سانحہ ساہیوال: کیا با اختیار اداروں کا احتساب ممکن ہے؟

200

19 جنوری 2019 کی سہ پہر جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی میں موجود افراد پرسی ٹی ڈی اہلکاروں کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کردی  گئی جس کے نتیجے میں میاں، بیوی، ان کی ایک بیٹی اور  دوست جو کہ گاڑی چلارہا تھا،جاں بحق ہوگئے جبکہ  بچ جانے والے تین بچے  شدید زخمی بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد حکومتی نمائندگان اور پولیس افسران کی جانب سے متضاد اور مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آئے جس میں گاڑی کے ڈرائیور ذیشان کو دہشت گرد قرار دیا گیا  جو اطلاعات کے مطابق ڈولفن فورس کے اہلکار احتشام جاوید  کا بڑا بھائی تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے بھی اعلیٰ پولیس افسر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے بیان دیا کہ ذیشان کے دہشت گردوں سے تعلقات کے شواہد ملے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اس افسوسناک واقعے میں  جاں بحق ہونے والے خاندان سے متعلق صدر، وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے افسوس کا اظہار کیا اور اس واقعے کو کھلا ظلم قرار دیا جبکہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس واقعے کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو قرار دیا۔

خبر کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیرِ اعلیٰ کو ابتدائی تفتیشی رپورٹ پیش کردی ہے جس میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے جس کی بنا پر پانچ اعلیٰ پولیس افسران کو معطل کیا گیا ہے جبکہ  پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے ۔مزید وزیرِ قانون راجہ بشارت  نے مقتول ڈرائیور ذیشان کے حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے وقت بھی مانگا ہے۔اس افسوسنا ک واقعے پر جہاں عوام میں حکومتی  و انتظامی اداروں کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے وہاں اس واقعے نے انسداد دہشت گردی فورس  اور دیگر حساس اور سکیورٹی اداروں کی بد انتظامی سے متعلق  کئی ایک سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔

اول تو یہ کہ اگر ذیشان اس طرح کی کسی سرگرمی میں ملوث تھا تو اس سے پہلے اس کے اہلِ خانہ یا خود اسے کسی طرح کا  کوئی قانونی نوٹس بھیجا گیا؟کیا اس کے خلاف کسی مقدمے کا اندراج  عمل میں آیا  یا اس کے خلاف ضابطے کی کسی کارروائی کا آغاز کیا گیا؟ ایک ایسا شخص جو غیر قانونی، بلکہ دہشت گردی جیسی کارروائیوں سے کسی طور منسلک رہا ہو، جیسا کہ پولیس افسران اور وزیرِ قانون کا کہنا ہے ، اس کے اہلِ خانہ میں سے کسی فرد کا کسی سکیورٹی ادارے کا ملازم ہونا  عوام میں عدمِ تحفظ کا باعث نہیں بنتا؟ اور کیا اس واقعے میں معصوم افراد کا بچوں سمیت نشا نہ بننا سی ٹی ڈی جیسے انتہائی معتبر ادارے کی اہلیت پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟اور کیا ایسے واقعات غیر ریاستی عناصر کو بدامنی کا موقع فراہم کرنے کا موجب نہیں بنتے؟

23جنوری کوسپریم کورٹ میں خدیجہ صدیقی کیس کی سماعت کے دوارن سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’’ جرم جرم ہوتا ہے، ہائی پروفائل یا لو پروفائل نہیں‘‘ تو کیا اس ضابطے کا اطلاق با اختیار اور مقتدر اداروں پر بھی ہوگا؟ اور اس سے بھی اہم سوال جو پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامررانا نے اٹھایا ہے کہ ان اداروں کو دیے گئے لا محدود اختیارات کے بعد کیا ان کے لیے احتساب کا کوئی  موثر نظام دستیاب ہے؟

قارئین تجزیات اس بارے اپنی آرا کا اظہار اسی صفحے پر نیچے جا کر کر سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...