ہمارے دماغ میں بسی داعش

432

دولت ِ اسلامیہ کا ظہور مسلمان حکمران اشرافیہ کے فکری انحطاط سے ہو اہے ۔حقیقی چیلنج یہ نہیں کہ یہ مسلسل پھیل رہی ہے بلکہ حکمران اشرافیہ اور ان کے اتحادیوں کی مخصوص ذہنیت ہے اس کے علاوہ وہ ملا ہے جو نئے خیا لات سے خوف زدہ ہے

2001میں القاعدہ سے واگزار ہونے والی تورابورا کی غاریں اب ایک اور شدت پسند گروہ دولت ِ اسلامیہ کے تصرف میں آ چکی ہیں۔دولت ِ اسلامیہ کی ا س جغرافیائی کامیابی کا پتہ اس وقت  چلا جب اپریل میں امریکہ نے دولت اسلامیہ کی خفیہ پناہ گاہوں اور غاروں کے ایک سلسلے پر ’’بموں کی ماں ‘‘ سے حملہ کیا ۔

افغانستان میں دولت اسلامیہ کے اثر و نفوذ سے ایک بار پھر یہ حقیقت طشت از بام ہوئی ہے کہ  اپنے لئے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش دہشت گردوں کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور ا س مقصد کے لئے تنازعوں کا شکار ،پسماندہ اور دور افتادہ علاقے جنوبی صحارا  سے لے کر جزیرہ نما عرب کے قبائلی علاقوں تک  اور پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے فلپائن تک  موجود ہیں ۔

جیسے ہی دہشت گردوں کی جانب سے خطرہ سامنے آتا ہے تو ا س کا فوری حل یہ ڈھونڈا جاتا ہے کہ مزید بڑی فوج بھرتی کرو۔یہ صورتحال بالخصوص مسلمان اشرافیہ کے لئے چیلنج کا باعث بنی ہے کہ دہشت گردوں کا مقابلہ فکری اور نظری سطح پر کیسے کیا جائے ۔ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ بھی چونکہ طاقت کے استعمال پر ہے اس لئے مسلمان حکمران بھی انسداد دہشت گردی کے اسی لگے بندھے فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔

حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی کے دعویدار اسعودی عرب اور ایران ایک دوسرے پر دہشت گردی  کے فروغ کا الزام عائد کر رہے ہیں  ۔تاہم ایران اور سعودی عرب کے انسداد دہشت گردی کے اتحاد اپنے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مفادات کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے خون کی قیمت پر ہو رہا ہے جن  کی قیادت کے یہ ممالک دعوے دار ہیں۔ان کے اس  اقدام سے نہ صرف یہ کہ مسلمان معاشروں میں فرقہ واریت کو ہوا مل رہی ہے بلکہ مسلمان ممالک کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ مل جائیں ۔ کئی ممالک بالخصوص پاکستان کے لئے یہ ایک ہولناک صورتحال ہے۔جو پہلے ہی مشرق ِ وسطی ٰ کی خراب معاشی اور تزویراتی صورتحال سے نمٹنے کی جستجو میں ہے ۔

دولت ِ اسلامیہ کا ظہور  مسلمان  حکمران اشرافیہ کے فکری انحطاط سے ہو اہے ۔حقیقی چیلنج یہ نہیں کہ یہ مسلسل پھیل رہی ہے بلکہ حکمران اشرافیہ  اور ان کے اتحادیوں کی  مخصوص ذہنیت  ہے  اس کے علاوہ وہ ملا  ہے جو نئے خیا لات سے خوف زدہ ہے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی روایتی قدامت پسندی ان کی اپنی ہی بنیادوں کو  ہلا رہی ہے ۔

انسداد شدت پسندی کا فکری سطح پر جواب  دینا ناگزیر ہے جس کے لئے معاشرے کی تمام طبقات کو ساتھ ملایا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قوم کے اندر کتنی سکت اور طاقت ہے ۔پاکستانیو ں کی دانش کی نمائندگی کی مثال پارلیمنٹ ہے ۔اس نے مشرق ِ وسطی ٰ کے بحران میں پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کی تجویز دی ہے ۔اسی طرح کی تجویز ا س نے یمن کے بحران پر بھی دی تھی ۔جس پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پالیسی سازوں اور میڈیا نے نکتہ چینی کی تھی ۔

سوشل میڈیا پرزیر گردش سعودی عرب کے ایک اعلی ٰ عہدیدار  سے منسوب بیان کہ جس میں وہ پاکستان کی غیر جانبداری اور اس کی پارلیمنٹ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں ، حیران کن اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ یہ بات کئی لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے عرب دوستوں کو ہماری جمہوری اقدار سے  نہیں بلکہ  صرف  ملک کی فوجی طاقت سے مطلب ہے ۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جب پارلیمنٹ نے یمن کے معاملے پر غیر جانبدار پوزیشن لینے کی بات کی تو متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو سزا دینے کی خاطر بھارت کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے  کی کوشش کی حالانکہ وہ یہ جانتے تھے کہ بھارت یمن میں ان کی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا ۔

