عسکریت پسندی کےجہادی بیانیے کی تشکیل میں مدارس کا کردار

334

مولانا مودودی کا لٹریچر پہلے سے وہاں موجود تھا، حاکمیتِ اسلام کا نعرہ پورے آہنگ سے بلند کیا گیا تھا۔ ریاست اور علما کو کوئی نیا لٹریچر تخلیق کرنے کی زحمت بھی کرنا نہیں پڑی تھی۔ جماعت اسلامی کے نظریات کو میدان عمل میسر آ گیا

آج مذھبی عسکریت پسندی کے لا وارث بچے کو کوئی اپنے نام سے منسوب کرنے کو تیار نہیں، لیکن ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ جب اسے گود لینے کے لیےاہل مدارس میں مسابقت برپاتھی۔

یہ 80 اور 90 کی دہائی کی بات ہے جب صدر ضیاءالحق کے زیر سرپرستی جہادی بیانیہ قوم کا نصب العین بنایا جا رہا تھا۔ مساجد اورمدارس میں جہادی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، جہادی مقررین اپنی شعلہ بار تقاریر سے نوجوان طلبہ کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا کرتے تھے،طلبہ کومحاذ پر جانے کی بجائے مدرسے میں آرام سے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا خلافِ غیرت لگنے لگتا تھا،جہادیوں کے شانوں تک چھوڑے ہوئے لمبے بال، گھنی داڑھیاں، کسرتی جسم، فولادی ہاتھ اور ان ہاتھوں میں اسلحہ،طلبہ کے لیے ہیروازم جیسی کشش رکھتے تھے، جہادی تنظیموں کے چندے کی مہم ایسی شان سے چلائی جاتی تھی جیسے عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے چلائی تھی، لیاقت باغ راولپنڈی میں جہادی کرتبوں کا مظاہرہ ہوتا تھا، جہادی کمانڈر ایسے پروٹوکول سے جلوس نکالتےتھے کہ محسوس ہوتا کہ قرونِ اولٰی کے مجاہدین واپس زندہ ہو کر آ گئے ہیں، جہادی تربیتی کیمپ لگائے جاتے تھے جن میں جذبہ جہاد سے سرشار نوجوانوں کی تربیت کی جاتی اور پھرمحاذ پر بھیج دیاجاتا تھا۔ مدارس کی چھٹیوں میں طلبہ کو جہادی کیمپوں میں جانے کی ترغیب دی کی جاتی تھی، دارالعلوم کراچی سے لے کر خیر المدارس ملتان تک سب مدارس کے طلبہ جہادی کیمپوں میں آتے تھے۔شہید ہوتے مجاہدین کی سمعی Audio کیسٹیں سنائی جاتیں جن میں وہ شھادت سے پہلے آخری گولیاں چلاتے ہوئے چیخ چیخ کر کہ رہے ہوتے کہ خدا کی قسم انہیں جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔

جمعہ و عیدین کی نمازوں میں افغانستان، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں برسرپیکار مجاہدین کے غلبہ و  نصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں (دعاؤں کا تسلسل اب بھی جاری ہے)، جہادی نغمے اور ترانے جگہ جگہ اونچی آواز میں بجائے جاتے تھے اور مولوی حضرات سبیلنا سبیلنا الجھاد الجھاد کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ بیچ بیچ میں کسی عالم کا اختلاف بھی سننے کو ملتا تھا، لیکن اسے گمراہی اور بزدلی کے طعنے دے کر خاموش کرا دیا جاتا، یا نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔

یہیں سے یہ بیانیہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچا۔ مولانا مودودی کا لٹریچر پہلے سے وہاں موجود تھا، حاکمیتِ اسلام کا نعرہ پورے آہنگ سے بلند کیا گیا تھا۔ ریاست اور علما کو کوئی نیا لٹریچر تخلیق کرنے کی زحمت بھی کرنا نہیں پڑی تھی۔ جماعت اسلامی کے نظریات کو میدان عمل میسر آ گیا۔انہوں نے بھی دامے درمے سخنے اپنے نوجوانوں کے خون کے نذرانے پیش کرنے کے لیے اپنی الگ عسکری تنظیم بنا لی۔

اس دور میں بھی البتہ، ہر فرقے اور ہر تنظیم نے دینی مفاد کے اشتراک کے باوجود مسلکی غیرت پر سمجھوتہ کرنا گوار نہ کیا۔ جہاد جیسی نازک سرگرمی کے لیے بھی کسی ایک لیڈر شپ کی ماتحتی کی‘‘ ہتک’’ کا تحمل نہ کیا جا سکا، اپنے اپنے مسلک کے جہادی کمانڈروں کی قیادت میں ہی جہاد کرنے کو ترجیح دی گئی۔ مسلک سے وفاداری کی اس سے بہترین مثال اور کیا ہوگی کہ جس دین کی خاطر شہادت جیسی کٹھن منزل قبول کر لی گئی، اس کے لیےمسلکی تفریق سے بلند ہونا گوارا نہ کیا گیا۔ یوں مجاہدین کے مختلف دھڑے ایک دوسرے کے رقیب بھی بنے رہتے، ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈا بھی کرتے رہتے، ایک دوسرے کے کمانڈر بھی توڑتے رہتے، زیادہ سے زیادہ مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتے رہتے اور خدا کی راہ میں اپنے اپنے نوجوانوں کی جانیں بھی باقاعدگی سے پیش کرتے رہتے تھے۔

