پاکستان میں مکالمے کی ثقافت

225

پاکستان  میں مکالمے کی اہمیت کا احساس   تو ہمیشہ سے ہےاور ان دنوں اس کے رواج   میں اضافہ بھی ہوا ہے،  لیکن  مکالمے کی ثقافت  موجود نہ ہونے کی وجہ سے  مکالمہ  متوقع کردار ادا  نہیں کر پارہا۔ مکالمہ بہت تیزی سے مگالمہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔گالم گلوچ ہی نہیں ہاتھا پائی  بھی مکالمے میں شامل سمجھی جا نے لگی ہے۔مکالمے کا یہ انداز اب گلی محلے  سے آگے  اسمبلی کے باوقار  ایوانوں، بلدیہ کی مجلسوں ، سرکاری  اجلاسوں  اور ابلاغ عامہ کے اداروں میں رواج پاچکا  ہے۔   ٹیلی ویژن  پر ٹاک شو میں  یہ اہتمام  شروع ہوا کہ  میڈیا  سرکاری بیانات پر اکتفا نہ کرے اور سرکاری موقف کے بارے میں دوسری آرا خصوصاً حزب اختلاف اور دوسرے لوگوں کے موقف بھی سامنے آئیں تو پاکستان کے عوام میں اس جمہوری اقدام کو بہت سراہا گیا۔ اور یہ ٹاک شو اتنے مقبو ل ہوے کہ ڈرامے اور دوسرے پروگرام ماند پڑ گئے۔  اب یہ افسوسناک احساس جاگ رہا ہے  کہ مکالمے کا یہ روپ  بھی  پاکستانی فلموں  کے ڈائیلاگ  کی طرح   تفریح کا سامان ہے۔دوطرفہ گفتگو کی بجائے یک طرفہ اظہار بیان کا  جوش و جذبہ  بالعموم  اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ چاروں، پانچوں  فریق  بیک وقت بولنے لگتے ہیں  ۔ بسا اوقات اینکر  بھی  اتنی ہی انچی آواز میں اور اتنی ہی دیر بولتا رہتا ہے۔گفتگو کا یہ انداز ثابت کرتا ہے کہ  مکالمہ کا مقصد   رائے کا ابلاغ نہیں، صرف اظہار کی آزادی ہے۔ہمیں میڈیا  سے گلہ نہیں ، ان کا تو کام ہی تفریح مہیا کرنا  ہے ۔ ہم اس  تفریح کے سامان  کے لئے  ان کے احسان مند ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ یہ انداز  ان مقتدر ایوانوں نے بھی اپنا لیا ہے   جن  سے عوام سنجیدگی  کی توقع رکھتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟  ایک وجہ تو   اردو  لغت  سے معلوم ہوتی ہے کہ   مکالمہ کا  رشتہ ڈرامے یا فلم کے  ڈائیلاگ سے جڑا ہے۔ چنانچہ لغوی طور پر اس سے مراد دو یا زیادہ اشخاص کے درمیان گفتگو یا بات چیت ہے۔ اردو لغت یہ بھی بتاتی ہے کہ مکالمہ عربی زبان کا لفظ ہے  اور اس کا تعلق کلام سے ہے۔   اہل علم جانتے ہیں کہ  اس طرح بات علم الکلام   اور مناظرے اور جدلیات تک چلی جاتی ہے۔ مختصر وقت  تفصیل میں  جانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ بس اتنا کہا جا سکتا ہے   کہ مکالمہ انگریزی لفظ ڈائیلاگ کا ترجمہ ہے۔ اسی  لئے  ہم  بولتے مکالمہ  ہیں لیکن مراد ڈائیلاگ ہوتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ مکالمہ کی علمی ثقافت اور ہے اور  ڈائیلاگ کی  اور۔