دانش سکولز۔۔۔مشاہدات و تاثرات

626

جنوبی پنجاب میں تعلیمی خدمات اور ریذیڈینشل سکول میں کام کرنے کا شوق مجھے راجن پور لے گیا مگر اندازہ نہیں تھا کہ دانش سکول کے بارے میں عام لوگ کیا سوچتے ہیں؟ کیسی رائے رکھتے ہیں؟ جیسے جیسے میں لوگوں سے پرنسپل دانش سکول کی حیثیت سے متعارف ہوئی تو معلوم ہوا کہ ریزیڈینشل سکولوں کے اس منصوبے کو صرف وہی لوگ اچھا سمجھتے ہیں جن کے لیے یہ کسی بھی طرح فائدہ مند ہے۔ عوام و خواص خصوصاً گورنمنٹ سکولوں کے ایمپلائیز ان سے بہت نالاں ہیں۔ بارہا یہی سننا پڑا کہ اتنی انوسٹمنٹ کے بدلے حاصل کچھ نہیں۔ آخر معاملہ کیا ہے؟ اسلام آباد، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، گجرات ،جہاں جانا ہوا لوگوں نے سوالات کر کر کےحیران اور پریشان کر دیا۔ سربراہ ادارہ کی حیثیت سے جو مشاہدات میرے تجربے میں آئے میں وہ آپ سب سے شئیر کرنا چاہتی ہوں۔

دانش سکول جیسے بڑے اداروں میں جہاں سینکڑوں طلبا و طالبات اور ملازم رہائش پزیر ہوں۔ چھوٹے بڑے ہزاروں مسائل کا پیدا ہونا اور چلتے رہنا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن کچھ مسائل واقعی ایسے ہیں کہ جب تک کہ سارے  معاملات کو اچھی طرح سمجھ کرہر سطح پر نیک نیتی سے ہینڈل نہ کیا جائے ان کا حل ہونا قریب قریب نا ممکن ہے ۔ سب سے پہلے یہ بتاتی چلوں کہ پنجاب کے تعلیمی بجٹ کا55 فیصد حصہ دانش سکولز پر اور باقی پینتالیس فیصد دیگرپبلک سکولوں پر لگایا جاتا رہا ہے۔ ماہانہ خرچ دیکھا جائے تو فی طالبعلم چالیس ہزار صرف کیے جاتے ہیں، یعنی ایک سکول کے ماہانہ اخراجات ایک کروڑ سے اوپر ہیں۔ داخلے ہر سال چھٹی جماعت میں کیے جاتے ہیں اور ایف ایس سی تک سکول میں رکھنے کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ ان طلبہ و طالبات کو اچھے اچھے اداروں میں بھیجا جا سکے جہاں ان کا مستقبل سنور جائے۔ داخلہ میں 80فیصد کوٹہ صوبہ پنجاب کے مستحق بچوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے، دس فیصد دیگر صوبوں کے مستحق بچوں کے لیے جبکہ دس فیصد سیٹوں پر سیلف فنانس کی بنیاد پر پڑھنے والے ایپلائی کر سکتے ہیں۔میری پوسٹنگ کیونکہ راجن پور میں ہوئی تو میں بات بھی اسی کیمپس کے حوالے سے کروں گی۔ اس ادارے کے مسائل میں اس کی لوکیشن میرے نزدیک سب سے زیادہ اہم اس لیے ہے کہ کوئی بھی کام شروع کرتے ہو ئے ہم مقام اوراس کے حالات سے ہی کامیابی کا تعین کرتے ہیں۔ اچھی اور بھرپور فصل کے لیے زمین اور آب و ہوا کی مناسبت سے ہی بیج بویا جا تا ہے تو ادارہ کی بنیاد رکھتے ہو ئے اہلِ علاقہ اور سوسا ئٹی کا مزاج دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جانچنا، پرکھنا بھی ضروری ہے کہ جس سوچ کے ساتھ جس طرح کی سکولنگ ہم آفر کر رہے ہیں۔ قرب و جوار کے مکین، سمجھ بوجھ اور قبولیت کے لحاظ سے اس لیول کے قریب قریب بھی ہیں یا نہیں۔ سکول تو ادارہ ہی ایسا جو اساتذہ پر انحصار کرتاہے تو جدید طریقہ تعلیم سے پڑھانے کے لیے وہاں اساتذہ اور کام کرنے کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کے حامل لوگ ملیں گے بھی یا نہیں۔ کئی ایک دانش سکول ایسے علاقوں میں بنائے گئے ہیں جہاں عام آدمی کو تعلیم کے بارے میں شعور ہی نہیں ۔

