بحث و مکالمہ کے بارہ اصول

383

بحث اور مکالمہ کے بھی کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔اصول وضوابط  کی پابندی سےبحث و گفتگو کے مقاصد و اہداف تک پہنچنا ممکن اور آسان ہوجاتا ہے۔  سوال یہ ہے کیا ہم بحث و مکالمہ مقابل کو ہرانے اور اپنی علمیت وذھانت کی دھاک بٹھانے کے لیے کرتے ہیں؟اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو پھر واقعی بحث و مکالمہ بےمقصد اور وقت کا ضیاع ہے۔ اگر جواب نہیں میں ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس رویّےسے کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ضرور ملے گا۔ اس سلسلے میں چند اصول پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔

پہلا اصول:  دلیل سے بات کرنا ہے۔ دلیل بھی وہ ہونی چاہیے، جسے مشترکہ طور پر تسلیم کیا جائے۔ ایسی دلیل نہ ہو جو فقط میری محبت،عقیدت اور وارفتگی کے معیار پہ پوری اترے ،لیکن میرامقابل اسے تسلیم نہ کرے، لیکن میرا اصرار یہ ہوکہ اسے ہر صورت میں تسلیم کیا جائے۔

دوسرا اصول:مقابل کا موقف نہ صرف توجہ سے سنا جائے بلکہ اس کی تضحیک واستہزاء سے بھی پرہیز کیا جائے۔ اپنا موقف بیان کرنےوالا اسے اپنی دریافت خیال کرتا اور عزیز سمجھتا ہے۔ ایک لحاظ سے، یہ تضحیک موقف کی نہیں بلکہ موقف اختیار کرنے والےکی ہوتی ہےجو مختلف رائے ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔

تیسرا اصول: اختلاف مضبوط طریقے سے پیش کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی الجھاؤاور ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ قبولیت اور عدم قبولیت(دونوں رویوں) کیلئےتیار رہنا چاہیے۔ تسلط و جبر کا طریقہ ہرگز فائدہ مند نہیں ہے۔ علمی، سیاسی، مذہبی اور قانونی ابحاث میں تو بالکل بھی کار آمد نہیں ہے۔ انسان کی آزادئ فکر اللہ کی طرف سے تحفہ ہے، اس نعمت کو سزا اور اذیت بنا دینا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔

چوتھا اصول: بحث کا اختتام خوشگوار ماحول میں ہونا چاہیے۔ تاکہ دوبارہ مل سکیں یا دوبارہ نہ بھی ملیں تو یادیں خوشگواررہیں۔  اگر اس پہ عمل ہو سکتا ہے تو بحث ومکالمہ کا آغاز کرنا چاہیے، ورنہ بہتر یہی ہے کہ اپنے وقت،صلاحیت کو ضائع اور طبیعت پہ بوجھ نہیں ڈالناچاہیے۔

پانچواں اصول:کم از کم اتنا ضرور ہو جائے کہ آخر میں ایک دوسرے سے معذرت کر لی جائے۔ممکن ہے کوئی ایسا جملہ منہ سے نکل گیا ہو جو دوسرے کیلئے تکلیف کا باعث بنا ہو۔ ایک ہی کلمہ جنت کے قریب اور ایک ہی کلمہ جہنم کے قریب کردیتا ہے۔۔ کئی بارغلبہ نفس سے ایسی بات منہ سے نکل جاتی ہے جس کی کڑواہٹ سمندروں کو بھی کڑوا کر دیتی ہے۔ یہ اصول فقط بالمشافہ ملاقات پہ ہی نہیں لاگو ہوتا اس کا اطلاق فیس بک،ٹی وی ٹاک شو اور  خط و کتابت پہ بھی ہوتا ہے۔

چھٹا اصول: کسی کے موقف سے اختلاف میں ہرگز بدنیتی شامل نہیں ہونی چاہیے، اُس کے موقف کو  من مانا مفہوم نہیں دینا چاہیے۔ اُسی پیرائے میں بات کو سمجھنا چاہیے، جس میں متکلم بات کرہا ہے ورنہ اس کے نتائج منفی ہی نہیں بلکہ نقصان دہ بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

ساتواں اصول:اختلاف کے ساتھ ان نکات کا بھی ذکر ہوتا رہے، جن پہ اتفاق ہوتا ہے اختلاف میں وقفہ ”اتفاق” کا ہو جائے تو اختلاف سے دوری پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی بڑی مثال سیاست ہے۔  سیاسی جماعتوں میں اختلاف کے باوجود، بیشتر مسائل و نکات پہ اتفاق  بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر بات کا آغاز ہی اتفاق سے کیا جائے تو ماحول دوستانہ بن جاتا ہے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ بس اختلاف ہی ہو اور اتفاق کی بات کوئی نہ ہو۔

آٹھواں اصول: اگر موضوع اپنا رخ بدل رہا ہو تو اسے واپس اس کے صحیح مقام پہ لائیے۔ اگر بحث کسی اور طرف نکل گئی تو اس آوارگی کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا ۔ موضوع نہ ہو تو بحث ذاتیات اور تصادم پہ ختم ہوتی ہے۔

نواں اصول: جب محسوس ہونے لگے کہ صرف ”پانی میں مدھانی” مارنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے تو وہاں خاموشی اختیار کر لیں اور غیر محسوسانہ طریقے سے اس بحث سے باہر نکل آئیے۔

دسواں اصول: جس بات کا علم نہ ہو اس پہ جاننے کا انداز اختیار کرنا اور جاننے والی بات سے لا علمی کا اظہار کرنا بھی ”علمی خیانت”ہوتی ہے۔اگر انسان مان لےکہ مجھے معلوم نہیں ہے تو اس رویّے سے اس کی عزت میں کمی نہیں آتی اور نہ ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ جو بات اپنے خلاف جارہی ہو اس کو ماننے سے انکار کر دے ،تاکہ مقابل کا موقف کمزور ہو جائے اور وہ مستحکم نہ رہے۔ اس رویے سے عارضی اور وقتی فتح حاصل ہوجاتی ہے لیکن سچ بات حاصل نہیں ہوسکتی۔۔تعصب و دجل سے غلبہ پایا جا سکتا ہے لیکن حقیقت اورسچائی تک نہیں پہنچاجاسکتا۔

گیارہواں اصول: ایک دوسرے کی بات کو تحمل سے سنا جائے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک کی بات مکمل نہ ہو اور دوسرا بات شروع کر دے۔ اگر بات مکمل ہوگی تو مقابل کا موقف سمجھ آئے گا ورنہ نا سمجھی ہوئی بات پہ گفتگو درست سمت پہ نہیں جاتی اور غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

بارہواں اصول: دورانِ گفتگو عمر، علم اور مرتبے کا خیال کیا جائے کم عمر والا بڑی عمر والے سے، کم علم والا زیادہ علم والے سے سیکھتا ہے۔ ایسے موقع پہ سرکشی اور رعونت چھوٹے کیلئے ہی نقصان کا باعث بنتی ہے اور وہ اپنے سینئر کے علم و تجربہ سے استفادہ کرنے سے محروم ہوجاتاہے۔ مرتبہ ومنصب کا خیال اس لیے کیا جائے کہ یہ مقام بھی اللہ عطا کرتا ہے یا اس کے فضل کے ساتھ، انسان کی محنت و کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...