سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

235

دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے شہرت رکھنے والا کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پنجاب کیا کبھی ساہیوال جیسے واقعات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن سکتا تھا؟

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جانے والے اس ادارے کے قیام اور موجودہ شکل تک پہنچنے میں اس کے ارتقا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے امکانات ہمیشہ سے موجود تھے۔

ایسا کیوں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ساہیوال کے واقعے کے پس منظر میں سی ٹی ڈی کے قیام کی وجوہات، اس کے پاس موجود اختیارات، اس کے کام کرنے اور خصوصاً انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے طریقہ کار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

سی ٹی ڈی ہے کیا؟

ابتدا میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پولیس کا کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ تھا۔ سنہ 2007 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہرسے داخلی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر فوجی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

یہ ایسا ادارہ تھا جو انٹیلی جنس جمع کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے، مجرموں کو سزا دلوانے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اس کے لیے سی آئی ڈی کا انتخاب کیا گیا۔

صوبائی سطح پر اس کی موجودگی پہلے سے تھی۔ سنہ 2010 میں سی آئی ڈی کا نام بدل کر سی ٹی ڈی کر دیا گیا جس کا دائرہ کار صوبائی سطح تک بڑھایا گیا۔ سنہ 2015 میں سی ٹی ڈی کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن قائم کیے گئے جہاں دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات درج کیے جاتے اور ان کی تفتیش کی جاتی ہے۔

 

سی ٹی ڈی کام کیسے کرتا ہے؟

سی ٹی ڈی کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نظام موجود ہے۔ اس کی روشنی میں ادارہ اپنی کارروائیاں ترتیب دیتا ہے۔ اس کے دفاتر صوبوں کے مراکز کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی قائم ہیں۔

چند برس قبل سی ٹی ڈی کے اندر ایک کاؤنٹر ٹیررزم فورس بھی قائم کی گئی۔ سی ٹی ڈی پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق پڑھے لکھے 1200 جوانوں پر مشتمل اس فورس کو جدید تقاضوں کے عین مطابق پاک فوج اور دوست ممالک سے تربیت دلوائی گئی ہے۔

تربیت کے بعد انھیں پنجاب بھر میں تعینات کیا گیا، جہاں وہ اپنے مقررہ کام سرانجام دیتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار محمد عامر رانا کے خیال میں یہ فورس ٹرینڈ ٹو کِل ہوتی ہے۔ یعنی وہ دہشت گردوں کے خلاف “جان سے مارنے” کی غرض سے کارروائی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی دو رائے نہیں۔ ان کو جو احکامات ملیں گے انھیں ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کے آپریشنز کی منصوبہ بندی میں پورا تھِنک ٹینک شامل ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک افسر نے فورس اکٹھی کی اور آپریشن کرنے چل پڑے۔ اس میں دیگر اداروں کی رائے بھی شامل ہوتی ہے۔

انٹیلی جنس کیسے اکٹھی کی جاتی ہے؟

سی آئی ڈی کے زمانے سے ہی ادارے کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کا موثر نظام موجود ہے۔ محمد عامر رانا کے مطابق سی ٹی ڈی معلومات اکٹھی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف رد الفساد جیسے آپریشن کیے گئے۔ اس دوران مشترکہ آپریشن بھی کیے جاتے رہے۔ اس کے بعد پھر سی ٹی ڈی پنجاب پر باقی اداروں کا اثر و رسوخ آنا شروع ہوا۔

خیال رہے کہ ساہیوال کے واقعے کے فوراً بعد بھی جاری کردہ بیان میں سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا تھا کہ مذکورہ کارروائی جس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اس میں پاکستان کے بنیادی حساس ادارے آئی ایسں آئی کی اِن پُٹ یا رائے بھی شامل تھی۔

کیا ساہیوال میں کچھ مختلف ہوا؟

ساہیوال کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا۔ سی ٹی ڈی کے مؤقف کے مطابق یہ آپریشن ساہیوال میں مارے جانے والے چار افراد میں شامل ذیشان نامی شخص کے خلاف کیا گیا۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیشان کے خلاف انٹیلی جنس کی نوعیت ایسی تھی کہ آپریشن کرنے والی ٹیم کو گولی چلانے کے احکامات دیے گئے تھے؟

اور کیا یہ انٹیلی جنس سی ٹی ڈی پنجاب کی اپنی تھی یا وہ بیرونی معلومات پر محض عمل درآمد کر رہے تھے؟

تجزیہ نگار محمد عامر رانا  کا خیال ہے کہ اس واقعے کو الگ تھلگ نہیں دیکھنا چاہیے۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق انھوں نے حالیہ دنوں میں گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں ایسے ہی آپریشن کیے تھے۔ ساہیوال آپریشن بھی اس کی ایک کڑی تھا۔

یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ ایک ادارہ جاتی فیصلہ تھا کہ جہاں بھی کوئی مشتبہ افراد ہیں انھیں بےاثر کیا جائے؟ پھر یہ کہ ایسا فیصلہ کس سطح پر اور کس خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا؟

دہشت گردی کے خلاف سی ٹی ڈی پنجاب کا مقابلہ کس سے رہا؟

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجزیہ کار، پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو مانتے ہیں۔ اس میں سی ٹی ڈی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ تاہم صوبہ پنجاب ہی میں سی ٹی ڈی کی موجودگی میں دہشت گردوں کی جانب سے بڑی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

ان میں لاہور میں مناواں پولیس اکیڈمی پر حملہ، ایف آئی اے کی عمارت پر دھماکہ، ماڈل ٹاؤن، داتا دربار، مال روڈ اور گڑھی شاہو میں بم دھماکوں جیسے واقعات شامل ہیں۔

محمد عامر رانا  کا ادارہ پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز ایسے واقعات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سی ٹی ڈی سندھ نے اس جنگ میں نسبتاً زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کالعدم تنظیم داعش کے انصارالشریعہ جیسے نیٹ ورک ختم کیے ہیں۔

سی ٹی ڈی پنجاب کو بڑا خطرہ تین کالعدم گروہوں سے تھا۔ ان میں ایک پنجابی طالبان کے ٹوٹے ہوئے گروپ تھے۔ مگر ان میں سے بیشتر کو قبائلی علاقوں یا پھر افغانستان میں بےاثر بنایا گیا ہے۔تاہم پنجاب کو جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیم کا سامنا رہا جسے ختم کرنے میں سی ٹی ڈی پنجاب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح تحریکِ طالبان پاکستان کے چند سلیپنگ سیل ختم کرنے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ جہاں تک داعش یا القاعدہ جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کی بات ہے تو اس کا کریڈٹ تمام اداروں کو مشترکہ طور پر جاتا ہے۔

 

ساہیوال جیسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟

 

حکومتِ پنجاب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ساہیوال کے واقعے میں گولی چلانے والے پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں قتل کے مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے۔

تمام تر توجیہات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا گولی چلانا ہی آخری راستہ تھا؟ کسی کے خلاف دہشت گردی کے خدشات تھے تو اسے گرفتار کر کے صفائی کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟

محمد عامر رانا  کا خیال ہے کہ ایسے واقعات کے بار بار ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی سمیت داخلی سلامتی کے اداروں کو بےپناہ اختیارات تو دیے گئے ہیں تاہم ان کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔

اگر ایسے واقعات ہوتے رہے تو ان کے نتائج الٹ بھی نکل سکتے ہیں۔ آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ایسے واقعات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

محمد عامر رانا  کا کہنا ہے کہ ساہیوال کے واقعے میں حکومت کے پاس ایسا نظام بنانے کا ایک اور موقع موجود ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...