حالیہ ادوار میں میڈیا کے بحران کی کہانی

305

پاکستانی صحافت میں آجکل پوری تصویر دکھائی جاتی ہے نہ مکمل خبرسامنے آتی ہے ۔ مکمل سچ مکمل کنڑول میں چلا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا بلکہ آج پیدا ہونے والی صورتحال ایک بتدریج عمل کا نتیجہ ہے۔

جنرل مشرف کے دور حکومت سے اب تک صحافت تین بنیادی ادوار سے گذر چکی ہے ۔ تیسرا دور مکمل ختم تو نہیں ہوا مگر چوتھا دور چپکے سے جنم لے چکا ہے۔ پہلادور2002 سے2007 پر محیط ہے جو نئے دور کی صحافت کا آغاز ہے ۔ دوسرا دور2007سے2014کا دور ہے جو کافی حد تک آزاد صحافت کا دور ہے ،جبکہ تیسرا دور ۲۰۱۴ سے آج تک کا دور ہے جو میڈیا کے متنازع ہونے اور پابندیوں کا شکاررہنے کا دور ہے ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ چوتھا دور بھی سامنے آچکا ہے ۔

صحافت کا پہلا دور

 

جب جنرل پرویز مشرف  نے اکتوبر1999 میں ملک پر قبضہ کیا تو سال 2001 تک ملک ایک ایسے دور سے گذر رہا تھا، جہاں نجی ٹی وی چینلزکا نام و نشان نہیں تھا۔ اکتوبر2002 میں بین الاقوامی ما لیاتی اداروں کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے پہلی بار باضابطہ طور پر نجی ٹی وی چینلز کو پاکستان میں کام کی اجازت دی گئی تو ملک میں صحافت  کی اہمیت نئے اور موثرانداز میں اجاگر ہوئی۔ یوں میڈیا حالیہ سالوں کے پہلے اور نئے دور میں داخل ہوا۔ ایک ایسا دور جس میں ٹی وی چینلز نے آہستہ آہستہ خبروں اور تبصروں پر اجارہ داری حاصل کرنا شروع کردی۔ اس دور میں میڈیا نے اکتوبر2005کے زلزلے میں بے مثال کردار ادا کیا۔ گھروں میں والدین اپنے بچوں کو سی ایس ایس کرنے ، ڈاکٹر یا انجنئیر بننے کے ساتھ ساتھ میڈیا جوائن کرنے کے مشورے بھی دینے لگے نتیجتاً یونیورسٹیوں میں میڈیا سے متعلق شعبہ جات میں طلبا کا سیلاب آنے لگا۔ میڈیا کا یہ دوسرا دور9 مارچ2007 تک قائم رہا۔ جس میں میڈیا ایک ایسے بچےکی طرح تھا جواپنے آپ اور اپنی طاقت سے آشنائی حاصل کرنے میں مگن تھا۔

دوسرا دور

 

9 مارچ 2007کو فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد  چوہدری کو برطرف کیا تو میڈیا ملک میں آمریت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کا ہراول دستہ بن کر ابھرا۔ یہ میڈیا کے مجموعی طور پر دوسرے دور کا آغازتھا۔ میڈیا بڑھ بڑھ کر طاقت کے مراکز کو چیلنج کررہا تھا، یہ الگ بات کہ آمریت کے خلاف بننے والی علامت ، سبکدوش چیف جسٹس درون پردہ طاقت کے انہی  مراکز سے مذاکرات اور کچھ لو اور کچھ دو کی ڈیل میں مصروف تھے ۔ اس مرحلے پر پاکستان میں طاقت کے اصل  مراکز کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دن بہ دن طاقت پکڑتے اس میڈیا سے نمٹیں تو نمٹیں کیسے ؟ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کے بعد3 نومبر2007 کو ایک بارپھر برطرفی کی گئی تو اس عمل میں ٹی وی چینلزبھی بند کردیے گئے اور اخبارات کو بھی کڑی ہدایات دی گئیں ۔ یہ اس دور میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے میڈیا کو مکمل طورپر کنٹرول کرنے کی پہلی بڑی کوشش تھی۔ معافی تلافی اور منت ترلے کے ساتھ بدلتے سیاسی حالات اور دن بدن کمزور ہوتے پرویز مشرف نے ایک وقفے کے بعد ٹی وی چینلز کو بحال کردیا۔18 اگست2018 کو مشرف تو مستعفی ہوگئے ۔ مگر طاقت کے مراکز کی نظر حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی اٹک گئی ،کیونکہ ملک میں صحافت ، طاقت کی ایک نئی شکل بن کر ابھری تھی، جس نے اسٹیبلشمنٹ  کے مراکز کو ہلا کررکھ دیا تھا۔ ظاہر ہے اسے کنٹرول کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہوگیا تھا۔

