کراچی ایک نئے موڑپر

384

کراچی پاکستان کی معیشت، صنعت اورتجارت میں مرکزی حیثیت رکھتاہے۔  شہرکی سب سے زیادہ آبادی ہونے کی وجہ سے  قومی اورصوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی یہاں  زیادہ ہیں۔ ماضی کے برعکس پچھلے الیکشن سے شہرپر ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کی بجائے تحریک انصاف زیادہ چھائی ہوئی نظرآتی ہے۔ یوں تحریک انصاف، ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی شہرپراپنااثرچھوڑنے کی کوششوں میں مصروف نظرآتی ہیں۔ ملک کے دیگرحصوں سے اس شہرکےحالات کچھ یوں مختلف ہیں کہ اس شہرمیں سپریم کورٹ کے تحت اٹھائے گئے اقدامات اوراس کی طرف ردعمل کے علاوہ عوام میں پائی جانے والے احساسات اوربے چینی پرتین بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ تینوں ایک طرف سپریم کورٹ کے اٹھائے گئے اقدامات کوایک طرح سےاپناتے بھی ہیں اوراس عمل پرتنقید بھی کرتے ہیں۔ تینوں جماعتوں کےردعمل کے پیچھے مختلف سماجی گروہوں کا پس منظراور شہرکی سیاست ہے۔

سپریم کورٹ کاکہناہے کہ کراچی کواس کے چالیس سال پرانے اصل ماسٹرپلان پرواپس لایاجائے جو کہ کوئی آسان کام نہیں۔ عدالت کاکہناہے کہ سندھ کابینہ کااجلاس بلاکراس میں کراچی کواصل ماسٹرپلان کےتحت بحال کرنے کافیصلہ کرے۔ شہرسےتجاوزات کی صفائی، زمینوں کو واگزارکروانے، سرکلرریلوے کی بحالی کیلئے اقدامات نے شہرکی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ فوج کی زمینوں پرہرقسم کی کمرشل سرگرمی ختم کرنے کاحکم بھی دیاگیاہے۔ دلچسپ امریہ ہے کہ تین بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پرالزام تراشی کرکے اس کوشہرکی بربادی کی ذمہ دارگردانتی ہیں۔ پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کاکہناہے کہ جب سے ایم کیوایم نے بلدیاتی انتخابات سے اس شہرپرقدم جمائے، شہرکاحلیہ بگڑگیا۔ ایم کیوایم شہرمیں ہونے والی گڑبڑکی ذمہ دارہے۔ جب یہ حکومت میں ہوتی ہے توشہرمیں کوئی تبدیلی اس کی مرضی کے بغیرممکن نہیں ہوتی۔ جب یہ اپوزیشن میں ہوتی تھی توشہرکا پورانظام ہی درہم برہم ہوجاتا۔ یوں شہرکیلئے ایم کیوایم کی موجودگی ایک مصیبت ہے۔

ایم کیوایم لوئرمڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہے۔ نیولبرل دورمیں جب ایک طرف شہرکی کاروباری سرگرمی بڑھی اورملک کے دیگرحصوں سے بڑی تعدادمیں نقل مکانی ہوئی توشہرکے اردگردبڑی تعدادمیں کچی آبادیوں کاسلسلہ بھی زورپکڑگیا۔ انہی آبادیوں میں انفارمل سیکٹراورجرائم دونوں کازوربڑھا تولوئرمڈل کلاس ایک خونخوارشکل میں سامنے آنے لگی۔ شہرکے مسائل بڑھ گئے لیکن حکومتوں کی طرف  سےاب سہولیات کی فراہمی اورعوامی بہبود سے ہاتھ کھنچ گئے۔ ان حالات میں ٹرانسپورٹ، پانی، صحت، تعلیم،بجلی، سڑکوں کی تعمیروغیرہ کیلئے رقم کم اورعلاقے بڑھ گئے۔ ایم کیوایم، لیاری گینگ وار اوراے این پی کے بدلتے سیاسی کردارکواسی تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایم کیوسب سے پہلے منظم ہوئی۔ اس کی پشت پراولین قوت پڑھی لکھی مہاجرآبادی تھی۔ لیکن ریاست سے ٹکراوکے بعد یہ بھاگ گئی توقیادت میں وہ آگے آئے جو”سیکٹرانچار” کہلائے، یہ پرت نچلی لوئرمڈل کلاس سے آئی۔ اسی نے ایک طرف فوج اورپولیس کامقابلہ کیاتودوسری طرف پشتون، پنجابی اورسندھی کے خلاف بھی محاذکھولے۔ لیکن بیرونی قوتوں سے لڑتے ہوئے اپنے مہاجروں کویکجاکرکے ان کوہی یرغمال بنانے میں بھی کامیاب ہوئی۔ الطاف حسین کی چھتری کے سائے تلے یہ بھوت بن کردیگرقومیتوں کوڈرانے میں کامیاب رہے۔ مہاجراکثریت اوردہشت گردی کے دوہرے ملاپ سے ایم کیوایم اپنے حجم سے کہیں زیادہ نمائندگی بٹورنے میں یوں کامیاب رہی کہ اس نے مڈل کلاس اورپشتون وغیرہ کوکنارے لگادیا۔ بلدیات سے لے کرمرکزی وصوبائی حکومت کاحصہ بن کریہ دیگرقومیتوں سے سہولیات کسی حدتک مہاجرآبادیوں کی طرف موڑنےکی کوششوں میں کامیاب بھی رہی۔

