آزادی  اظہار کیوں ضروری ہے ؟

 مشتاق بلال

آزادی اظہار محض اس لیے لازمی نہیں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا حصہ اور آزادانہ جمہوری معاشرے کا مسئلہ ہے بلکہ یہ اس لیے بھی لازم  ہے کہ اس کے ذریعے نت نئے تصورات تک پہنچنے کا سفر آسان ہوتا ہے ، ایسے تصورات جو معاشی مضبوطی کے ضامن ہوتے ہیں ۔کچھ روز پہلے میں اور میرا نوسالہ بیٹا  پیراکی کی مشق کے بعد گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ہمارے درمیان گفتگو شروع ہوگئی  ۔ وہ بتا رہا تھا کہ اس کے استاد نے اسےاور اس کے دیگر ہم جماعتوں کو اپنی زندگیوں کے مقاصد کے موضوع پر مضمون لکھنے کو کہا ۔ میرے بیٹے نے بتایا کہ اس نے اپنے مضمون میں لکھا کہ” وہ ایک روز اولمپک کا پیراک بننا چاہتا ہے ۔”    یہ اس کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے ۔ تاہم اس کے استاد کو اس پر اعتراض ہوا اور اس نے کہا کہ وہ محض اپنے تعلیمی مقاصد کے متعلق بیان کرے  ۔ مثال کےطور پر وہ یہ لکھے کہ اس کی زندگی کا مقصد ہے کہ وہ ریاضی اور دیگر مضامین میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا  وغیرہ ۔ وہ جھلا رہا تھا تو میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی زندگی کے مقاصد تو وہی ہیں جو وہ چاہتا ہے ۔ وہ کمرہ  جماعت میں کیا لکھ کر آتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس پہ اس نے سوال اٹھایا کہ ” پھر میری آزادی اظہار رائے کیا ہوئی ؟”

اس روز سے میرے ذہن میں یہ سوال اٹکا  ہوا ہے کہ ایسی کیا وجہ ہو ئی ہے کہ میرے نوسالہ بیٹے کے لیے تو آزادی اظہار رائے اس قدر اہم ہے لیکن میرے لیے کیوں نہیں ہے ؟شائد اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ امریکہ میں پرورش پا رہا ہے جہاں آزادی اظہا ر کو ایک فرد کا بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے اور اسے قانونی و آئینی تحفظ حاصل ہے ۔

میرے بیٹے کے برعکس میرا جنم پاکستان میں ہوا ،جہاں نہ صرف  اظہار کی آزادی کا وعدہ آئین میں موجود نہیں ہے  بلکہ اس کو مختلف طرح کی مذہبی ، سماجی ، سیاسی اور ثقافتی وجوہات کی بناء پر بھی پابند رکھا جاتا ہے ۔ میری یاداشت میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ میرے والدین ، اساتذہ اور بزرگوں نے مجھے کبھی بھی آزادی اظہار کے متعلق  کچھ آگاہ کیا ہو  ۔

امریکی آئین میں پہلی ترمیم کے  مطابق ” کانگرس ایسا  کوئی قانون نہیں بنائے گی جس میں کسی مذہب کے احترام کی خاطراظہار کی آزادی کے حق پر قدغن لگائی جاسکے ، یاپریس کو پابند کیا جاسکے ،یا لوگوں کے پرامن اجتماع کو روکا جاسکے یا لوگوں کو  پابند کردیا جائے کہ وہ حکومت سے شکایات کی  صورت میں اس کے خلاف  فہرست تحفظات جمع نہیں کروا سکتے ۔

پاکستانی آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے لیکن یہ آزادی مادر پدر آزاد نہیں ہے  بلکہ یہ قانونی پابندیوں کے تابع ہے۔ ان پابندیوں میں اس آئینی شق کے مطابق اسلام کی عظمت ، پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت ، سلامتی یا دفاع ، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ، امن عامہ  ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد ، توہین عدالت یا اشتعال انگیزی جیسے معاملات پر اظہار کی آزادی موجود نہیں ہے ۔

