تلخ حقیقت

455

حکومت نے سانحہ ساہیوال کو ہینڈل کرنے کےلیے جو حکمت عملی اپنائی وہ اس حکمت عملی سے قطعاً مختلف نہ تھی جو اس قسم کے واقعات پر ہماری ماضی کی حکومتیں اپناتی رہی ہیں۔ عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے وہی پولیس اصلاحات کے وعدے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا دعویٰ، یہاں تک کہ اسی طرح کا کوئی اور دل خراش واقعہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ بدقسمتی سے ہم پاکستانیوں کا اجتماعی ضمیر جھنجھلا کر صرف اس صورت بیدار ہوتا ہے جب کوئی انسانی المیہ سر اٹھاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے ہمارے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قسم کے سانحات کے بعد معاملات کو دبانے کے فن میں طاق ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے بھی ہمارے اداروں کو ہر قسم کی کوتاہیوں اور نااہلیوں کو چھپانے کا جواز فراہم کیا ہے۔ ہمارے ادارے یہ ہنر بھی سیکھ چکے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کے بعد کس طرح اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو ہمدردی میں بدلنا ہے اور ایک نئے بیانیے کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کرنی ہے، جس کے تحت انہیں مزید وسائل فراہم ہو سکیں تاکہ یہ ادارے خود کو مزید محفوظ اور ناقابل گرفت بنا لیں۔
ہماری سول انتظامیہ اورسکیورٹی اداروں ،یہاں تک کہ عدلیہ بھی یہ ہمت نہیں جتا پا رہی کہ گذشتہ چند برسوں میں ہونے والے پولیس مقابلوں کی باز پرس کا ہی حکم جاری کر دے۔ اگر ایسا ہو ا تو ایک قیامت آ جائے گی ہمارا نظام جس کامتحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک میڈیا رپورٹ بتاتی ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق جنوری 2014سے مئی 2018 تک پولیس مقابلوں میں 3345افراد کو ہلاک  ہوئے، جن میں 23خواتین اور 12بچے بھی شامل تھے۔

دوسری طرف اس قسم کے سانحات کے بعد ہمارا مجموعی قومی ردعمل بھی مختلف رہتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں قتل و غارت گری ایک معمول ہو، وہاں کے باسی پولیس مقابلوں جیسے غیر قانونی اقدام کے مرتکب افسران کو ہیرو بنا لیتے ہیں اور اس کے جواز میں فوجداری نظام میں موجود خرابیوں کو پیش کرتےہیں۔ کسی معاشرے میں جذبات کے اظہار کا مجموعی طرزِ عمل اس معاشرے کی اجتماعی نفسیات کو سمجھنے کا پیمانہ ہوا کرتا ہے جبکہ کسی معاشرےمیں خوشی اور غم کے اظہار سے ہی اس معاشرے کی کمزوریوں اور قوت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہی رویے سنگین حالات کے دوران طاقت میں توازن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ان دوحوالوں سے ہم ملکی سکیورٹی کے ڈھانچے اور نتیجتاً پنپنے والی ذہنیت کا تنقیدی جائزہ لے سکتے ہیں۔پاکستان کو قانون کی عملداری کے لیےجو بنیادی ڈھانچہ وراثت میں ملااور جس کی برسوں ہم نے پرورش کی ہے ،وہ گذشتہ چند برسوں میں داخلی حالات کی پیچیدگیوں ،اندرونی مسائل اور ریاست کی جانب سے اس نظام میں اصلاحات لانے میں عدمِ دلچسپی کے سبب مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔حکومت اور ریاستی ادارے معاملات کے حل کے لیے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی پالیسی اپنانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اداروں میں اصلاحات کی بجائے ان کے متوازی ادارے بنانے کا رجحان فروغ پا چکا ہے۔
مثال کے طور پر ہمارے تمام صوبوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے متوازی فورسز بنائی گئی ہیں۔ پنجاب میں دہشت گردی کے مقابلے کے لیے 1997 میں ایلیٹ فورس قائم کی گئی مگر پنجاب حکومت نے 2014 میں خاص اسی مقصد کے لیے ایک اور فورس کھڑی کر دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے سے مشکلات کا شکار اداروں سے افرادی وسائل مستعار لے کر ان نئے اداروں میں کھپائے جاتے ہیں، جس سے نہ صرف سکیورٹی اداروں میں پہلے سے موجود خامیاں نمایاں ہو جاتی ہیں بلکہ باہمی تعاون کے نئے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

