افغان طالبان کا بدلتا زاویہ نظر

گذشتہ چند برسوں سے افغان طالبان کے بارے میں کچھ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا زاویۂ نظر داخلی اور خارجی حوالے سے خاصا تبدیل ہوتا جارہا ہے یا ہو چکا ہے۔ ان کے نظریات میں بھی بعض پہلوؤں سے بنیادی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔

وہی طالبان جو کسی زمانے میں سوویت یونین کے خلاف نبردآزما تھے، آج ان کے روس کے ساتھ نسبتاً قریبی روابط دکھائی دیتے ہیں۔ روس نے بھی افغان طالبان کے حوالے سے نرم رویوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان، روس اور چین نے چند برس پہلے ہی اپنے ایک مشترکہ اجلاس میں طالبان پر سے بعض پابندیاں ختم کر دی تھیں اور عالمی برادری سے بھی ایسا ہی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔
طالبان کے وفود آسانی سے مختلف ممالک میں آ جا رہے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں انھوں نے چین، ناروے، تہران، دوبئی، قطر اوردیگر کئی ایک ممالک کے دورے کیے ہیں۔ شاید یہ ممالک بھی چاہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ قربت پیدا کی جائے اور ان پر سے پابندیاں ختم کی جائیں۔ طالبان کے حوالے سے علاقے کے ممالک میں ایک نیا طرز عمل جنم لے رہا ہے۔ چین اور روس وغیرہ جو پہلے طالبان کی طرف سے مرکزی ایشیا میں اثر و رسوخ سے خائف تھے، اب انھیں زیادہ خطرہ داعش سے محسوس ہونے لگا ہے۔ انھوں نے طالبان سے قربتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کا بھی یہی نقطۂ نظر معلوم ہوتا ہے۔

بعض ممالک سمجھتے ہیں کہ داعش کے مقابلے کے لیے طالبان زیادہ مناسب بھی ہیں اور اہل بھی کیونکہ اس وقت داعش شمالی افغانستان میں خاصی قوی ہو چکی ہے اور ان کے مقابلے کے لیے افغانستان کے اندر طالبان ہی ایک بڑی قوت ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران میں طالبان اور داعش کے مابین کئی ایک معرکے بھی ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ایک معرکے میں دونوں طرف کے پچاس سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایک معرکے میں تین سو افراد کے مارے جانے کی خبر آئی تھی۔ پاکستان کو بھی داعش سے خطرات لاحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان بھی پہلے سے زیادہ طالبان کو ان کے مقابلے کے لیے مناسب قوت سمجھنے لگا ہے۔ طالبان داعش کو ایک اسلامی جہادی گروہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کی رائے یہ ہے کہ داعش کسی بھی اسلامی قانون کو نہیں مانتی اور اس کی جڑیں اسلام اور شریعت سے نہیں ملتیں۔

شاید سب سے حیران کن اور بڑا واقعہ ایران کے ساتھ طالبان کی قربت ہے۔ اس وقت طالبان اور ایران کے تعلقات گذشتہ تمام ادوار کی نسبت بہت اچھے ہیں۔ چند ہفتے پہلے ایران کے سیکورٹی کے انچارج ایڈمرل شامخانی نے افغانستان کے دورے کے موقع پر یہ بیان دیا تھا کہ ان کا طالبان کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی افغان حکومت کو بھی خبر ہے۔ اس کے بعد حالیہ دنوں میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ انھوں نے ایران کی ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کوہم افغان قوم کا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور ہم ایرانی قوم اور حکومت کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہماری طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروا ئی نہیں ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ دیگرممالک کے لیے بھی ہے۔ ایران افغانستان کا ایک مضبوط پڑوسی ہے۔ ہم ایران کے ساتھ دیرپا دوستی اور مستقبل میں امن کو فروغ دینا چاہیں گے۔طالبان جو ماضی میں اسلامی خلافت کے اپنے ایک خاص تصور کے پرچارک رہے ہیں شاید لفظ خلافت اور امارت سے وہ اب بھی دستبردار نہ ہوں لیکن افغانستان میں آئینی حکومت کے نظریے کو قبول کرنے لگے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ آئین کے بارے میں ایک خبرنگار نے طالبان کی تحقیق بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے نزدیک افغانستان کا موجودہ آئین ستانویں فیصد اسلام کے مطابق ہے اور تین فیصد فروعی مسائل ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے۔ طالبان افغانستان میں انتخابات کو بھی قبول کرنے لگے ہیں۔ البتہ ان کی رائے یہ ہے کہ موجودہ نظام انتخابات میں کچھ خرابیاں ہیں جنھیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

