درختوں کی اہمیت

502

درخت انسانی زندگی کا اہم اور ضروری جزو ہیں۔ درخت نہ صرف ہمارے ماحول کو صاف رکھتے ہیں بلکہ ہمیں بہت سی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ درخت پرندوں اور دیگر جانوروں کے لیے خوراک اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ انسان نہ صرف درختوں پر اگنے والی مختلف جڑی بوٹیوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں بلکہ مختلف اقسام کے پھلوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ درختوں کی لکڑی فرنیچر اور مختلف سامان بنانے کے کام آتی ہے۔ درخت کی لکڑی  کی وجہ سے ہی کاغذ وجود میں آیا۔درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ممکنہ طور پر نقصان دہ گیسیں جیسے سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔

ایک بڑا درخت 4 افراد کے لیے ایک دن کی آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ آب و ہوا کی بحالی،ہوا کے معیار میں بہتری، مٹی کا تحفظ اور جنگلی زندگی کی بقا کے لیے درخت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فوٹوسینتھیسز کے عمل کے دوران درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ زراعت کے مطابق ایک ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا جنگل 6 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور 4 ٹن آکسیجن خارج کرتا ہے۔ یہ 8 افراد کی سالانہ آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

دنیا میں تقریبا4۔3ٹریلین درخت موجود ہیں۔  ان میں سے نصف ٹروپیکل یا سب ٹروپیکل جنگلات میں  ہیں۔ جبکہ12000 سال پہلے زمین پر اس سے دگنے درخت پائے جاتے تھے۔ ہر انسان کے لیے تقریبا 400 درخت ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 15 بلین کاٹے جاتے ہیں جبکہ 5 بلین درخت لگائے جاتے ہیں، اس طرح ہمارے سیارے کو ہر سال 10 بلین درختوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر یہ سب ایسے ہی چلتا رہا تو اگلے 300 سال بعد زمین سے درختوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ انسان اپنی مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی کرتے ہیں جس کی وجہ سے درختوں میں مسلسل کمی اور ماحولیاتی آلودگی اور ٹمپریچر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ درختوں کی کٹائی کی ایک اور بڑی وجہ شہری آبادی کا دیہات کی طرف پھیلاؤ ہے۔ لوگوں میں درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کے بارے میں آگاہی موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے درختوں کا کٹاؤ ان کی پیداوار سے زیادہ ہے۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ درخت اور جنگلات ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کی حفاظت کی جائے۔

درختوں کی مختلف اقسام ہیں۔ درخت مٹی کے حالات، اونچائی، جگہ اور دیگر عوامل کے مطابق بڑھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پائن کے درخت پہاڑوں پر اگتے ہیں جبکہ تھرونی درخت صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

ناسا کی رپورٹ کے مطابق ماحول کو صاف رکھنے کے لئےمزید 7 بلین درخت لگانا اشد ضروری ہے۔ درختوں کی موجودہ تعداد کے ساتھ ہم صرف اگلے سولہ سال تک محفوظ فضا میں سانس لے سکیں گے۔جبکہ ہر سال صرف 6۔1 بلین درخت لگائے جا رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے ذیادہ درخت روس میں 642 بلین پائے جاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پردرختوں کی سب سے ذیادہ تعداد کینیڈا میں 318 بلین، تیسرے نمبر پر برازیل میں 302 بلین اور چوتھے نمبر پر امریکہ میں 228 بلین ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان کے 4 فیصد رقبے پر جنگلات پائے جاتے ہیں اور تقریبا 1 بلین درخت موجود ہیں۔ جس کے مطابق  ایک انسان کے لیےپانچ درخت ہیں۔پاکستان میں 1131 درخت فی مربع کلو میٹر موجود ہیں۔پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا تقریبا 1/3 حصہ جنگلات سے حاصل ہوتا ہے۔۔ کسی بھی ملک کی متوازی معیشت کے لیے 20 سے 25 فیصد جنگلات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں پانچ قسم کے جنگلات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی علاقوں اور کچھ شمالی علاقوں میں سدا بہار جنگلات پائے جاتے ہیں۔ جن میں دیودار، کیل، پڑتل، اور صنوبر کے درخت زیادہ اہم ہیں۔ ان درختوں سے اعلیٰ قسم کی عمارتی لکڑی حاصل ہوتی ہے۔ ان میں مری، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چترال، سوات، اور دیر کےعلاقے شامل ہیں۔

پہاڑی دامنی علاقوں میں زیادہ تر پھلاہی، کاہو، جنڈ، بیر، توت، اور سنبل کے درخت ملتے ہیں جن میں پشاور، مردان، کوہاٹ، اٹک، راولپنڈی، جہلم، اور گجرات کے اضلاع شامل ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ اور قلات ڈویژن میں خشک پہاڑی جنگلات پائے جاتے ہیں جو 900 سے 3000 میٹر کی بلندی پر پائے جاتے ہیں۔ یہاں زیادہ تر خاردار جھاڑیوں کے علاوہ آڑو، چلغوزہ، توت اور پاپلر کے درخت  ہیں۔

میدانی علاقوں میں شیشم، پاپلر، سفیدہ وغیرہ کے درخت ملتے ہیں۔ ان علاقوں میں چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بورے والا، رکھ غلاماں، تھل، شور کوٹ، بہاولپور، تونسہ، سکھر، کوٹری اور گدو شامل ہیں۔

کراچی سے کَچھ تک ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ جنگلات موجود ہیں۔ یہ 3000 ہیکٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

حکومت پاکستان نے جنگلات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک الگ محکمہ قائم کیا ہے جسے محکمہ جنگلات کہتے ہیں۔ یہ محکمہ ہر سال ‘درخت لگاؤ’ مہم کے تحت مختلف مقامات پر درخت لگا کر جنگلات کے رقبے میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے افسروں اور عملے کی تربیت کے لیے پشاور فارسٹ کالج اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم کیا گیا ہے۔ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں اس امر کی تحقیق کی جاتی ہے کہ جنگلات میں پیدا ہونے والی نعمتوں سے کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بہاولپور میں فارسٹ ریسرچ لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے۔ اس لیبارٹری میں درختوں کو مختلف بیماریوں اور سیلاب سے بچانے کے متعلق طریقوں پر کام کیا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلات تھل کے بنجر علاقے کو زرعی اراضی میں تبدیل کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور عوام کو سہولتیں فراہم کر کے جنگلات لگانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس کی علاوہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے پہلے 10 بلین درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا تھا جس سے لوگوں میں درختوں کی پیداوار کے حوالے سے آگاہی پیدا ہوئی۔

جنگلات ملکی ترقی اور خوشحالی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں ان کی موجودگی ملکی فضا کو معتدل اور خوشگوار بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا اشد ضروری ہے۔ جبکہ بدقسمتی سے  پاکستان میں صرف 4 فیصد رقبہ ہی جنگلات پر مشتمل ہے۔ حکومت پاکستان جنگلات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کے رقبے میں اضافے کی ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...