حقوق کی تحریکیں اور ریاستی طرزِ عمل

273

پاکستان میں مذہب اور حقوق  کا معاصر سلسلہ بالکل دو الگ اور مختلف تناظرات میں دیکھا جاتا ہے، بالخصوص اس لیے بھی کہ ہماری حکومت ان دونوں کے درمیان فرق روا رکھتی ہے۔ریاست حقوق کی تحریکوں اور مذہبی تحریکات کے ساتھ مختلف طرح سے معاملات طے کرتی ہے ، حقوق کی تحریکوں کو خطرے کے طور پر اور شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ مذہبی تحریکات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر ان کے بارے کافی برداشت روا رکھی جاتی ہے۔حالیہ چند اقدامات اور ریاست کے جوابی طرزِ عمل نے اس تصور کو مزید پختہ کیا ہے۔لورا لائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنما پروفیسر ارمان لونی کی پولیس حراست میں وفات نےخصوصاً نوجوانوں میں غم و غصے کی لہر کو مہمیز دی ہے۔تاہم ریاست کا جوابی طرزِ عمل انتہائی محتاط رہا جیسے وہ مقتول کے بارے میں بالکل بھی’’فکر مند‘‘ نہیں ہے.

پشتون تحفظ موومنٹ مذہبی عسکریت پسندی کی مخالف ہے اور منطقی طور پر یہ تحریک عسکریت مخالف بیانیے کی پرچارک اور مفاہمتی عمل کی صورت گری کا حصہ ہوتی، تاہم عملاً اس کے برعکس ہوا، اور ریاست نے اسے تحریکِ طالبان پاکستان کی طرح کی ایک تحریک کی صورت بطور دشمن دیکھنا شروع کردیا۔اہم بات یہ ہے کہ ریاست کے خلاف مزاحمت سے دستبردار ہونے والے عسکریت پسندوں کے لیے ریاست امن کی طرف واپسی کا دروازہ کھلا رکھے ہوئےہے۔

ریاست کی نظر میں یہ فرق دراصل ہےکیا ؟ ایسا کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی عسکریت پسند کسی بھی مفاہمتی عمل کے نتیجے میں فقط جان کی امان طلب کرتے ہیں، جیسا کہ احسان اللہ احسان اور پنجابی طالبان کے رہنما عصمت اللہ معاویہ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ مکمل احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کرے گی۔

تاریخ گواہ ہے کہ عالمی یا مقامی دہشت گرد عناصر سے متاثرہ یاان کی مدد وحمایت کی بنیاد پر انتہا پسند مذہبی تحریکات نے نہ صرف معاشرے میں نظریاتی و مسلکی خلیج کو مزید گہرا کیا ہے  بلکہ ملک میں بدامنی اور انتشار کا باعث بھی بنی ہیں۔اس کے باوجود بھی ریاست مذہبی قوتوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرتی رہی ہے اور جہاں اسے لگتا ہے کہ ان قوتوں کی ’’ناراضی‘‘ جائز ہے یا اسے کسی طور حل کیا جا سکتا ہے،وہاں ریاست نےان کے ساتھ موزوں نظریاتی و سیاسی تعلقات بھی استوار  رکھے ہیں۔

گذشتہ ماہ فوج کی معیت میں علما کا دورہ شمالی وزیرستان بھی اسی طرزِ عمل کی ایک مثال ہے جس میں کچھ کالعدم تنظیموں کے سربراہان بھی شامل تھے۔اس دورے نےاس سوال کو بھی جنم دیا کہ جو لوگ عسکریت پسند ذہن کی نشوونما کرتے رہے ہیں، انہیں اب کس بنیاد پر اس ذہن کی اصلاح کے لیے بلایا جارہا ہے۔ریاست کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان کالعدم تنظیموں کے سربراہان کو پیغامِ پاکستان جیسی متفقہ دستاویز کی تشہیرو اشاعت کے لیے اعتماد میں لیا ہے۔یہ چیز بھی مذہبی عناصر اور ریاست کے مابین موجود باہمی اتفاق رائے کو ظاہر کرتی ہے۔