اس دور میں میڈیا نے اپنی طاقت کے نشے میں کچھ غلطیاں بھی کیں ۔ میڈیا محض حقائق رپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ احتساب کا ایک ہتھیار بھی بن گیا تھا۔ طاقت کے مراکز کو سال2008میں میڈیا کی طرف سے ممبئی حملوں  میں ملوث اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت کی رپورٹنگ کا بھی بڑا رنج تھا۔ اس عمل کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا جارہا تھا۔ یہ عمل ملکی مفاد کی خلاف ورزی تھی یا نہیں یہ ایک مکمل الگ موضوع بحث ہے مگر یہاں ایک تاریخی درستگی بھی ضروری ہے ۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت کی خبر پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ کے ٹی وی چینل جیو نیوز نے دی حالانکہ یہ سراسر غلط ہے ۔ یہ خبر سب سے پہلے دائیں بازو کےایک میڈیا گروپ نوائے وقت کے وقت ٹی وی  نے نشر کی تھی ۔ بعدازاں یہ خبرڈان پر نشر ہوئی ۔ پھر ایک غیر ملکی اخبار نے اسے شائع کیا تو پاکستانی میڈیا کے تمام چینلز بشمول جیو نے اسے رپورٹ کیا۔  چونکہ لوگ دیکھتے ہی جیو تھے  ،وہ  یہ سمجھ بیٹھے کہ شائد یہ خبر جیو نیوز نے ہی سب سے پہلے دی جو کہ ہرگز درست نہیں۔

تیسرا دور  

 

18 اپریل2018 کو معروف ٹی وی اینکر حامد میر پر حملے کے بعد میڈیا تیسرے دور میں داخل ہوا ۔ اس واقعے کے بعد ایسا کیچڑ اچھالا گیا کہ ہرطرف گند ہی گند ہو گیا۔ میڈیا اداروں میں ایسی تقسیم آئی کہ خدا کی پناہ۔ دراصل سال 2007 سے 2014 کے دوران جب میڈیا طاقت کے عروج پر تھا اور اقتدار اور طاقت کے بڑے بڑے ایوانوں کو چیلنج کررہا تھا تو اسی وقت میڈیا کے اس جن کو بوتل میں بند کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ طاقت کے عروج کے دنوں میں میڈیا کے اداروں میں کچھ لوگوں کی خدمات مستعار لی گئیں تو کچھ لوگوں کو خاص طورپر میڈیا اداروں میں شامل کیا یا کروایا گیا۔ بعض کیسز میں توادارے کے ادارے ٹھیکے پر لے لیے گئے  اور کچھ نئے ادارے قائم کرکے قیام پاکستان سے موجود میڈیا کے اداروں پر گند اچھالا گیا۔ اس سارے عمل میں میڈیا کے اندر اہم عہدوں پر تعینات کچھ کرداروں نے اسٹیبلشمنٹ کی خوب معاونت کی۔ وہ کردارآج بھی میڈیا کے اداروں میں بدستور موجود ہیں کیونکہ پاکستانی میڈیا مالکان کوطاقتورحلقوں سے بات چیت کے لیے ان کی خدمات درکارہیں، لہذا دونوں کا کام چل رہا ہے۔

2014 میں حامد میر پر حملے کے بعد سے آنے والا ہرسال میڈیا کو متنازع بنانے اور ممتاز ، پیشہ ور صحافیوں کی درگت بنانے جیسے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ آئے روزصحافت اور صحافی زوال کے نئے عروج پکڑ چھورہے ہیں۔ اس عمل کے دوران خاموشی سے میڈیا کے اندر چھاتا بردار طبقہ بھی آن دھمکا ۔ یہ طبقہ زیادہ تر ٹی وی اینکرز کی شکل میں نمودار ہوا۔ کسی صحافتی پس منظر کے بغیر خاموشی سے میڈیا میں در آنے والے ان حضرات کے پاس یا تو طاقتورحلقوں کی پرچی تھی یا کسی کی سفارش۔ دونوں صورتوں میں یہ افراد یہ ضرورسمجھ چکے تھے کہ پاکستانی میڈیا میں کامیابی کی واحد کنجی طاقت کے اصل مراکز کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہی ہے۔

