سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان: کچھ داؤ پر تو نہیں لگا؟

243

عرب بہار سے قبل ایک عرصہ تک مشرق وسطیٰ پر سعودی عرب کی گرفت مضبوط رہی ہے ۔اس کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔چندسالوں کے اندر سعودی عرب نے اپنے کئی حلیف کھودیے ہیں جن کی فہرست طویل ہے ۔ان ممالک میں ترکی،قطر،مصر،تیونس ،الجزائر،اردن،یمن ،عراق اور لیبیا شامل ہیں۔اس وقت مشرق وسطیٰ ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور طاقت کاایک مرکز باقی نہیں رہا۔ سعودی عرب کے علاوہ ایران،ترکی اور اسرائیل خطے کی قیادت کے حصول کے لیے میدان میں ہیں ۔ اس منظرنامے نے سعودی عرب کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ،اس کی اثرپذیری یکلخت کم ہوگئی ہے۔یمن جنگ اور خشوگجی قتل کے بعد مغربی ممالک نے بھی اسے نظرانداز کرنا شروع کردیا ہے ۔اس وقت سعودی عرب کو اپنا اعتماد اور حیثیت بحال کرنے کے لیے نئے اتحادیوں کی تلاش ہے ۔ولی عہدمحمدبن سلمان کے ایشیائی ممالک سے شروع ہونے والے دورے اور بڑے تجارتی معاہدے اسی ضرورت کے پیش نظر ہیں۔

پاکستان اگرچہ سعودی عرب کا پرانا دوست ہے اورباہمی تعاون بھی نیا نہیں ہے لیکن ولی عہد کا حالیہ دورہ دو وجوہات سے روایتی نوعیت کا نہیں ہے ،اگرچہ دونوں میں قدرمشترک ایک ہی عنصر ہے اور وہ ہے ایران۔ ایک تو اس لیے کہ اس بار سعودی عرب بھی اتنا ہی پرجوش ہے جتنا کہ پاکستان ۔اس کا سبب وزیراعظم عمران خان  کی ذات ہے جنہیں خلیجی ممالک میں انتخابات سے قبل ایران کا حمایتی تصور کیا جارہا تھا۔یہ تصور اتنا عام تھا کہ سعودی اخبار “عکاظ “نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کا عنوان تھا’’عمران خان:اسلام آباد میں ایران کا ایلچی‘‘،اور جب عمران خان وزیراعظم منتخب ہوگئے تو سعودی فٹبال کلب کی شوریٰ کےممبر شہزادہ خالدبن عبداللہ آل سعود نے ٹویٹ کی کہ ’’خدا اس سے محفوظ رکھے،کہاجاتا ہے کہ یہ شخص ایران کا پٹھو ہے‘‘۔اس ٹویٹ کو بعد میں حذف کردیا گیا تھا ۔خلیجی ممالک میں پاکستان کی یمن جنگ میں عدم شمولیت کو بھی عمران خان سے جوڑا گیا تھا ،”عکاظ “کی رپورٹ میں کہاگیا کہ پی ٹی آئی کے دباؤ اور شدید مخالفت کی وجہ سے پارلیمنٹ نے فوجی دستے بھیجنے سے انکار کیا ہے ۔عمران خان کے بارے یہ تصور ان کے اپنے متعدد بیانات کی وجہ سے بنا جس میں انہوں نے یمنی جنگ کو دوسروں کی جنگ قرار دیا تھا اور ایران ،سعودی مصالحت پر زور دیاتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی جیت کے بعد حوثی جماعت انصاراللہ کے سربراہ محمدعلی نے نے ٹویٹر پر عمران خان کو مبارکباد بھی دی تھی اور ان کی فتح کو جمہوریت کی فتح قرار دیا تھا۔

اس صورتحال میں سعودی عرب کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ مغرب اور عرب دنیا کے کئی اتحادی کھودینے کے بعد کہیں پاکستان جیسا ملک بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے ،جوکہ ایٹمی طاقت ہے اور ایران کا ہمسایہ بھی ۔اس لیے انتخابات کے فوری بعد سعودی عرب اور امارات نے عمران خان کو دورے کی دعوت دے دی جسے انہوں نے قبول کرلیا،اس کے بعد امارات کے نائب ولی عہدمحمدبن زائد پاکستان آئے اور پھرشہزادہ محمد بن سلمان بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ تشریف لائے ۔وزیراعظم عمران خان نے ابھی تک ایران جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ،حالانکہ انہوں نے انتخابات میں کامیابی کے بعد کہاتھا کہ وہ سب سے پہلے ایران کا دورہ کریں گے اور اس کے بعد سعودی عرب جائیں گے۔سعودی عرب اور امارات فی الحال مطمئن ہیں کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

