طالبان امریکہ بات چیت: پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی کی قسمت

افغان طالبان اور امریکا کے مابین قطر میں ہونے والی حالیہ بات چیت سے افغانستان میں قیامِ امن کی امید بندھ چلی ہے۔مذاکرات میں کامیابی پاکستانی عسکریت پسندوں کی قسمت کا فیصلہ بھی کرےگی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پاک افغان دو طرفہ تجارت اور سرحدی سلامتی سے متعلق مسائل کو سفارتی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر زیرِ غور لایا جائے گا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کئی افراد کا ماننا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کے باعث پاکستان کے خلاف دو ہری جنگ کا خطرہ ٹل جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں موجود اسٹیبلشمنٹ مخالف عناصر کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پختونوں کودو طرح سے اشتعال دلایا جا سکتا ہے۔ اولاً مذہب اور ثانیاً جذبات ۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے پسِ منظر میں ابلاغی نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک فوجی افسر نے کہا کہ ’’ پاکستان اور اس کی فوج نے مذہب کی بنیاد پر ریاست کے خلاف کھڑی ہونے والی قوتوں کو شکست دی ہے اور اب معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیلنے والوں کو بھی ٹھکانے لگانے کے لیے جد وجہد کررہی ہے۔‘‘یہ بات انہوں نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر میران شاہ میں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی رہنمائی میں ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے وزیرستان دورے کے موقع پر کہی۔
فوج کی خواہش ہے کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں اس کی غیر معمولی کامیابی اور قبائلی علاقوں کی سماجی و معاشی صورتِ حال کی بہتری کے لیے ادا کیے گئے اس کے کردار کوتسلیم کیا جائے۔ اس دورے کے دوران صحافیوں اور فوج کے مابین گفتگو کا مرکز و محور پشتون تحفظ موومنٹ رہی۔ہمارا پہلا پڑاؤ کورہیڈ کوارٹر پشاور تھا جہاں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شاہین نے ہمیں قبائلی علاقوں میں انسداد دہشت گردی اور معاشی و سماجی ترقی میں اپنی کور کی کامیابیوں پر بریفنگ دی۔بات چیت کے دوران اس بات کا اظہار کیا گیا کہ پی ٹی ایم فوج اور مقامی آبادی کے درمیان مفاہمتی عمل میں ایک بڑی مزاحمت بن کر ابھر رہی ہے اور یہ تحریک قبائلی علاقوں میں فوج تعیناتی کے حوالے سے منفی تاثرات قائم کرنے کی محرک ہے۔ کور کمانڈر نے کہا کہ فوج کو یہ خدشہ ہے کہ پی ٹی ایم تحریکِ طالبان پاکستان جیسے عناصر کے لیے راہ ہموار کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ منسلک عسکریت پسندوں کی مجموعی تعداد 3350 سے 4200 تک ہے جو زیادہ تر افغانستان میں رہ ہے ہیں، تاہم قبائلی علاقوں میں ان کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کارروائیوں سے پاکستان میں بھی ان کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔گذشتہ برس ٹی ٹی پی سے منسلک عسکریت پسندوں نے شمالی وزیرستان میں 11حملے کیے جن میں 14افراد جاں بحق اور پچاس افراد زخمی ہوئے۔پاک فوج تحریکِ طالبان پاکستان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت کو سمجھ نہیں پارہی اور وہ آئندہ لائحہِ عمل کے لیےافغان طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کے نتائج کی طرف دیکھ رہی ہے۔اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کی کامیابی کے بعد افغان حکومت افغانستان  میں موجود پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔اس بات کی بھی امید ہے کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان سے اظہارِ لا تعلقی کرتے ہوئے انہیں واپس پاکستان کے حوالے کرنے کی کوشش میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اس بات کا اظہار بھی کیا گیا کہ ریاست ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہوں سے نمٹنےکی کوئی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’’جو افراد واپس آ کر پر امن رہنے کی یقین دہانی کروائیں گے انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔‘‘تاہم ابھی مذاکراتی عمل کے بعد کے منظرنامے کے حوالے سے لائحہِ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اس بات کا خطرہ ہنوز موجود ہے کہ اگر عسکریت پسندوں کی اتنی بڑی تعداد کو واپس سماج یا مرکزی دھارے میں لانے کے لیے صحیح اقدامات نہ کیے گئے تو وہ داعش میں شمولیت نہ اختیار کر لیں۔

