بڑا گناہ

258

کسی بھی معاشرے، ملک اور قوم کی ترقی کےلیے ہر سطح پر چیک اینڈ بیلینس کا سسٹم اور قانون کی مکمل عملداری انتہائی لازم تصورہوتی ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ان اہم عوامل کو کچھ اس طرز پر نظر انداز کرنے اور پس پشت ڈالنے کی ریت ڈال دی گئی ہے کہ آج جب قانون کی عملداری کا سوال اٹھتا ہے تو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے  والے افراد کی اکثریت، جن میں بڑے تاجروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین اور  بیوروکریٹ تک شامل ہیں، اس حوالے سے نہ صرف سخت تعجب اور برہمی کا اظہار کرتے دیکھائی دیتے ہیں بلکہ انہیں یہ عمل سخت ناگوار بھی گزرتا ہے، جبکہ عوامی مسائل حل کرنے کے حوالے سے اکثر سرکاری اداروں کی کارکردگی صفرنظر آتی ہے۔

منگن بلوچ سندھ کے مضافات میں رہنے والا ایک عام ہاری اور غریب آدمی ہے۔ اتنا پڑھا لکھا بھی نہیں، لیکن اس کی باتیں بہت گہری، دلچسپ اور فکر انگیز ہوتی ہیں۔ وہ کہتا ہے ہمارے یہاں سرکاری ملازمت کے حصول اوربڑے سرکاری مناصب اور عہدوں تک پہنچنے کی تگ و دواوردل میں مچلتی ایسی خواہش کے پیچھے محض دو ہی عناصر کارفرما رہتے ہیں، جن میں ایک کرپشن کے بل پر اندھی دولت سمیٹنا اور دوسراویلیاں کھانا۔  منگن بلوچ کہتا ہے دفاتر میں دو طرح کے لوگوں سے آپ کا واسطہ پڑتا ہے، ایک وہ جو آپ کوپُر تپاک انداز میں ملیں گے، نہایت خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اور چائے  بسکٹ بھی آپ کو پیش کریں گے، لیکن جتنا مرضی ان کے دفتر کے چکر کاٹ لیں وہ آپ کا کام کبھی نہیں کریں گے اور رشوت بھی نہیں لیں گے۔ ان کا شیوہ محض ٹا ل مٹول کرکے وقت گزارنا اور سرکار ی خزانہ سے تنخواہ وصولنا ہوتا ہے۔ دوسرے وہ سرکاری آفیسرز ہیں، جب کوئی شخص کسی کام کی غرض سے ان سے ملاقات کے لئے ان کے آفس جائے گا تووہ اس شخص پر بڑا رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہایت سنجیدہ ہوکر میرٹ پر ہر کام ہونے کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ سائل اب پریشانی کے عالم میں سوچنے لگتا ہے میرا کام تو ہے ہی سیدھا سادہ، اس میں میر ٹ کہاں سے آگیا اور پھر افسر صاحب کاجو رویہ ہے میراتو کام ہی شاید نہیں ہوگا۔ معاملہ لیکن اس کے برعکس نکلتا ہے۔ وہ آدمی دوسرا راستہ ڈھونڈ کر، یعنی رشوت اور لین دین والا معاملہ کرکے صاحب بہادر کے دفتر جب اگلی باراپنے اسی کام کے سلسلے میں جاتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے وہ کوئی شاید دوسرآفیسر تھاجواس سیٹ پر براجمان تھا،بے تکلف گفتگو، دل موہ لینے والی باتیں، میرٹ کا تذکرہ تک نہیں اورسائل کی فائل بھی فوری نمٹادی جاتی ہے۔

کچھ ما ہ قبل ایک بزرگ سے ملنا ہوا،ان کا کام ایک سرکاری دفتر میں تھا، یہ بزرگ تھوڑا عرصہ پہلے روڈ حادثہ میں اپنی ایک ٹانگ ٹوٹ جانے کی وجہ سے بہت تکلیف کے ساتھ دفتر کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے جبکہ میں اس دفتر سے باہر نکل رہا تھا۔ ان کے ساتھ ایک خوبصورت اور خوش لباس نوجوان بھی تھا، سیڑھیاں اترتے ہوئے میں اچانک رک کرواپس مڑا، بزرگ سے دعا سلام کی۔ پوچھا کہ عمر کے اس حصے میں کیوں دفتروں کے دھکے کھا رہے ہیں، کیا مجبور ی ہے؟ بزرگ نے جواب دیا بیٹا یہ  آج سے دو برس پہلے کی کہانی ہے۔ ان دو برسوں میں اس سیٹ پر کئی آفیسرز آئے اور چلے گئے لیکن وعدوں اور تسلیوں کے باوجود یہ معمولی سا میرا ایک کام ان سے نہ ہوسکا۔ میں نے کہا  ماجرا کیا ہے؟ کہنے لگے زندگی میں ہی اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کردینا چاہتا ہوں کیونکہ اکثر ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو اس حق سے والدین کی وفات کے بعد محروم کر دیا جاتا ہے۔  میرے نام میں پٹواری کی غلطی کی وجہ سے ایک جگہ ” اکرم “کے بجائے  “اکبر ” لکھا گیا۔ نام  کی درستی  کا یہ معاملہ دو برس سے لٹکا ہوا ہے۔ ساتھ کھڑے نوجوان کی بابت میں نے بزرگ سے دریافت کیا، بزرگ آہ بھر کر گویا ہوئے۔ یہ میر اپوتا ہے، اس  کا والد جواں عمر ی میں فوت ہوگیا، یہ کالج میں سیکنڈائیرکاسوڈنٹ ہے۔ میں اس کے لیے بھی سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں کیونکہ ہفتے میں دوبار  اسے یہاں دفتر اپنے ساتھ لاتا ہوں، دو دن ایک ہفتے میں اس کی پڑھائی رہ جاتی ہے، ٹیوشن سے بھی ناغہ ہو جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرا یہ پوتا ڈاکٹر بنے اور اپنی والدہ کا خواب پورا کرسکے۔

بزرگ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے مجھے یہ فکر بھی لاحق ہے کہ بڑھاپے کی اس عمر میں آدمی کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ کب سوہنے رب کا بلاوا آ جائے۔ سوچتا ہوں ان یتیموں کی جو امانت جائیداد کی صورت میرے پاس ہے، جلد انہیں قانوی طور پر لوٹا دوں۔ میں نے فائل کو بغور پڑھ لینے کے بعد بزرگ کا ہاتھ تھاما دفتر کا درواز کھولا اور آفیسر سے مخاطب ہوا، یہ بزرگ ضعیف العمری میں اس کاغذ پر ایک دستخط  نہ ہونے کے سبب دو برس سے دفتر کے دھکے کھا رہے ہیں۔ انہیں کس گناہ کی سزا مل رہی ہے؟ آفیسر نے بظاہر خوشی کے انداز میں بزرگ  کے ہاتھ سے فائل لے کر اس پر دستخط کر دیے مگر ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ان کے  پی اے کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ کر میں چونک گیا۔ جیسے دو برس ا بھی مزید آگے چلنے والا کا م دوبر س پہلے نمٹا کر شاید میں اس کی نظر میں کسی بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...