اِس دورہ کے روایتی نہ ہونے کی دوسری وجہ کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سعودی عرب کے توانائی کے وزیر خالدالفالح نے اعلان کیا کہ ان کا ملک گوادر میں تیل ریفائنری کے منصوبہ کے تحت دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہا ہے تو اس کے فوری بعد ایران میں وزات گیس کے پروجیکٹ مینیجر حسن منتظر تربتی نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تعمیل کا خواہاں ہے ،پاکستان کے سرکاری ذمہ داران بتائیں کہ وہ ہم سے گیس لینا چاہیں گے یا نہیں؟ دراصل اگر یہ گیس پائپ لائن مکمل ہوجاتی ہے تو 2023 تک ایران گوادر میں روزانہ کی بنیاد پر جتنی گیس کی ترسیل کرے گا وہ پاکستان کی اُس وقت کی ضرورت کا ایک چوتھائی ہوگی۔اس منصوبے سے جہاں پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا وہیں یہ پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلق کی ایک نئی کڑی میں باندھ دے گا، جس کے تحت سعودی عرب کے بالمقابل ایران کو نظرانداز کرنا مشکل ہوگا۔گوادر تک پہنچنے کے بعد ایران چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات مضبوط کرے گا۔

یہ صورتحال بھی سعودی عرب کے لیے تشویش کا باعث ہے ، اس لیے وہ  گوادر میں اپنا وجود یقینی بنانا ضروری خیال کرتا ہے۔ سعودی عرب مشرق وسطی ٰ میں پہلے ہی اپنے کم ہوتے اثر کے بعد ایران کو مزید طاقتور ہوتا  برداشت  نہیں کرسکتا اور نہ پاکستان کو اس کے ساتھ مضبوط تعلق میں جڑا ہوا دیکھ سکتا ہے۔ایران کا ردعمل فطری ہے کیونکہ وہ بھی سعودی سرمایہ کاری کو اسی تناظرمیں دیکھتا ہے جس سے سعودی عرب جانچتا ہے۔ایرانی ذمہ دار کے بیان کے بعد  یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اب یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ پاکستان کا پلڑا سعودی عرب کی طرف جھک گیا ہے ۔اسی چیز کا اظہار سعودی عرب بھی چاہتا ہے۔

ولی عہدمحمد بن سلمان کے پیش نظردو مقاصد ہیں۔پہلاسعودی عرب کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ۔اس کے لیے وہ نئی منڈیوں کی تلاش کر رہے ہیں۔دوسرامشرق وسطی میں سعودی زمام کی بحالی۔اس کے لیے انہیں طاقتور دوستوں کی تلاش ہے۔

رواں ماہ وہ جن ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، بظاہر یہ ہدف کے حصول کے لیے ابتدائی سطح پر مناسب انتخاب ہیں۔مغربی ممالک کے برعکس ان میں سے کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو ولی عہد سے ایسے سخت سوالات کرے گا جن سے انہیں ناگواری ہوتی ہے۔یہ تمام ملک  جنہوں نے یمن جنگ،قطرحصار،اینٹی کرپشن کیمپین اور خشوگجی قتل پر سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا اور خاموش رہنے کو ترجیح دی۔یہ ملک دیرپا تجارتی منصوبوں کے لیے بھی زرخیز ہیں۔چین کے علاوہ پاکستان سمیت انڈیا،ملائیشیااور انڈونیشیا کے باشندوں کی خاطر خواہ تعداد سعودی عرب میں کام کرتی ہے اور سالانہ خطیر سرمایہ اپنے ملکوں کو ارسال کرتی ہے، اس لیے ان سے مفادات کے حصول میں زیادہ دشواری کا سامنا بھی نہیں کرنا ہوگا۔