یہ دور 90 کی دہائی کے آخر تک زندہ تھا، تاآں کہ جنرل مشرف نےاُسی  امریکہ کے ہی کہنے پراس پر روک لگا دی جس امریکہ کے کہنے پر جنرل ضیانے اس کی آبیاری کی تھی۔ جنرل ضیا نے صرف کھاد اور پانی مہیا کیا تھا،بیج اور پودے مدارس کے فکر و نصاب میں پہلے سے موجود تھے۔ (شواہد آگے پیش کیے گئے ہیں)

جب سے ریاست نے اس بیانیے کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچا ہے، مولوی حضرات نے اس سے ایسے لاتعلقی کا اعلان کر رکھا ہے جیسے مفتی حنیف قریشی نے ایفی ڈیوٹ لکھ کر ممتاز قادری سے برات کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ اسی کی تقریر سن کر ہی ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کے قتل کا انتہائی قدم اٹھایا تھا، قادری کی گرفتاری کے بعد، اس کی رہائی کی مہم بھی مفتی موصوف نے چلائی تھی، اور پھر اس کی پھانسی کے بعد اس کے دفنانے کے وقت بھی وہ آگے آگے تھے۔ یہی کچھ اس جہادی بیانیے کے ساتھ اب مدارس کے علما حضرات فرما رہے ہیں۔

ان حالات سے نا واقف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شدت پسندی کا یہ عفریت غربت، جہالت اور ناانصافی سے نکلا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔جس وقت یہ بیانیہ کچے اذہان میں انڈیلا جاتا ہے اس وقت ان نوجوانوں کی غالب اکثریت کو سماجی ناانصافی اور عدم مساوات جیسی باتوں کا مکمل ادراک بھی نہیں ہوتا، وہ ابھی زندگی کے عملی میدان میں اترے ہی نہیں ہوتے کہ ان مسائل کا پورا احساس انہیں ہو، وہ تو یہ سن کر جان دینے اور جانیں لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ ان کے دین نے مسلمانوں پر ایک عالمی خلافت کا قیام فرض قرار دیا ہے، اگروہ اس کی جد و جہد نہیں کریں گے تو گناہ گار ہوں گے، خدا کے ہاں جواب دہ ہوں گے، انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جس نے جہاد نہ کیا اور نہ اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کیا، وہ منافقت کے ایک شعبے پر مرے گا۔ ان کا بیانیہ ایک شاعر کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے:

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحاؐ کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

جہادی بیانیہ اگر غربت، جہالت اور ناانصافی کی وجہ سے پروان چڑھا ہوتا تو ان عسکریت پسندوں میں زیادہ بڑا طبقہ ملک کے غریبوں اور جاہلوں کا ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا غریب اور پسا ہوا طبقہ تمام تر نا انصافیوں کے باوجود اپنے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے میں لگا ہوا ہے۔ کبھی انفرادی طور پر ان کے ہاں بھی جارحیت کے واقعات ہو جاتے ہیں، لیکن بحیثیت طبقہ یہ لوگ بے بسی کے ہاتھوں پر امن زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب کہ جہادی تحریکوں کے افراد کسی نہ کسی مدرسے، یا فکری تنظیم سے وابستگی رکھتے ہیں۔ ایسا بھی ہے کہ جہادی تحریکوں میں کچھ لوگ ذاتی رنجش یا خفگیوں کے باعث شامل ہوتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ ان تحریکوں کی اصل جان اور اصل نمائندے وہی لوگ ہیں جو فکری پس منطر رکھتے ہیں۔ اور اسی بنا پر جہاد کی مشکل زندگی اور اختیاری موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتے ہیں۔

اس بیانیے کے متاثر نوجوانوں کا جائزہ لے کر دیکھیے۔ ان میں مدارس کے غریب خاندانوں کے بچے ہی نہیں ہوتے، خوشحال گھرانوں کے، یونیورسٹیوں کے بلکہ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک میں پلنے بڑھنے والے نوجوان سب شامل ہیں۔ یہ غلبہ اسلام کا رومانوی تخیل ہے جو دینی فرض کے طور پر جب سامنے آتا ہے تو اس میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ ان کا ایمان انہیں مجبور کر دیتا ہے کہ خدا کے اس سیاسی ایجنڈے کے لیے وہ سب کچھ کر گزریں جو ممکن ہو سکتا ہے۔

آپ کسی بھی جہادی تنظیم کا لڑیچر دیکھ لیجیے، ان کا استدلال ملاحظہ کیجیے کہ آیا وہ سماجی ناانصافی اور کفار کی بربریت کو اپنا بنیادی استدلال بناتے ہیں یا اس سارے عمل کو دینی فرض قرار دے کر نوجوانوں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ غیر مسلم قوتوں کا مسلمانوں پر ظلم و ستم ایک اضافی چیز ہے جس نے ان کے نزدیک معاملہ کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اگر نہ بھی ہوتا تو بھی مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایک عالمی خلافت کے قیام اور غیر مسلموں کو محکوم بنانے کے لیے جہاد کا معرکہ برپا کریں۔