پیپلزپارٹی شہرکے مرکزکے گرددیہی علاقوں میں ہی رہی۔ سندھ کے دیگرحصوں بمقابلہ کراچی اورحیدرآبادکی سیاست جڑیں پکڑگئی توپیپلزپارٹی دیہی سندھ کی پارٹی بن کرسامنے آگئی۔ یہ شہرکے گردآبادیوں جیسے ملیراورلیاری میں زیادہ مضبوط ہے۔ پیپلزپار ٹی کی شہرکی مرکزکی ترقی سے زیادہ اس کے مضافات کی طرف زیادہ توجہ رہی ہے۔ یہ تضاد کراچی کی سیاست میں رہاہے کہ مہاجروں نے پیپلزپارٹی سے زیادہ دیگرجماعتوں میں جگہ پائی۔ ایم کیوایم کے عروج سے پہلے شہرمیں نورانی میاں کی جمعیت علمائے پاکستان اوراس کے بعد جماعت اسلامی مہاجرووٹرزمیں اثرورسوخ رکھتی تھیں۔ زرداری کی بہت بڑی کامیابی رینجرزآپریشن کادائرہ کراچی اورحیدرآبادتک محدودرکھناہے۔ اس سے دیہی سندھ کے خلاف شہری مزاحمت کی کمرٹوٹ گئی۔ رینجرز آپریشن کے دباؤمیں ایم کیوایم کئی دھڑوں میں بٹ گئی۔

متحدہ قومی مومنٹ کابڑا دھڑا جوایم کیوایم پاکستان کہلاتاہے، مرکزمیں تحریک انصاف کااتحادی اورصوبہ میں مقابلہ پرہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ ایم کیوایم کی سیاست اسی ڈگرپرچلتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ کے ساتھ اس کے اتحادانہی تضادات کے گردگھومتے رہے ہیں۔ عام طورپرایم کیوایم کے ووٹ مرکزمیں حکومتوں کوبنانے کیلئے زیادہ درکارہوتےہیں۔ سندھ میں جیسے پیپلزپارٹی کی حکومتیں زیادہ رہی ہیں۔ایم کیوایم کے سندھ کے ووٹ اس وقت صوبہ میں اہمیت اختیارکرجاتے ہیں، جب مرکزی حکومت، سندھ میں پیپلزپارٹی کوصوبائی حکومت سے دوررکھناچاہتے تھے۔ یوں ایم کیوایم ایک بہت اہم پارٹی بن کرصوبہ میں سامنے آتی تھی۔ لیکن موجودہ حالات میں جب عمران خان کی مرکزی حکومت، صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کاکوئی بڑا دھڑا تخلیق کرکے اس کوپیپلزپارٹی کے خلاف کھڑا کرنے میں ناکام رہا، ان حالات میں ایم کیوایم صوبائی سطح پرکوئی بڑا تاثرچھوڑنے میں ابھی تک کامیاب نظرنہیں آتی۔ شہرمیں البتہ توڑپھوڑ پرایم کیوایم کامئیروسیم اختراورفاروق ستارکاردعمل سب سے واضح ہے۔

تحریک انصاف، رینجرزآپریشن کے سنگ سنگ شہرمیں ابھری۔ یہ دراصل پروفیشنل ومڈل کلاس کی لوئرمڈل پرسیاسی فتح ہے۔  تحریک انصاف شہرمیں سپریم کورٹ کےعمل سے بظاہرمطمئن نظرآتی ہے۔ یہ شاہراہوں کوبڑا، سڑکوں، پارکوں سے تجاوزات کے خاتمےپرچیں بہ چیں ہوکربھی اس کوشائد مستردنہ کرے۔ شہرمیں لوئرمڈل کلاس کی شکست ہوئی توعوام تحریک انصاف کے گرداکھٹی ہوئی۔ یوں تحریک انصاف کے تحت شہرمیں دہشت گرد ونگ رکھنی والی لوئرمڈل کلاس کی پارٹیوں ایم کیوایم، پیپلزپارٹی اوراے این پی کوبھرپورطریقے سے شکست ہوئی۔

تینوں بڑی سیاسی پارٹیاں ایک طرف سپریم کورٹ کے حکم کے ساتھ ہیں لیکن نیچے کی لیڈرشپ عوام کے دباؤکابھی شکارہے۔ یوں ایک متضادصورتحال سامنے آتی ہے۔ صوبائی وزیربلدیات سعیدغنی کہتاہے کہ میں اپنے عہدے کی قربانی دینے کوتیارہوں مگرکمرشل ہونے والی رہائشی عمارتوں کونہیں توڑوں گا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ہر فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے ہم پابند ہی۔ ہمیں فیصلے اچھے لگیں یا نہ لگیں تسلیم کرنے پڑتے ہیں، لیکن تجاوزات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جو احکامات جاری کیے ہیں ،میں انتہائی ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ رہائشی علاقوں کو توڑنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کراچی کے میئروسیم اخترنے کہاکہ نہ بلڈنگ اورنہ ہی شادی ہال توڑیں گے۔ وسیم اخترنے سندھ حکومت سے کہاکہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دے۔ سابق مئیراوروزیرفاروق ستارنے بیک وقت سپریم کورٹ، عمران خان اورایم کیوایم پاکستان کے لیڈروں  کوآڑے ہاتھوں لیا۔ اس کاکہناہے کہ اگرسپریم کے کورٹ کے حکم پربنی گالا ریگولائزکیاجاسکتاہے توباقی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ اس نے ایم کیوایم کے خالدمقبول صدیقی اوروسیم اخترسے ایسے ہی اقدام کی توقع ظاہرکی۔کراچی میں اگلے بلدیاتی الیکشن ہی شہرکی سیاست کے رخ کافیصلہ کرے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...