اٹھتا،سنبھلتاشمالی وزیرستان

202

یوں تو خیبر پختونخواہ کے تمام علاقے خوبصورت ہیں ۔ خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ جنوبی علاقے بھی خوبصورتی میں کسی سے کم نہیں مگر علاقائی سیاست کی وجہ سے یہ علاقے بنیادی سہولیات سے جہاں محروم رہے ہیں وہیں یہ  دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے باعث  تباہی کا شکار بھی بنے۔ ان علاقوں میں بعض علاقے ایسے ہیں جنکا اگر بیرونی دنیا میں نام لیا جائے تو وحشت اور خوف کے سائے چھا جاتے ہیں اور ایک نہ تھمنے والے سوالات ذہن کے نہاں خانوں سے نکلنے کو بے چین  ہوتے ہیں۔

بنوں کے مغرب میں بنجر زمین ہے تو کہیں سبزہ اور کہیں پر پہاڑی سلسلے ہیں ۔بنوں بازار سے نکلتے ہی تھوڑے فاصلے پرسڑک کے کنارے لگے بل بورڈ کے اوپر روس کے دارلخلافہ ماسکو، تاشقند، خوست،کابل اور افغانستان سرحد پر قائم غلام خان زیروپوائنٹ کا فاصلہ درج ہے۔ آگے جاکردائیں طرف ایک وسیع علاقے پر پھیلا ہوا بکاخیل کیمپ ہے جوجون 2014 میں شروع ہونے والے ضرب عضب آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے لوگوں کیلئے قائم کیا گیا تھا۔ جس میں آج بھی شمالی وزیرستان کے لگ بھگ پندرہ ہزار خاندان مقیم ہیں  اور پاکستان آرمی کے جوان  ان خاندانوں کو سیکورٹی فراہم کر رہے ہیں۔ سیدگئی چیک پوسٹ سے شمالی وزیرستان کی حدود کا آغاز ہوتا ہے ،جہاں پاک فوج اور ایف سی کے اہلکار تلاشی پر مامور ہیں۔ اس سیکورٹی چیک پوسٹ میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والوں کے لیے دو کھڑکیاں جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور غیر مقامی باشندوں کیلئے ایک کھڑکی بنائی گئی ہے۔ غیر مقامی باشندوں کی کھڑکی پر بغیر وردی کے اہلکار ہمارے انداراج سے انکار کرکے انتظار کا کہہ رہے تھے جبکہ ایک ایف سی اہلکار وردی میں ملبوس کھانا کھا نے میں مصروف تھا۔ ہم ایف سی اہلکار کا انتظار کر رہے تھے کہ اسی اثناء میں کسی سرکاری ادارے کیلئے سامان رسد لے جانے والے ڈرائیور نے آکربغیر وردی کے اہلکار کو اندارج کرنے کا کہا جس پر کھانے میں مصروف سیکورٹی اہلکار نے انکو ایسی گالیاں دیں جن کا ذکر بھی یہاں ممکن نہیں۔ اندراج ہونے کے بعد ایک چھوٹی سی پرچی تھمادی گئی جبکہ گاڑی کا اندارج بھی ایک علیحدہ پرچی پر کر دیا گیا۔ تھوڑے سے فاصلے پر ایک اور چیک پوسٹ پر دوبارہ گاڑی میں بیٹھے تمام افراد کی دوبارہ شناخت کی گئی اور اندراج والی پرچی کواپنے قبضے میں لیکر آگے جانے کی اجازت دیدی گئی ۔ یو ں ہم شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے طرف نکل پڑے جو کئی سال تک لا قانونیت، دہشتگردی اور بدامنی کا شکار رہا تھا۔

راستے میں جگہ جگہ پر چیک پوسٹیں قائم ہیں اورہر وقت  پاک آرمی کی گاڑیاں گھومتی نظر آتی ہیں۔ البتہ چیک پوسٹوں پر چیک سسٹم میں کافی نرمی کر دی گئی ہے۔ کچھوڑی چیک پوسٹ کے چاروں اطراف سیکورٹی کے اہلکار چوکس کھڑے تھے جبکہ چند سال قبل خودکش حملوں کی زد میں آنے والی چوکیوں کا ملبہ ابھی اُسی طرح پڑا تھا۔ کچھوڑی چیک پوسٹ کے ساتھ ہی واقع گورنمنٹ ڈگری کالج میر علی کی چار دیواری تو حال ہی میں تعمیر کی گئی ہے۔ وہ انتہائی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ تھوڑے سے فاصلے پر میرعلی قصبے کی حدود شروع ہو جاتی ہے۔ میر علی کے باہر ڈرائیور وں کے ہوٹلوں پر افغانستان سے سامان لانے اور لیجانے والے ٹرک کھڑے تھے۔ دوپہرکو میرعلی بازار پہنچے جہاں پر دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔

میر علی کی حدود میں داخل ہوکر فوج کے زیر انتظام تعمیر کی گئی مارکیٹ انتہائی نمایاں تھی جبکہ اس کے ساتھ ہی مقامی قبائلیوں کے حال ہی میں تعمیر کردہ مارکیٹس اور دکانیں بھی تھیں۔مارکیٹیں کھلی ہوئیں تھی اور لوگوں کا کافی رش دکھائی دے رہا تھا۔ میر علی شہر کی حدود میں فوج کی جانب سے حال ہی میں تعمیر کردہ گلڈن آرو، آرمی پبلک سکول کی نہایت خوبصورت عمارت تھی جس پر پاک فو ج کے جوان سیکورٹی کے فرائض انجا م دے رہے تھے۔
تپی بازار سے آگے مین روڈ کے اوپر اُس گھر کا ملبہ بھی اسی طرح پڑا تھا جس گھر میں تحریک طالبان پاکستان کے  اہم رہنما اور کامرہ ائیربیس اور بنوں جیل کا ماسڑمائنڈ رہ رہا تھا جس پر جنوری 2014 میں ڈرون حملہ ہوا تھا مگر وہ  خود  بچ گئے تھے لیکن اس کی بیوی اور بچے اس میں ہلا ک ہوگئے تھے۔

میر علی سے آگے سب سے اہم مقام خدی گاؤں تھا۔ اس گاؤں کے باہر سڑک پر پولیس آفیسر طاہر خان داوڑ کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار ہے جس پر طاہر خان فخر پاکستان، فخروزیرستان درج تھا اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے طرف سے شہید طاہر خان کو خراج تحسین ان الفاظ میں پیش کیاگیا تھا:

“ایس پی طاہر خان داوڑ شہیدایک نڈراور فرض شناس آفیسر تھے جن سے پاکستان محروم ہو ا ہے۔اُن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ فرض شناسی اور بہادری میں وہ اپنی مثال آپ تھے، طاہر خان داوڑ کی شہادت سے محکمہ پولیس ایک ذمہ دار آفیسر سے محروم ہوا ہے۔”

یہاں  کھڑے ہوکر ہم نے ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی اور آگے نکل پڑے۔ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر انتہائی خؤبصورت مسجد تعمیر کی گئی ہے، جسے دیکھ کر یورپ اور عرب کی مساجد یاد آتی ہیں۔ یہاں سے آگے جاکر چشمہ گاؤں تھاجس کو نہ صرف شمالی وزیرستان بلکہ ملک بھر سے آنے والوں کیلئے قابل دید بنایا گیا ہے۔ یہاں پر ایک فٹ بال گراونڈ، سیاحتی مرکز، پارک، شاپنگ مال اور مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ چشمہ فٹ بال گراونڈ پر 16 ٹیموں کے درمیان ٹورنا منٹ کا افتتاحی میچ بنوں اورشمالی وزیرستان کے ٹیموں کے درمیان کھیلا جا رہاتھا۔ اس میچ میں میر علی اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما اور فوج کے مقامی عہدیدار مہمانوں کی حیثیت سے شامل تھے۔ یہاں پر ہم نے کچھ لمحوں کیلئے میچ دیکھااور لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن میرعلی کی طرح یہاں بھی لوگ ڈرے ہوئے تھے اور بات کرنے سے کتراتے تھے۔ امن وامان، آپریشن کے بعد سامنے آنے والے مسائل پر کوئی بھی بات کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔

ایشیا چیک پوسٹ یہاں سے تقریباًایک کلومیڑ پر واقع ہے جس پر پہلا کار بم خودکش حملہ 2005 میں ہواتھا،جس میں وسط ایشائی ملک قازقستان کے سفارتکار کی چوری کی ہوئی موٹر کار استعمال ہوئی تھی اوریہ 2014 تک دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں رہی ۔ اب اس کی  تعمیر نو کی گئی ہے۔ یہ چوکی شمالی وزیرستان کے میران شاہ، رزمک اور میر علی کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے۔ اس سے ملحقہ تحصیل بویا میں اب بھی دہشت گردی اور تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ایشیاچیک پوسٹ سےآتے ہوئے  میران شاہ شہر کی حدود شروع ہوتی ہے۔ یہاں پر فوج نے آپریشن کے دوران 1341 دکانوں پر مشتمل ایک بڑے کمرشل ایریا کی تعمیر  کی ہے۔
میر علی اور میران شاہ بازار کو خطے میں تجارتی اور کاروباری مراکز کی حیثیت حاصل ہے تاہم 2006 سے لیکر جون 2014 تک عسکریت پسندی کے باعث ان دونوں قصبوں کی تجارت کو بھی کافی نقصان پہنچا تھا۔ پورے علاقے میں ریاستی عملداری برائے نام رہ گئی تھی اور لاقانونیت کا دور دورہ تھا۔ یہاں پر دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے علاوہ افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں نے بھی بعض تعلیمی اداروں اور مارکیٹس میں اپنے ٹھکانے اور عقوبت خانے قائم کر رکھے تھے۔ضرب عضب آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے میر علی اور میران شاہ بازار کو مکمل طور پر مسمارکردیا تھا۔

تاہم فوجی کارروائی کے دوران فوج کے زیرانتظام نہ صرف شمالی وزیرستان کے اہم قصبوں میران شاہ، میر علی، رزمک اور غلام خان کو آپس میں ملانے والی سڑکوں بلکہ اس علاقے کو بنوں اور جنوبی وزیرستان سے ملانی والی شاہراہوں کے دونوں جانب سیکورٹی فورسز کی چوکیوں کی تعمیر کی گئی بلکہ ان سیکورٹی املاک کی بھی از سرنو تعمیر کی گئی ہے جو عسکریت پسندوں نے خودکش اور بم حملوں میں زمین بوس کیے تھے۔  میران شاہ اور میر علی میں سینکڑوں دکانوں پر مشتمل دو منزلہ جدید طرز کی مارکیٹ بھی تعمیر کی گئ ہے۔ اگرچہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے مکمل ہونے پر میر علی اور میران شاہ میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا  شروع ہو گئی ہیں مگر سرکاری اہلکاروں اور انتظامی عہدیداروں کے رویوں کے باعث تاجر اور کاروباری حلقے ابھی تک پریشان دکھائی دیتے ہیں اورزیادہ تر کاروباری لوگوں نے ذاتی طو رپر سڑک کے کنارے جائیدادوں پر تعمیر کردہ مارکیٹ اور دکانوں میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو ترجیح دی ہے، جہاں پر کاروبای سرگرمیاں تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کی طرف سے تعمیر کردہ مارکیٹس میں تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھی اور زیادہ تر دوکانیں خالی پڑی تھی۔ مارکیٹ میں فوج کے ذیلی خفیہ اداروں کے اہلکار واکی ٹاکی سمیت کافی چوکس تھے اور ان کی موجودگی میں تمام دوکاندار اور عام لوگ انتہائی محتاط تھے ۔ وہ یہاں پر موجودہ مسائل اور مارکیٹ کی ملکیت کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مارکیٹ سے فاصلے پر میران شاہ کیمپ کا احاطہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کیمپ میں تمام تر سول اور فوجی عہدیداروں کے دفاتر قائم ہیں۔ اس کے بعد ہم پاک افغان گزرگاہ غلام خان تک گئے جو اس خطے کے کاروبار میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

شمالی وزیرستان  پاکستان کے شمال مغرب میں ان سات قبائلی اضلاع میں سے ایک ہے جو افغانستان کے ساتھ سرحد سے جڑے ہوئے ہیں ۔ جہاں پر ماضی میں واضح طور پر لاقانونیت رہی ہے اور وہاں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے علاوہ افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں نے بھی اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے تھے۔ جس کے خلاف پاک فوج نے اپنی کارروائیوں کا آغاز 2014 کے وسط میں کیا تھا۔ اگر ہم اعدادوشمار پردیکھیں تو دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لیکن دوسرے طرف ٹارگٹ کلنگ نہ صرف جاری ہے بلکہ مسلسل ہوتی جاری ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں شدت پسندملوث ہیں اور آب  بھی بسااوقات رات کو شدت پسند گھومتے نظر آتے ہیں۔ جس  وجہ سے لوگوں میں اب بھی یہ خوف ہے کہ کسی بھی وقت حالات خراب ہوسکتے ہیں ،لیکن پہلے سے جو حالات تھے ،ان میں کافی حد تک بہتری آئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں یہاں پہلے والے حالات نہیں رہیں گے، بلکہ یہ علاقہ امن اور سیاحت کا گہوراہ بنے گا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...