مدارس میں یہ جہادی بیانیہ پڑھایا، سکھایاجاتا ہے، اس حقیقت سے انکار ایسا ہی ہے جیسے نصف النہار میں سورج کی موجودگی کا انکار کر دیا جائے۔ رزم و بزم میں یہ معرکہ آج بھی ان کے نصاب و فکر کی بدولت زندہ ہے۔ طالبان ہوں یا داعش، سب یہیں سے پھوٹ رہے ہیں۔لیکن اہل مدارس نے چونکہ بڑی ہمت سےاس حقیقت کو جھٹلانے کی روش اختیار کی ہے اس لیے ہمیں اس کے شواہد، انہی کے لٹریچر اور نصاب سے پیش کرنا پڑ رہے ہیں:

خلافت کا قیام واجب ہے۔ یہ بدیہی طور پر تسلیم شدہ بات ہے،جس کا انکار اہل مدارس تو کیا کوئی عام مسلمان بھی کرتا نظر نہیں آئے گا۔اس کے لیے شواہد پیش کرنا غیر ضروری ہوگا۔ آگے چلتے ہیں۔

اس خلافت کے قیام کے لیے جدو جہد فرض ہے۔ یہ جد و جہد اہل حل و عقد اگر نہیں کرتے تو اہل علم کے ذمے واجب ہے کہ وہ برپا کریں۔ اس بیانیے کی مثالیں بہت ہیں، لیکن میں پہلے سید احمد شہید کی عبارات نقل کرتا ہوں، ان کی عبارات نقل کرنا اس لیےبھی مناسب ہے کہ یہ معلوم ہے کہ ان کے دور میں کسی ‘‘ریاست’’نے انہیں اس کام پر نہیں لگایا تھا۔بلکہ ‘‘نصوص’’سے استدلال سے بننے والا بیانیہ ہی ان کی جہادی تحریک کا محرک تھا۔ آج کے جہادی بیانیے کا استدلال بھی یہی ہے۔ یہ درست ہے کہ سکھوں کے مبینہ مظالم سید صاحب کی تحریک کا ایک فوری محرک بنے، لیکن سید صاحب کی تحریروں سے پوری طرح واضح ہے کہ ان کے نزدیک سکھ حکومت کا خاتمہ ان کی منزل کا محض ایک سنگ میل تھا، جہاد کے داعیات سید صاحب میں پہلے سے موجود تھیں۔ سید صاحب کی تحریک آج کی جہادی تحریکات کو علمی اور اخلاقی جواز بھی مہیا کرتی ہےاور ہمت و حوصلہ بھی۔

سید صاحب فرماتے ہیں:

‘‘اگرچہ کفار اور سرکشوں سے ہر زمانے اور ہر مقام میں جنگ کرنا لازم ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ اس زمانے میں کہ اہلِ کفر و طغیان کی سرکشی حد سے گزر چکی ہے، مظلوموں کی آہ و فریاد کا غلغلہ بلند ہے، شعارِ اسلام کی توہین ان کے ہاتھوں صاف نظر آ رہی ہے، اس بنا پر اب اقامتِ رکن دین، یعنی اہلِ شرک سے جہاد،  عامہ مسلمین کے ذمے کہیں مؤکد اور واجب ہو گیا ہے۔’’ (ابو الحسن علی ندوی ، سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم،طبع نہم، لکھنؤ، مجلسِ تحقیق و نشریاتِ اسلام، ص 388)

اس عبارت کے پہلے جملے سے واضح ہے کہ کفار سے ‘‘ہر حال’’ اور ‘‘ہر مقام’’ پر جنگ کرنا سید صاحب دینی فرض سمجھتے ہیں۔ یہ وہی فقہی مؤقف ہے جس کے مطابق کفار سے جنگ کی اصل علت کفر قرار دی گئی ہے۔ یعنی محض اسلام قبول کرنے سے انکار غیر مسلموں پر جنگ مسلط کرنے کی کافی وجہ ہے۔ نیز لفظ ‘‘عامۃالمسلمین’’سے صاف ظاہر ہے کہ سید صاحب پرائیویٹ جہاد  کے جواز کے قائل ہیں اور اسے ‘‘مؤکد’’ سمجھتے ہیں۔ آپ کی تحریک تھی ہی پرائیویٹ جہاد۔ اس پرائیویٹ جہاد کے لیے مزید جواز مہیا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  1. ‘‘جو حکومت اور سیاست کے مردِ میدان تھے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اس لیے مجبورًا چند غریب و بے سروسامان کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور محض اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے۔’’ (سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم،ص 389)

اپنے وسیع تر ایجنڈے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

  1. ‘‘اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کروں گا تاکہ اسے کفر وشرک سے پاک کیا جائے’’۔ (سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم، ص 410)