جدید عربی زبان میں ڈائیلاگ کا ترجمہ مکالمہ کی بجائے  حوار کیا جاتا ہے۔ علم الکلام  سے  تعلق نہ ہونے کی وجہ سے حوار  ڈائیلاگ  کے انداز اختیار  کر سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مکالمے کو کامیاب بنانے کے لئے مکالمے کی جدید ثقافت کو رواج دیا جائے۔ مناظرے کی ثقافت میں مکالمے کا جدید انداز پنپ نہیں سکتا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز  کا  یہ پروگرام قابل صد تحسین ہے کہ یوں   مکالمے   کی جدید ثقافت متعارف   ہوگی۔ جدید مفہوم میں مکالمہ  نہ تو دو یا زادہ اشخاص کے درمیان گفتگو کا نام ہے،  نہ ہی اس کا تعلق ڈرامے یا فلم کے ڈائیلاگ سے  ہے، بلکہ یہ ڈائیلاگ کے اصل یونانی معنی کا احیا ہے۔ ڈائیلاگ دراصل دو الفاظ ڈایا اور لوگوس سے مل کر بنا ہے۔ لوگوس سے مراد لفظ اور معنی دونوں ہیں۔ جو عربی زبان کی اصطلاح کلمہ یا کلام  یعنی با معنی گفتگو  سے قریب ہے۔   ڈایا کے معنی دو  نہیں بلکہ واسطہ یا ذریعہ ہے۔چنانچہ  ڈائیلاگ سے مراد لفظ کے ذریعے معنی یا مفہوم   تک پہنچنا۔ ہےیہاں مفہوم و معنی کا ابلاغ  ایک یا دو نہیں ، کئی لکہ لوگ مل جل کر کرتے ہیں۔ جدید دور میں ڈائیلاگ کے اس مفہوم اور اس ثقافت کی ضرورت دو وجوہ سے پڑی۔ ایک تو  انسانی رابطے بڑھنے  سے تنوع اور اختلاف  کی اہمیت سامنے آئی۔اکثر مسائل زبان اور ثقافت میں اختلاف اور تنوع  کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔  اس کے لئے انسانوں کے درمیان ہر سطح پر مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مسائل کو باہمی طورپر سمجھیں اور مل جل کر ان کا حل تلاش کرسکیں۔  دوسری وجہ ہے  اس اختلاف اور تنوع کو نظر انداز کرنے یا ان کو جبری طورپر ختم کرکے ایک رائے مسلط کرنے سے جنگ و جدل کی ثقافت نے رواج پایا۔ یہ جنگیں  ہتھیاروں کی ایجاد اور استعمال  سے اب اتنی مہلک ہو گئی ہیں کہ اب جنگ  صرف قتل و غارت اور تباہی کا نام ہے، یہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔ گزژتہ دو صدیوں میں اسلحہ برداری، شدت پسندی اور دہشت گردی  نے دنیا کو  جو نقصان پہنچایا وہ صرف مادی اور معاشی  نہیں تھا، اس نے تمام معاشروں  میں شدید  منافرت  اورتناو  کو رواج دیا ہے۔ معاشرے ہی نہیں ہر شخص  ایک چنگاری بن کر رہ گیا ہے جو کسی بھی وقت  کسی بھی وجہ سے شعلہ بن کر  بھڑک  سکتا ہے۔ اس تناو کو قوت اور اقتدار کے اتکبرانہ جبر  بھی ہوا دے سکتا ہے  اور  مکالمے کا  جارحانہ  انداز بھی  غلط رخ پر  ڈال سکتا ہے