یہی المیہ ساہیوال سانحے کا ہے۔ جہاں اداروں میں باہمی معاونت کے فقدان کے ساتھ ساتھ اختیارات کی تخصیص کے ابہام نے ایک ایسے سانحے کو جنم دیا جس سے آسانی سےبچا جا سکتا تھا۔ ایک طرح سے اس قسم کی مبہم صورت حال انسداد دہشت گردی ادارے کے مفاد میں بھی جاتی ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے انہیں اپنی کارروائیوں کا جواز تراشنے کا موقع میسر آتا ہے۔اس کے ساتھ ہی خطرے کی نوعیت اور اس کے امکان کا غیر حقیقی تعین بھی سکیورٹی اداروں کی ایک خامی ہے۔بدلتے ہوئے عسکری منظر نامے کو سمجھنے اور میسر انٹیلی جنس معلومات پر عملد رآمد کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کا سکیورٹی نظام ریاست کی رٹ بحال کرنے کے نظریے پر استوار کیا گیا ہے۔ اس لیے ہمارے اداروں کے لیے مشکل ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے نظام سے بھی خود کو ہم آہنگ کرسکیں ۔ بظاہرریاست کی رٹ اور قانون کی حکمرانی ایک ہی معانی رکھتے ہیں، تاہم جب ان پر عملدرآمد کا وقت آتا ہے تو یہ ان کے معانی ایک دوسرے سے متضاد ہو جاتے ہیں۔ ریاست کی رٹ کے نظریہ کی بنیاد حاکمیت کے تصور پر رکھی گئی ہے جبکہ قانون کی حکمرانی اختیارات کے ذمہ دارانہ استعمال اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کےاحتساب کی متقاضی ہوتی ہے۔ریاستی سکیورٹی اداروں کے لیے قانون کی حکمرانی کے چند بنیادی اصولوں کی پیروی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جیسے کہ قانون کا یکساں اطلاق، حکومت کے لیے قانون کی پابندی، انصاف کی فراہمی اور مجرم کا شفاف ٹرائل وغیرہ۔ جبکہ سکیورٹی اداروں کا یقین ہے کہ ان کی ذمہ داریاں مکمل استثنا کی متقاضی ہیں اور ہمارا نظام بحیثیت مجموعی اس نظریے کی تائید کرتا ہے۔ہمارا سماج بھی ایسے اقدامات کی تحسین کرتا ہے جن میں قانون کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے۔اس کی واضح مثال فلموں میں ماوراے عدالت اقدامات اور جعلی پولیس مقابلوں جیسے مناظر کوانصاف کےلیے ’’ناگزیر‘‘ سمجھتے ہوئے تالیاں پیٹتے لوگ ہیں۔ ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے قانون توڑنا ایک معمول ہے کیونکہ ریاست اور معاشرہ نہ صرف اس کی تائید کرتے ہیں بلکہ اس قسم کے غیر قانونی اقدامات کی پذیرائی انعامات، نوازشات اور ترقیوں کی صورت میں بھی کی جاتی ہے۔ ہم اگر ترقی پانے والے افسران کی کارکردگی پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پولیس اور دیگر اداروں میں ترقی پانے کے لیےغیر قانونی اقدام جیسے معیار بن چکا ہے۔ ایک بار ایک پولیس افسر نے ایک انٹرویو کے دوران یہ اعتراف کیا کہ جعلی پولیس مقابلوں پر صحیح طریقے سے باز پرس نہیں کی جاتی کیوں کہ یہ حکومت کی ایما پر ہی ہوتے ہیں۔ ہماری عدلیہ پر بوجھ کیوں بڑھ رہا ہے؟دراصل یہ تاثر پیدا کر دیا گیا ہے کہ سکیورٹی ادارے اپنا کام اخلاص اور دیانتداری سے کرتے ہیں اور سست رو عدالتی نظام کی وجہ سے ماوراے عدالت اقدامات اٹھانا ان اداروں کی مجبوری بن جاتی ہے۔

ریاستی اداروں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ سانحہ ساہیوال کو عوام کے ذہنوں سے محو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ یہ کوئی اس قدر مشکل کام نہیں ہے، اگلی بار ایک مبینہ دہشت گرد، جنسی زیادتی کا مرتکب فرد ، اشتہاری یا پھرڈکیت ’’پولیس مقابلے‘‘ میں مارا جائے گا اور ہمارے قومی اخبارات اور برقی ذرائع ابلاغ ان ’’ماہر‘‘پولیس افسران کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے لگیں گے۔سول اور عسکری سکیورٹی اداروں کو اگر کچھ فکر ہے تو یہ کہ اس قسم کے واقعات کے بعد عوامی ردعمل اس حد تک نہ بڑھ جائے کہ سیاسی یاسماجی حقوق کی ایک تحریک کی شکل اختیار کرلے۔ اس قسم کی ایک مثال پشتون تحفظ موومنٹ بھی ہے۔ ریاستی ادارے اس قسم کی تحریکوں کو اپنے مکمل استثنیٰ کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان تحریکات کو اندرونی اور بیرونی ملک دشمن قوتیں اشتعال کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ اس قسم کے سانحات کی وجہ سے راؤ انوار جیسے’’ماہر مقابلے باز‘‘ عوامی بیانیے کا حصہ بنتے ہیں، حقوق کی تحریکیں جنم لیتی ہیں اور احتساب کی آوازوں کو توانا کرتی ہیں۔

بدقسمتی سے اپنے اقدامات و افعال کی درستی اورقانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے بجائے یہ ادارےمستقبل میں بھی قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے ساتھ ساتھ حکومتی رٹ قائم کرنےمیں حاصل کی گئی کامیابیوں کو فخریہ پیش کرتے رہیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...