ریاستِ خیر پورکےمیرتالپوراوراقلیتیں

ذوالفقار علی کلہوڑو

113

سندھ میں زبانی تاریخ کا موضوع تحقیق کے میدانوں میں تقریباً نا مانوس رہا ہے۔سندھ کی تاریخ کے بارے جو کچھ بھی لکھا جاتا رہا، سندھ کے معاصر مورخین نے اس پر چپ سادھے رکھی۔خیر پور کا میرتالپور خاندان، جو یہاں 1783 سے 1843 تک حکمران رہاہے، کے بارے میں نو آبادیاتی دور کے لکھاریوں اور مقامی تاریخ دانوں نے ہمیشہ منفی لکھا ہے۔ان کا یقین ہے کہ میر تالپور خاندان اقلیتوں کے حوالے سے کافی متعصب رہا ہے۔اقلیتوں، بالخصوص ہندوؤں کے خلاف ان کے تعصب پرکئی کہانیاں گھڑی گئیں۔تاریخ نویسوں کی جانب سےتالپور خاندان سے متعلق پیش کردہ تصویر سے ان کے بارے میں جو تاثر ابھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ تالپور حکمران کاہل تھے جو ہر وقت شکار میں اس قدر مشغول رہتے کہ انہوں نےسندھ کی انتہائی زرخیز زرعی اراضی کو شکار کا شوق پورا کرنے کے لیے اپنےزیرِ تصرف رکھا اور اسے تباہ کردیا۔

میرا یقین ہے کہ خیر پور سندھ کے میرتالپور خاندان کا دورِ حکومت (1783 تا 1955) اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی کے سندھ کا لبرل ترین دورِ حکومت تھا جہاں نہ صرف یہ کہ ہندوؤں سمیت دیگر اقلیتوں کو تحفظ فراہم تھا بلکہ اس دور میں ان کے لیے کئی مندر بھی تعمیر کرائے گئے۔اپنی اس رائے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے یہاں میر دورِ حکومت سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔اگر ہندوؤں سے متعلق میرتالپور خاندان کا رویہ معاندانہ ہوتا تو ہمیں ریاستِ خیر پور میں اس دورمیں تعمیر کیے گئے مندر اور دربار نہ ملتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس دورِ حکومت میں ہندو ؤں اور اداسی سکھوں کے مذہبی طرزِ تعمیر کو دوام ملا۔میر سہراب خان (1783تا 1811)، میر رستم خان ( 1811 تا1843)، میر میر علی مراد خان (1843تا 1894)، میر فیض محمد (1894تا1907)، میر امام بخش( 1907تا 1921) اور میر علی نواز خان (1907تا1935) جیسے تالپور فرماں رواؤں کے دور میں کئی عالی شان ہندو مندر اور سکھ گردوارے تعمیر ہوئے۔خیر پور کا شاید ہی کوئی محلہ ایسا ہو جہاں اس دور میں تعمیر شدہ ہندوؤں کا مندر یا سکھوں کا گردوارہ موجود نہ ہو۔

اس دور میں تعمیر کیے گئے مندروں اور درباروں میں سب سے زیادہ معروف گدھوشاہ دربار ہے جو خیر پور کے ایک علاقے گدھوشاہ میں ایک تنگ گلی کے اندر واقع ہے۔یہ دربار کئی ناموں سے جانا جاتا ہے۔گُدھو شاہ دربار، جو اس علاقے کی نسبت سے مشہور ہے، ننگا دربار اور گُرپوتا دربار۔دربار کا لفظ سندھ میں سکھ گردواروں کے لیے بولا جاتا ہے جبکہ ننگا اداسی سکھ سَنتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو شیر کی کھال پہنا کرتےتھے، جس سے ان کا آدھا جسم ڈھکا رہتا اور وہ ننگا کہلاتے تھے۔ گُرپوتا سے مرادسکھ گروؤں کا پوتاہے (یہ نتھ گرو نہیں، وہ اور ہیں)۔یہاں کے سکھوں کا عقیدہ ہے کہ گرو کے ایک پوتےاس دربار کے بانی تھے جنہیں ایک مہانت نے اداسی پنتھ میں شامل کرلیا تھا۔گُدھو شاہ نام پڑنے کی وجہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اسےخیر پور کے ایک امیر ہندو تاجر نے تعمیر کروایا تھا۔

اس دربار کی اہم خصوصیات اس کی منقش دیواریں، جھروکے اور لکڑی کا کام ہے جو اس دربار کے معماروں کی دولت و ثروت کا پتہ دیتے ہیں۔اس دربار کے لکڑی سے بنے صدر دروازے کے دوکواڑ ہیں اور دونوں کواڑبارہ بارہ تختوں سےبنےہوئے ہیں، جن پرسکھ گرؤوں کی تصاویر تراشی گئی ہیں اور ان نقش و نگار اور مجسموں کو  مسلمانوں کی جانب سے کبھی تباہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ان تراشیدہ تختوں میں سب سے نمایاں تصویر گرو نانک کی ہے جس میں وہ اپنے دو اصحاب بھائی بالا اور بھائی مردانا کے ساتھ موجود ہیں۔صدر دروازہ ایک کشادہ صحن میں کھلتا ہے جہاں ایک راہداری دربار کے دیوان خانے میں جا نکلتی ہے۔اس دیوان خانے میں سنگِ مرمر سے بنی بابا سری چند اور گرو گرانتھ صاحب کی دو مورتیاں ایستادہ ہیں۔چھت کے اندورنی حصے کو انتہائی مہارت سے تراشی گئی لکڑیوں سے مزین کیا گیا ہے۔ اداسی سکھوں کے تمام درباروں کی یہ منقش و مرصع لکڑی کی چھتیں سندھی گردواروں کی نمایاں خصوصیت ہے۔ بدقسمتی سے یہ دربار حال ہی میں ہندوؤں کی جانب سے تباہ کردیا گیا ہے تاکہ اسے ازسرِ نو تعمیر کیا جاسکےلیکن اس دوران نقاشی و مصوری کے کئی عمدہ نمونے بھی پاش پاش ہو گئے ہیں۔خدا کا کرم مگر یہ ہے کہ سکھ گروؤں کی تصاویر سے منقش مرکزی دروازہ تاحال سلامت ہے۔