2017 کے فیض آباد دھرنے سے متعلق عدالتِ عظمیٰ کےفیصلے سے بھی مذہبی قوتوں سے متعلق ریاست ِ پاکستان کے طرزِ عمل کی تفہیم حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ فیصلہ عین اس وقت سامنے آیا جب ریاستی ادارے یہ ظاہر کررہے تھے کہ انہوں نے تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تحریک ِ لبیک اور اسٹیبلشمنٹ کا باہمی رومانس جزوقتی ثابت ہواہے۔کئی بریلوی مذہبی رہنماؤں نے مقتدر حلقوں کے ساتھ قرابت کو بریلوی مسلک کے مفادات کی آبیاری کے لیے سنہری موقعے کے طور پر دیکھا۔تحریکِ لبیک نے یہ موقع غارت کردیا۔اب بریلوی قیادت نہ صرف اس بات پر پریشان ہے کہ موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا بلکہ اسے اس بات کا بھی غم لاحق ہے کہ مقتدر قوتیں دوبارہ اپنے دیرینہ ساتھیوں ، جو بریلوی مخالف رجحانات رکھتے ہیں کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قانون کی بالا دستی پر زور دیا اور کہا کہ غیر آئینی وغیر قانونی اقدامات اورکارروائیوں پر اسٹیبلشمنٹ کو استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔کیا اسٹیبلشمنٹ اس طرف بھی توجہ دے گی؟ تاریخ کی گواہی مگر اس سے مختلف ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کو مذہبی قوتوں کے ساتھ معاملات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ ان قوتوں نے اکثر اوقات اسے دھوکہ دیا ہے اور اپنی ہمدردیاں اور وفاداریاں اپنے ساتھ منسلک انتہا پسند گروہوں کے ساتھ رکھی ہیں۔تاہم مذہبی رہنماؤں نے یہ گُر سیکھ لیا ہے اور وہ مقتدر ریاستی اداروں کے قریب رہنا چاہتے ہیں۔فریقِ ثانی بھی اس حوالے سے کسی طور کم نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دو نے باہم مل کر چلنے کے راستے نکال لیے ہیں۔اسی سبب کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ریاستی اداروں نے تحریکِ لبیک کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا ہے۔

جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے تحریکِ لبیک کے ساتھ رویہ روا رکھا ہے، اس نےاسٹیبلشمنٹ کےاندرونی حلقوں میں مذہبی گروہوں سے متعلق ریاستی طرزِ عمل کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ تعمیرِ قوم کے اس عمل میں ثقافتی تہذیبی عوامل کا سہارا لیا جائے۔بظاہر اس خیال کا عملاً اطلاق سامنے نہیں آیاکیوں کہ ہنوز اسٹیبلشمنٹ اپنے سیاسی و تزویراتی مفادات کے لیے مذہبی قوتوں کو زیادہ با اعتماد اور قابلِ بھروسہ سمجھتی ہے۔ بلوچستان میں مدارس کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اندورن سندھ میں کالعدم تنظیموں کا ازسرِ نو تحرک درج بالا رائے کو مزید تقویت دیتا ہے۔

یہاں سے اس بات کا بھی بخوبی ادراک ہوتا ہے کہ پیغامِ پاکستان جیسی دستاویز کو ان تنظیموں کے ہاتھ میں کیوں تھما دیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ تحریک کی نمو مذہبی گروہوں سے ریاست کے تعلقات پر نظرِ ثانی کے امکانات میں التوا کا باعث بنی ہے۔حقوق کی تحریکوں پرعدِمِ اعتماد کی جڑیں مشرقی پاکستان سے جا ملتی ہیں اور سندھ بلوچستان کی نسل اور قوم پرست تحریکات کو بھی ہمیشہ اسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ریاست ہمیشہ ان تحریکات سے بزروِ بازو نبردآزما رہی ہے اور پشتون تحفظ تحریک کے ساتھ بھی اب یہی معاملہ برتا جارہا ہے۔اسٹیبلشمنٹ میں دراصل محروم طبقات کے غم و غصے اور پریشانی میں اضافے کا باعث بننے والے سیاسی، اقتصادی ، سماجی و ثقافتی اور ترقیاتی مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت و قابلیت کا فقدان ہے۔

عوامی حکومتیں بھی ان حقوق کی تحریکوں کے ساتھ افہام و تفہیم کے حوالے سے کوئی قدم اٹھانے سے گریز کرتی ہیں اور بالخصو ص اس وقت جب ملک کے دفاعی اداروں کی جانب سے ان تحریکات کو قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث قرار دے دیا جائے۔ حقوق کی تحریکوں کو سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے شکایات رہتی ہیں اور سیاسی حکومتوں سے متعلق ان کا خیال ہے کہ یہ حکومتیں ان کی شکایات کے ازالے کی طاقت نہیں رکھتیں۔اسٹیبلشمنٹ حقوق کی تحریکوں سے معاملات طے کرنی کی کوشش کرتی ہے تاہم ایسی تحریکات کے ساتھ اعتماد بحالی میں اسے مشکلا ت کا سامنا رہتا ہے، کیوں کہ یہ تحریکیں مذہبی دائرہِ کار سے باہر کام کرتی ہیں۔

ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ : ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...