کیا آج کے جہادی بیانیے کے علم بردار اس سے مختلف کوئی بات کہتے ہیں؟

اب یہاں مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب کی چند نمائندہ کتب کے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جو اس جہادی بیانیے کی تشکیل کا سبب ہیں۔

مختصر القدوری، درس نظامی میں ابتدائی درجے کی فقہ کی کتاب ہے۔ یعنی جب طالب علم ابھیTeen agerہوتا ہے۔ اس میں لکھا ہے:

  1. ‘‘وقتال الكفار واجب وإن لم يبدؤونا’’ ( کتاب السیر، 52،مختصر القدوری)

کفار سے جنگ کرنا واجب ہے، خواہ وہ ہم سے جنگ کرنے میں ابتدا نہ کریں۔

  1. خلافت یا اسلامی حکومت کس کے خلاف اقدامی جنگ یعنی جنگ میں پہل کرنا جائز سمجھتی ہے؟ صاحب قدوری لکھتے ہیں کہ جو لوگ دعوتِ اسلام کا انکار کر دیں، ان سے جنگ کی جائے گی:

( کتاب السیر، 52،مختصر القدوری)

‘‘جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو ان سے جنگ کرنا جائز نہیں، البتہ دعوت کے بعد جنگ کرنا جائز ہے۔ بہتر ہے کہ جس تک دعوت پہنچ چکی ہو اسے بھی دعوت دی جائے،تاہم یہ واجب نہیں ہے۔ پھر اگر مخاطبین دعوت کا انکار کر دیں تو مسلمان اللہ کی مدد طلب کریں، ان منکرین پر جنگ مسلط کر دیں، ان پر منجنیقیں نصب کریں، آگ لگا دیں، ان پر پانی چھوڑ دیں، ان کے درخت کاٹ دیں، ان کے کھیت برباد کر دیں۔ ان منکرین پر تیر چلانے میں بھی کوئی حرج نہیں،چاہے وہاں مسلمان قیدی یا تاجر بھی ہوں، یا مسلمانوں کے بچوں یا مسلمان قیدیوں کو انہوں نے ڈھال بنایا ہوا ہو، مسلمان تیر چلانے سے ہاتھ مت روکیں، البتہ تیر چلاتے ہوئے کفار کو مارنے کی نیت کر لی جائے’’۔

اس پر تبصرہ کرنے کے لیے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں۔

  1. ھدایہ درس نظامی کے آخری سالوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس میں لکھا ہے:

(کتاب السیر، الھدایہ فی شرح بدایۃ المجتھد)

‘‘قتال کی نصوص کے عموم کی رو سے کفار سے قتال واجب ہے، اگرچہ جنگ کی ابتدا ان کی طرف سے نہ بھی ہو’’۔

امام سرخسی کی مبسوط اعلٰی درجوں میں تحقیقی مراحل میں پڑھی دیکھی جاتی ہے۔ فقہ حنفی کی نمائندہ کتاب ہے۔ اس میں ہے:

  1.  (کتاب السیر، المبسوط)

‘‘شرک کی شناعت جہالت اور عناد سے پیدا ہونے والی برائیوں میں سب سے بڑھ کر ہے، اس لیے کہ اس میں بلا تاویل انکارِ حق پایا جاتا ہے، چنانچہ ہر مسلمان پر بقدر استطاعت اس کا روکنا فرض ہے۔

یعنی صرف تبلیغ نہیں بلکہ بقدر استطاعت اسے روکنا بھی فرض ہے، اب جس کی جتنی استطاعت ہو’’۔ یہ مشرکین کے خلاف مستقل جنگ perpetual war کا بیانیہ ہے۔

  1. امام سرخسی مزید لکھتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ‘‘مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال جاری رکھوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں، جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جان اور مال بچا لیا، سوائے اسلام کے حق ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔’’ مشرکین کے ساتھ جہاد کا فرض ہونا یہاں طے ہو جاتا ہے، اور یہ فرض قیامت تک قائم رہے گا، نبی ﷺ نے فرمایا، ‘‘جہاد جاری رہے گا میری بعثت سے لے کر میری امت کے اس آخری گروہ تک جو دجال سے جنگ کرے گا۔’’

یعنی مشرک اقوام سے محض اس لیے قیامت تک جنگ جاری رکھی جائے گی کہ وہ مشرک ہیں۔

  1. مبسوط کی درج ذیل عبارت بہت دلچسپ ہے:

‘‘ابن عباس فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کسی قوم سے اس وقت تک جنگ نہیں کرتے تھے جب تک انہیں اسلام کی دعوت نہ دیتے تھے، یہ اس لیے کہ اگر دعوت دیے بغیر قتال کیا جائے گا تو ان کفار کو معلوم نہ ہوگا کہ مسلمان ان سے کیوں لڑ رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھیں کہ یہ لٹیرے ہیں، جن کا مقصد ان کا مال لوٹنا ہے’’۔

اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ جنگ کا آغاز کفار کی طرف سے کسی صورت میں نہیں ہوا، کفار کو معلوم ہی نہیں کہ ان پر جنگ کیوں مسلط کی جا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جنگ سے پہلے انہیں بتایا جائے ہم تم سے جنگ کیوں کرنے آئے ہیں۔

