بھٹو جونئیر کے جنسی رحجانات ، نئی بحث چھڑنے کو ہے

635

۔ ذوالفقارجونئیر کا حلیہ ، رقص اور بولنے کا انداز بتا رہا ہے کہ وہ اس کمیونٹی کا باقاعدہ حصہ ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ذوالفقار جونئیر کی اس ڈاکو منٹری اور جنسی خیالات کے اظہار کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی جنس کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر ذوالفقار جونئیر نے ایک مہر ثبت کر دی ہے

ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کے جنسی رحجانات پر بننے والی ڈاکو منٹری کے سامنے آنے والے کچھ حصے کے بعد ، ہمارے ملک میں ایک نئی بحث چھڑنے کو ہے ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ابھی اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ جنس کے معاملات پر سن بلوغت میں پہنچنےوالے لڑکوں اور لڑکیوں کو بنیادی تعلیم گھر میں ہی والدین کو دینی چاہیے یا نہیں تاہم اس موضوع پر ہونے والی بحث اب تک کوئی سمت نہیں اختیار کر سکی  ۔ کچھ خاندان ایسے ضرور ہیں جو انفرادی طور پر اپنے بچوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کا جواب ڈھکے چھپے انداز میں ضرور دیتے ہیں جبکہ اب تک یہ موضوع ممنوع ہی سمجھا جاتا ہے ۔ ان حالات میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں ایک بڑی سیاسی شناخت رکھنے والے خاندان  کے جانشین کا اپنے جنسی رحجانات یوں سرعام بیان کرنا قطعی نارمل نہیں ۔ میں شخصی آزادی کے خلاف نہیں ہوں لیکن اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کئی گھنٹے تک میرا دھیان کہیں اور نہیں جا سکا یہ بھی حقیقت ہے  ۔ پاکستان کی سیاست میں منجھے ہوئے سیاست دان اور سیاسی سوچ سمجھ رکھنے والے افراد نے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چئیرمین بننے پر ہمشیہ اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا کہ پدرسری نظام میں اگرپاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی جانشین بن سکتا ہے تو وہ میر مرتضی بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو جونئیر ہے ۔ غنویٰ بھٹو کی سیاست بھی ہمشیہ اسی نقطے کے گرد چکر گھومتی رہی ہے ۔ ماڈرن اور ترقی یافتہ ممالک میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کی مہم  اب تک جاری ہے جبکہ چند بڑے ممالک ہم جنس پرستی پر باقاعدہ قانون سازی کر کے انہیں شادی تک کی اجازت بھی دے چکے ہیں لیکن اس قانون سازی کے باوجود ہم جنس پرستوں کی رہائش گاہیں مخصوص علاقوں اور ان کی محفلیں رات کی تاریکی میں علیحدہ کلبوں میں ہی سجتی ہیں ۔ امریکہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں ہم جنس پرستوں کی تحریک بھی عروج پر رہی اور اس تحریک کے سرگرم اراکین نے واضح بیانات دئیے تھے کہ جو سیاسی جماعت ہم جنس پرستوں کے حقوق کی بات کرے گی  ووٹنگ کے عمل میں انہیں ہم جنس پرستوں کی حمایت حاصل ہو گی ۔ امریکہ میں انتخابی مہم جب زوروں پر تھی ان دنوں میں بھی امریکہ میں تھی اور ایسے مباحثے ہر محفل کا موضوع ہوتے تھے جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ معاشرہ جسے ہم قدرے خود مختار ، شخصی آزادی کی حوالے سے بہتر جانتے ہیں وہاں بھی ہم جنس پرستوں کا موضوع نارمل نہیں لیا جاتا ہے یہاں تک کہ کثیر المذاہب  ملک امریکہ میں جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں وہاں ہم جنس پرستوں کو کوئی مذہبی عہدہ نہیں دیا جاتا ، ہم جنس پرستوں کے حقوق پر یہودی وہ قوم ہے جو ان کے حقوق کو باقاعدہ تسلیم کرتی ہے لیکن یہودیوں کی عبادت گاہ میں کوئی رباعی ( امام ) ہم جنس پرست نہیں ہو سکتا یہ بھی ایک سچ ہے ۔جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم جنس پرستی کی شخصی آزادی قانون میں ترمیم کر کے تو دی جا سکتی ہے  تاہم کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کا  خود کو  Proud Queer Muslim کہنا حیرت انگیز ہے ۔ ہم میں زیادہ تر لوگ وہ ہوں گے جو Queer کا مطلب اور مقصد بھی نہیں جانتے ہوں گے میں نے خود اس لفظ کا معنی ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کی ویڈیو دیکھنے کے بعد لغت میں تلاش کیا کیونکہ اس سے قبل میں نے بھی یہ لفظ نہیں سن رکھا تھا ۔ میرے جیسے اور افراد کے علم میں اضافہ کے لئے یہ بتا دوں کہ Queer ایسے  مرد کو کہا جاتا ہے جو بیک وقت جنسی رحجانات میں مخالف اور ہم جنس دونوں میں دلچسپی رکھتا ہو ۔ ذوالفقار جونئیر کوئی پہلا کوئیر نہیں جو ان جنسی میلانات کا حامل ہو ، ہمارے معاشرے میں لاتعداد ایسے رحجانات کے حامل افراد موجود ہیں تاہم ذوالفقار جونئیر کی اس ویڈیو کے بعد ہم جنس پرستوں سے آگے ، بھی کوئی رحجانات ہوتے ہیں ان افراد کو ایک نئی اصطلاح مل گئی ہے ۔  بعض حلقہ ، اس کو پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف سازش بھی قرار دے رہے ہیں ۔ 2018ء کے انتخابات کے قریب ہیں ، اور ڈاکو منٹری کا کچھ حصہ اس وقت ریلیز کیا گیا جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ منائی جا رہی تھی ، سیاست میں خاندانی حصہ نہ ملنے پر اسے ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کی جانب سے بدلے کا انوکھا انداز بھی سمجھا جا رہا ہے تاہم میرے نزدیک ایسا نہیں ہے ، جونئیر کا تعلق سیاسی خاندان سے ضرور ہے لیکن نہ تو اس کی سیاسی تربیت کی گئی ہے اور نہ ہی اس کی سیاست میں ماضی میں کوئی دلچسپی نظر آئی ہے ۔ ذوالفقارجونئیر کا حلیہ ، رقص اور بولنے کا انداز بتا رہا ہے کہ وہ اس کمیونٹی کا باقاعدہ حصہ ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ذوالفقار جونئیر کی اس ڈاکو منٹری اور جنسی خیالات کے اظہار کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی جنس کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر ذوالفقار جونئیر نے ایک مہر ثبت کر دی ہے جس کا نقصان بلاول کو جنیز یا پھر خاندانی جنسی مسئلہ جیسے جملے میں ضرور ہو گا اور یہ نقصان براہ راست اس کی سیاست کو پہنچے  گا ۔ پاکستان میں اب تک پیدائشی مردانہ اور زنانہ خصوصیات کے افراد کو قبول نہیں کیا گیا ہے ، اس پر ہم جنس پرستوں ، آدھا مرد ، آدھی عورت اور اب کوئیر کی چومکھی بحث مسائل کو صرف بڑھا سکتی ہے ۔ ہمارے ملاؤں ، سیاست دانوں اور عوام کے جنسی رحجانات خواہ کچھ بھی ہوں لیکن وہ کسی دوسرے شخص کو اس کی اجازت آسانی سے دینے کے قائل نہیں ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...