پاکستان کے لیے ولی عہد کا انڈیا کا  دورہ بھی اہم ہے ۔یمن جنگ میں پاکستان کی عدم شمولیت کے بعد بھارت کے سعودی عرب ودیگر خلیجی ممالک کے ساتھ روابط بہت زیادہ گہرے ہوئے ہیں ۔اب بھی وہاں اس دورے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے اور تیل،زراعت،توانائی،دفاع اور تفریح کے شعبوں میں اہم تجارتی معاہدے ہونے ہیں۔اس طرح انڈیا ایک طرف مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں اپنے قدم جماتا جارہا ہے اور دوسری طرف ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعہ افغانستان میں بھی اپنااثرورسوخ پیدا کرچکا ہے۔افغان حکومت اب تجارت کے لیے پاکستان کی بجائے چاہ بہار اور بندر عباس پورٹ کو ترجیح دیتی ہے۔یوں فی الوقت پاکستان کے پاس افغانستان سے ربط کے لیے بھی طالبان کے علاوہ کوئی کڑی موجود نہیں ہے جوغیرفطری ہے اور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔

پاکستان میں بیس ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری بلاشبہ اہم پیش رفت ہے جس سے ملکی معیشت کو توانائی ملے گی لیکن اس کے ساتھ دوچیزوں کویقینی بنانا ضروری ہے ۔ایک تو یہ کہ اس کے پس منظرمیں کوئی ایسی معاندانہ کشمکش کارفرما نہ ہو جس کی وجہ سے پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔پاکستان کسی اور کی جنگ کا میدان نہ بنے۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر ہنر دوست نے کہا ہے کہ ایران ولی عہد کی آمد کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسے کوئی مسئلہ نہیں ،لیکن گیس پائپ لائن منصوبے پر استفساراور سیستان حملے کے بعد پاکستان کو موردالزام ٹھہرانے اور ساتھ ہی سعودی واماراتی پشت پناہی کے دعوے سے محسوس ہوتا ہے کہ ایران سعودی سرمایہ کاری کو غیرجانبدارانہ تناظر میں نہیں دیکھ رہا،اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی آئندہ پالیسی اسی تصور پر مرتب کرے گا ۔ دوسری طرف سعودی سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا بھی بڑی حدتک اس سرمایہ کاری کو ایران کی شکست سے تعبیر کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا سیستان حملے پر خاموشی اختیار کرنا مناسب رویہ نہیں تھا۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ تعلقات میں توازن کو قائم رکھے ورنہ ایران سعودی کشمکش بلوچستان میں نئے مسائل کو جنم دے گی۔

دوسری اہم چیز یہ ہے کہ اس تعاون کے بدلے میں آزادی فروخت نہ کی جائے۔کوئی ایسا معاہدہ نہ ہو جس میں پاکستان کی حیثیت محض کرائے کے سپاہی کی ہو۔خلیجی ممالک میں پاکستان کی تعریف جنگجو اور ایٹمی ریاست کے الفاظ سے کی جاتی ہے۔ہمیں اس تأثر کو بدلنا ہوگا۔جب پاکستان نے یمن جنگ میں شمولیت سے انکار کیا تھا تو بحرینی حکومت کے مقرب اخبار ’’الخلیج‘‘ نے ایک کارٹون شائع کیا تھا جس میں ایک غیرمہذب،بڑی مونچھوں والادھوتی پہنے شخص(پاکستان)چارپائی پر لیٹا ہے اور اس کے سامنے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز ایک ہاتھ میں بندوق اوردوسرے میں پیسوں کا تھیلا لیے کھڑا ہے اور اس شخص سے کہتا ہے’’ اٹھو لڑو‘‘،وہ جوابدیتا ہے ’’نہیں‘‘،فرمانروادوبارہ پیسوں کا تھیلا آگے کرکے کہتا ہے: یہ پکڑو،اس کے بعد وہ شخص چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ سجائے ہوئے اٹھتا ہے اور کہتا ہے ’’ہاں اب توضرور‘‘۔

ان دوروں  میں سعودی عرب اپنے اہداف  اپنی آزادی اور امن کو داؤ پر لگائے بغیرحاصل کر نا چاہتا ہے،انڈیا بھی امن اور آزادی کو داؤ پر لگائے بغیر اپنے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم جو فوائد حاصل کررہے ہیں، اس میں کچھ داؤ پرتو نہیں لگا؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...