شہروں کےآس پاس واقع دانش سکول اس لحاظ سے اچھے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کو کم از کم یہ احساس تو ہے کہ ان کو آفر کیا کیا جا رہا ہے۔ فارغ التحصیل طلبا و طالبات کی ایڈجسٹمنٹ بھی نسبتاً آسان ہے۔ وہاں مقامی اساتذہ بھی مل جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں یا را جن پور جیسے علاقوں میں ایسی ٹیچرز ڈھونڈنا مشکل کام ہے۔ خواتین دور دراز سے آ جاتی توہیں لیکن ان کی سیٹلمنٹ میں بھی بہت سے پرابلم پیش آتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ان کو کسی نہ کسی وجہ سے جانا ہی پڑتا ہے۔  یوں بھی ٹیچرز ہوں یا سٹوڈنٹس، ہمارا معاشرہ ایسا ہے جہاں بچیوں کا گھر سے باہر رہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہاسٹل میں رہنے والی سب بچیاں گھر، ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بہت مِس کرتی ہیں۔ ہاسٹل میں ڈیوٹی سرانجام دینے والی اساتذہ کے لیے مارننگ ، ایوننگ روٹینز کے ساتھ ساتھ اپنے پرسنل اور فیملی معاملات کو دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ بچیوں کے ہوتےہوئے اتوار کو بھی چھٹی نہیں کی جا سکتی۔ اس کام کے الاونسز تو ان کو ملتے ہیں لیکن پیسے بہرحال انسان کے کام کرنے کی استعداد نہیں بڑھا سکتے۔ ٹیچرز کے تبدیل ہوتے رہنے کی اہم وجہ دانش سکولز کی کنٹریکٹ پرملازمت بھی ہے۔ اساتذہ پبلک سکولز جیسی مستقل ملازمت کو نہ صرف یہ کہ ترجیح د یتے ہیں بلکہ یہاں کام کرتے ساتھ اپنے علاقے میں جاب کے مواقع کی مسلسل تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ بے چینی ان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

سکول میں داخلہ کے لیے عمر، مالی حیثیت اور دیگر شرائط کی تصدیق کے لیے کئی ایک ادارے انوالو ہیں جن میں سے ہر ایک کی دی ہوئی رپورٹ پر انحصار کرنا ادارے کی مجبوری ہے۔ ہر کیمپس میں داخلہ کے لیے ایک ہی سٹینڈرڈ ٹیسٹ تیار کیا جاتا ہے جو دانش اتھارٹی (لاہور) تیار کرتی ہے۔ اس ٹیسٹ میں ایک سومیں سے چالیس نمبر لینا پاس ہونے کے لیے ضروری ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ فاضل پور میں داخلہ کے لیے آنے والے بچیوں کو یہ ٹیسٹ پڑھنا بھی نہیں آتاتھا۔ جب ان کو تفصیل سے ایک ایک سوال سمجھایا جائے تب کہیں وہ ان کو حل کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔خوراک، رہا ئش و تحفظ اور صحت انسان کی ایسی ضروریات ہیں جو تعلیم پر بہرحال مقدم ہیں۔ تعلیمی ادارے جیسے بھی شاندار بنا لیے جائیں وہی کامیاب ہوں گے جہاں آبادی کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہونگی۔ سکول تو یوں بھی کمیونٹی کا ادارہ ہے۔ اس کی اقدار معاشرے سے میل کھاتی ہوں گی توہی رزلٹ دے گا۔ جیسا کہ پہلے بتا چکی ہوں ، دانش سکول میں نوے فیصد داخلہ ان بچے بچیوں کے لیے مختص ہے جو انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بغیر ماں یا باپ کے ہیں اورعمر میں دس سال سے اوپر ہیں۔ عمر کے اس حصے میں بچوں کی عادات و خصائل میں تبدیلی اپنی جگہ ایک چیلنج ہوتا ہے ۔ وہ بھی اس صورت میں جب کہ گذشتہ تجربات ان کا ماضی نہیں بلکہ حال کا حصہ ہیں۔ کسی مجبوری کے باعث تعلیم چھوڑ دینے یا مکمل کر چکنے کے بعد بھی ان کے ساتھ رہیں گے۔ ایسے بچوں اور بچیوں کو احساسِ کمتری میں سے نکالنا بھی ایک مشکل کام ہے جس کا اظہار وہ مختلف رویوں سے کرتے ہیں، جن میں بد تمیزی کرنا، بات کا جواب دینے کی بجائے خاموش رہنا، مسکراتے یا گھورتے جانا، اچھا سلوک کرنے پرہر بات کے لیے کسی ایک دوست یا استاد پر انحصارکرنے لگ جانا جیسی عادات عام ہیں۔  بچیاں سکول سے ملنے والے کپڑے، جوتے، ٹوتھ پیسٹ ، شیمپو اور کئی ایک اشیائے صرف بچا کر رکھتی ہیں اور گھر لا جانے کی کوشش کرتی ہیں تا کہ ان کی فیملی بھی استعمال کر سکے۔ ان کے عام تقاضوں میں ہاسٹل کے کپڑوں کی بجا ئے رنگ برنگے (گھر کے) کپڑے پہننا، پاؤٗں کرسی کےاوپر رکھ کر (چوکڑی لگا کر) بیٹھنا اور بنا چھری کانٹے کے کھانے کی اجازت ،ہیں۔ عرفِ عام میں ہاسٹل کو جیل اور ڈسپلن کو سکول کے سیاپے کہا جاتا ہے۔ بڑی بات نہیں کہ مہینوں اور سالوں کی محنت کے بعد یہی بچیاں احساسِ برتری کا شکار ہو کر خود کو اپنے خاندان سے بالاتر سمجھنا شروع کر دیتی ہیں۔

