایشو سے ہٹ کر گالیوں کی طرف ہو جاتی ہے ۔ایمان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے سیاسی خیا لات کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ،مجھے یوٹیوب چینل پر اور فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے گالیاں دی گئیں اور قتل کی دھمکیاں بھی ملیں ۔لیکن ایمان کاماننا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں ہمیں اپنے سیاسی خیالات کی قیمت چکانی پڑتی ہے کیونکہ ملک اب سیکولر اور قدامت پرستوں میں واضح طور پر تقسیم ہو چکا ہے ۔دونوں میں مکالمہ نہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف دل کا غبار نکالتے ہیں ۔ان کے مطابق سوشل میڈیا پاکستان کی حقیقی تصویر ہے ۔
حکومت کی جانب سے غلط خبروں کے بارے میں کام کرنے والے اکاؤنٹ FakeNewsBusterکی جانب سے ابتدائی ٹویٹس کے مطابق’’سوشل میڈیا کا مقصد معلومات ،تعلیم اور علم کا تبادلہ ہے ۔اس کوسچائی پر مبنی ہونا چاہیے اور کسی قسم کی غلط خبر یا غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیے‘‘۔
لیکن غلط خبر دراصل ہے کیا؟
شروع میں اس سے مراد ایسی خبرلی گئی جو بھلے درست نہ ہواور اسے کسی خاص سیاسی مقصد کے لیے پھیلایا جا رہا ہویا کسی پراپیگنڈے کا حصہ ہو ۔کالم نگار مارگریٹ سلیوان نے بی بی سی پر ایک انٹرویو میں اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ آپ چیزوں کو دہراتے رہتے ہیں تاوقتیکہ لوگ انہیں مان لیں ۔انہوں نے اس کی مثال دی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیسے فیک نیوز کی اصطلاح مین سٹریم میڈیا کیلیے استعمال کی ۔
صحافی عمر علی جو ا س موضوع پر یورپ میں تحقیق کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’فیک نیوز کا صرف یہ مطلب نہیں کہ خبر غلط ہو بلکہ اب یہ رمزیہ الفاظ کا روپ دھار چکی ہے ‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ ا س وقت بنتا ہے جب حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فیک نیوز کیا ہے ؟ مثال کے طور پر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ ہر اس خبر کو فیک کہہ دیتے ہیں جو ان کی حکومت کی منشا کے مطابق نہیں ہوتی ۔علی کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ پاکستان کی حکومت نے بھی تنقید سے بچنے کے لیے فیک نیوز کو تکیہ کلام بنا لیا ہے ۔اب حکام ایسی خبروں کے سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں تاکہ مستند صحافیوں کی ساکھ متأثر کی جا سکے ۔
اس سال جون میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سوشل میڈیا کو ریاست کی سا لمیت اور اس کے اداروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔اور کئی اکاؤنٹس ایسے ہیں جن کے ذریعے پاکستان اور فوج مخالف پراپیگنڈا کیا جارہا ہے ۔انہوں نے ایک سلائیڈ کے ذریعے بتایا کہ کیسے فوج اور ریاست کے خلاف ٹویٹس کی جاتی ہیں اور پھر کیسے ان کو ری ٹویٹ کرایا جاتا ہے ۔اور اس کے لیے بعض سیاسی شخصیات کے اکاؤنٹس بھی استعمال ہو رہے ہیں ۔انہوں نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اس کے دو ماہ بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت الگ سے ایک اتھارٹی بنارہی ہے جو الیکٹرانک میڈیا ، اخبارات و جرائد ، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرے گی ۔