امریکی آئین کی پہلی ترمیم اظہار رائے کی آزادی مہیا نہیں کرتی بلکہ اس کا متن اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ آزادی اظہار رائے کسی بھی فرد کا  بلا مشروط بنیادی حق ہے ۔باالفاظ دیگر پہلی آئینی ترمیم یہ توقع کرتی ہے کہ جب بھی کوئی فرد اس دنیا میں آتا ہے تو وہ پیدائشی طور پر رائے کے اظہار کی آزادی کا حق رکھتا ہے اور کوئی فرد یا ریاست اس سے یہ حق چھین نہیں سکتا۔ پہلی آئینی ترمیم کانگرس کو اس امر کا پابند بناتی ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون کبھی نہ بنائے جو فرد کی آزادی اظہار رائے پہ قدغن لگائے ۔ یہ ترمیم آزادی اظہار رائے کا حق دینے کی بجائے اس تسلیم شدہ حق کو موثر بناتی ہے ۔

امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے برعکس پاکستانی آئین کا آرٹیکل 19 یہ یقین نہیں دلاتا کہ آزادی اظہار رائے کسی ایک فرد کا پیدائشی اور بنیادی حق ہے  بلکہ آئین کی یہ شق اس تصور کی وضاحت کرتی ہے کہ کسی شخص کو رائے کی آزادی کا حق دینا یا اس کو سلب کرنا ریاست کے اختیار میں  ہے ۔ مزید برآں آرٹیکل 19 مشروط آزادی اظہار رائے دیتا ہے اور ان شرائط کو نہایت مبہم پابندیوں سے لاگوکیا گیا ہے ۔

وہ ”منطقی حدود” کیا ہیں جن کے متعلق آئین کے آرٹیکل 19 میں بیان کیا گیا ہے  اور وہ امور کون سے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ یہاں سے آگے وہ  ”منطقی حدود ” لاگو ہو جائیں گی ؟ مزید یہ بھی اس شق میں موجود لفظ ” منطقی ” سے کیا مراد ہے ؟

منطق کے کون سے فہم کے مطابق کوئی ذی شعور فرد شعور کے اس درجے پر پہنچ کر فیصلہ کرسکتا ہے کہ کسی فرد کے اظہار کی آزادی پر اب منطقی حدود لاگو کی جا سکتی ہیں ۔ سادہ لفظوں میں ایسی منطق کی کیا تُک ہے ؟

آئین اس امر کی وضاحت نہیں کرتا کہ یہ منطق ہمارے سماج میں ہے یا ہمارے ثقافتی اقدار میں ہے یا ہمارے مذہبی عقائد  میں  ہے یا محض یہ  کسی ایک طبقے کی رائے میں دانش مندی ہے؟

آئین کے آرٹیکل 19 کی شق کے مطابق ایسی رائے پہ قدغن لگائی گئی ہے جو اسلام کی عظمت  پر سوال اٹھاتی ہو۔ یہاں سوال پید ا ہوتا ہے کہ کو ن سا اسلام ؟ کیا یہ سوال کوئی  پوچھ سکتا ہے ؟کیا یہ تحریر ی شکل میں موجود منقولات اسلام سے متعلق ہے یا اس سے مراد شرعی اسلام کی وضاحت ہے، جو آٹھویں صدی عیسویں سے لے کر آ ج تک کے شارحین نے کررکھی ہے ؟کیا یہ تمدنی اسلام کی بابت اشارہ کرتا ہے جس سے مراد وہ تہذیبی تمدن ہے جس کے تحت مسلم معاشروں کے مسلمان رہتے ہیں ؟

شرعی اسلام ان گنت کتابوں کی شکل میں تحریر صفحات کا نام ہے جن میں اکثر اوقات شدید نوعیت کا فکری اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ان تشریحاتی اختلافات کے سبب صدیوں کے ارتقائی سفر کے نتیجے میں اسلام کے بیسیوں فرقے اور مسلک بن گئے ہیں جن کا آپسی تعلق نزاعی ہے  اور اسی بنیاد پر فرقہ وارانہ تشدد کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ قرآن و حدیث پر مشتمل منقولاتی اسلام اور تمدن کی بنیاد پر قائم تہذیبی اسلام میں تضادات کی وضاحت اسلامی تاریخ میں موجود اس اختلاف سے واضح ہوتی ہے جو کہ وائن پینے سےمتعلق ہے۔

آرٹیکل 19 اس طرح کی رائے کے اظہار پر بھی پابندی لگاتا ہے جس کے مطابق پاکستان کے  غیر ملکی دوستانہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہوں ۔ یہاں اہم لفظ ” دوستانہ تعلقات ” ہے ۔ کسی کو کیا اندازہ کہ غیرممالک سے دوستانہ تعلقات سے کیا مراد ہے  ۔ وہ کون سی صورت ہو سکتی ہے جس میں یہ کہا جا سکے کہ فلاں ملک کے فلاں ملک سے دوستانہ تعلقات ہیں  ۔