عرب ممالک کے کئی رائے ساز پاکستان کو مورد ِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ اس نے  ان کی کارروائیوں کی حمایت میں اپنی فوج نہ بھیجنے کے لئے پارلیمنٹ کا سہارا لیا ۔ایسے حالات میں پارلیمنٹ اشرافیہ کے لئے رحمت بن جاتی ہے اس معاملے میں جو پختگی دکھائی گئی وہ لائق ِ تحسین ہے ۔تاہم پارلیمنٹ کا اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ  فکری اور پالیسی  سطح پر اپنا کردار بڑھائے ۔اراکین پارلیمنٹ کی اہلیت اور حکومت کی پارلیمنٹ کے سامنے حیثیت پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی ادارہ ہے جو ملک کو متحد رکھے ہوئے ہے ۔اس لئے ہمارے خیال میں اسی ادارے کو انتہا پسندی اور دولت اسلامیہ  جیسے مسائل پر بھی آگے آنا چاہئے ۔

پارلیمنٹ ایک ہم آہنگ قوم کی تعمیرمیں کردار ادا کر سکتی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ ماضی کی ان پالیسیوں پر بحث کرے جن کی وجہ سے ہمارا تنوع پارہ پارہو گیا ۔اس سلسلے میں وہ ملک کے دیگر طبقات کو بھی ساتھ ملائے ۔پارلیمنٹ ملک کے نئے بیانئے کی تشکیل کا خاکہ بھی دے سکتی ہے اور حکومت کے تمام شعبوں کو بتائے کہ سماجی تنوع میں وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایک مؤثر اور باعمل پارلیمنٹ ہی ہمارے خیالات میں موجود اس خلا کو پُر کر سکتی ہے جو کئی  طرح کے نظریات بشمول دولت اسلامیہ کی جانب سے پھیلائے جا رہے ہیں  ۔یہ بات مسلمہ ہے کہ دہشت گرد گروہ  طاقت کی بجائے غیر متشدد اور نرم اقدامات سے ڈرتے ہیں ۔ان کے خلاف طاقت کے استعمال کا انہیں یہ فائدہ ہوا کہ انہوں نے خود کو مظلوم بنا کر پیش کیا اور پھر اس کے جواب میں انہیں اپنی پر تشدد کارروائیوں کا جواز مل گیا۔اگر کوئی ان کے بیانئے کو چیلنج کرے گا تو ان کا رد عمل شدید ہو گا چاہئے یہ مذہبی مفکر ین ، میڈیا یا رائے سازوں کی جانب سے ہو ۔اس کی کئی مثالیں  موجود ہیں کہ انہوں نے ان کو نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جنہوں نے ان کے  استدلال کو چیلنج کیا۔

اگر عسکری گروہوں کے خبارات و جرائد کا جائزہ لیا جائے توان کے فکری مواد کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔مثال کے طور پر تحریک ِ طالبان پاکستان  کے ترجمان جریدے ’’احیائے خلافت ‘‘ کا پرانا شمارہ پندرہ مضامین بشمول ایک اہم رہنما کے انٹرویو اور ایک کمانڈر کے حالات ِ زندگی پر مشتمل ہے ۔ چار مضامین ان کی آپریشنز اور ان کی نام نہاد کامیابیوں پر لکھے گئے ہیں  ۔دو سیکولرزم کے خلاف ہیں اور دو تفصیلی مضامین نظا م ِ خلافت کی اہمیت و افادیت لئے ہوئے ہیں۔مگر چار مضامین ایسے ہیں جو پارلیمنٹ اور جمہوریت کے خلاف ان کے مؤقف کو واضح کرتے ہیں ۔ایک مضمون کا عنوان ہے ’’میں ایک آئینی آدمی ہوں ‘‘جو دراصل سیاسی مذہبی رہنماؤں پر ایک طنز ہے جو آئینی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

پارلیمنٹ ہمارے عرب دوستوں اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اس لئے ہدف پر ہے کیونکہ وہ مختلف وجوہات کی بنا پر ادروں پر یقین نہیں رکھتے۔ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اراکین پارلیمنٹ کو اپنی اہمیت اوراس کردار کا اندازہ ہے جو وہ ایک جدید اور ہم آہنگ پاکستان کے لئے ادا کر سکتے ہیں ۔اگر پارلیمنٹ ناکام ہو گئی تو یہ قوم کی ناکامی ہو گی ۔

(بشکریہ ڈان : ترجمہ ،سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...