اکتوبر میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی اتھارٹی کے بعد کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ کسی کو بدنام کر سکے ۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کو بلاک کرنے اور اس کی پوسٹس کو ڈیلیٹ کرنے کی کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ٹویٹر کو ایسی بہت سی شکایات بھی کی جا رہی ہیں۔ جنوری 2012ء سے دسمبر2017ء کے درمیان اس نے حکومت پاکستان کی جانب سے ایسی تمام 156 درخواستیں رد کر دیں اور ا س کا پتہ ٹویٹر کی گلوبل ٹرانسپرنسی رپورٹ میں چلا ۔تاہم حالیہ ہفتوں میں اس نے کئی اکاؤنٹس کو بلاک یا معطل کیاجن میں سے ایک خادم حسین رضوی کا بھی تھاجو اب حکومت کی تحویل میں ہیں ۔دو صحافیوں طہٰ صدیقی اور گل بخاری نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ٹویٹر نے انہیں خبردار کیا ہے کہ انہوں نے قابل اعتراض مواد پوسٹ کیا ہے ۔دونوں کا ایک طویل پس منظر ہے۔ صدیقی ا س سال جنوری میں فرانس چلے گئے کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ اسلام آباد میں ان کا کوئی پیچھا کر رہا تھا۔جبکہ گل لاہور میں اچانک غائب ہو گئے تھے ۔
کیا فیک نیوز کا مقابلہ کرنے کا کوئی بہتر طریقہ ہو سکتا ہے ،بجائے ا س کے کہ سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کیا جائے یا میڈیا پر سنسر شپ عائد کردی جائے ؟
کچھ شواہد سے شاید صورتحال واضح ہو سکے :
تنقید ، تضمین ،گمراہ کن ،مکارانہ ،من گھڑت ، ہیرا پھیری پر مبنی مواد ،ان سب کو الگ الگ طریقے سے ڈیل کرنا ہو گا ۔صحافیوں اور میڈیا کے اداروں کے ساتھ عالمی سطح پر کام کرنے والے ادارے Ethical Journalism Network کا کہنا ہے کہ اس کشمکش کو دور کرنا ہو گا کہ کون سی خبر فیک ہے اور کون سی نہیں۔اس مقصد کے لیے جو تعریف اس نے کی ہے اس کے مطابق ’’جو خبر دانستہ طور پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کی جائے اور جس کا مقصد گمراہ کن ہو وہ فیک خبر ہے ‘‘۔ یہ خبر کسی حد تک فیک نیو زکا احاطہ ضرور کرتی ہے۔ فیک نیوز کی کوئی ایک جامع تعریف پر ابہام کے ساتھ اس کی قانونی حیثیت کے حوالے سے بھی کنفیوژن موجود ہے ۔حکومت کے FakeNewsBuster کی ٹویٹس کے مطابق ’’یہ سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ جو کچھ شیئر کریں اس کی صداقت کو پہلے پرکھیں پھر ایساکریں۔اور کوئی بھی ایس خبر جو حقائق کے برخلاف ہو اور جس سے عوام میں اشتعال پھیلنے کا خدشہ ہو وہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016ء کے مطابق قابل سزا جرم ہے۔‘‘ وہ قانون دان جس نے یہ ڈرافٹ تیار کیا تھا اس کے مطابق ’’یہ قانون فیک نیوز کے حوالے سے پراپیگنڈا کرنے والوں کا احاطہ کرتا ہے اور اس وقت تک آپ ا س کے نرغے میں نہیں آتے جب تک آپ حساس معاملات کو نہیں چھیڑتے، بالخصوص جن سے عوام میں اشتعال پیدا ہو جائے ‘‘۔ قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسی معلومات جو کسی بھی ڈیوائس کے ذریعے پھیلائی جائیں جس سے بین المسالک ،بین المذاہب یا نسلی تعصب پھیلنے کا خدشہ ہو اسے اس قانون کے تحت سات سال تک سزا یا جرمانہ ،یا دونوں ہو سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ ہتک عزت کے قانون کے تحت بھی کسی کو سزا ہو سکتی ہے ۔کیونکہ اگر فیک نیوز سے کسی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے تو وہ بھی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ۔
