مکالمہ مشکل ہے!

جب تک اپنے اپنے موقف کے تیقن کی چوٹیوں سے نیچے جھانکنے کی ہمت پیدا نہ کرلی جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک اپنی ناک سے آگے دیکھنے کا حوصلہ نہ ہو، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک اپنی فیصلہ کن رائے کو تھوڑی دیر کے لیے معطل نہ کیا جاسکے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک دوسروں کو، چاہے وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں، سننے کا ارادہ نہ کرلیا جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک اپنی ذات اور مفاد کے ہمالیہ سے کچھ نیچے اترنے کی نیت نہ کی جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ جب تک خلوص نیت سے کسی مسئلہ کو حل کرنے کی نیت نہ کرلی جائے، مکالمہ مشکل ہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کی ہمت، نیت، ارادہ، حوصلہ، خلوص یا ہٹ دھرمی جو بھی ہو حالات کی سنگینی آپ کو خود مذاکرے پر، مکالمے پر، بات چیت پر اور کچھ رعایتیں لینے کے لیے کچھ رعایتیں دینے پر مجبور کردیتی ہے۔ جیسا کہ برسوں کی جنگ کے بعد حالات کی سنگینی نے امریکیوں اور طالبان کو میز پر لابٹھایا اور ایک دوسرے کے موقف کو سننے اور کچھ گنجائشیں پیدا کرنے پر مجبور کردیا۔ اس سے اگر افغانستان اور پورے خطے میں امن قائم ہوسکتا ہے تو اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے۔

لیکن اس وقت میرا موضوع یہ مذکرات نہیں بلکہ وہ مکالمہ ہے جس کا انعقادپاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹیڈیز کی طرف سے 26 جنوری کو اسلام آباد میں کیا گیا اور اس کا تعلق بھی بنیادی طور پر اس خطے میں امن، تعلیم اور خوشحالی سے ہے۔ صبح سے شام تک کئی اجلاسوں میں بہت سے ان موضوعات پر بات کی گئی جو پاکستان کی شناخت، سلامتی اور مستقبل سے جڑے ہیں، اور ان لوگوں نے بات کی جو اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر اس کے اہل تھے۔ بہت سے نئے پہلو سامنے آئے، بہت سے نئے سوال اٹھے اور بہت سے لاینحل سوالوں کی قدامت اور سنگینی کا اندازہ ہوا۔ مجھے امید ہے کہ ان تمام پہلوؤں پر دیگر ماہرین کی طرف سے ماہرانہ تبصرے ہوتے رہیں گے، میرا مدعا محض ایک عام آدمی کے طور پر، اس مختصر سے کالم میں کسی علمی ادعا کے بغیر اپنے کچھ تاثرات بیان کرنا ہے۔

پہلا تاثر تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں وقت کے ساتھ ساتھ شناخت کا بحران گہرا اور پیچیدہ ہورہا ہے اور ہم اپنے تشخص کی اس بحث سے نکل نہیں پا رہے جو مسلسل مذہب اور ریاست اور نظم ریاست کے ساتھ تعلق کے گرد گھوم رہی ہے اورعوام کے ذہنون کے ساتھ ساتھ  ہیت مقتدرہ کی بھول بھلیوں میں بھی بھٹک رہی ہے۔  ایک خوش کن پہلو البتہ یہ ہے کہ اب بات کھل کر کہی جانے لگی ہے اور اس قضیے کی پیچیدگی اور لاحاصلی کا اندازہ کیا جانے لگا ہے۔ ایک بڑا سوال جو ڈاکٹر جعفر احمد نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پرتحریک پاکستان چلائی گئی، قیام پاکستان، یعنی مقصد کے حصول کے بعد نئی ریاست میں قومی یکجہتی کا ذریعہ ہے یا مزید تقسیم اور رنجشوں کی وجہ؟

دوقومی نظریے پر ایسے اصرار سے جس میں ایک ہی مذہبی شناخت سے ایک قومی شناخت بنائی جائے اور اس میں دیگر تمام شناختوں کو ضم کردینے کی ضرورت محسوس ہو، قومیت کے ساتھ جداگانیت کا سوال پیدا ہوتا ہے اوراصولی طور پر پاکستان میں موجود غیر مسلموں کے لیے بھی اتنی ہی بڑی دلیل ہے جتنی متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کے لیے تھی۔ یاد رہے متحدہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی تعداد قریب سترہ فیصد تھی، یعنی قریب اتنی ہی جتنی متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کی تعداد تھی۔

