پاک افغان کشیدگی اور چین کی ثالثی کی کوشش

625

اقتصادی ترقی کے لیے امن نا گزیر ہے اور چین یہ بخوبی جانتا ہے کہ اُسے اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے روایتی کردار سے ہٹ کر کچھ کرنا ہو گا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور تناؤ اس خطے میں امن و استحکام کی راہ میں ایک حقیقی رکاوٹ ہے اور اس کا ادارک نا صرف دونوں پڑوسی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ہے۔

اگرچہ ماضی قریب میں اس کشیدگی میں کمی کے لیے عملی طور پر عالمی یا علاقائی طاقتوں نے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی، لیکن اب چین کی طرف سے اس ضمن میں ایک کاوش کی جا رہی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی اس اختتام ہفتہ اسلام آباد اور کابل کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کا موقف بھی سنا جائے اور مسائل کا حل بھی تلاش کیا جائے۔

پاکستان تو چین کا قریبی اتحادی ہے ہی، لیکن بیجنگ کے کابل حکومت اور طالبان سے روابط ہیں۔

افغان طالبان چین کے کردار پر کس حد تک اعتماد کرتے ہیں اس کی غمازی اس بات سے ہوتی ہے کہ طالبان کے وفد چین کے دورے کر چکے ہیں جہاں افغانستان میں امن عمل پر بھی بات ہوئی۔

اس کے علاوہ افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے قائم چار ملکی گروپ میں افغانستان، پاکستان اور امریکہ کے علاوہ چین بھی شامل ہے، یہ چار ملکی گروپ دسمبر 2015 میں تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے پاکستان و افغانستان میں متعدد اجلاس بھی ہوئے لیکن اب یہ گروپ بظاہر غیر فعال ہے اور افغان عمل کے لیے کئی دیگر ممالک کی کوششیں بھی جاری ہیں جن میں روس پیش پیش ہے۔

توقع ہے کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے کابل اور اسلام آباد کے دوروں کے موقع پر اس گروپ یا کسی اور ذریعے سے طالبان سے مذاکرات کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔

چار ملکی گروپ کی تشکیل سے قبل جولائی 2015 میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ایک دور کی میزبانی پاکستان نے کی تھی، یہ بات چیت اسلام آباد کے قریبی سیاحتی مقام مری میں ہوئی تھی۔

جولائی 2015 ہی میں مذاکرات کا ایک اور دور ہونا تھا، لیکن اس سے قبل ہی طالبان کے بانی امیر ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد یہ سلسلہ آگے نا بڑھ سکا۔

ملا عمر کے بعد ملا منصور کو طالبان کا سربراہ مقرر کیا اور اس دوران بھی مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے کوششیں تو جاری رہیں تاہم افغان امن و مصالحت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا اور بالآخر مئی 2016ء میں بلوچستان میں ملا منصور ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے، جس کے بعد بات چیت کے امکانات معدوم ہو گئے۔

ملا منصور کی موت کے بعد افغان طالبان کی عسکری کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ گزشتہ ایک سال میں ایسے حملوں میں اضافہ ہوا اور ایک بار پھر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے جا رہا ہے۔

افغانستان میں سلامتی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال اور طویل عرصے سے جنگ کے شکار اس ملک میں داعش خراساں کے قدم جمانے کی کوشش نے حالات کو مزید گھمبیر کر دیا۔

بظاہر داعش کے بڑھتے ہوئے اثر کے خطرے سے نمٹنے کے روس نے افغان طالبان کی مدد کی۔

لیکن چین کی طرف سے اس وقت کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی میں کمی اور افغانستان میں امن و استحکام کی کوشش کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ بیجنگ اپنے اقتصادی اور مواصلاتی ڈھانچے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے خطے میں امن کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

چین ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے سے بین البراعظمی تعاون کا نیا دور شروع کرنے اور اپنے سیاسی اثر کو بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔

حال ہی میں چین میں منعقدہ ’’بیلٹ اینڈ روڈ فورم‘‘کے موقع پر اس منصوبے کا ایک خاکہ پیش کیا گیا، جس کے تحت چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے جوڑا جا سکے۔

جب کہ چین اس خطے میں بھی اقتصادی راہداری کے ایک منصوبے ’’سی پیک‘‘ پر کام جاری رکھے ہوئے ہے جس تحت چین کے مغربی خطے سنکیانگ کے شمال مغربی علاقے کو پاکستان کے جنوبی مغربی صوبہ بلوچستان میں گوادر کے گہرے پانی کی بندگاہ سے ملانے کے لیے، سڑکوں، ریل اور مواصلاتی نظام کا ایک ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔

جب کہ توانائی کے منصوبے اور صنعتی زونز کی تعمیر بھی اس کا حصہ ہیں۔اب جب کہ بیجنگ اربوں ڈالر اپنے مستقبل کے منصوبوں پر خرچ کر رہا ہے تو اس کی یہ کوشش بھی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اثر کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کے کردار ادا کرے۔

کیوں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اقتصادی ترقی کے لیے امن نا گزیر ہے اور چین یہ بخوبی جانتا ہے کہ اُسے اپنے منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے روایتی کردار سے ہٹ کر کچھ کرنا ہو گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...