مختصر یہ کہ فیک نیوز کے حوالے سے قانوناً کوئی عدالتی یا قانونی طریقہ براہ راست لاگو نہیں ہوتا ۔اسلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے بہت مشکل ہو جاتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کیا کریں ۔
میاں جہانگیرجو کہ وزارتِ اطلاعات میں سائبر ونگ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور FakeNewsBuster اکاؤنٹ چلاتے ہیں اور فیک نیوز پر نظر رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ’’ہمارا کام صرف سوشل میڈیا پر نظر رکھنا اور عوام میں آگہی پیدا کرنا ہے اور ہم صحافیوں اور عوام کی حاصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ جب کوئی غلط خبر دیکھیں تو اس کی نشاندہی کریں ،لیکن اس پر ایکشن پی ٹی اے یا ایف آئی اے ہی کر سکتا ہے‘‘ ۔اس طرح فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی تین اطراف سے دباؤمیں آ گئے ہیں کہ فیک نیوز اور پراپیگنڈے کی تلوار ہر وقت ان پر لٹک رہی ہے اور انہیں ان تین محکموں میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت گرفت میں لے سکتا ہے ۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی انہیں ہدف بنایا جا رہا ہے ۔
اس سال 20اکتوبر سے 16نومبر کے درمیان ٹویٹرپر چھ ہیش ٹیگز ایسے تھے جن کا ہدف صحافی اور پاکستان کی صحافت تھی ۔ان میں کہا گیا کہ صحافی متعصب ہوتے ہیں اور وہ پراپیگنڈا کرتے ہیں ۔ان میں سے ایک ’’بکاؤ میڈیا ‘‘ کا پیش ٹیگ تھا جس کی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ صحافی غلط معلومات پھیلاتے ہیں اور حکومت ان کے خلاف سخت ایکشن لے کیونکہ کہ میڈیا ففتھ جنریشن وار کا ایک مؤثر ہتھیار ہے جس کے ذیعے آپ کے ذہنوں پر حملہ کیا جاتا ہے اسلیے ان کی باتوں میں نہ آئیں اور بکاؤ میڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار نہ ہوں ‘‘۔
ایک دوسرا ہیش ٹیگ تھا کہ #SayNoToFakeJournalism تھاجس سے 14000ٹویٹس ہوئیں جن میں پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف غیر مصدقہ خبروں کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پیمرا ایسے ویب چینلز کے خلاف کارروائی کرے اور ا س میں ایک ٹی وی چینل کے مالک کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ لوگوں کو گمراہ کن معلومات دینے پر ویب چینلز ، سوشل میڈیا کے خلاف کارروائی کی جائے ۔تاہم اسی ہیش ٹیگ میں صحافی امبر رحیم شمسی نے لکھا کہ ’’صحافیوں کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ جمہوریت کیلیے نیک شگون نہیں ۔‘‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’’جب معلومات دینے والے سودا بازی کرتے ہیں تو پھر لوگو ں کو ہر بات پر یقین کرنا پڑتا ہے، اس طرح سے فیک نیوز پھیلتی ہے ‘‘۔داور بٹ، جو لاہور سے سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق جاننے کی تنظیم ’’سرخی‘‘ چلاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’قابل یقین ہونا سچائی کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار خبر کے ماخذ پر ہوتا ہے ۔