ایک مصنوعی طور پر یکساں قومیت کی تشکیل کی خواہش مزید منافرتوں کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان میں موجود مذہبی، لسانی، قومی اور ثقافتی تنوع کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ یہاں اس بدیہی تنوع کے مختلف رنگوں کا خوش دلی سے اثبات نہیں کیا گیا۔ اس تنوع کو اپنے وجود کی خوبصورتی اور طاقت سمجھتے ہوئے اس کے تمام جائز حقوق سمیت قبول کیے بغیر کسی ریاستی وحدت اور کسی قومی اکائی کا تصور بھی محال ہے۔ حقیقتوں سے کب تک لڑا جاسکے گا اس میں جلد یا بدیر اپنی ہی جان کا زیاں ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ بات ان الفاظ میں نہیں کہی لیکن مجھے اس کا یہی مفہوم سمجھ میں آیا اور یہ بات سمجھتے ہوئے میرا سر بھی اثبات میں ہلتا رہا۔ اور دیگر کئی مقررین نے بھی خاص طور پر جن کا تعلق بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خواہ سے ہے، یہی بات مختلف انداز میں کہی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ احساس کتنی گہرائی تک اور کتنی سطحوں پر موجود ہے۔ سننے والے نہیں سنیں گے تو ایک دن ان کے سر میں چیخیں گونجیں گی۔

ایک بہت دلچسپ مکالمہ، جسے مکالمے سے زیادہ مذاکرہ بلکہ مناظرہ کہنا چاہیے وہ ہوا جس میں ایک طرف لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے پاکستان کو سیکیورٹی سٹیٹ ماننے سے انکار کرتے ہوئے سیاستدانوں کی نااہلی، بدنیتی، کرپشن، مفاد پرستی، لوٹ کھسوٹ کا ذکر کیا تو دوسری طرف فرحت اللہ بابر اور ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے فوج کی مداخلت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی من مانیوں کا شکوہ کیا اور سویلین اور سیاسی بالادستی کو ریاست اور قوم کی کامیابی کی شرط قرار دیا۔ جنرل صاحب نے بھی اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا اور سنہرے کالج دور کے ان مذاکروں کی یاد تازہ کردی جہاں حزب اختلاف کو تمام عقلی، نقلی، مفاداتی اور جذباتی دلائل سے حاضرین کی نظروں سے بالکل اوجھل کردینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو اندازہ ہوا ہوگا کہ تلوار کے دھنی گفتار کے غازی بن کر بھی کسی سے کم نہیں ہوتے۔ آپ نے جس درد مندی سے ڈی ایچ اے کی پاکستان کے لیے خدمات کو گنوایا اور ہماری بہادر فوج کے جذبہ شہادت اور بے لوث قربانیوں کو منوایا وہ اپنی مثال آپ تھا۔

جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ عام طور پر فوج کے جوان جو ملک کی سلامتی اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت شہادت کے لیے تیار ہوتے ہیں وہ اٹھائیس، تیس سال کی عمر میں ریٹائر ہوجاتے ہیں اور پھر ان کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا۔ تو وہ لوگ جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سروس کرتے ہیں کیا ان کی ویلفئیر، تعلیم، صحت اور رہائش وغیرہ ان کا حق نہیں۔ فوج کے ریٹائرڈ جوانوں اور افسروں کی بہبود کے لیے ان کے جذبے اور درد دل کو دیکھ کر یقیناً سب کے دل پسیج جانے چاہیئیں۔

ایسے ہی ایک خیال یہ بھی ذہن میں آیا کہ تقریباً بیس کروڑ سے زیادہ کی آبادی میں پانچ چھ لاکھ حاضرسروس فوج اور پھر لاکھوں ریٹارڈ جوانوں اور افسروں کی بہبود اور بہتر مستقبل کے لیے ہمارے مقتدر حلقوں میں جو فکرمندی اور دردمندی پائی جاتی ہے اور ان کے لیے قیمقی وسائل مختص کیے جاتے ہیں اور ان کی بہبود کے اداروں کو جتنے پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جاتا ہے وہ بہرحال قابل تحسین ہے۔ کاش باقی کے پونے بیس کروڑ عوام کی بہبود کے لیے بھی اسی فکر مندی کا مظاہرہ ہوسکے جن میں سے تریسٹھ فیصد تعداد تیس سال سے کم عمر کے جوانوں کی ہے اور ان کے پاس بھی کرنے کو کوئی کام نہیں ہے۔ جاں نثاری اور حب الوطنی میں وہ بھی کم نہیں، بس یہ کہ وہ کسی وجہ سے فوج میں نہیں جاسکے۔

سچ پوچھیں تو اس مسئلے کے ڈانڈے بھی ریاستی تشخص اور ہیئت مقتدرہ کی تشکیل کے سوال کے ساتھ جڑے ہیں جس کا تصور مختلف اداروں کے ہاں مختلف ہے اور طاقت کا مرکزہ اس دائرے میں آکر ٹھہر گیا ہے جس کا خمیر بیرونی خطرے کے احساس اور اندرونی تنوع کے خوف سے اٹھا ہے اور جس نے اس خوف اور خطرے کو ہی ہمارے ہر فیصلے کی بنیاد میں رکھ دیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...