آج میڈیا پر کوئی پیشہ ورصحافی سوال اٹھائے تو اس کے سوال پر غور کرنے کی  بجائے اس پر الزام عائد کرکے اسے متنازع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس عمل کا سب سے زیادہ سامنا دی نیوز کے معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کو ہے ۔ ان کے ہمراہ احمد نورانی بھی اپنی خبروں اور تبصروں کے باعث ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔  یہ کام اعلیٰ ترین سرکاری سطح سے شروع ہوکر سوشل میڈیا پر موجود ہر دوسرا شخص کرررہاہے ۔ ابھی کل کی بات ہے ممتاز صحافی عاصمہ شیرازی حکومت پرایک سوال اٹھاتی ہیں تو جواب میں پنجاب حکومت کے ترجمان ان پر بے بنیاد الزامات عائد کردیتے ہیں۔ بے بنیاد الزامات کا دلائل سے جواب دیا جاتا ہے تو معافی مانگنا تک گوارا نہیں کیا جاتا۔ تاہم عاصمہ شیرازی کے خلاف سوشل میڈیا پر خوب مہم چلائی جاتی ہے ۔

میڈیا کو تو پہلے ہی متنازع بنا دیا گیا تھا مگر معاشی بحران نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ۔ اشارے اور علامتیں بتارہی ہیں کہ پاکستان میں صحافت اور صحافی آنے والے کئی سالوں تک مشکل کا شکار رہیں گے ۔  صرف پاکستان میں میڈیا معاشی بحران کا شکار نہیں بلکہ دنیا کے بعض دوسرے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کی ایک وجہ ٹیکنالوجی ہے تو دوسری اہم وجہ حکومت اور میڈیا مالکان کی آنکھ مچولی بھی ہے ۔ حکومت میڈیا مالکان کے کم و بیش پانچ ارب روپے دینے سے گریزاں ہے تو میڈیا مالکان بھی صحافیوں کو اپنے خالی ہاتھ اورجیبیں دکھا رہے ہیں۔ اس سارے عمل نے خبر اور معلومات کی رسائی جیسے نازک مگر انتہائی اہم کام کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینل کی خبروں اور تبصروں کی مکمل نگرانی ہورہی ہے۔ جس کے باعث سچ کی کڑواہٹ بیان کرنے والی آوازیں مدہم ہورہی ہیں یا ٹی وی سکرین اور اخبارات کے صفحات سے غائب۔

صحافت کے تین ادوار میں سے تیسرا دور بدترین تباہی کا دور ہے۔ یہ دور میڈیا کے اداروں پر مکمل کنڑول کا زمانہ ہے ۔ پہلے میڈیا کی پہنچ اور رسائی پر کنڑول حاصل کیا گیا ، پھر میڈیا اداروں کے اندر ایسے گھس بیٹھیے داخل ہوئے جو نام تو صحافت کا لیتے رہے مگر چھید بھی اسی تھالی میں کرتے رہے ۔ اس سارے عمل کے ساتھ خاموشی سے  یہ کب ختم ہوگا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں لیکن اگرسیاسی سطح پر کچھ مثبت تبدیلیاں نہ آئیں اور آئین کی بالادستی صحیع معنوں میں قائم نہ ہوئی تو ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا ہی صحافت کے چوتھے دور کی نشانی ہونگے ۔

دنیا بھر میں صحافت اور میڈیا کے اداروں کی بجائے اب صحافیوں کو دیکھا جانے لگا ہے۔ آزاد صحافت کے لیے آزاد صحافیوں کے ٹویٹر ، فیس بک اور یو ٹیوب اکاونٹس پر نظررکھی جارہی ہے ( ہاں کچھ جعلی کردار بھی اس میں گھس رہے ہیں) پاکستان بھی صحافت کے اسی دور کی  سمت بڑھ رہا ہے ۔

اگر ایسا ہے تو پاکستان میں صحافت کے چوتھے دور کا آغاز اسی روز ہوگیا تھا جس روز پاکستان کے پہلے صحافی نے سوشل میڈیا کو مستند خبروں اور تجزیے کے اجرا کے لیے اپنا  ہتھیار بنایا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ چوتھا دور میڈیا کے اداروں کی تباہی اور صحافیوں کی بے روزگاری کے ملبے کے نیچے سے نکل رہا ہے ۔ سچ کا سفر مگر جاری ہے ۔ اگر پابندیوں کا انداز نیا ہے تو سچ بولنے والے بھی نت نئے راستے نکال رہے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...