دور جدید میں بعض اہل علم نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلامی حکومت کی طرف سے کفار و مشرکین کے خلاف جنگ کی علت احناف کی جمہورفقہی روایت کے مطابق محاربہ یعنی جارحیت یا فتنہ و فساد ہے نہ کہ محض کفر۔ یعنی جب جنگ میں غیر مسلموں کی طرف سے پہل ہو تو لڑنا چاہیے، ورنہ نہیں۔ اگر ایسا ہے تویہ کیا ہے جو پڑھایا جا رہا ہے۔ فقہ حنفی کے سرخیل، امام سرخسی کی اس عبارت سے نکلنے والے موقف کی کیا تاویل ممکن ہے؟امام کیااس بات کی مزید وضاحت کے لیے مبسوط کی درج ذیل عبارت دیکھیے:

  1. المبسوط ج 10 ص 86)

‘‘اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر نہ ہو، تو صلح نہیں کرنا چاہیے’’، اللہ تعالی کا ارشاد ہے، ‘‘پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو’’، نیز اس وجہ سے بھی صلح نہیں کرنی چاہیے کہ مشرکین سے جنگ کرنا فرض ہے اور بلا عذر فرض کو ترک کرنا جائز نہیں ہے’’۔

یعنی غیر مسلموں سے صلح کی وجہ کوئی مجبوری ہو تو ہو، محض جنگ سے رکنا صلح کی وجہ نہیں ہونی چاہیے، ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ مشرکین سے جنگ کرنا فرض ہے۔

غیر مسلموں سے جنگ کی وجہ محض ان کا کفر ہے یا ان کی طرف سے فتنہ و فساد اس میں حنبلی اور شافعی فقہا بالکل یکسو ہیں کہ غیر مسلموں کا کفر ہی ان کے ساتھ جنگ کرنے کا سبب ہے۔ جب کہ بعض حنفی فقہا غیر مسلموں سے جنگ کےدونوں اسباب گنواتے ہیں یعنی کفر اور جارحیت دونوں وجوہات کی بنا پر ان سے جنگ کی جائے گی، یوں وہ ایک الجھاؤ پیدا کر دیتے ہیں، جس کی نشاندہی مولانا عمار خان ناصر نے، اپنے مضمون، ‘‘قتال کی علت: حنفی فقہا کا نقطہ نظر’’میں بیان کی ہے، لکھتے ہیں:

‘‘اگر قتال کی علت فتنہ وفساد ہے تو ایسے کفار کے خلاف قتال کا اقدام کرنا کیونکر جائز ہے جو اہل اسلام کے خلاف فتنہ وفساد کا ارتکاب نہیں کرتے؟ اور کفار کی طرف سے کسی جارحیت کی ابتدا کے بغیر ان کے خلاف قتال کرنے کو نہ صرف مشروع بلکہ فرض کفایہ کیونکر قرار دیا گیا ہے؟ مزید یہ کہ کفار کے فساد سے بچنے کے لیے ان کو مسلمانوں کا محکوم بنانا کیوں ضروری ہے اور اگر ان کی طرف سے معاہدے کی پابندی کا اطمینان ہو تو ان کی سیاسی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے صلح کی گنجایش کیوں نہیں؟’’

مزید لکھتے ہیں:

‘‘کسی کافر کو اس کے کفر کی سزا اس دنیا میں دینے کا اختیار مسلمانوں کے پاس نہیں ہے تو قتال کے ذریعے سے اہل کفر کو مغلوب کر کے ان پر ‘جزیہ’ عائد کرنا، جو احناف کی تصریح کے مطابق ان کے کفر پر عقوبت اور سزا کی حیثیت رکھتا ہے، کس اصول پر روا ہے؟’’

مدرسے کا ایک طالب علم جب فقہ کا یہ بیانیہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف یہ دیکھتا ہے کہ مسلم حکومتیں غیر مسلم ریاستوں پر جنگ مسلط نہیں کرتیں اور نہ اس کا کوئی ارادہ ہی رکھتی ہیں، بلکہ الٹا ‘بلا عذر’ ان کے ساتھ صلح کر کے جہاد کے فریضے کو ہی ترک کرنے کی مرتکب ہو چکی ہیں،تو وہ اس  مثالی اسلامی خلافت کے قیام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے، جس کا بیانیہ وہ فقہ میں پڑھتا ہے، یعنی ایسی خلافت جو آگے بڑھ کر اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ سر انجام دے اور غلبہ حق کے لیے غیر مسلموں پر جنگ مسلط کر دے اور انہیں محکوم بنا لے۔

شاہ ولی اللہ اور مولانا مودودی علم کی دنیا کے وہ دو جلیل القدر علما ہیں جن کی فکر نے ہر مکتب فکر کو متاثر کیا ہے، ان کے اثرات عالمگیر ہیں۔ جہادی بیانیے کی تشکیل میں ان کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے افکار کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے:

شاہ ولی اللہ اپنی کتاب، حجۃاللہ البالغہ، میں جہاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

  1.  ( حجۃ اللہ البالغۃ، محقق سید سابق، بیروت، دارالجیل، 2005، جلد دوم، ص 268)

