پلوامہ حملہ: دونوں ملکوں کے قومی مسائل کا حل عوام کے پاس ہے

269

ایمپیتھی بہت نایاب خوبی ہے۔ دوسرے کا مسئلہ، احساس اور نقظہ نظر وغیرہ ایسے معلوم کرنا اورسمجھنا جیسے وہ آپ کا مسئلہ، احساس اور نقظہ نظر ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیاست میں مبالغہ آمیزی ایسے ہی جائز بلکہ لوازم میں سے ہے جیسے شاعری میں۔ دونوں کی کامیابی کا بڑا انحصار اس پر ہوتا ہے۔ تیسری چیز ہجوم کی ہیجانی نفسیات ہے، جو حالات یا بغیر حالات کے بھی لیڈر پیدا کردیتا ہے۔ یہ نفسیات جب قائم ہو جاتی ہے تو ہجوم ہوا کے دوش پر اڑنے والی ریت کی مانند ہو جاتا ہے۔ جذبات کی رو پھر اس سے وہ کچھ کرا سکتی ہے جس کا تصور عام حالات میں کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔

ان تین مقدمات کو مد نظر رکھتے ہوئےانڈیا کے عوام کے اس ہیجانی ردعمل کی تفہیم آسان ہو سکتی ہے جو پلوامہ حملے میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کی لاشیں وصول کرنے کے بعد وہاں تشکیل پائی ہے۔

پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت کی ضرورت سے بے نیاز ہو کر اس کا یقین کرنے کا مسئلہ ایسا ہی ہے جیسے بغیر ثبوت کے میاں برادران اور دیگر قومی سیاست دانوں کی میگا بلکہ مبالغہ آمیز کرپشن پر گویا ایمان بالغیب عوام کے ایک بڑے طبقے میں پایا جاتا ہے۔ ملکی سیاست کی مثال اس لیے دی گئی کہ تفہیم مدعا میں زیادہ معاون ہو سکتی ہے۔ جس طرح شریف خاندان کی مبینہ میگا کرپشن کے خلاف سیاسی مہم ثبوتوں کے بغیر بھی محض سیاسی پراپیگنڈا اور جذباتی اپیل کی بنا پر کامیاب  ٹھری اسی طرح انڈیا کی سیاست نے پلوامہ حملے کا الزام اپنے سیاسی مفادات کی خا طر پاکستان پر عائد کر دیا اور اسے بھی پذیرائی حاصل ہوگئی، اس سے عوام میں ہجوم کی ہیجانی نفسیات پیدا ہوئی اور بنا ثبوت یہ ایمان بالغیب قائم ہوگیا کہ یہ حملہ پاکستان نےکرایا ہوگا۔
ہمارے لوگ سوشل میڈیا پرانڈیا کے عوام کے اس جذباتی ردعمل کا جس طرح مذاق اڑا رہے ہیں یہ کوئی درست رویہ نہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستانی عوام اس دفعہ کسی جذباتی ردعمل کا شکار نہیں ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ ان کا زیادہ باشعور یا باوقار ہونا ہے۔ ہمارے عوام کےاس موجودہ کم جذباتی  ردعمل کی سادہ وجہ یہ ہے کہ یہ واقعہ ہم پر نہیں بیتا۔ خدا نخواستہ مارے جانے والے فوجی جوان ہمارے ہوتے تو بالکل یہی ردعمل ہماری قوم کا ہوتا، اور ہمیں بھی کسی ثبوت کے بنا یہ یقین ہوتا کہ یہ انڈیا نے کیا یا کرایا ہے۔ماضی میں ایسے جذباتی ردعمل کا اظہار ہم کئی بار کر چکے ہیں۔

ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں جنھیں ہمارے ہاں جہادی کارروائیاں کہا جاتا ہے، اس کی حمایت ہماری طرف سے ہوتی آئی ہے اور یہ اب بھی جاری ہے۔ ریکارڈ بھی جب موجود ہو تو لا محالہ انگلیاں انھیں کی طرف اٹھتی ہیں جو ایسی کارروائیوں کے پشت پناہ ہیں اور رہیں ہیں۔ چناں چہ ایسے کسی سانحے سے پیدا ہونے والے جذباتی ردعمل کو روایتی دشمن کی طرف موڑ دینا ایک موقع شناس لیڈر کے لیے چنداں مشکل نہیں ہوتا اور اس دفعہ بھی یہی ہوا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان پائےجانے والےیہ عدم اعتماد اور نفرت بے بنیاد  نہیں، لیکن یہ سب ان کا اپنا پیدا کردہ نہیں۔ اس کا علاج اس شعور کے حصول میں ہے جو تعلیم سے نہیں آئے گا کیونکہ تعلیم پر نفرت کے بیوپاریوں کا قبضہ ہے، یہ شعور ایک دوسرے کے مسئلے کو عوامی سطح پر عوامی روابط قائم کرنے سے آئے گا۔دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان  یہ عوامی روابط جہاں بھی پیدا ہوئے ہیں نفرت اور بد اعتمادی کی مصنوعی دیواریں گر گئی ہیں۔انڈیا اور پاکستان سے باہر دیگر ممالک میں بھارتی اور پاکستانی یابھارتی اور کشمیری کمیونٹیز میں لڑائی جھگڑوں یا آپسی نفرت کے مظاہر نظر نہیں آتے۔ بیرون ملک رہنے والوں کی ترجیح اچھی زندگی کا حصول ہوتاہے۔ یہ مقصد انھیں وہاں ممکن ہوتا نظر بھی آتا ہے، اس لیے اس طرح کےلڑائی جھگڑوں میں وقت اور توانائی برباد نہیں کرتے۔  لیکن انھیں دونوں عوام کو اپنے ملک میں حالات بہتر ہونے کی کوئی قوی امیدنظر نہیں آتی، چناں چہ جس کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو یا پانے کی  کوئ  قوی امید نہ ہو تو وہ اپنی نفسیاتی تسکین کے لیے کسی فرضی اعلی مقصد سے وابستہ ہونا اور اس کے لیے لڑنا مرنا  اپنے وقت اور توانائی کا بہتر مصرف سمجھتا ہے۔

دونوں ملک کی مقتدرہ کو ایسے سرپھرے میسر رہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشی خوش حالی کا دروازہ ایک حد تک ہی کھولا جائے۔ بھرے پیٹ لوگ لڑنے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں، تجزیے کرنے لگتےہیں، فنون لطیفہ میں دلچسپی لینے لگتے ہیں، تعمیر و ترقی کو اہمیت دینے لگتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ہمارے ہاں شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر کی زوال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بزدل سمجھا جاتا ہے۔ قومی ہیرو اگر جنگجو ہوں گے تو جنگیں آیڈئیل بنے گی اور تعمیر و ترقی ثانوی بلکہ اضافی قرار پائے گی۔ جب تک ادب ناول شاعری نغمے اور فلم کا ہیرو جنگجو رہے گا جنگ رہے گی یا نہیں ہو پائے گی تو طاری رکھی جائے گی۔ یہی ہو رہا ہے۔ جانے کب تک یہی ہوتا رہے گا۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں اقوام کےدرمیان عوامی سطح پر عوامی روابط قائم کرنے کی راہ ممکن ہوئی ہے۔ ان روابط کو مثبت طریقہ سے استعمال کیا جائے تو بدلاؤ آ سکتا ہے۔ یہ عوامی شعور ہی ہے جو اپنے اپنے ملک کے سیاست دانوں اور طاقت کے مراکز کی چیرہ دستیوں کو سمجھنے اور ان کو راہ راست پر لاسکتاہے۔ ضروری ہے کہ عوامی روابط بڑھائے جائیں اور قومیت کے فرسودہ خمار سےآزاد ہو کر انسانیت کے معیار پر آکر ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں اور حل کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...