مثال  کے طور پر سال 2017 میں چین امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا ،جہاں امریکہ اور چین کی دوطرفہ تجارت کا حجم 635 ارب ڈالر  تھا ۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ امریکہ اور چین آپس میں دوست ممالک تصور ہوں گے ؟پاکستان کی امریکہ میں ایک ایمبیسی اور 5 قونصل خانے ہیں ۔ اسی طرح امریکہ کے پاکستان میں ایمبیسی کے علاوہ لاہور ، کراچی اور پشاور میں قونصل دفاتر موجود ہیں ۔ علاوہ ازیں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں رہتی ہے اور امریکی دفتر خارجہ کے مطابق اردو سیکھنا اور پڑھنا ہماری قومی سلامتی اور ترقی کے لیے ایک لازمی صلاحیت ہے۔ اس بناء پر امریکی دفتر خارجہ امریکی شہریوں  کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اردو سیکھیں ۔ اس مقصد کے لیے و ہ اسکالر شپس بھی دیتے ہیں ۔ کیا ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ سمجھا جائے  کہ امریکہ اور پاکستان آپس میں دوست ہیں ؟

کیا اگر کوئی بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کی  بات کرے تو اس کی آزادی اظہار رائے کا تحفظ کیا جائے گا ؟ کیا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات دوستانہ ہیں ؟کیا پاکستان روس کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے جو بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان اور چین کے وسیع دوستانہ تعلقات قائم ہیں ۔ کیا چین اور بھارت کی دوطرفہ تجارت (سال 2017 میں 84 ارب ڈالر) اور اسرائیل (چین دنیا بھر میں اسرائیل کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے) کے چین کے تعلقات کا کوئی منفی اثر پاک چین دوستی پر اثر انداز ہوگا؟

اسرائیل نے سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستان کے بیانیے کی حمایت کی اور پاکستان کو  افغان مجاہدین کے لیے اسلحہ بھی فراہم کیا تھا اور مزید برآں یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان کو ئی  براہ راست تنازع بھی نہیں ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام اسرائیل کا نام سن کر ہی طیش میں آجاتے ہیں ۔

اسی طرح آئین کے اس آرٹیکل میں لفظ ” سالمیت” ، ”تحفظ”، پبلک آرڈر”، ”حیاءداری” اور اخلاقیات سے کیا مراد ہے ؟ اس طرح کی اصطلاحات مثلاََ ”منطقی حدود” ، ”اسلام کی عظمت”، ” غیرممالک سے دوستانہ ”، ”سالمیت”، ”تحفظ”، ”پبلک آرڈر”اور ”اخلاقیات” محض تصوراتی ابہامات ہیں جنہیں ریاست جب چاہے اپنی ضرورت کے تحت تشریحات کرکے نافذ کرسکتی ہے۔ جس طرح آئین کا آرٹیکل 19 تحریر کیا گیا ہے ،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست عوام کو اظہار کی آزادی فراہم کرنے کے لئے  سنجیدہ نہیں ہے   بلکہ اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے  کہ اس میں درج اصطلاحات کو خاص مقصد کے لیے شامل  کیا گیا ہے تاکہ ریاست کا دائرہ اختیار وسیع  کیا جاسکے  اور اسے حق دیا جائے کہ وہ جب چاہے ” منطقی حدود ” کو استعمال کرکے رائے کی آزادی کو پابند کرلے۔ ذومعنی طرز کی اس اصطلاح سے عوام میں یہ خوف و ہراس پھیلنا منطقی امر ہے کہ نجانے اس سے ریاست کب اور کیا مراد لے سکتی ہے اور اس ”منطقی حدود”  کی خلاف ورزی کب ہوسکتی ہے۔

آزادی اظہار محض اس لیے لازمی نہیں کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا حصہ اور آزادانہ جمہوری معاشرے کا مثالیہ ہے بلکہ یہ اس لیے بھی لازم  ہے کہ اس کے ذریعے نت نئے تصورات تک پہنچنے کا سفر آسان ہوتا ہے ، ایسے تصورات جو معاشی مضبوطی کے ضامن ہوتے ہیں ۔