سکول میں ایڈمیشن لینے والی اسی فیصد بچیاں مقامی ہوتی ہیں۔ والدین مفت تعلیم اور رہائش کے شوق میں بچوں کو چھوڑ تو جاتے ہیں،لیکن جب بچوں کو واقعتاً ہاسٹل میں رہنا پڑتا ہے تو کئی ایک مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ جس میں سب سے بڑھ کروالدین اور بچوں کا جی نہ لگنا ہے۔ یونیفارم، کتابیں ، بستہ، استعمال کی چیزیں ، کھیل کود اور ہاوس الاٹمنٹ، بچوں کو کئی ایک طرح سے بہلایا جاتا ہے۔آزاد زندگی کی عادی طالبات کو ڈسپلن اور ٹائم ٹیبل کی روٹین میں لانا مشکل ہوتا ہے۔ والدین کا بارہا سکول آنا اور بہانے بہانے سے ان کو چھٹیوں پر لے جانا کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لینے آنے والے اور بتائی ہوئی وجہ کی تصدیق بھی کی جاتی ہے لیکن جہاں سارا خاندان آپس میں مِلا ہو تو کیا ہو سکتا ہے؟ اس طرح لائق سے لائق بچی بھی نہیں پڑھ پاتی۔ مطلوبہ رزلٹ نہیں مل پاتے۔ کئی ایک بچیاں ہزار کوشش کے باوجود سکول کو خیرباد کہہ دیتی ہیں کہ بس نہیں رہنا یہاں۔دس فیصدبچیاں سیلف فنانس کی مد میں داخلہ لیتی ہیں۔ یہ طالبات اوران کے والدین خود کو ممتاز تصور کرتے ہیں اوربہت زیادہ ڈیمانڈنگ ہوتے ہیں۔  ایسی طالبات شاذ ہی سکول کی دوسری لڑکیوں کو اپنا ہم پلہ سمجھتی ہیں جن کے پاس ان کی طرح جیب خرچ نہیں ہوتا نہ ہی ان کے لیے گھر سے کچھ نہ کچھ آتا رہتا ہے۔ ان کے والدین ان کو ہر ویک اینڈ پر لے جانا اپنا حق سمجھتے ہیں اور دوسری طرف وہ دس فیصد  بچیاں جو بلوچستان  سے ہیں ما سوائے موسم گرما و سرما کی چھٹیوں کے گھر نہیں جا سکتیں۔ یقین کیجیے یہاں اس ایک چھٹی پر بات کرنے کے لیے کئی ایک صفحات درکار ہونگے۔ اس کے علاوہ کئی ایک ایشوز ہیں جہاں سکول پالیسی قابلِ عمل نہیں رہ جاتی۔

