سابق قبائلی علاقے اور انتخابی حلقہ بندیاں

67

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں حال ہی میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی ابتدائی حلقہ بندیوں کی فہرست جاری کردی ہے۔

ابتدائی فہرست کے مطابق تمام  تر قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ عام انتخابات کے ذریعے 16 ممبران صوبائی اسمبلی کا چناؤ کرینگے جبکہ پانچ ممبران اسمبلی جن میں چار خواتین اور ایک غیر مسلم اقلیتی برادری کا انتخاب مخصوص نشتوں کے طور پر کیا جائیگا۔ ابتدائی فہرست کے مطابق آبادی کی بنیاد پر باجوڑا ور خیبر سے تین تین ، مہمند، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان سے دو، دو جبکہ اورکزی اور فرنٹیر ایجنسیز کیلئے ایک ایک نشت مختص کی گئی ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان کے مطابق ان تمام 16 نشتوں پر رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہے جن میں 15 لاکھ8 ہزار مرد جبکہ 10 لاکھ ایک ہزار سے زائد خواتین حق رائے دہندگان میں  شامل ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سابق قبائلی علاقوں کیلئے نشتیں آبادی کی بیناد پر رکھی گئی ہیں۔ عرصہ دراز سے  سابق قبائلی علاقوں میں مردم شماری ہوئی ہی نہیں ہے اور اگر کہیں کہیں ہوئی ہے تو اس پر بھی مقامی لوگوں کی جانب سے شدید قسم کے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ابھی تک سابق علاقوں کی آبادی کے بارے میں کافی ابہام پائے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں ایک سرکردہ قبائلی رہنما نے کہا تھا کہ عجیب بات ہے کہ ملک کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے بڑھ کر 22 کروڑ ہوگئی ہے جبکہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی آبادی 70 لاکھ سے کم ہو کر صرف 35 لاکھ رہ گئی ہے مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اب بھی اس آبادی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ جون 2014 کے وسط میں شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ضربِ عضب کے شروع ہوتے ہی مقامی لوگوں نے بنوں اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کی تھی اور اس وقت ازمک سب ڈویژن اور شیوہ تحصیل سے نقل مکانی نہ ہونے کے باوجود شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ کی لگ بھگ تھی۔ ابھی تک 1500 خاندان اپنے گھروں اور دیہاتوں کو واپس نہیں ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود الیکشن کمیشن کی دستاویزات میں 2017 میں ہونی والی مردم شماری میں شمالی وزیرستان کی آبادی 5 لاکھ 43 ہزار دکھائی گئی ہے۔ جبکہ تمام تر قبائلی علاقوں میں سے سب سے زیادہ آبادی باجوڑ کی دس لاکھ 93 ہزار ہے۔ چھ مختلف فرنٹیرریجینزکی آبادی مجموعی طور پر تین لاکھ 57 ہزار بتائی گئی ہے اور ایک دوسرے سے میلوں  دور اور پورے صوبے میں پھیلے ہوئے ان مختلف الخیال، مختلف المزاج اور مختلف القوام قبائلیوں کو صرف ایک نشت دی گئی ہے۔ اسی طرح اورکزی ریجن کو بھی آبادی کی بنیاد پر صرف ایک ہی نشت دی گئی ہے۔

ملک بھر میں قومی اسمبلی کی ایک نشت پر تین صوبائی اسمبلی کی نشتیں رکھی گئی ہے مگر سابق قبائلی علاقوں میں یہ طریقہ کار بالکل نظرانداز کردیاگیا ہے۔تاہم حکام کا کہناہے کہ آئندہ 2023 میں ہونے والے عام انتحابات میں ان نشتوں میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ اُس وقت نہ صرف حق رائے دہندگان کا باقاعدہ اندارج قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کیا جائیگا بلکہ اُس وقت تک حق رائے دہندگان کے زیادہ سے زیادہ اندراج کیلئے باقاعدہ مہم میں قبائلی علاقوں کو ترجیح دی جائیگی۔

سابق قبائلی علاقوں کو 16 جنرل اور پانچ مخصوص نشتیں دینے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تعداد 145 ہوجائیگی۔ تاہم 2023 کے عام انتخابات میں یہ تعداد 170 سے بھی تجاوز کریگی اور آبادی کے لحاظ سے خیبر پختونخوا اسمبلی کو ملک کے دوسرے بڑی صوبے کی حیثیت مل جائیگی۔

ایک بات واضح ہے کہ جغرافیائی محل و قوع کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگااور یہی وجہ ہے کہ بعض ملکی اور غیر ملکی قوتوں نے سیاسی طور پر اس صوبے کے عوام کو منتشر کر رکھا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کے بعد پختونوں کے اس انتشار کو یکجا کردیا جائیگا یا مزید منتشر۔ کیونکہ اب بھی روایتی طورپر موثر قبائلی گھرانے نہ صرف انضمام کی مخالفت کررہے ہیں بلکہ حکومتی اداروں کے اصلاحاتی ایجنڈے پر کام شروع نہ کرنے اور قبائلی عوام سے دوری نے انضمام کی مخالفت کرنے والوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے طریقہ کار کے مطابق حلقہ بندیوں کی  ابتدائی فہرستوں پر 31 جنوری تک اعتراضات اور شکایات جمع کیے جائینگے اور ان اعتراضات کی چھان بین فروری اور مارچ میں کی جائی گئی۔چار ستمبر 2019 کو الیکشن کمیشن باقاعدہ طور پر حلقہ بندیوں کو شائع کریگا اور اس کے ساتھ ان نشتوں کو پر کرنے کیلئے انتحابی شیڈول کا اعلان کیاجائیگا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے سابق قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر انتخابی عمل کے لیے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...