اقلیتیں اور خوف کی زندگی

364

اخلاق اور قانون تو یہی کہتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو بلا خوف زندگی گزارنا چاہیے لیکن کیا ایسا ہی ہے ، کیا پاکستان میں اقلیتیں بلا خوف زندگی گزار رہی ہیں ؟ اس سوال کا جواب ہم میں سے ہر ایک کو معلوم ہے ، یہ جواب  جہاں لمحہ فکریہ ہے  وہیں دردناک بھی ۔ البتہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا سب مسلمان اس ملک میں بلاخوف زندگی بسر کر رہے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں سوالوں کا جواب ملتا جلتا ہی ہے۔ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خوف کی یہ فضا ایک ہی طرز فکر نے مسلط کر رکھی ہے۔اگر شدت پسند تنظیموں اور گروہوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کا فکری افق ایک سا ہی دکھائی دے گا ۔ ہو سکتا ہے کہ مختلف گروہوں کے نام مختلف ہوں تاہم طرز فکر اور شدت عمل ایک جیسا ہے۔اقلیتوں پر خوف کے سائے کا معاملہ سماجی بھی ہے ، مذہبی بھی اور انتظامی بھی ۔دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے اس معاملے میں اگر ایک طرف بہتری آئی ہے تو دوسری طرف بعض مذہبی گروہوں کے متشددانہ طرز عمل میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے بلکہ بعض ایسے گروہ منظر عام پر آئے ہیں جن کے بارے میں پہلے توقع نہیں کی جاتی تھی، انھوں نے مذہبی جنونیت کے مظاہرے سے بہت سے سماجی مفکرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں ریاست کو دیگر گروہوں کی نسبت  تیزی کے ساتھ متحرک ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اقلیتوں کے حوالے سے اس گروہ کی شدت پسندی کا دائرہ دیگر گروہوں کی نسبت وسیع تر اور شاید جذباتیت سے زیادہ معمور ہے۔تاہم کہا جا سکتا ہے کہ قانون کی عمل داری میں تو بہتری آئی ہے لیکن مذہبی اور سماجی سطح پر ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے ۔

پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں جن ممالک میں مسلمان اقلیتیں بستی ہیں وہ محفوظ رہیں ، اپنی مذہبی رسوم آزادی سے ادا کریں اور سماج اور حکومت کی سطح پر ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو ۔ بس اسی فکر کو اپنے ملک میں بسنے والی مذہبی اقلیتیوں کے لیے اپنانے کی ضرورت ہے ۔ جو حقوق ہم غیر مسلم اکثریتی ممالک اور معاشروں میں مسلمانوں کے لیے چاہتے ہیں، وہی حقوق ہمیں اپنے ملک اور معاشرے میں غیر مسلموں کو دینا چاہئیں۔ ہم تو اس سے بھی بڑھ کر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمان تو اپنے نبیﷺکو رحمۃ للعالمین مانتے ہیں ، قرآن حکیم نے انھیں یہی لقب عطا کیا ہے تو پھر مسلمان کو پورے وجود سے پیغام رحمت ہونا چاہیے ، مسلمان ممالک میں بھی اور غیر مسلم ممالک میں بھی۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کو اپنی تاریخ اور اپنے قائدین کا پاکستان کے لیے تاریخی موقف پیش نظر رکھنا چاہیے ،جس کے مطابق پاکستان اسی لیے معرض وجود میں آیا کہ ہندو اکثریت کے ملک میں مسلمانوں کو برابر کے حقوق میسر نہ تھے یا مسلمان راہنماؤں کو یہ اندیشہ تھا کہ انھیں انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بنادیا جائے گا ۔اگر یہ مقدمہ درست ہے تو پھر ہمیں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھنا چاہیے ؛سماجی سطح پر بھی اور سرکاری سطح پر بھی۔ یہی وعدہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی 11اگست 1947کی تاریخی اور معرکۃ الآرا تقریر میں کیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا :

آپ آزاد ہیں ، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے ۔آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ، ذات یا نسل سے ہو ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔
شاید قائد کے اسی نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان کے بزرگ قانون دان اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر نے گذشتہ دنوں کہا ہے کہ دو قومی نظریہ پاکستان بنانے کے لیے تھا بعد کے لیے نہیں، اب سب پاکستانی برابر کے شہری ہیں اب ملک چلانے کے لیے ایک قومی نظریے کی ضرورت ہے۔یہ بات انھوں لاہور میں 17دسمبر 2018کو ایک بشپ کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق قائد اعظم محمد علی جناح نے صرف 11اگست کی تقریر ہی نہیں کی  بلکہ لگ بھگ اپنی 33تقاریر میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بات کی ۔پاکستان کے آئین میں بھی لکھا ہے کہ دستور، قانون اور اخلاقیات کی روسے ہر شہری کو اپنے مذہب کے اعلان ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔

یہ درست ہے کہ آئین و قانون میں اقلیتوں کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن ان کے بعض تحریری حقوق کی فراہمی کے لیے کوئی میکانزم موجود نہیں ہے، جس کے تحت ان کو دیے گئے تحریری حقوق کی عملی ضمانت فراہم ہو سکے ۔ اس کی ایک سنگین مثال اقلیتوں کے لیے ملازمتوں کے کوٹے پر عمل درآمد کا مسئلہ ہے ۔ ایک اور تجزیہ کار کے مطابق ملازمتوں کا کوٹا جو تشکیل پاکستان کے ابتدائی دنوں میں 11فیصد تھا ، اب کم ہو کر 5فیصد رہ گیا ہے ، اس پر بھی عمل درآمد کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے کوئی قانونی طریق کار موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2017کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کوٹے پر تقریبا دو سے تین فیصد عمل کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس قدر ملازمتیں اقلیتوں کو فراہم کی جاتی ہیں وہ بیشتر معاشرے میں پست درجے کی سمجھی جاتی ہیں۔ یہ کیا قیامت ہے کہ اقلیتوں کو بیشتر خاکروب کی ملازمت فراہم کی جائے اور اس سے بڑھ کر بھی قیامت یہ ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی اپنے ورکروں کو خاکروب کی ملازمت مہیا کردے اور پھر وہ ملازمت پر حاضر ہونے کو اپنی کسر شان سمجھیں اورصرف تنخواہ لینے پر گزارہ کریں ۔کیا اعلی درجے کی ملازمتیں مہیا کرنا اس کوٹے کے تقاضوں میں شامل نہیں ۔ پاکستان کی تمام وزارتوں میں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس کوٹے کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ  معاشرے کے اندر انسان دوستی کے جذبات کی پرورش ضروری ہے ۔محبت اور رافت انسانیت کا ایک گراں قدر اور خوبصورت سرمایہ ہے ۔ ہمارے وجود سے یہ بات ظاہر ہونا چاہیے کہ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔ہمیں غیر مسلموں سے اسلامی عقائد کے اظہار کی توقع نہیں کرنا چاہیے ۔ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم رات دن جن عقائد کا اظہار کرتے ہیں ان میں سے بھی بہت سے غیر مسلموں کے عقائد سے متصادم ہوتے ہیں ۔ عقائد کا اختلاف اور افکار کی رنگا رنگی معاشروں میں ہمیشہ سے ہے اور تنگ نظری سے معاشرے تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ تنگ نظری ایک بیماری ہے جو قوموں کو اندر ہی اندر سے کھا جاتی ہے ۔ اختلاف کو برداشت کرنا سیکھنا چاہیے ۔مسلمانوں کو خاص طور پر اپنے نبی ﷺکی پیروی کرتے ہوئے دوسروں کے لیے محبت و رافت کا نمونہ بننے کی ضرورت ہے ۔ بعض احباب بعض آیات و روایات کے ظواہر سے یک پہلو استفادہ کرتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ رسول کریم ﷺنے ،جن کے سینے پر ان ساری آیات کا نزول ہوا غیر مسلموں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ۔ وہ رویہ ہی ان آیات کے صحیح مفہوم کاتعین کر سکتا ہے ۔ جس دین کو ساری انسانیت تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے اس کی پیامبری کے لیے ساری انسانیت کے لیے خیر کا جذبہ اپنے وجود میں پروان چڑھانا ضروری ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...