‘‘معلوم ہونا چاہیے کہ نبی ﷺ کو خلافتِ عامہ کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔ دین کا غلبہ دیگر تمام ادیان پر جہاد اور اس کے آلات و وسائل کی تیاری کے بغیر ممکن نہیں۔ تو جب لوگ جہاد چھوڑ دیں گے، اپنے مال مویشیوں میں لگ جائیں گے، تو ذلت ان کو گھیر لے گی، اور دیگر ادیان والے ان پر غالب آ جائیں گے’’۔

مزید فرماتے ہیں:

  1. (حجۃ اللہ البالغہ، ص 271)

‘‘مسلمانوں کا حکمران اہلِ کتاب اور مجوس سے لڑتا رہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا وہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کریں’’۔

نیز یہ بھی کہ:

  1.  (حجۃ اللہ البالغہ، ص 270)

‘‘اور تیسرے حال(یعنی اہلِ کتاب سے ذلت کے ساتھ جزیہ وصول کیا جائے) سے یہ مصلحت حاصل ہوتی ہے کہ کفار کی شان و شوکت کا زوال ہوتا ہے اور مسلمانوں کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور نبی ﷺ انہیں مصالح کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے’’۔

  1. شاہ صاحب،مسلم حکمران کے لیے یہ لازم قرار دیتے ہیں کہ وہ غیر مسلم قوتوں کے خلاف ہر حال میں جنگ کرے۔ اور صلح بامر مجبوری کرے یعنی جب جنگ کی مطلوبہ طاقت نہ ہو۔ یعنی کہ اگر طاقت ہو صلح نہیں کی جائے گی:

(حجۃ اللہ البالغہ، ص 271)

‘‘مسلم حکمران،غیر مسلم حکومتو ں سے مال کے ساتھ یا بغیر مال کے صلح کر سکتا ہے۔ یہ اس لیے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان کفار سےلڑنے میں کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں صلح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یا کبھی انہیں مال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قوت حاصل کر سکیں، یا صلح کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ ایک قوم کے شر سے محفوظ ہو کر وہ دوسری قوم سے جہاد کر سکیں’’۔

  1. شاہ ولی اللہ جبر و اکراہ کے ذریعے انسانوں کو دینِ حق پر ایمان لانے اور انکار کرنے والوں کو اسی بنا پر قتل کرنے کے حق میں ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک ایسا کرنا انسانوں کی بھلائی اور خدا کی رحمت کا تقاضا ہے۔ فرماتے ہیں:

(حجہ اللہ البالغہ، 263)

‘‘بہت سے لوگوں پرگھٹیا خواہشات، درندگی والی صفات اور ملک سے محبت کے شیطانی خیالات غالب آ جاتے ہیں، ان کے آبا ؤ اجداد کی رسمیں ان کے دلوں میں رچ بس جاتی ہیں، اس لیے ایمان لانے کے فوائد ان کی سمجھ میں نہیں آتے۔ اور نبی ﷺ ان کو جو حکم دیتے ہیں، وہ اس کی تابع داری نہیں کرتے، نہ وہ اسلام کی خوبیوں میں غور کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ مہربانی یہ نہیں ہے کہ ان پر حجت قائم کر کے ان کو چھوڑ دیا جائے، ان کے ساتھ مہربانی یہ ہے ان کی مرضی کے خلاف ان کو ایمان لانے پر مجبور کیا جائے، دوا کا کڑوا گھونٹ زبردستی ان کو پلایا جائے۔ یہی ان کے حق میں مفید ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو ان میں سخت گیر اور طاقت ور ہیں ان کو تہ تیغ کر دیا جائے، یا ان کا شیرازہ منتشر کر دیا جائے، اور ان کے اموال چھین لیے جائیں، تاکہ ان کی طاقت ٹوٹ جائے اور وہ بے بس ہو کر رہ جائیں۔ جب ان کی رکاوٹ ہٹ جائے گی تو ان کے متبیعن اور آل اولاد ایمان کی طرف مائل ہوں گے، اور اطاعت قبول کریں گے۔۔۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو جہاد میں گرفتار و مغلوب ہو کر آتے ہیں اسلام سے بہرہ ور ہو جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں جہاد کی اس مصلحت کی طرف اشارہ آیا ہے۔ ارشاد فرمایا:‘‘ایسے لوگوں پر اللہ کو تعجب ہو گا جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے۔’’

شاہ ولی اللہ کے مشہور شارح، محمد الغزالی ، شاہ صاحب کے ان افکار کا خلاصہ یوں لکھتے ہیں:

 (The Sociopolitical Thoughts of Shah Wali Ullah, Institute of Islamic Thought, Islmababd, 2001, pg, 98)