1970  کی دہائی میں جب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ”اوپیک” نے یورپ اور مغربی دنیا کو تیل کی فراہمی روک دی تھی تو اس وقت کے فرانسیسی صدر جسکاد ایستاں  نے  کہا تھا۔ ” اگر ان کے پاس تیل ہے تو ہمارے پاس تصورات و خیالات ہیں ”

پاکستان کے پاس نہ تو تیل ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ نہ ہی ہماری ریاست تصورات و خیالات کے آزادانہ تبادلے پر تیار نظر آتی ہے۔

خیالات و تصورات کا آزادانہ تبادلہ نئے علم کی پیدائش کے لیے لازم ہے جو آگے بڑھ کر معاشی استحکام کی بنیادیں طے کرتا ہے ۔ یہ کوئی محض اتفاق نہیں ہےکہ معاشی طور پر ترقی یافتہ اور پیداوار کے لحاظ سے کامیاب ممالک اپنے اپنے معاشروں میں اظہار رائے کا باقاعدہ اہتمام و تحفظ کرتے ہیں ۔ آزادی اظہار رائے کویقینی بنائے بغیر معاشی استحکام کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچنا بہت مشکل ہے ۔

پاکستان میں آزادانہ تعلیمی روش پہ پابندیاں شائد آئینی طور پر درج ” منطقی حدود ” جیسی اصطلاحات کا بدترین استعمال ہیں ۔ گزشتہ سالوں سے جاری آزادی اظہار رائے پر ریاستی جبر کے سبب پاکستان میں فکر و دانش کی خشک سالی بڑھتی جارہی ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان پر کی جانے والی موثر اور مفید تحقیق کا اکثریتی کام پاکستان سے باہر واقع یونیورسٹیوں میں ہورہا ہے ۔

پاکستانی یونیورسٹیوں میں جاری اکثر تحقیقات عالمی معیارات پر پورا نہیں اترتیں اور اس کے سبب وہ معاصر دانش مندانہ ابحاث میں غیر متعلق رہتی ہیں ۔

دوسال قبل میری تدوین کی گئی کتاب محض اس لیے مسترد کر دی گئی کہ اس مجموعے میں جن پاکستانی انگریزی ناول نگاروں کے انٹرویوز شامل تھے ان میں سے چند ایک کی کتابوں پر پاکستان میں سرکاری پابندی لگائی گئی تھی ۔

المیہ تو یہ ہے کہ جب یہی کتاب ایک بھارتی اشاعتی ادارے نے شائع کی تو میرے بہت سے پڑھے لکھے دوست اس امر پہ معترض ہوئے کہ میں نے اس کتاب کی اشاعت کے لیے پاکستانی اشاعتی ادارے کا انتخاب کیوں نہ کیا ۔

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جناب عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو وزیراعظم ہاؤس کو ایک عالمی معیار کی یونیورسٹی میں تبدیل کردیں گے ۔ اگرچہ وزیر اعظم کا اعلان خوش آئند تھا تاہم پاکستانیوں کو یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ آزادی اظہار رائے کی موثر فراہمی کو یقینی بنائے بغیر پاکستان میں اعلیٰ معیار کی عالمی یونیورسٹی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ۔ یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر محققین کو آزادانہ طریقوں سے تحقیق کا حق حاصل نہ ہو اور وہ آزادانہ تبادلہ خیال نہ کرسکیں تو محض آرائشی عمارات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ  نئی یونیورسٹیو ں کے قیام کے لیے روپے خرچ کرنے کی بجائے اگر ہم موجودہ تعلیمی اداروں میں ہی آزادانہ تبادلہ خیال اور اپنی رائے کے اظہار کی آزادی مہیا کردیں تو ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے ہی علم کی اعلیٰ پیدوار کا ذریعہ بن جائیں گے۔

دوسال پہلے جب میں نے نیوی سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دی کہ مجھے ادب و لسانیات میں پی ایچ ڈی کرنے ایک امریکی یونیورسٹی میں جانا ہے تو میرے بہت سے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اس فیصلے کو چند سال کے لیے موخر کردوں تاکہ نیوی افسران کی ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والے سستے مکان کا استحقاق محفوظ رکھ لوں ۔ اگر میں نے ان کی یہ بات مان لی ہوتی تو ممکنہ طور پر چند سال بعد ایک بہتر جگہ پر ایک اچھی جائیداد کا مالک بن جاتا لیکن میرا بیٹا کبھی آزادی اظہار کی نعمت سے واقف نہ ہوتا ۔

ترجمہ: شوذب عسکری، بشکریہ دی نیوز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...