شیعہ سنی کے درمیان لڑائی اور اختلافات پیدا کرنا اور انھیں بھڑکانا مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔ امت مسلمہ کو اس وقت کفر کی یلغار کا سامنا ہے۔ امارات اسلامیہ کی واضح پالیسی کی بنیاد پر کسی کو بھی یہ اجازت نہیں کہ کسی شخص کو صرف اس لیے کہ وہ شیعہ ہے، اس پر حملہ آور ہو اور اسے قتل کردے۔ امارت اسلامیہ امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انتشار و افتراق کا  عمل مسلمانوں کے حق میں کسی صورت بہتر نہیں ہے۔ ملاذبیح اللہ مجاہد

طالبان جو ایک عرصے سے افغان حکومت سے مذاکرات کے حامی نہ تھے اب اس بات کو قبول کرنے لگے ہیں کہ جب امریکا اوران کے درمیان کوئی حتمی بات طے پا گئی تو اگلے مرحلے میں افغان حکومت سے بات ہو سکتی ہے۔ماضی میں طالبان کو سخت گیر سنی گروہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کئی تکفیری گروہ اپنے آپ کو طالبان سے زیادہ قریب سمجھتے تھے۔ طالبان کی حکومت کے دور میں افغانی شیعوں کے خلاف بہت سے اقدامات کیے گئے۔ اسی لیے افغانستان کے شیعہ گروہ اپنے آپ کو شمالی اتحاد کے قریب سمجھتے تھے بلکہ اس کا حصہ تھے۔ اب صورت حال بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اب وہ گروہ  جوماضی میں شیعہ کی تکفیر کے قائل تھے،طالبان کی طرح شیعہ سے متعلق مختلف نقطہ نظر رکھنے لگے ہیں ۔

مذکورہ انٹرویو میں افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شیعوں کے بارے میں جن جذبات و خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اس امر کو ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ افغان طالبان وہ نہیں ہیں جو ماضی میں افغانستان پرحکمران رہے ہیں۔ ایرانی نیوز ایجنسی ایلنا کے اس سوال کے جواب میں کہ شیعہ سنی اختلافات کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ شیعہ سنی کے درمیان لڑائی اور اختلافات پیدا کرنا اور انھیں بھڑکانا مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔ امت مسلمہ کو اس وقت کفر کی یلغار کا سامنا ہے۔ اگر اس زمانے میں  کوئی بھی  کسی اسلامی ملک کے اندر جھگڑے اور فساد پیدا کرتا ہے یا گھر گھر دشمنی کی فضا بناتا ہے تو میں واضح طور پر کہہ دوں کہ یہ عمل مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب امارات اسلامیہ کی واضح پالیسی کی بنیاد پر کسی کو بھی یہ اجازت نہیں کہ کسی شخص کو صرف اس لیے کہ وہ شیعہ ہے، اس پر حملہ آور ہو اور اسے قتل کرے۔ امارات اسلامیہ امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے سرگرم عمل ہے۔

اس وقت دیکھا جائے تو افغان طالبان کا ایک ہی بنیادی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ امریکا سرزمین افغانستان سے نکل جائے۔ وہ اس سے کم کسی صورت راضی نہیں ہوں گے اور جب تک امریکا افغانستان میں موجود ہے افغان طالبان جنگ آزما رہیں گے لیکن دوسری طرف بہت سے ایسے امور ہیں جن کے بارے میں ان کی فکر و نظر میں خاصا انقلاب آ چکا ہے۔ شاید مذاکرات کے نتیجے میں طالبان افغانستان کے اندر کسی ایسے پروگرام کے لیے آمادہ ہو جائیں جسے افغانستان کے دیگر گروہ بھی تسلیم کرلیں۔ خاص طور پر اگر کسی غیر جانبدار سیٹ اپ کے تحت طالبان افغانستان میں انتخابات میں شرکت کے لیے تیار ہوجائیں تو اس میں سے سب کے لیے اور خاص طور پر افغانستان کے لوگوں کے لیے خیر کی خبر برآمد ہوگی اور نیا افغانستان جس میں طالبان بھی اپنی عوامی مقبولیت کے تناسب سے شریک اقتدار ہوں، پہلے سے سے خاصا مختلف ہوگا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...