اس کا حل ایک ہی ہے کہ خبر کی صداقت کوپرکھا جائے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہ کیا جائے، یہ بہت ضروری ہے ‘‘ ۔’’یہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر خبر پر یقین کرنے کی بجائے کچھ چھان پھٹک کر لیں ‘‘۔تاہم حقائق دیکھنے کا رواج ابھی کہیں بھی نہیں ہے حتیٰ کہ حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے #FakeNewsBuster اکاؤنٹ نے بھی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کو کلین چٹ دے دی ،حالانکہ انہوں نے اس سال اکتوبر میں اسلام آباد پولیس چیف کے خلاف اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کیا تھا۔سرکاری کے ساتھ نجی جانب سے بھی @PakFactCheckکے نام سے حقائق کی جانکاری کی کوشش کی گئی ہے اور اس کاؤنٹ کے بارے میں دی گئی معلومات کے مطابق ’’جانیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ،کسی کا حصہ بنے بغیر سوچیے ،ہم خبر اور تجزیوں کی چھان پھٹک کرتے ہیں ‘‘۔ ا س اکاؤنٹ کے گیارہ ہزار فالورز ہیں اور یہ ریاست کے خلاف سرگرم افراد ، فاشسٹ صحافیوں اور تخریبی صحافتی اداروں کے خلاف بات کرتا ہے ۔
Nate Hendrickایک صحافی ہیں اور جنوبی ایشیا میں غیر ملکی صحافی کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ان کے دس ہزار فالورز ہیں اور ان کے ساتھ کئی لوگ جن میں موسیقار سلمان احمد بھی شامل ہیں ، ٹویٹر کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں ۔ان کے اکاؤنٹ کو بھی ٹویٹر نے چیک کیا کہ یہ اصلی ہے یا نہیں ۔انہوں نے ٹویٹر پر ایک سروے کیا اور پاکستانیوں سے پوچھا کہ وہ ولادی میر پیوٹن کو چاہتے ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ کو؟ 91فیصد کا جواب پیوٹن تھا۔ایک بار انہوں نے ٹویٹ کیا کہ پاکستانی لیڈر کرپشن پر فخر کرتے ہیں ،جبکہ مغرب میں کسی لیڈر پر الزام بھی لگ جائے تو وہ مستعفی ہو جاتا ہے۔ اس پر انہیں 1700ٹویٹس کے ذریعے جواب دیا گیا ۔امریکہ کے ایک آن لائن ایڈیٹر رسل برینڈمین جو ٹیکنالوجی پر نظر رکھتے ہیں، انہوں نے لکھا کہ ہینڈرک نے 2جولائی 2017ء سے 10جولائی2017ء کے درمیان ایران کی کشمیر پالیسی سے لے کر سی این این اور روس سے تعلقات تک پچاس سے زائد بار ٹویٹس کیں ۔انہوں نے پاکستانی معاملات ،جن میں نوازشریف کی پانامہ سے سزا بھی شامل ہے پر ٹویٹس کیں ۔اس اکاؤنٹ کو@NateBussey59کے نام سے ہینڈل کیا جا رہا تھا جو اس کے اصل نام ہینڈرک سے مطابقت نہیں رکھتا تھا ۔جب رسل نے مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ ا کاؤنٹ جعلی ہے ۔اسی طرح کا ایک اور اکاؤنٹ رچرڈ ہیرس کا ہے جس کی ٹویٹر پر موجود پروفائل پر لکھا ہے ’’کاروباری ، لاہور ، برسلز، جنوب ایشیائی تاریخ ، پاکستان ، اردو، قیمہ نان اور لسی کا جگ ۔اس کے صرف 2200فالورز ہیں لیکن کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب وہ پچاس سے زیادہ ٹویٹس نہیں کرتا ۔اور جو بات اہم ہے وہ یہ کہ رچرڈ نے کبھی خود ٹویٹ نہیں کی بلکہ وہ ری ٹویٹ کرتا ہے اور اس کی 15000سے زیادہ ٹویٹس پاکستان سے متعلق ہیں ۔وہ بالخصوص ان لوگوں کو ٹویٹر پر جواب دیتا ہے جو پاکستان کے سرکاری مؤقف کوچیلنج کرتے ہیں ۔وہ لبرل صحافیوں کو نشانہ بناتا ہے ۔