آج نہ ہی کوئی ریاست اس قابل ہے کہ وہ اپنے طور پر اس تنوع اور اختلاف کو اتفاق رائے میں بدل سکے  اور نہ ہی مناظرانہ ثقافت  اتفاق کی قائل ہے۔ اس کے لئے مکالمے کی جدید ثقافت     کو رواج دینا ضروری ہے   تاکہ ریاست کے شہری ایک دوسرے سے رابطے میں  رہتے ہوے، باہمی مسائل پر گفتگو کر سکیں، معلومات کا تبادلہ کر سکیں،   دستیاب معلومات کا تجزیہ کرسکیں اور صحیح معلومات کی بنیاد پر   مل جل کر ایسے متفقہ فیصلے کر سکیں جو ان کے اپنے ہوں اور ان پر عمل درآمد میں انہی کی بھلائی ہو۔ ۔ اس کے  لئے مکالمے کی ثقافت درکار ہے۔

مکالمے کی ثقافت در حقیقت لفظوں کے وسیلے سے  مختلف معانی اور مفاہیم  کا تبادلہ ہے۔ مکالمے کے عمل میں معنی کی متعدد تہیں کھلتی ہیں۔اپنائیت، خلوص، کشادگی، تحمل اور برداشت کے ماحول میں مکالمہ اور تعامل ساتھ چلتےہیں ، مکالمہ  ایک مکمل ابلاغی عمل بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کا آغاز مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن یہ ایک ایسا تخلیقی عمل ہے جس کی ضمانت  شرکت اور تعاون سے بہم پہنچتی ہے اور جو مکالمے میں شریک اشخاص کو باہمی تضامن کے ایسے بندھن میں جوڑتی ہے  جو معانی کو متبادر بنا دیتا ہے۔ یہ مفہوم اور معانی الفاظ سے نہیں عمل   اور روز مرہ زندگی سے جڑے ہونے کی وجہ سے فوراً سمجھ میں آتے ہیں۔

تمام دینی ثقافتوں کی طرح اسلامی ثقافت   بھی مکالمے کی ثقافت ہے۔ تمام ادیان  کا مقصد تبلیغ اور دعوت ہے  اور دعوت مکالمے کا نام ہے۔    اہل علم  کی مجلس میں  کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ۔ قرآن کریم   کا سلوب خطاب ہےکہیں تمام انسانوں سے یا ایھا الناس کہ کر مخاطب  ہے ، کہیں  یا ایھا الذین آمنوا  کہ کر اہل ایمان سے خطاب ہے، کہیں یا اہل الکتاب کہ کر دوسرے مذاہب کے پیرو کاروں  کو دعوت ہے۔۔ قرآن کریم  اہل کتاب کو مکالمے کی دعوت دیتا ہے کہ کلمہ مشترک پر بات کریں۔توحید اور حضرت ابرہیم علیہ السلام    پر سب کے اتفاق کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن ایک طویل   مکالمہ ہے جو تنزیل کی صورت میں تیئیس سال میں مکمل ہوا۔ دعوت نبوی کا طریق بھی مکالمہ یعنی گفتگو  تھا۔ ۔ سیرت النبی بھی مکالموں اور معاہدوں سے عبارت ہے۔مکی زندگی   تیرہ سالہ مکالموں کا دور ہے تو مدنی زندگی کے دس سال   مشرکین  مکہ کے مسلسل اور لگا تار م حملوں کے دفاع کے درمیان مکالموں اور معاہدوں میں گذرتے ہیں۔مخالف کی بدگوئی  پر ضبط اور تحمل سے کام لیتے ہیں۔ طائف کی گلیوں میں دعوت کے جواب میں استہزا اورپتھروں  کی بارش میں  خون آلود نبی رحمت کے ہاتھ اٹھتے ہیں تو دعا کے لئے  کہ یا  اللہ  یہ قوم میری بات سمجھ نہیں رہی ان کو ہدایت عطا فرما۔

قرآن کریم میں مکالمے کے  مختلف اسلوب میں  بات کرتا ہے۔کہیں سوالوں کے جواب کی صورت میں،  کہیں کسی غلطی کی اصلاح کی صورت میں، کہیں کسی واقعے کے بیان سے، کہیں مثال دے کر، کہیں دعا  کی شکل میں ۔دعا  وہ  انسان اور خدا کے درمیان    انتہائی قربت کا مکالمہ ہے ان مکالموں میں   دینی معاملات پر گفتگو بھی ہے اور روزمرہ زندگی کے مسائل پر بھی۔حتی کہ  جب حضرت اوس بن صامت اپنی بوڑھی بیوی  حضرت خولہ بنت  ثعلبہ کو  ظہار کے طریقے سے طلاق دیتے ہیں  تو وہ شکایت کرتی ہیں ۔یہ  عرب جاہلی رواج تھا کہ خاوند بیوی  کو ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دے کر اپنے پر حرام قرار دے کر طلاق دیتا۔ حضرت   خولہ کو شکایت تھی کہ     ان کے خاوند نے اتنی طویل رفاقت کے بعد طلاق دے کر ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب وہ کیا کریں۔ کہاں جائیں۔ وہ یہ شکایت لے کر نبی کریم کے پاس آئیں ۔ شکایت تکرار اور   جدال کی صورت اختیار کر گئی۔قرآن کریم  نے اس واقعے کو اور اس  جھگڑے کو جو حوار اور جدال  میں بدل گیا تھا تنزیل کا حصہ بنایا۔اس پوری  سورت کا نام المجادلہ رکھا گیا۔ اس سورت میں ظہار کے جاہلی طریقہ طلاق کی ممانعت کی گئی اور