‘‘شاہ ولی اللہ، اسلامی ریاست کی نمایاں نظریاتی خدو خال بیان کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں  کہ اسلام کا غلبہ دیگر ادیان پر مسلمانوں کے درمیان ایک خلیفہ کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں، ایساخلیفہ جو نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنے والوں، اسلام کے ممنوعات کی خلاف ورزی کرنے والوں، یا اس کے لاگو کردہ واجبات سے پہلو تہی کرنے والوں کو  عاجز کر سکے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر تمام ادیان کے پیروکاروں کو مطیع کر سکے  اور ان سے جزیہ وصول کر سکے اس حال میں کہ وہ اسلامی شریعت کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔یہ سب اس لیے کہ شاہ صاحب  کے مطابق، دیگر ادیان پر اسلام کی برتری قائم کیے بغیر  غیر مسلمانوں پرمسلمانوں کی برتری واضح طور پر ثابت نہیں ہوسکتی’’۔

مولانا مودودی کے سیاسی اسلام کے بیانیے کے بارے میں معلوم ہے کہ مولانا نے اسلام اور ریاست کو متراف قرار دیا، اسلام کا مقصد حاکمیتِ الہیہ کا قیام بتایا اور اس کے لیے استدلال کی پوری عمارت کھڑی کی۔ انہوں نے غیر اسلامی نظام کو طاغوت قرار دیا جس کے تحت مسلمانوں کا راضی ہو کر رہنا خلاف اسلام قرار دیا اور مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ وہ جہاں بھی ہوں اسلام کے سیاسی غلبہ کی جہد و جہد کریں، یہ دینی فریضہ ہے جس کا ترک خدا سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:

  1. ‘‘مسلمان اپنے اپنے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے جب تک وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت قائم نہ کر لیں۔ خدا کے قانون کی بالا دستی قائم کیے بغیر بحیثیت مسلمان زندگی نہیں گزار سکتے۔۔۔۔ انبیا اسی لیے مبعوث کیے گیے تھے کہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم کریں۔’’ (اسلامی ریاست ص 59)
  2. ‘‘وہ (اسلام) اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن، جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے، خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں، اور خدا کی زمین پر اس کے باغی اس کو نافذ کریں، اور مسلمان ان کے تابع ہو کر رہیں۔۔۔ اسلام یہ تقاضا کرتا کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظام زندگی پر قبضہ کریں۔’’ (اسلامی ریاست ص 67)
  3. ‘‘اسلام کا اپنے مخصوص نظام زندگی کی طرف دعوت دینا عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرے اور اس مقصد کے لے اپنے پیروؤں کو جد وجہد کی ان تمام صورتوں کو اختیار کرنے کا حکم دے جن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے۔ ’’ (اسلامی ریاست، ص 66)
  4. مولانا مودودی درج ذیل آیت سے مسلمانوں کی عالمگیر سیادت کا استدلال کرتے ہیں:

(سورہ الحج، 22:41)

‘‘یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔’’

یعنی مولانا مودودی منکر کے دائرے میں کفر و شرک اور بدی کے تمام مظاہر کو شامل کرتے ہیں اور پھر آخری درجے میں طاقت سے ان کو مٹانے کا حکم اس آیت سے مستنبط کرتے ہیں۔ پھر قرآن مجید میں جہاں جہاں ‘الارض’ یعنی زمین پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کا ذکر آیا ہے، اس سے وہ پورا کرہ ارض مراد لیتے ہیں۔ (ملخص)۔ (الجھاد فی الاسلام، 91-92)

مولانا مودودی سے ہی متاثر ہو کر سید قطب نے معالم الطریق لکھی، جس نے عالمی سطح پر خصوصا عرب جہادی تحریکوں میں اسی جہادی بیانیے کو مزید ترویج دی۔

اب جمہوریت کے بارے میں،روایتی بیانیہ کے حاملین اہل علم کا موقف جان لیجیے:

  1. قاری طیب قاسمی اپنی کتاب ‘‘فطری حکومت’’، میں لکھتے ہیں:

‘‘یہ (جمہوریت) رب تعالیٰ کی صفت ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفتِ علم میں بھی شرک ہے۔’’

  1. احسن الفتاویٰ میں مفتی رشید احمد،ج 6 ص 26 میں لکھتے ہیں :

‘‘یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے ۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں ’’۔

  1. مولانا یوسف لدھیانوی آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج 8 ص 176 میں لکھتے ہیں:

‘‘جمہوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے (ظاہر ہے اسلام کی ضد کفر ہی ہے)’’۔

  1. مولانا عاشق الٰہی بلند شہری، تفسیر انوار البیان ، ج 1 ص 518میں لکھتے ہیں :

‘‘ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل جاہلانہ جمہوریت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔’’

  1. مولانا فضل محمد، اسلامی خلافت، ص 117 میں لکھتے ہیں:

‘‘اسلامی شرعی شوریٰ او رموجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا آسمان او رزمین میں ، وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے۔ جس کا شرعی شورائی نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں’’۔

  1. مولانا تقی عثمانی دور حاضر کے معتدل ترین علما میں سے ہیں، لکھتے ہیں:

‘‘جمہوریت میں عوام خود حاکم ہوتے ہیں، کسی الہیٰ قانون کے پابند نہیں تو وہ خود فیصلہ کریں گے کیا چیز اچھی ہے یا بری۔۔۔ جمہوریت سیکولرازم کے بغیر نہیں چل سکتی۔’’ (اسلام اور سیاسی نظریات، مولانا تقی عثمانی، ص 146)

