دہشت گردی کے واقعات میں کمی مگر ٹی ٹی پی اور داعش کا خطرہ بدستور موجود

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز نے 2018 کی پاکستان سیکورٹی رپورٹ جاری کردی

 سال 2018 میں گذشتہ سال کے مقابلے میں  دہشتگردی کے واقعات میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے اور دہشتگردی کے واقعات میں ہونےوا لی اموات  کی تعداد میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ بلوچستان میں دہشتگری کے واقعات میں سال 2018 کے دوران گذشتہ سال کی نسبت 23 فیصد اضافہ دیکھا گیا ۔ ان واقعات میں اکثر کی ذمہ داری  مذہبی انتہاءپسند گروہوں نے قبو ل کی ۔ ٹی ٹی پی  اور اس کے وابستہ گروہوں نے سال 2018 میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اکثر کی ذمہ داری قبول کی ۔ ان کے بعد دوسرے نمبر پہ دہشتگردی کے واقعات میں علیحدگی پسند تحریکیں ملوث رہیں ۔

 سب سے زیادہ حملے خیبرپختونخواہ اور اس سے ملحقہ سابقہ فاٹا میں ہوئے ۔ تاہم دہشتگردی کے حملوں میں سب سے زیادہ افراد بلوچستان میں مارے گئے۔ اس سال نئی پیش رفت بلوچ قوم پرست مسلح گروہوں کی جانب سے خودکش حملوں کا استعمال تھا جو کہ خطرناک رجحان کی عکاسی ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ء اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات ایک نئی متشدد لہر کا باعث بن سکتے ہیں ۔  

اگرچہ سال 2018 میں دہشگردی کے واقعات میں گذشتہ سال کی نسبت 29 فیصد کمی آئی تاہم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہ  نام نہاد  دولت اسلامیہ ایک مہلک خطرہ بنے رہے ۔ بلوچ قوم پرست متشدد عناصر کی جانب سے اس سال میں 2 خودکش حملے بہت خطرناک رجحان ہیں تاہم اس کی وجہ سے ان کے ساتھ مصالحت کی پالیسی کو ترک نہیں کیا جانا چاہیے جو کہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک واضح حصہ ہے۔

یہ پاکستان کی سیکورٹی رپورٹ 2018 کے چند اہم نکات ہیں جسے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے جاری کیا ہے ۔ ادارے کے دائرہ کار میں پاکستان اور خطے کی سیکورٹی اور تنازعات کی جہتوں کا جائزہ لینا شامل ہے۔

اس رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2018 میں پاکستان کے 64 اضلاع میں نسلی مسلکی اور مذہبی دہشتگردی کے 262 واقعات ہوئے ۔ جن میں 19 خودکش حملے شامل تھے جن کے نتیجے میں 595 ہلاکتیں ہوئیں اور 1030 افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں  سال 2017 کے مقابلے میں سال 2018 میں 29 فیصد کمی ہوئی۔

دہشتگردی کے ان حملوں میں سے 171 حملے تحریک طالبان یا اس سے علیحدہ ہونے والے گروہوں جماعت الاحرار اور اس جیسے اور گروہوں مقامی طالبان اور نام نہاد دولت اسلامیہ  وغیرہ نے کیےاور ان حملوں میں 449 افراد ہلاک ہوئے ۔ جبکہ بلوچ علیحدگی پسند حملوں میں 96 افراد ہلاک ہوئے ۔ ان حملوں کی تعداد 80 تھی ۔ ملک میں فرقہ وارا نہ دہشتگردی کے کل 11 واقعات ہوئے اور ان میں 50افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے۔

اہم امر یہ ہے کہ دہشتگردی کے کل واقعات میں سے 136ایسے تھے  جن میں براہ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایاگیا ۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاروائیوں کے دوران 120 مسلح دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔ جبکہ سال 2017 میں یہ تعداد 524 تھی۔ ملک کے چاروں صوبوں میں سیکورٹی اداروں  نے مسلح عناصر کے خلاف  31کاروائیاں کیں جن میں سے22 مسلح تصادم کے واقعات تھے۔

دہشتگردی کی سب سے زیادہ مہلک کاروائیاں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کی گئیں ۔  سال 2018 میں انتخابی مہم کے دوران  24 دہشتگرد حملے ہوئے جن میں 218 افراد مارے گئے جبکہ 394 افراد زخمی ہوئے ۔

اس رپورٹ میں پاکستان کی افغانستان ، ایران اور بھارت کی سرحدوں پر 131 حملے رپورٹ ہوئے جس میں 111 افراد مارے گئے  اور 290 زخمی ہوئے ۔

امن و امان کی صورتحال کے متعلق  بلوچستان اس سال بھی توجہ کا مرکز رہا ۔یہاں 354 افراد دہشتگرد حملوں میں مارے گئے جو کہ ملک بھر میں مارے گئے افراد کی کل تعداد کا 59 فیصد ہیں ۔ پاک ایران سرحد پہ بھی کشیدگی دیکھی گئی جس کے سبب سفارتکاری کی سطح پر بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔  بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے 2 حملے ان کی روایتی کاروائیوں سے مختلف تھے جن میں انہوں نے چینی سفارتکاروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔

رپورٹ میں خبردار  کیا گیا ہے کہ  مذہبی انتہاء پسند متشدد عناصر اورعلیحدگی پسنددہشتگردوں کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے  اگرچہ بلوچستان میں مذہبی انتہاء پسندی کی کاروائیاں تعداد میں کم ہیں تاہم ان میں مارے جانے والے افراد قوم پرستوں کے دہشتگرد حملوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان کے اس نقطے جس میں قوم پرست دہشتگرد عناصر سے مصالحت پہ زور دیا گیا ہے تاحال اس پہ کوئی قرار واقعی کوشش نہیں ہوئی ۔

خیبر پختونخواہ بشمول سابقہ فاٹا ریجن میں ملک بھر  میں ریکارڈ کئے گئے دہشتگرد حملوں کی سب سے زیادہ کاروائیاں ہوئیں ۔ دہشتگردی کی 125 کاروائیوں میں 196 افراد  مارے گئے جبکہ 376 زخمی ہوئے ۔

اگرچہ نیشنل ایکشن پلان پہ نظر ثانی کی ضرورت ہے تاہم قومی سلامتی کی داخلہ پالیسی  2018 تا 2023  میں بھی اداروں کی واضح ذمہ داریوں کے تعین میں ابہام پایا جاتا ہے۔ اس کو موثر بنانے کے لئے اس پرپالیسی مکالمے کی ضرورت ہے ۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ سال 2018 کے دوران ملک بھر کے 1800 سے زائد علمائے کرام نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا جس میں مذہب کے نام پر تشدد کو حرام قرار دیاگیا ۔ اس فتویٰ کو ریاست کی تائید بھی حاصل ہے ۔ اگرچہ اس پر تمام علمائے کرام کی رائے کا سامنے آنا ابھی باقی ہے لیکن کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس کی تائید  سے پیغام پاکستان کی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔

سال 2018 کے دوران بھی حکومت اور کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان چوہے بلی کا کھیل جاری رہا۔ اگر کسی ایک حکومتی ادارے نے ان کی سرگرمیوں پہ پابندی لگائی تو کسی دوسرے ادارے نے انہیں اس پابندی سے آزاد کردیا ۔ بہت سے ایسے رہنماء جن کا تعلق کالعدم جماعتوں سے تھا ، جن کے نام فورتھ شیڈول میں شامل تھے   اوران پر اپنے اضلاع سے باہر جانے پر پابندی تھی انہوں نے نہ صرف اپنے اضلاع سے باہر جا کر  سڑکوں پہ احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کیا بلکہ حکومت کو مجبور کیا کہ وہ ان کے نام فورتھ شیڈول سے خارج کرے۔ ان میں سے بعض نے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور جب ان کی جماعتوں پر انتخابات میں شامل ہونے پر پابندی لگائی گئی تو انہوں نے اپنی جماعتوں کے نام بدل لئے۔

بظاہر پاکستان کو اس سال بھی عالمی دنیا کو انتہاء پسندی کے خلاف اپنی جنگ اور کامیابیاں منوانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ پاکستان کی ان کوششوں پر اس وقت سوال اٹھایا جاتا رہا جب بھی کسی دہشتگرد کے خلاف ڈرون حملہ ہوا یا کسی کالعدم رہنماء نے عوامی سطح پر پریس کانفرنس کی  یا عوامی احتجاج کیا ۔

رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تاحال میں کچھ گروہوں کو قومی سطح کےمرکزی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔ پپس کی رپورٹ کے مطابق  حکومتی سطح پر اس ابہام کو فی الفور ختم کرنے ضرورت ہے اور یہ تجویز دی گئی ہے کہ کالعدم جماعتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کے بنیادی نکات میں تمام گروہوں کو بلاتعصب شامل کیا جائے  اور اسے  پارلیمان کے تحت ترتیب دیا جائے ۔  پارلیمان  ان جماعتوں  کے لئے باقاعدہ قواعد ضوابط ترتیب دے جن پر عمل پیرا ہونا لازمی قرار دیا جائے ۔ اس طرح حکومت کے لئے اس معاملے پر کوئی ایک اتفاق رائے قائم کرنے میں آسانی ہوگی جسے اس معاملے پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔

ملک میں اس وقت معیشت کی بہتری کی ضرورت سب سے زیادہ ہے اور اس مقصد کےلئے تمام توجہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی نظرثانی رپورٹ پہ لگی ہوئی ہیں ۔ اس رپورٹ میں مثبت پہلو کا انحصار کالعدم جماعتوں سے متعلق ریاستی پالیسی پر ہے ۔

اس دوران خطے میں ہونے والی علاقائی تبدیلیوں ، خاص طور پر مغربی ممالک کی جانب سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کے سبب بھی پاکستان میں سیکورٹی کے معاملات پر اثرات مرتب ہونے ہیں ۔ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاءاس خطے میں موجود جہادی عناصر پر عالمی توجہ کے ہٹنے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ امریکی افواج کے ہنگامی انخلاء کی صورت میں افغان طالبان کو  بڑی کامیابیاں ملنے کی توقع ہے جن کی  پوری توجہ اپنے نئے دشمن نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف مرکوز ہوجائے گی۔ تاہم یہ امر نہیں بھولنا چاہیئے کہ افغان طالبان القاعدہ کے حمایتی رہے ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...