فوگ یا سموگ: مسئلہ کا حل کیا ہے

جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ کچھ برسوں سے لاہور کی سردیاں سکڑ گئی ہیں۔ چند برس پہلے تک ایسے ہوتا تھاکہ ستمبر کے آخر میں موسم بدلنے لگتا تھا۔ اکتوبر میں دوپہر گرم اور رات ٹھنڈی ہونے لگتی تھی۔ نومبر میں سردی کی باقاعدہ آمد ہوتی اور دسمبر ،جنوری میں اتنی سردی ہوتی کہ دانت سے دانت بجنے لگتے۔جنوری کے آخر میں سردی کی شدت کم ہونے لگتی اور فروری کے موسم میں لاہور میں منائی گئی بسنت باقاعدہ  اس بات کا اعلان کرتی کہ اب سردی رخصت ہوئی اور بہار کی آمد آمد ہے۔پچھلے چار ،پانچ سال سے تو یہ حالت ہے کہ سردی صرف جنوری میں منہ دکھائی کرتی ہے، وہ بھی کچھ دن کے لیے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لاہور میں لوگ دسمبر میں آدھے بازو  والی ٹی شرٹ پہنے دکھائی دیں گے۔لیکن اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔سردیوں کی دھند سے بھی جو ایک رومانس جڑا ہوتاتھا لیکن اب وہ بھی ختم ہوگیا۔دھند میں سردی کی جو ٹھنڈک کا احساس تھا اس کی بجائے آنکھوں میں چبھن ہونے لگی۔دم گھٹتا محسوس ہونے لگا۔ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟کسی ماہر نے بتایا کہ یہ ٖفوگ نہیں بلکہ سموگ ہے۔سموگ؟ یہ کس بلا کا نام ہے؟

انہوں نے بتایا موسم سرما کے دنوں میں فضا میں موجود نمی کے ساتھ جب آلودہ ذرات اور زہریلی گیسیں ملتی ہیں تو اس سے سموگ بنتی ہے۔

سموگ اب ایک بین الاقوامی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، پچھلے چند سالوں میں بھارت اور چین کے علاوہ دنیا کے کئی ملکوں کا اس  مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ماہرین کے مطابق لاہور میں سموگ کا باعث بننے والی بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کی وجوہات میں فیکٹریوں سے زہریلی اور آلودہ گیسوں کا اخراج، اینٹوں کے بھٹوں سے پھیلنے والی آلودگی، بڑھتی ہوئی ٹریفک اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی شامل ہے۔ ان کے بقول بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے سموگ کی لاہور اور اس کے گردونواح میں شدت بڑھ رہی ہے۔
سمو گ انسان کی صحت کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ خاص طور پر ایسے لوگ جو پہلے سے سینے، پھیپھڑوں یا دل کی  بیما ری  میں مبتلا ہوں، ان کے لیے سمو گ زیادہ بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے تو انسان کے گلے میں خراش شروع ہوتی ہے، پھرناک اور آنکھوں میں چبھن کا احساس ہوتا ہے۔دمے کے مریضوں کی حالت اس موسم میں مزید بگڑ سکتی ہے۔لاہور اور دہلی دونوں ہی اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہر ہیں بلکہ دونوں شہروں میں باقاعدہ ایک مقابلہ جاری ہے کہ کونسا شہر آلودگی میں پہلے نمبر پر رہتا ہے۔

اگرچہ پاکستان میں فضائی آلودگی ماپنے کا باقاعدہ کوئی نظام کام نہیں کر رہا۔ ائیر وئیژول ایک موبائل اپلیکیشن ہے جو اس وقت فضائی آلودگی ماپنے میں مدد کر رہی ہے۔ یہ موبائل اپلیکیشن کس قدر موثر ہے اور اس کا ڈیٹا کتنا مستند ہے اس کے بارے میں ابھی کوئی بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔لیکن کسی سرکاری اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں یہ بھی غنیمت ہے۔ اس وقت لاہور میں نہر کے قریب آلودگی کی شرح 154 فی صد ہے۔ گارڈن ٹاؤن لاہور میں یہ شرح 239 فی صد اور اپر مال لاہور میں یہ شرح 284 ہے۔ کچھ دن پہلے تک یہ شرح 500 سے 600 کے درمیان تھی جو انسانی زندگی کے لیے نہایت مہلک ہے۔

یہ بات درست ہے کہ فضائی آلودگی کا مسئلہ پوری دنیا میں ہے ۔یہ بات بھی مان لیتے ہیں کہ لاہور اور اس کے نواحی علاقوں میں آلودگی کی ایک وجہ بھارت بھی ہے لیکن یہ بات مکمل درست نہیں۔ لاہور میں جو قہر ہم نے ڈھایا ہے کسی اور نے نہیں۔ لاہور جو باغوں کا شہر ہوتاتھا ہم نے اسے لوہے اور کنکریٹ کے شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ سڑکوں کو کھلا کرنے کے نام پر ہم نے درختوں کے  ساتھ جو سلوک کیا ہے ،یہ سموگ اسی کا ایک پھل ہے۔ ان درختوں پر رہنے والے پرندوں کی ہجرت ایک اور المیہ ہے۔شاید انتظار حسین زندہ ہوتے تو ان کا نوحہ لکھتے۔

جس طرح سموگ ہماری زندگیوں کو نگل رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ابھی تک حکام سوئے ہوئے ہیں ۔ابھی تک پنجاب کے ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کے پاس فضائی معیار کو درست طریقے سے نگرانی کرنے کا  سامان موجود نہیں ۔ کئی شہری اپنے اپنے طور پر اس کی پیمائش کر رہے ہیں۔ لیکن یہ کافی نہیں ۔

سب سے پہلے حکومت کو فضائی معیار کی نگرانی میں فوری طور پر سرمایہ کاری کرنے کی کی ضرورت ہے کیونکہ درست اعداد و شمار کے ساتھ ہم وجوہات کو معلوم کرنے کی حیثیت میں ہوں گے۔

دوسرا یہ کہ سموگ سے بچاؤ کے لیے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہو ہوگی۔ کھیتوں میں موجود بھوسے کو تلف کرنے کرنے کے لیے آگ لگانے کی بجائے نئے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔ کسانوں کو روٹاویٹر یا دیگر مشینوں کو سستے داموں مہیا کرنا ہوگا ۔ گاڑیوں میں فضا کو آلودہ کرنے والے ایندھن کی جگہ ماحول دوست ایندھن کو اپنانا ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو سستا اور پھیلانا ہوگا تاکہ لوگ اپنی نجی گاڑیوں کی جگہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ نئے ماحول دوست درخت لگانے ہوں گے اور پرانے درختوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔ روایتی اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی اس کی جگہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ روایتی بھٹوں  کے مقابلے میں زگ زیگ بھٹے میں ایندھن یعنی کوئلے کی کھپت میں 30 فیصد تک کمی ہوتی ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والی آلودگی میں 70 فیصد کمی آتی ہے، فیکٹریوں میں باقاعدہ فلٹریشن کے آلات کی تنصیب کو یقینی بنا نا ہوگا ۔ کیونکہ اب یہ ہمارامسئلہ  نہیں بلکہ آنے والی تمام نسلوں کا ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...