اب جب طلبہ کو یہ بتایا جائے گا کہ جمہوریت غیر اسلامی نظام ہے تو وہ اس نظام حکومت اور آئین کے بارے میں جو موقف اپنائیں گے وہ ظاہر ہے۔ علما تو اپنی دو عملی کے لیے گنجائش نکال لیتے ہیں یعنی ایک طرف وہ جمہوریت کو بھی غلط کہتے ہیں لیکن آئین سے وفاداری کا اعلان بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے سادہ مزاج طلبہ پوچھتے ہیں کہ کیا آئین بھی انسانوں نے جمہوریت کےاکثریتی رائے کے اصول پر نہیں بنایا ہے؟ کل اگر اکثریتی رائے سے اس میں غیر اسلامی شقیں ڈال دی جائیں یا پورے آئین کو ہی سیکولر بنا دیا جائے تو کیا جمہوری اصولوں پر اسے بھی مان لیا جائے گا؟اگر نہیں،تو پھر آج اس کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے؟اس لیے نہ جمہوریت درست ہے نہ انسانوں کا بنایا ہوا آئین۔ یہ طلبہ اپنے اساتذہ کو ان کا ہی پڑھایا ہوا سبق سنانے لگتے ہیں اور اساتذہ کے پاس کوئی جواب بھی نہیں ہوتا۔ ذیل میں مدرسہ کے ہی ایک طالب علم، طالبان کے جہادی کمانڈر مولانا عصمت اللہ معاویہ کے ایک طویل خط کا آخری پیرا نقل کیا جاتا ہے، جو انہوں نے علما کو مخاطب کر کے لکھا تھا:

‘‘ان بنیادی نکات کے بعد آپ سےعرض کروں گا …… جائیے، جید علمائے کرام سے جاکر پوچھئے کہ اسلامی خلافت کے احیا اور نفاذ کی محنت ہم پر واجب ہے کہ نہیں۔ میں سرکاری وردباری صاحب جبہ و دستار کی نہیں علمائے حق کی بات کررہا ہوں۔ شریعت کا نفاذ، خلافت کا احیا واجب ہے ….. علمائے امت کا اس پر اجماع ہے ….. بلکہ خلافت کے احیا کے وجوب کو تو اہل سنت کے عقیدے کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے بغیر اسلام اور اہل اسلام کا شیرازہ ہی بکھر جاتا ہے، یہی سچ ہے ….. تو پھر دیر کس بات کی، ڈر کس بات کا، خوف و اندیشہ کس چیز کا؟ اٹھو! اب اسلام کے رستے کی رکاوٹیں بیلٹ سے نہیں بُلٹ سے دور کر دو، یہ ہڑتالیں، یہ ریفرنڈم، یہ دھرنے، یہ جلوس سب جمہوری ایجاد ہیں۔ اس سے اُمت کے حقیقی اثاثوں کی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، تم اپنوں کے سر پھوڑو ، اپنوں کی دوکانیں توڑو، املاک کو تباہ کرو، اپنے گلے پھاڑو۔ پولیس، فوج تمہیں ماریں تم انہیں مارو، یہ سب تماشہ ہے …… بہکاوا ہے …….. بس بند ہو جانی چاہئیں یہ سب فضول مشقتیں …… آئیے بسم اللہ کیجئے۔ اپنے مجاہد بھائیوں کے ساتھ مل کر جامعہ حفصہ کی شہیدہ بہنوں کے خوابوں کی تعبیر کے لیے، لال مسجد کے شہید بھائیوں کی امنگوں اور تمناؤں کو عملی روپ دینے کے لیے، شریعت یا شہادت کے حسین نعرے کو لے کر آگے بڑھو …… بڑھو کہ جنت ہے منتظر …… حورو ملائکہ ہیں صف بہ صف ……. توڑ دو غلامی کی زنجیریں، چھوڑ دو طاغوتی تدبیریں، پاک شریعت پاک رستے سے ہی آئے گی …… جب سینوں کا پاک خون پائے گی !!!’’ (نوائے افغان جہاد 2013)

یہ بیانیہ درست ہے یا نہیں اس سے قطع نظر کہنا یہ ہے کہ اہل مدارسہ کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ جہادی بیانیہ ان کے نصاب و روایتی فقہ و فکر سے پروان چڑھا ہے اور اب بھی ان سے ہی غذا پاتا ہے۔ اصولی طور پر وہ اور جہادی بیانیے کے علم برادر ایک ہی صفحے پر ہیں۔اختلاف صرف حکمت عملی میں کیا جاتا ہے۔

اس مسئلےکو جب تک اس کی بنیاد سے نہیں دیکھا جائے گا، اس کا کوئی قابل عمل اور موثر حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ شاخیں کاٹتے رہیں گے اور درخت نئے نئے برگ و بار پیدا کرتا رہے گا۔

یہ بیانیہ اگر درست ہے تو علی الاعلان بتایا جائے کہ ایسا ہی ہے، اگر اس میں غلطی ہوئی ہے تو برملا اس کا اظہار کیا جائے۔ اب محض مذمتین کر کے آپ اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...