کیا پاکستان میں اب بھی جاگیرداری ہے؟

289

پاکستان کی نصابی کتب اورمیڈیامیں یہ پروپیگنڈہ عام ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ پاکستان میں جمہوری پسماندگی ہی نہیں بلکہ مذہبی سوچ، جہالت، دقیانوسیت کی عمومیت سے لے کردہشت گردی اورجہادی سوچ کوجاگیرداری کی دین قراردیاجاتاہے۔ پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجہ، صنعتی  اور زرعی پسماندگی کی بڑی وجوہات میں بھی جاگیرداری کے غلبہ کومرکزی گرداناجاتاہے۔ کہاجاتاہے کہ مذہبی عناصراورجاگیردارایک دوسرے کی اتھارٹی کوسراہتے ہیں اورنتیجہ کے طورپرجاگیرداری کوفروغ دیتے ہیں۔ عام طورپریہ تسلیم کیاجاتاہے کہ پاکستان میں روشن خیال اورترقی پسند سوچ کوپروان چڑھانے میں جاگیردار حائل ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان سائنس اورٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گیاہے۔ ایک عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جاگیرداریت کے حاوی ہونے کی وجہ سے ملک اقوام عالم میں پیچھے رہ گیاہے اورترقی نہیں کرسکا۔ صنفی زیادتی کی وجہ پدرانہ سوچ سے جوڑی جاتی ہے جس کی جڑین جاگیرداری میں پیوستہ بتائی جاتی ہیں۔

پاکستان کے برعکس عالمی میڈیا ایک متضاد صورتحال کی طرف اشارہ کرتاہےجس میں بتایاجاتاہے کہ پاکستان میں زراعت اوراس کے ساتھ جاگیرداروں کی معاشی اورسیاسی طاقت زوال پذیرہے ۔ الجزیرہ انگریزی کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک دس سالہ بچے کے ہاتھ علاقہ کے جاگیردارنے محض اس وجہ سے کاٹے کہ اس نے جاگیردارکے کنویں میں تیرنے کی جرآت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بچے کے والدین دیگرمزارعوں کی طرح زمین کی کاشتکاری سے وابستہ تھے اورزمیندارکی دی ہوئی حصہ پررہائش پذیربھی تھے۔ مزارع کے بچے نے جاگیردارکے درمیان ثقافتی سرحد عبورکرنے کی جرات کی تواس جبرکاشکارہوا۔ اس سے چند دن قبل مزارع نے جاگیردارکے بیٹے سے بجلی کے بل پر بھی کچھ  بات کرنے کی ہمت کی تھی۔ جس کے جواب میں جاگیردارکے بیٹے نے مزارع کے  بچے کوسزادینے کافیصلہ کیاتھا۔ ممتازترقی پسند سیاستدان یوسف مستی خان کہتے ہیں  کہ کوئی قوم، جاگیرداریت کی موجودگی میں ترقی نہیں کرسکتا۔ جبکہ ایک مصنف شوکت قادرکے بقول جاگیرداری، انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

اکنامسٹ پاکستان میں کپاس کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہتاہے کہ پاکستان جاگیرداری سے متاثرہے مگرجاگیردارکی طاقت گھٹنی شروع ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاگیرداریت ایک ایسی بیماری ہے جو1947میں آزادی کے بعد سے جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے اور یہ  پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طورپردیکھی جاتی ہے۔ اگرچہ بھارت نے بڑی حدتک خود کوجاگیرداروں کے چنگل سے آزادکرالیا۔ پاکستان میں سپریم کورٹ نے 1990میں زرعی اصلاحات کوغیراسلامی کہہ کرکالعدم قراردے دیا۔ زمیندارنے اپنی معاشی طاقت کوسیاسی اتھارٹی میں تبدیل کردیااوراپنے مزارعین کومجبورکیاہے کہ وہ اسےووٹ دیں۔ 1970 میں جاگیردار، مرکزی پارلیمان کی 42فی صد نشستوں پرقابض تھے۔ رپورٹ کے مطابق جدیدجاگیردارخودمغربی تعلیمی اداروں سے فارغ ہیں مگران کی زمینوں پررہنے والے ان پڑھ ہیں۔  پھربھی جاگیرداروں کی طاقت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ قومی اسمبلی میں ان کی نمائندگی ایک تہائی تک گرگئی ہے۔ جس میں بڑی تعداد اب جنوبی پنجاب اورسندھ سے ہے۔ پاکستان کے جی ڈی پی یاملکی پیداوارمیں زراعت میں کاحصہ 1947میں 53فی صد تھاجواب گرکرمحض 20فی صد تک رہ گیاہے۔ دیہات سے شہروں کی طرف منتقلی کے رحجان میں تیزی آئی ہے۔ زمینداروں کے بقول ان کی حالت غیرمناسب ہے اوران کاگزارہ قرضوں پرہورہاہے۔ 1960میں 5 مرلہ سےچھوٹے قطعات کل کا 19فی صد تھے جواب بڑھ کر 65فی صد ہوگئے ہیں۔ دیگرتبدیلیوں کی طرف بھی اشارہ کیاگیاہے جیسے اشیاء کے تبادلہ کی جگہ نقدی کاعام ہونا۔ اب زمیندارکیلئے جبرکرنامشکل ترہوگیاہے۔ ووٹ کی خاطراب زمیندارکوشادی بیاہ اورمرنے کی صورت میں تعزیت کیلئے جاناپڑتاہے۔