گدھو شاہ دربار کے علاوہ یہاں ایک پنج گنبد مزار بھی واقع ہےجو بنیادی طور پر ایک ہندو مندر تھا جہاں بالی (میر علی نواز خان تالپورکی بیوی)کی میت کوکربلا لے جانے سے پہلےعارضی طور پر دفن کیا گیا تھا۔ایک مقامی قصہ گو کے مطابق یہ دراصل ہندوؤں کا مندر تھا جسے میر علی نواز خان تالپور نے ہندوؤں کے لیے بنوایا تھا۔پہلے پہل یہ مندر ہندو ؤں کے زیرِ تصرف رہا جہاں وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کیا کرتے تھے، بعد ازاں اسے ہندوؤں کی جانب سے چھوڑ دیا گیا، اس کے بعد یہاں بالی کو عارضی طور پر دفن کیا گیا اور آخر کار یہ عمارت ایک مجذوب خاتون اللہ دتی فقیرنی کا مدفن بنی اور اسی کی نسبت سے’’مقبرو اللہ دتی فقیرنی‘‘کے نام سے جانی جانے لگی۔

ان تعمیرات کے علاوہ خیر پور لقمان میں ہندوؤں کی جانب سے بھی مذہبی عبادت گاہیں تعمیر کی گئی تھیں۔نیشنل ہائی وے کے قریب ایک صدی پرانے چارہندو مندر اور اداسی سکھ سنتوں کی سمادھیاں موجود ہیں۔یہ تمام مندر اور سمادھیاں اب خستہ حالی کا شکار ہیں اورمتعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث تیزی سے کھنڈر بنتے جا رہے ہیں۔شوالو، شِو جی کا مندر قابلِ رحم حد تک زبوں حال ہے۔گرابھاگریہہ، جہاں ایک وقت میں شِو جی کی تصویر موجود تھی، وہاں اب سواے بربادی کے کچھ باقی نہیں بچا ہے۔شوالو کا اوپری حصہ، جسے شکھارا کہا جاتا ہے بھی دگرگوں ہے۔شوالو کے اندرونی حصےکو گل کاری سے مزین کیاگیاتھا۔گنبدوں کی محرابوں پر سکھ گروؤں اور ہندو دیوتاؤں کی تصویریں کنندہ تھیں ۔تاہم 2000ء کے بعد یہاں کی تزئین و آرائش کے دوران ان کے آثار ختم ہوگئے۔جب اس سے پیش تر 1998ء میں میرایہاں آنا ہوا تھا تو سکھ گروؤں اور ہندو دیوتاؤں کی تصویریں موجود تھیں۔یہ پہلو بہ پہلو جڑی تینوں عمارتیں ، جو مندر نہیں بلکہ سمادھیاں ہیں، ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہی ہیں۔یہ تمام سمادھیاں اداسی سکھوں کی معلوم ہوتی ہیں کیوں کہ ریاستِ خیر پور ان کا گڑھ ہوا کرتی تھی۔اسی طرح کندھرا قصبہ، جو خالصہ سکھوں کا مرکز تھا، وہ بھی میر خاندان کے زیرِ نگیں تھا۔ان تمام سمادھیوں میں سکھ گروؤں اور اور اداسی مہانتوں کی تصویریں منقش تھیں، جو اب باقی نہیں رہیں۔ ان نقوش کو مٹانے کی ذمہ داری یہاں کے مقامی افراد کی بجائے ان کی تزئین و آرائش اور ان کے تحفظ کے لیے قائم شعبوں پر ہوتی ہے جنہوں نے دورانِ تزئین ان آثار کو مٹا دیا ۔ لیکن سکھ گروؤں کی کچھ تصاویر ابھی بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔یہ تمام دربار، مندر اور سمادھیاں اقلیتی آبادیوں کے ساتھ میر تالپور خاندان کےمعتدل اور دوستانہ رویے کی عکاس ہیں۔32کے قریب ہندو مندر اور اداسی سکھ دربار اور سمادھیاں صرف خیر پور کے اندر اس دورِ حکومت میں تعمیر ہوئیں۔ ہندوؤں کی جانب سے نہ صرف خیر پور بلکہ پیر جو گوٹھ، پیرالوئی، بابرلوئی، ہلانی سمیت دیگر گاؤں قصبوں میں بھی مندر اور دربار تعمیر کیے گئے تھے۔یہ تمام حوالے میر تالپور خاندان کے معتدل رویے کا مظہر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ریاستِ خیر پور کے میر تالپور فرماں رواانتہائی معتدل، کشادہ دل اور لبرل تھے جنہوں نے کئی پنجابی سکھ سنتوں کو یہاں دربار اور گردوارے بنانے کے لیے خوش آمدید کہا اور یہ ان کی تاریخ کا وہ روشن پہلو ہے جسے معاشرے میں عام کرنا ضروری ہے۔تاریخی نقادوں کو بھی چاہیے کہ وہ نو آبادیاتی نفسیات کےگذشتہ وموجودہ حاملین کی کہی ہوئی باتوں کی بنیاد پر نفرتیں پھیلانا ترک کردیں۔

ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ :فرائیڈے ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...