طالبان امریکا مذاکرات کی کامیابی نہ صرف پاکستانی طالبان کے مستقبل پر اثر انداز ہوگی بلکہ اس کے اثرات گمشدہ افراد کے مسئلے اور پشتون تحریک پر بھی پڑیں گے۔ گمشدہ افراد بنیادی طور پر تین طرح کے ہیں۔پہلی قسم جبری طور پر گمشدہ افردا کی ہے اور کور کمانڈر پشاور نے اس بات کی تائید کی کہ یہ مسئلہ اولین طور پر حل ہونا چاہیے۔ دوسری قسم کے گمشدہ افراد وہ ہیں جو اس تصادم کی نذر ہوئے اور جانو ں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔تیسری قسم ان افراد کی ہے جن کے اعدادوشمار کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے پاس نہیں ہیں اور ان کے بارے میں یہ خدشہ ہے کہ وہ جرائم پیشہ یا دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ دوسری اور تیسری قسم کے گمشدہ افراد کا مسئلہ اسی وقت حل ہو سکتا ہے جب ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہوں سے مفاہمت کر لی جاتی ہے یا انہیں غیر فعال کر دیا جائے۔ لیکن فوج کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ نے ہمہ قسم گمشدہ افراد کو ایک ہی خانے ، یعنی جبری گمشدہ افراد کی فہرست میں ڈال کر پشتون جذبات کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔ کور کمانڈر کا کہنا تھا کہ پشتون تحریک کے کئی مطالبات پر مکالمے کی گنجائش موجود ہے تاہم گمشدہ افراد کا مسئلہ اس قدر آسان نہیں ہے۔ کئی فوجی افسران کا ماننا ہے کہ گمشدہ افراد کا مسئلہ پی ٹی ایم کے ہاتھ سے نکل کر تحریکِ طالبان پاکستان کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔

پاک فوج کے زیرِ نگرانی مکمل ہونے والے انفراسٹرکچر منصوبوں کے دورے کے دوران صحافیوں کو مقامی آبادی سےمختصر بات چیت کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔معیشت کی از سرِنو بحالی اور تباہ شدہ رہائشی و کاروباری جائیدادوں کے ازالے اور نقصان کی تلافی میں علاقوں کی داخلی شاہراہوں پر سکیورٹی چوکیاں بنا دیے جانے کے بعد بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بڑی بڑی مارکیٹیں تعمیر تو ہو چکی ہیں تاہم زیادہ کرایوں اور ملکیتی رقم کی وجہ سے زیادہ تر دوکانیں خالی پڑی ہیں۔

مقامی کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس صورت میں بڑھ سکتی ہیں کہ غلا م خان بارڈر کو دن میں چند ایک گھنٹوں کے لیے کھول دیا جائے تو معاشی سرگرمیوں اور کاروبار میں تیزی اور بہتری آسکتی ہے۔تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غیر قانونی معیشت، جس سے عسکریت پسند اور جرائم پیشہ افراد کومالی وسائل میسر ہوتے ہیں پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ کورکمانڈر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ہمیں معلوم ہے  کہ پولیسنگ ہماراکام نہیں ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ  عوام آگے آئیں اور یہ ذمہ داری سنبھالیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہاں عدلیہ اور پولیس کا نظام کام کرنے لگا ہے تاہم لوگ اسے ایک دوسری طرح سے دیکھ رہے ہیں۔ فاٹا کے انضمام سے سماجی و معاشی سطح پر کافی بہتری کی امید کی گئی تھی تاہم اس حوالے سے یہاں کے لوگوں کو تحفظات ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فاٹا انضمام کا اقدام ماحول کو سازگار اور عوامی رائے کو تبدیل کیے بغیر عجلت میں اٹھایا گیا ہے۔ فوجی افسران کا خیال ہے کہ انہیں مختلف محاذوں پر کام کرنا ہے جس میں انفراسٹرکچر کی تکمیل کے بعد اسے شہری انتظامی اداروں کے سپرد کرنا بھی شامل ہے۔فوجی افسران کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سماجی و معاشی بہتری اور تعمیرِ نو کا کام ایک مشکل مرحلہ ہے اور یہ مقامی آبادی کے اعتماد و اعتبار اور حکومت کی معاونت کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔ شہری اپنے لیے عزت و احترام اور اپنے کاروبار کے لیے آزادی کے خواہش مند ہیں۔

قبائلی علاقوں میں قیامِ امن اور انسدادِ مزاحمت کی فوجی حکمتِ عملی کے تین ستون ہیں۔ عسکریت پسندوں سے علاقوں کی صفائی،علاقوں پر اپنا کنٹرول اورپھر انتظامات و اختیارات کی منتقلی ۔ تاہم اس حکمتِ عملی میں علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے اوراختیارات کی منتقلی کے مراحل کے درمیان ایک اہم مرحلے کو نظر انداز کیا گیا ہے ، وہ مرحلہ اعتماد سازی کا ہے اور یہ اعتماد سازی تمام تر نظم و نسق کلی طوپرر شہری حکومتوں کے سپرد کر دینے سمیت کئی طریقوں سے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...