قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیلِ نو اور حکومتی اقدامات

299

آٹھویں مالیاتی  ایوارڈ کی تشکیل کے لیے نویں قومی مالیاتی کمیشن کے مشاورتی عمل کا آغاز رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔مالیاتی مرکزیت کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو انتہائی احتیاط اور سمجھداری سے متنازعہ ایجنڈے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ میسر شواہد کے مطابق  اس حوالے سے  وفاق اور صوبوں میں  سیاسی بیان بازی کے علاوہ عملاً کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے۔اس حقیقت کے باوجود آئندہ ایوارڈ سےبین الصوبائی اور صوبوں اور وفاق کے مابین تقسیمِ وسائل کے نظم  میں تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے۔نئی مردم شماری اور فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام تقسیمِ وسائل کے موجودہ فارمولے پر نظرِ ثانی کےمتقاضی ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے (IMF) ، وفاقی وزارتِ خزانہ اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ جیسے با اثر  اداروں کے اصرار سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز اور صوبوں  کے مابین تقسیمِ وسائل کے فارمولے میں ازسرِ نوتوازن لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنا لازمی ہے کہ مشترکہ وسائل میں کسی بھی صوبے کے مختص حصے کو کم کرنا آئینی طور پر  منع ہے۔مسئلے کی سنگینی اور امن، قومی وحدت اور معاشی استحکام سے اس کا انسلاک تمام متعلقہ پلیٹ فارمز ، جو اس مسئلے پر بات چیت کے لیے ممد ومعان ہو سکتے ہیں، سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ مل بیٹھیں۔تاہم پاکستان میں اکثر اہم ترین اور ضروری کام اہلِ اقتدار کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ صوبوں اور مرکز کے مابین تعلقات کی اقتصادی حرکیات کے تعین کے  اس سارے عمل سے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو  لاتعلق رکھا گیا ہے۔

شہرِ اقتدار میں بیٹھاکوئی بھی فرد اس بات کی وضاحت نہیں کررہا کہ وفاقی اکائیوں کے مابین تعلقات و روابط  کو منظم کرنے کے لیے الگ وزارت کی موجودگی کے باوجود وزارتِ خزانہ قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق احکامات جاری کیوں کرر ہی ہے۔چند بیورو کریٹس ارتکازِ اقتدار کی تاریخی نفسیات  کو اس صورتِ حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ایک اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ ’’وفاقی وزراتِ خزانہ ویسی ہی حیثیت سے لطف اندوز ہور ہی ہےجیسا مقام  وزیرِ خزانہ  کا اپنے ہمکار رفقا کے مابین ہے۔اس کی ذمہ داری بجٹ بنانا ہے ، یوں یہ اشرفیوں کی پوٹلی ہے۔یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے اگر وزارتِ خزانہ دیگر وزارتوں کی صف میں اول نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسے ’’دیگر وزارتوں کی ماں ‘‘ کہا جاتا ہے۔‘‘ اعلیٰ افسر نے مزید  کہا’’اس کا رویہ کسی مقصد کی بجائے دلی رقابت کا احساس پیدا کرتا ہے۔‘‘

وزیرِ بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا، جو آج کل کھیلوں کے مسائل سے متعلق ایک کمیٹی کی سربراہ ہیں، انہوں نےاس مسئلے سے متعلق موقف دینےکے لیےہماری  درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔وفاقی سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ جمیل احمد نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا،’’ہر فرد یہ دیکھ سکتا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے سب سے زیادہ توجہ معاشی تنزلی پر مرکوز رکھی ہے۔تمام صوبوں کے نمائندہ نان اسٹیٹری ممبران کی تعیناتی کے بعد اس امر کی امید بندھ چلی ہے کہ جلد ہی تقسیمِ وسائل کے کسی متوازن فارمولے  کی راہیں ہموار ہو جائیں گی۔‘‘ انہوں نے وزارتِ رابطہ کی کمزور ویب سائیٹ پر معذرت کرتے ہوئے کہا،’’قومی مالیاتی کمیشن ہمارے دائرہِ کار سے باہر ہے، اسے وزارتِ خزانہ دیکھتی ہے۔جہاں تک میری رائے ہے تو موجودہ نظم اس حوالے سے زیادہ موثر ہے۔ہماری وزرات ان معاشی مسائل کو تکنیکی بنیادوں پر حل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔‘‘

اس مسئلےسے  متعلق وزیرِ خزانہ اسد عمر سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ عارف خان نے اقتصادی نظام سے متعلق مسائل میں اپنی وزارت کی مرکزیت پر دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ کئی پیشگی مسائل کے باوجود وزارتِ خزانہ آئندہ ہفتے اتفاقِ رائے کے عمل کے آغازکا ارادہ رکھتی ہے۔گذشتہ ہفتے اس بات سے متعلق خبر سامنے آئے تھی کہ قومی مالیاتی کمیشن کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے ڈاکٹر عارف علوی کو درخواست ارسال کر دی گئی ہے۔

نواں مالیاتی کمیشن 2015 میں نواز شریف دور میں آئینی ضرورت کے پیشِ نظر تشکیل دیا گیا تھا  تاہم صوبوں نے اپنے حصوں میں کٹوتی کے خطرے کے سبب اس کمیشن کی توثیق نہیں کی تھی اور یہ عمل وہیں رک گیا۔گذشتہ حکومت اس مسئلے پر خاطر خواہ توجہ دینے میں بھی ناکام رہی۔عمران خان کی حکومت کو اس بات کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نان اسٹیٹری ممبران کے نام مہیا کرنے کے لیے کم ازکم تمام صوبوں کو آمادہ کرلیا ہے جو تقسیمِ وسائل پر از سرِ نو غور کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔تقسیمِ وسائل کے گذشتہ فارمولے کے تحت صوبوں کا حص5.57 فیصدتک بڑھا یا گیا تھا اور باقی ماندہ5.42  فیصد وفاق کے حصے میں آیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مناسب وجوہات کے بغیر اور تیزی سے بدلتے ہوئے اقتصادی وسیاسی  حالات  کے باوجود ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ (جو جولائی 2010 میں لاگو ہوا) کو 2015کے بعد تک محض کاہلی و  بے توجہی کے باعث توسیع دی گئی۔ یہ طویل دورانیہ سود مند ثابت نہیں ہوا کیوں کہ اس کے سبب شراکت داروں کو مسائل کی پیدائش کے ساتھ  ہی باہمی تعاون کے جذبے سے زیرِ بحث لانے اور انہیں حل کرنے کا موقع میسر نہیں ہوسکا۔وفاقی وزارتِ خزانہ کے افسران اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ عمران حکومت  مالیاتی  وفاقیت قائم کرنا چاہتی ہے اور حکومت نے متعلقہ افسران کوبدلتے ہوئے مطالبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تیزی کے ساتھ پرامن تقسیم وسائل کے آئندہ لائحہِ عمل کی تشکیل کا حکم دے دیا ہے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق مردم شماری نتائج کے باضابطہ اعلان تک کمیشن کسی بھی طرح کی پیش رفت میں ناکام رہے گا۔کیوں کہ شراکت دارصوبوں کے ان نتائج پر تحفظات  برقرار رہیں گے۔اس عمل میں موجود ایک شخص  نے یہ بھی بتایا کہ ’’مسائل کے حل اور آٹھویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر اتفاقِ رائے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیےمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے سے حکومت کو یہی چیز روک رہی ہے۔‘‘

 

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...