دانش سکول، راجن پور میں میرا پہلا قدم تھا۔ اس وقت میں وہاں نہیں لیکن راجنپور سے مجھے کچھ ایسا انس ہو چکا کہ کوئی اس کو بیک ورڈ کہے تو بالکل اچھا نہیں لگتا لیکن سچ یہی ہے کہ ہم لاہور ، اسلام آباد حتٰی کہ میرے چھوٹے سے شہر وزیر آباد میں بیٹھ کر بھی راجنپور کے علاقے اور اس کے حالات کا تعین نہیں کر سکتے۔ ایک سکول کی ہی مثال لیجیے۔ ایک دو بچہ تو ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک چھوڑ دو کلاسز سکپ کروا دیں توبھی وہ اپنی صلاحیت سے یہ فرق کور کر جاتا ہے لیکن کسی بھی عام بچے کوہم پانچویں سے ڈائریکٹ ساتویں یا آ ٹھویں جماعت میں لے جائیں تو یہ نہ صرف بچے بلک اساتذہ کا بھی کڑا امتحان ہے۔ ایسی صورت میں مطلوبہ نتا ئج کے لیے ایکسٹرا وقت، ہمت،صلاحیتیں اور ریسورسز درکار ہوں گے۔ یہی مثال میرے وہاں جا کر کام کرنے کی رہی۔

ہم کو بحثیت قوم و معاشرہ ایجوکیٹڈ ہونے میں چا ہے ایک صدی لگ جائے۔ ایجوکیشن بہرحال ایک قدر کا نام ہے ، ایسی قدر جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتابلکہ اس پر سمجھوتہ کر نے والے ایک ایک کر کے نگل لیے جاتے ہیں۔ لیکن جہاں اپنا کام نکلوانا اور چلاتے رہنا سب سے اہم قدر ہو۔ جھوٹ بولنے کو جھوٹ نہ سمجھا جاتا ہو، دھوکہ دہی، غلط بیانی کوئی بری بات نہ ہو۔ وہاں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے اور میرے خیال میں یہ تبدیلی مقامی سکولوں کے ذریعے زیادہ جلدی آ سکتی ہے۔ میری را ئے میں تو دانش سکول بنانے کی بجائے پہلے سے موجود سکولوں کو بہتر بنایا جاتا اور انھی میں اضافہ کیا جاتا تو یہ اقدام زیادہ موثر ہوتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ دانش کی کتابیں اور سلیبس بھی وہی پبلک سکولز والے ہیں اور ایجوکیشن کا محکمہ ہی ان کو سپلایئ کرتا ہے۔لاہور بورڈ کے انڈر امتحان بھی اسی کا عملہ لیتا ہے۔جب سارے مقاصد ایک سے ہیں تو پھر چند سو بچوں کے لیے سو ایکڑ کا قلعہ کیوں؟
اربوں کے یہی فنڈز100 فیصد بچوں کے کام میں آ سکتے تھے۔ پہلے سے موجود سکولوں میں اضا فہ کر دیا جاتا۔ ان کے لیے لائبریریاں اور سائینس لیبارٹریز بنائی جا سکتی تھیں۔ سکول کی طرف سے فری ٹرانسپورٹ دی جا سکتی تھی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے اسی کمیونٹی میں کھیل اور ورزش کے الگ الگ میدان اور جمنازیم بنا ئے جا سکتے تھے، جہاں سے مقامی لوگ بھی استفادہ حاصل کر سکتے۔  اس طرح ایک سہولت پورے راجن پور کے کام  آ سکتی تھی۔

میں نے سرائیکیوں کے ساتھ جھومر کھیلی ہے۔ مجھے ایک ساتھ چلنے میں اور ایک جیسا جینے میں کوئی مسئلہ نہیں ۔مگر ہمیں اپنا اپنا دائرہ بڑا کرنا چاہیے۔اتنا بڑا جس میں ہم سب سما جا ئیں ۔ سب پنجابی، سب سرائیکی ، سارا پاکستان۔ہم تو پہلے ہی طبقاتی تقسیم کے مارے ہوئے    لوگ ہیں۔ آ خر کب تک  اور مزید کتنے تقسیم ہوں گے ؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...