جدال اور مجادلہ کی جاہلی ثقافت  میں اصلاح کرکے اسے مکالمے میں بدلا۔

قرآن کریم میں  میں   مجادلے کے اصول اور آداب بیان کئے گئے  ہیں۔ جدال کو احسن  اور بہتر بنانے کے لئے اسے مدلل اور موثر بنانے پر زور دیا۔حقوق انصاف کے  الئے  جھگڑا اور تکرار کرو  لیکن دلیل کے ساتھ۔جو بھی سنو  اس کی تحقیق کے بعد آگے پہنچاو۔ بات کرو علم کے ساتھ، گمان اور اندازے پر فیصلے نہ کرو۔دل کھول کر بات کہو لیکن  احترام کے ساتھ۔ تمسخر نہ اڑاو، نام نہ رکھو۔ نفرت، حقارت اور بگوئی سے بچو۔  باہم اعتماد اور تعاون کی  فضا میں ہی  وہ ثقافت تشکیل پاتی ہے جس میں مجادلہ  مکالمے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اگر بے مقصد بحث ہو تو شا ئستگی  سے نظر انداز کردو۔ اگر جدال پر اصرار کریں تو  یہ  کہ کر بات ختم کردو  کہ  اللہ بہتر جانتا ہے  کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ ایسے لوگ جو بغیر علم کے  بحث کرتے ہیں وہ اللہ کو پسند نہیں۔

قرآن کریم نے اہل کتاب کو مکالمے کی دعوت    دی تو  بات ان باتوں سے شروع کی  جن پر اتفاق تھا اور جن میں اختلاف تھا کھل کر بیان کیں ۔ اسلام میں قانون کا مقصد دین ، جان، مال، عقل اور نسل کا تحفظ ہیں۔ یہ وہ بنیادی  ضروریات ہیں جن پر تمام انسانی معاشرے متفق ہیں۔ جن  کی حفاظت تمام انسانی معاشروں میں مطلوب ہے۔۔

آج کے مکالمے میں ریاست  اور معاشرہ کے  جن مختلف مسائل پر مکالمے کا آغاز کیا جا رہاہےان کا تعلق بھی ایسے ہی بنیادی مسائل سے ہے۔  قومیت، شناخت،  سلامتی، جمہوریت اور  ہمسایوں سے تعلقات    ہر قوم کے مسائل ہیں۔ بنیادی حقوق کی حفاظت  کسی قومی ریاست  کے استحکام کی  ضمانت ہوتے ہیں۔ان کو نظر انداز کرنے سے ریاست کمزور پڑ جاتی ہے۔ان مسائل پر کھلے اور بے خوف لیکن پر اعتماد   مکالمے  کی ضرورت ہے۔آج کی گلوبل دنیا میں  قومی ریاست    پہلے کی طرح خود مختار نہیں اور نہ ہی دنیا  کی دوسری ریاستوں سے الگ تھلگ۔ اس کی خود انحصاری باہمی تعاون پر منحصر ہے۔آج کی ریاست قومی ریاست سے پہلے ایک انتظامی ادارہ ہے۔ جس میں  افراد کے بنیادی حقوق، ان کے جان و مال کی حفاظت کے قانون کی پاسداری اور حکمرانی، عدل و انصاف، تعلیم اور صحت کے مسائل کو اولیت ہے۔ آج کی ریاست پہلے انتظامی ہے اور بعد میں نظریاتی۔نظریاتی مسائل کو اولیت دینے سے حکومت اور ریاست  اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی طرف توجہ نہیں دے پاتی۔ بنیادی حقوق سے محرومی پر لوگوں کا ریاست پر اعتماد   نہیں رہتا تو ریاست کمزور پڑ جاتی ہے۔

ان مسائل پر مکالمے کا آغاز کرنے کے لئے پاک انسٹیٹیوٹ آف  پیس  سٹڈیز  کو  مبارک باد پیش کرتا ہوں۔امید ہے  اس اقدام سے  پاکستان  میں مکالمے کی ثقافت  کو فروغ ملے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...