شام کی بدلتی صورتحال

271

چند دن پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ شام سے سو دنوں میں اپنی فوجیں واپس امریکہ بلا لیں گے۔ بقول ان کے ہم نے شام میں داعش کو شکست دے دی ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ امریکہ نے داعش کے بنانے اور اسرائیل نے اس کو بار بار تحفظ فراہم کرنے میں کیا کردار ادا کیا۔؟ اب یہ بات اہم ہوگئی ہے کہ ان علاقوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ جنہیں امریکی آرمی چھوڑ کر چلی جائے گی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ علاقے زیادہ تر کرد اکثریت کے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں داعش کا اثر کم رہا۔ امریکہ نے داعش کے باقی ماندہ عناصر کو شکست دینے کے نام پر کوئی تیس ہزار کے قریب کردوں کو جنگ کی تربیت دی ہے۔ امریکی صدر کے شام سے انخلا کے اعلان نے پوری دنیا میں بالعموم اور خطے میں بالخصوص حیرانگی پیدا کر دی۔ اس اعلان میں ترکی کے صدر اردغان اور امریکی صدر ٹرمپ کی گفتگو کی خبر بھی آئی کہ ہم طاقت کا خلا پیدا نہیں ہونے دینے گے۔ اس سے مراد بالکل واضح تھی کہ  شامی افواج اپنے ہی علاقے میں موجود ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے داخل نہیں ہوسکیں گی، اب یہ کردار ترکی ادا کرے گا۔

ترکی نے پچھلے چند دنوں میں بڑی تعداد میں اسلحہ، بارود اور فوجیں شام کے بارڈر پر پہنچا دی ہیں اور شامی افواج کو کسی بھی کارروائی کے نہ کرنے کا کہا ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ ہم داعش کو ختم کریں گے۔ کیا ترکی داعش کو ختم کرنا چاہتا ہے؟ ماہرین کے مطابق داعش کی چوکیاں ترکی بارڈر سے سینکڑوں کلو میٹر دور ہیں،  جہاں تک پہنچ کر کارروائی کرنا ترک فوج کے بس میں نہیں ہے، تو پھر ترکی چاہتا کیا ہے؟ اصل میں ترکی یہ چاہتا ہے کہ وہ ان ترک فورسز کو سبق سکھائے جو امریکی تربیت اور اسلحہ کے زور پر ترکی میں موجود کردوں کو بغاوت کی شہ دے رہے ہیں۔ وائی جے پی شام میں کردوں کی تنظیم ہے، جس سے ہزاروں جنگجو وابستہ ہیں۔  دیکھنا یہ ہے کہ امریکی فوج کے چلے جانے پر کردوں کے پاس کیا آپشنز رہ جاتے ہیں۔؟

کردوں کے مدمقابل تین پارٹیاں ہیں، ترکی، شامی افواج اور داعش۔ کرد کسی بھی صورت میں داعش سے ہاتھ نہیں ملا سکتے، کیونکہ اس سے جہاں بین الاقوامی پریشر ہوگا، وہیں یہ اپنے پاوں پر کلہاڑا مارنے والی بات ہے۔ جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو ترکی تو پہلے ہی وائی جے پی کا قلع قمع کرنے کے لئے پر تول رہا ہے، کیونکہ  ترکی وائی جے پی کو اپنی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ کرد اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر ترک افواج ان کے علاقوں میں داخل ہوئیں تو بڑے پیمانے پر ان کا مالی و جانی نقصان ہوگا۔ اب کردوں کے پاس صرف تیسرا آپشن بچ جاتا ہے کہ وہ شامی حکومت کے ساتھ اتحاد کریں۔ شامی حکومت اس وقت کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے۔ وہ داعش، لشکر احرار شام اور دیگر دہشگرد گروں کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتی ہے، جو حقیقت بھی ہے۔ اسی طرح شام کے تمام حصوں میں اپنے اقتدار کا پرچم لہرانا چاہتی ہے، وہ کوشش کر رہی ہے کہ کرد علاقوں میں بھی شامی پرچم دوبارہ لہرایا جائے۔

اگر کرد تعاون کریں تو ایسا امن معاہدہ تشکیل پا سکتا ہے، جس کی روشنی میں شامی حکومت کردوں کے لئے عام معافی کا اعلان کر دے اور داخلی آزادی جیسے پہلے تھی، اسی طرح جاری رہے یا اس میں مزید کچھ کمی بیشی کر لی جائے۔ یہ بات کردوں کے لئے بھی قابل عمل ہوگی کیونکہ داعش اور ترکی کی طرف سے انہیں جو خطرہ درپیش ہے، وہ انہیں اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ دمشق کے ساتھ اپنے روابط بحال کر لیں۔ عراقی کرد لیڈر مسعود بارزانی نے بھی کرکوک کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے بغداد کا دورہ کیا ہے، عراق کی مذہبی اور سیاسی قیادت سے نئے عزم کے ساتھ چلنے کا کہا ہے، یہ بات شامی کردوں کو حکومت شام کے قریب ہونے میں مدد دے گی۔

چند دن پہلے شامی کردوں کا ایک وفد ماسکو کے دورے پر روس گیا تھا، اس میں ان لوگوں نے شامی حکومت کے ساتھ صلح کی بات کی ہے۔ تفصیلات ابھی تک نہیں آئیں، مگر کچھ باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ معاملات طے پا گئے ہیں، جیسے ترکی کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود شامی افواج منبج میں داخل ہوگئی ہیں اور انہیں بڑی مزاحمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ شامی حکومت نے کہا ہے کہ ہم علاقے کی عوام کی دعوت پر شہر میں داخل ہوئے ہیں، یہ خطے کی موجود صورتحال میں ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ کرد اور شامی فورسز کا اتحاد خانہ جنگی روکنے کی طرف اہم قدم ہوگا، یہ حکمت عملی آگے بڑھے تو آہستہ آہستہ دوسرے کرد علاقے بھی شامی افواج کے زیر اثر آجائیں گے۔ اس سے لگ یہ رہا ہے کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان جو بات چیت ہوئی تھی کہ ترکی کا اہم کردار ہوگا، وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے، بلکہ کردوں اور شامی افواج کا اتحاد جہاں ترکی کو اس کے بارڈ پر روکے گا، وہیں علاقے میں موجود داعش کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

داعش شام اور عراق کے درمیان کے علاقے میں سکڑ گئی ہے، اب یہ ایک طرح سے  گھیرے میں آگئی ہے۔ پہلے ایک پراکسی وار چل رہی تھی، بہت سے بین الاقوامی کھلاڑی داعش کو  مدد فراہم کر رہے تھے۔ اب داعش عراق اور شام دونوں طرف سے ایک طرح کے دباو میں آجائے گی۔ حشد الشعبی اور عراقی افواج کا ایک مستحکم اتحاد وجود رکھتا ہے، جو مسلسل داعش کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اب عراق میں کوئی شہر ان کے قبضہ میں نہیں ہے۔ شام میں شامی افواج، حکومت کے حامی عرب رضاکار اور کرد ملیشیا ملکر شام میں داعش کو دنوں میں ختم کر دیں گے۔ مغربی تجزیہ نگار بھی یہی کہہ رہے کہ داعش کا خاتمہ شامی و عراقی افواج اور حشد الشعبی کے ہاتھوں سے ہوگا۔ حالات کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ یو اے ای نے اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بحال کر رہا ہے، دمشق میں قائم اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول رہا ہے اور عبدالحکیم النعیمی کو اپنا سفیر  مقرر کیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...