واشنگٹن پوسٹ، ورلڈ بینک کے حوالےسے کہتاہے کہ پاکستان میں دیہی علاقوں میں زمین کی ناہمواری غربت کی بڑی وجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 44فی صد آبادی زراعت سے جڑی ہوئی ہے۔ جبکہ مالکان کی تعدادمحض 2فی صد یا پانچ ہزاربڑے جاگیردارگھرانے ہیں۔ مثال کے طورپرسندھ کے سیاستدان جاگیردارغلام مصطفی جتوئی کی 30ہزارایکٹرزمین ہے۔ یوں بڑی جاگیرداری کی گرفت کی وجہ سے دوعوامل ایک ساتھ نمودارہوئے۔ سماج کاپیچھے رہ جانااورایک جدیدریاست کی تعمیرمیں رکاوٹیں۔ تنگ نظراورپسماندہ جاگیردارطبقہ جدیدریاست کو ترقی دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ کوئی بھی دقیانوسی طبقہ لڑے بغیرنہیں مرا۔’ ولیم ڈالریمپل لبرل کے دلائل کودہراتاہے کہ پاکستان میں سیکولرجمہوریت اسی صورت میں فروغ پاسکتی  ہے ،جب یہاں غیرجاگیردارنہ پس منظرسے تعلق رکھنے والے سیکولرسیاستدانوں کیلئے جگہ بنائی جائے، جو نچلے طبقات کی نمائندگی کریں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اکبرزیدی کہتے ہیں کہ پاکستان کی 60تا70فی صد آبادی اس کیٹگری سے تعلق رکھتی ہے جس کوہم اربن کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے زراعت کومعیشت میں پانچواں حصہ قرار دیا جاتا  ہے۔ غیرزرعی شعبہ 60فی صد پیداکرتاہے۔ یوں دیہاتی علاقوں میں بھی آمدنی کابڑاذریعہ زراعت کی بجائے غیرزرعی شعبے سے آتاہے۔ جیساکہ اکبرزیدی کہتے ہیں کہ پاکستان کےپڑھے لکھے طبقہ نے یہ مفروضہ گڑھاہے کہ پاکستان کی معیشت زرعی ہے۔
2017کے اعدادوشمارکے مطابق زراعت کامعیشت میں حصہ 19فی صد کے قریب ہے۔ زراعت سے مراد محض فصلیں نہیں۔ بلکہ اس میں (ماہی گیری 2.10، جنگلات 2.09،لاِئیواسٹاک کاحصہ 11.11فی صد) ہے۔ یوں فصلوں سے کل قومی آمدنی کا محض کوئی سات فی صد کے قریب آتاہے۔ انڈسٹری سے کل قومی پیداوارکا 17.94فی صد اورسروس سیکٹرسے 53.09فیصد حاصل ہوتاہے۔ اس حقیقت کی طرف اب عام اشارہ کیاجاتاہے کہ پاکستانی اشرافیہ اب فیوڈل نہیں رہی۔ بلکہ کسی حدتک یہ تسلیم کیاجاتاہے کہ بہت سارے خاندانوں نے اگرچہ جاگیرداریت سے ابتدائی دولت بنائی مگراب ان کی آمدنی کابڑاذریعہ غیرزرعی شعبہ ہے۔ پاکستان کے موجودہ پارلیمان میں کاروباری، سرمایہ داراورمڈل کلاس کاغلبہ واضح نظرآتاہے۔ پی ٹی آئی اورن لیگ کوسرمایہ داروں، کاروباریوں، تاجروں اورنوکرپیشہ کی حمایت حاصل ہے۔ اسی طرح دیکھاجائے توپاکستانی سماج کہیں سے بھی جاگیردارانہ نہیں ہے۔ آج سیاست میں طاقتورجاگیرداروں سے زیادہ ٹھیکیداراوررئیل اسٹیٹ، کنسٹرکیشن کے کاروبارسے منسلک افراد، زمینوں کے قبضہ مافیا، درآمد اوربرآمدکے کاروبارسے وابستہ افراد، ٹیلی کمیونیکشن، شوگرمل اور سیمنٹ فیکٹریوں کےمالکان ہیں۔

پسماندگی کی اہم وجہ یہ ہے کہ 1990کے بعد نیولبرل پالیسیوں کے تحت سماجی بہبودکے شعبہ سے ریاست نے ہاتھ کھینچ لیے تودیہات اورکچی آبادیوں کی حالت ابترہوگئی۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مختلف معاہدوں کے تحت ریاست کی ذمہ داریوں کودیگرشعبوں سے کم کرکے اس کوامن وامان پرعمل درآمد تک محدود کرنے کی پالیسی پرزوردیاگیاجس کی وجہ سے عوام کے لیے تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، صاف پانی کی فراہمی جیسے اقدامات کوپرائیوٹ سیکٹرکے ہاتھ میں دینے پرزوردیاگیا۔ زراعت میں بحران نے کسانوں کی آمدنی کم کرنے میں اہم کرداراداکیا۔ زرعی کاروبارکافائدہ مڈل مین کاروباریوں، آڑھتیوں اورٹرانسپورٹرزکوزیادہ اورکسانوں کوکم ہوا۔ یوں شہروں کی طرف نقل مکانی سے شہری آبادی میں اضافہ توہوالیکن ریاست کے پاس یہاں بھی عوام  کودینے کے لیے  کچھ نہ تھا۔ اس طرح ہرطرف پسماندگی اورگندگی نظرآتی ہے۔ پرائیوٹ سیکٹرنے تعلیم اورصحت سے رقم بٹورنی شروع کی۔ ٹھیکیداروں کے غیرمعیاری کام اوررشوت نے ترقیاتی منصوبوں کومحض دولت کمانے کاذریعہ بناڈالا۔ آج پاکستانی ریاست میں سرمایہ دارکاغلبہ ہے اورجدیدشعبوں سے وابستہ افرادطاقتورہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...