قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں

68

خیبر پختونخوا ہ کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس وقت تمام تر توجہ حال ہی میں صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع پر مرکوز کر رکھی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر کوئی نہ کوئی وزیر کسی نہ کسی قبائلی ضلع کے دورے پر جاتے ہیں اور وہاں پر موجود سول حکام کے علاوہ فوجی عہداروں کے ساتھ فوٹو سیشن کے بعد واپس آجاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ اورگورنر شاہ فرمان بھی روزانہ کی بنیاد پر قبائلی علاقوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ وزیراعلیٰ کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر بھی روزانہ کسی نہ کسی قبائلی وفد کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ دراصل حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ان سرگرمیوں کا مقصد قبائلی علاقوں کے انتظام اورانصرام سے زیادہ آئندہ چند مہینوں کے دوران صوبائی اسمبلی کی 16 نشتوں پر ہونے والے انتخابات سے ہیں۔حکمران جماعت کو چند مہینے قبل ضمنی انتخابات کے موقع پر پشاور اور سوات میں ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔ لہذٰا اب حکمران جماعت کے قائدین اور عہدیداروں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ بہر صورت سابق قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتحابات میں برتری حاصل کرینگے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلان کے مطابق تمام تر سابق قبائلی علاقوں سے 16 ممبران اسمبلی کا انتخابات براہ راست ہوگا جبکہ ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والے ممبران کامیابی کے بعد نشتوں پر چار خواتین اور ایک غیر مسلم اقلیتی ممبراسمبلی کا انتخابات کرینگے۔ اعلامیے کے مطابق سابق قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کا سب سے بڑا حلقہ چھ فرنٹیر ریجنز کا ہے جو پشاور ، کوہاٹ ، ہنگو، بنوں ، لکی مروت، ٹانک اور ڈیر ہ اسماعیل خان سے منسلک سابق نیم قبائلی اضلاع پر مشتمل ہوگا۔ جنوبی وزیرستان اور باجوڑ سے صوبائی اسمبلی کی نشتیں تین تین جبکہ مہمند، خیبر، کرم اور شمالی وزیرستان کے دو دو اور اورکزئی ایک نشست پر مشتمل ہوگا۔تمام تر سابق قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں بالخصوص مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں اور کارکنوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات اورکزئی اور فرنٹیرریجنز کے لوگوں کی طرف سے آئے ہیں ۔ ان لوگوں نے اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے بھی کیے ہیں۔ انہی دونوں حلقوں سے تعلق رکھنے والے نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس شکایتیں بھی درج کیے ہیں۔ ا ب دیکھنا یہ ہے کہ 31 جنوری تک حلقہ بندیوں کے خلاف موصول ہونی والی شکایتوں اور اعتراضات پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا فیصلے یا تبدیلیاں آسکتی ہے۔ بہر حال یوں دکھائی دیتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر تمام تر قبائلی علاقوں سے لوگ زیادہ سرگرمیاں دکھانے کیلئے تیا ر بیٹھے ہیں۔

پچھلے سال مئی میں جب قومی اسمبلی اور خیبر پختونخواہ  میں انضمام کے لیے آئینی ترامیم کی جارہی تھیں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں تمام تر سول اور عدالتی نظام کا دائرہ کار تمام تر قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائیگا۔ مگر ابھی تک اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہوسکا۔ جس سے نہ صرف ان نئے اضلاع میں انتظامی مسائل دن بدن پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں بلکہ حکومتی اداروں کی ناکامی کے باعث انضمام کی مخالفت کرنے والے قبائلی عمائدین کے موقف کو بھی تقویت مل رہی ہے۔  یہ عمائدین نہ صرف روزانہ کی بنیاد پر جرگوں اور معرکوں میں انضما م کے فیصلوں کو واپس لینے کے مطالبے کررہے ہیں بلکہ پولیس ، عدلیہ اوردیگر انتظامی اداروں کو سابق قبائلی اضلاع تک توسیع دینے کی مخالفت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔انضمام کی مخالفت کرنیوالے قبائلی ابھی تک صوبائی اسمبلی کیلئے ہونیوالے انتخابات کے راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ حزبِ اختلاف میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمابھی قبائلی اضلاع سے صوبائی اسمبلی کے 16 عام نشتوں پر انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں اور اس سلسلے میں مضبوط اور مقبول ترین امیداروں اور قبائلی عمائدین سے رابطے کئے جارہے ہیں۔ تحریک انصاف کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ نون، جمعیت العلماء اسلام (ف) ، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کی جڑیں تمام تر سابق قبائلی اضلاع میں پائے جاتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کیا حاصل کریگا اور کس طرح حاصل کرے گا۔

جولائی 2018 کے عام انتخابات میں دعووں کے باوجود ملک بھر میں بالعموم اور خیبر پختونخواہ  میں بالخصوص متحدہ مجلس عمل کی کارکردگی زیادہ تسلی بحش نہیں رہی ہے۔ تمام مذہبی جماعتوں نے ملکر صوبائی اسمبلی کے 124 میں سے صرف 12 نشتیں جبکہ قومی اسمبلی کے 51 میں سے صرف 6 نشتیں حاصل کی تھی۔ انتخابات کے  بعد متحدہ مجلس عمل میں شامل دو اہم جماعتوں جمعیت العلماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے مابین تعلقات بھی اتنے زیادہ اطمینان بحش نہیں رہے ۔ چند روز قبل جماعت اسلامی کے قائدین نے سابق اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر ہونے والے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے بجائے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر انفرادی طور پر حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا ہے کہ سابق قبائلی علاقوں میں متحدہ مجلس عمل کا وجود معطل رہیگا جبکہ اس اتحاد میں شامل مذہبی جماعتیں بالخصوص جمعیت العلماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی ایک دوسرے کے مد مقابل ہونگے۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو 2013 سے لیکر اب تک پاکستان تحریک انصاف نے اگر کسی سیاسی جماعت کو نقصان پہنچایا ہے تو جماعت اسلامی اس میں سرفہرست ہے۔ اب قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر انتخابات سے قبل جماعت اسلامی کے بعض رہنما ٹکٹ کے بدلے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور ان میں جماعت اسلامی کے مضبوط گڑھ دیر سے بھی چند ایک اہم رہنمانمایاں ہیں۔ وفاداری تبدیل کرنے کے عوض ان افراد کو ملحقہ باجوڑ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے اور کامیابی کے مواقع فراہم ہونگے۔

بہرحال حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرے اور اس سلسلے میں قبائلی اضلاع کے لوگوں کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ نوکریاں فراہم کرنے کے وعدے کیے جارہے ہیں بلکہ ان تمام تر مسائل اور مشکلات کو الہ دین  کے چراغ کے ذریعے حل کرنے کی دعوے بھی کیے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمود خان سمیت تمام وزراء اور مشیر مختلف علاقوں کے دورے پر ہیں جہاں پر اب بھی ہزاروں افراد بدنام زمانہ فرنٹیرکرائمز ریگولیشن کے تحت ناکردہ گناہوں کی پاداش میں قید ہیں۔ قبائلی عوام کا اولین مطالبہ سول خواتین کے دائر کار بڑھانے کا ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور صوبائی وزراء کے بس میں دکھائی نہیں دیتا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...