رچرڈ کی پروفائل میں اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت محدود معلومات ہیں، تاہم چند ٹویٹس میں وہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان اپنے بیوی بچوں کو ملنے کے لیے آتا رہتا ہے ۔لیکن پاکستان کے مسائل کے بارے میں جتنی گہرائی میں وہ بات کرتا ہے ا س سے نہیں لگتا کہ کبھی کبھار آنے والا اتنی زیادہ معلومات رکھ سکتا ہے ۔وہ کراچی اور لاہور کے شہروں کے مسائل سے بھی آگاہ ہے اور ایک بار اس نے کراچی کی مقامی سیاست پر ا س طرح تبصرہ کیا جیسے کوئی مقامی اور حالات سے مکمل آگاہی رکھنے والا ہی کر سکتا ہے ۔ایک بار انہوں نے یو پی ایس سسٹم کی خریداری کی ٹویٹ بھی کی۔Cynthia D Richardبھی اسی طرح کی ایک اور کہانی ہے مگر اس کی پہنچ زیادہ ہے اور کئی لوگ ا س سے متاثر ہیں ۔ان کی ٹویٹر پروفائل کے مطابق وہ امریکی سیاح اور بلاگر ہیں اور وہ 2009ء سے ٹویٹر پر مصروف ہیں ۔انہوں نے دس سالوں میں 7500ٹویٹس کی ہیں جن میں سے زیادہ تر پاکستان سے متعلق ہیں، ان کے 46000 سے زائدفالورز ہیں ۔اس سال اکتوبر سے انہوں نے کراچی سے ایکسپریس ٹریبیون کے لیے لکھنا بھی شروع کرد یا ہے ۔ان کی توجہ کا مرکز پاکستان کو مختلف نظر سے دیکھنا ہے، بالخصوص پاکستان سے متعلق امریکی پالیسیوں کو وہ تنقید کا نشانہ بناتی ہیں ۔وہ اپنی ٹویٹس میں اردو الفاظ بھی کثرت سے استعمال کرتی ہیں اور بعض ایسے مقامات کا بھی نام لیتی ہیں جہاں عام پاکستانیوں کا جانا بھی محال ہے ۔اس سال اکتوبر میں وہ شمالی وزیرستان بھی گئیں جو دہشت گردی اور طالبان کے مرکز کے حوالے سے مشہور ہے ۔انہوں نے وزیرستان کے دورے کی تصاویر پوسٹ کیں اور ٹویٹس بھی کیں، 640لوگوں نے انہیں ری ٹویٹ کیا اور 18000لائکس آئیں۔انہوں نے لکھا کہ شمالی وزیرستان کانام آپ کے صف اول کے میڈیا میں بہت کم ملتا ہے ،میں آپ کویہاں کی تباہی کے بارے میں نہیں بلکہ ا س کے بعد آنے والی تبدیلی کے بارے میں بتاتی ہوں۔ اب یہ پر امن علاقہ ہے جس کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے ۔جب پاکستان کے ایک میگزین گلوبل ولیج ا سپیس نے ان سے پاکستان میں حد درجے دلچسپی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا ’’پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے اس لیے آپ پریشان ہیں لیکن آپ کوگھبرانے کی ضرورت نہیں،سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ‘‘۔انہوں نے جو ہیش ٹیگز استعمال کیے ان میں #PositevePakistan,#EmergingPakistan,#ADiffrenLetns اور#NarrativeEconomicsتھے ۔ان کی ٹویٹس پر ا س لیے یقین نہیں آتا کہ وہ ایک ایسی امریکی خاتون کی جانب سے کی گئی ہیں جو سفید فام ہیں اور اب پاکستان کو اپنا گھر کہتی ہیں ۔انہوں نے 19اگست کو ٹویٹ کیا کہ ’’مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ میں اپنی میڈیا پروڈکشن کمپنی#ADiifrentLensرجسٹر کرا رہی ہوں جو پاکستان کے لیے تزویراتی سطح پر تعلقات عامہ کے لیے کام کرے گی ۔پاکستان میرا گھر ہے اور میں یہاں سرمایہ کاری میں فخر محسوس کرتی ہوں۔مجھے پاکستان کے لوگوں کی مدد کے لیے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے ۔
نوٹ :اس فیچر کے لیے ٹویٹر پر ہیش ٹیگز کا تجزیہ شکاری پراجیکٹ کے تعاون سے کیاگیا جن میں درستی کا عنصر 66فیصد رہا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...