گُرو نانک کے کرتارپور کے تقدس کی حفاظت

گُرمیت کور

138

یہ فروری 2018 تھا ،جب میں اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے آبا کی سرزمین پاکستانی پنجاب میں آئی تھی۔50 کے پیٹے میں جانے سے پہلے میرے لیے میری ماں دھرتی کو دیکھنا میری خوش قسمتی تھی۔یہ وہ زمین ہے جسےبٹوارے کے بعد صرف ایک بار  دیکھنے کی چاہت آنکھوں میں لیے میرے اجداد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ بٹوراے کے وہ تلخ اور بے رحم  ایام جب وہ اپنی زندگی بھر کی  جمع پونجی تج کر ایک قافلے کے ہمراہ اپنی دھرم مٹی سے کوسوں دور چلے گئے تھے۔

میں نے یہ تہیہ کر لیا تھاکہ میرے آبا نے جن نفرتوں کا سامنا کیا ،وہ  جس کشت و خون کی نظر ہوئے، ان کی جانیں جن بے رحم تھپیڑوں کی زد میں آئیں اور خاکستر ہوگئیں اور وہ جائیدادیں جو ان سے چھوٹ گئی تھیں ،میں ان کے سبھی زخموں پر مرہم بنوں گی۔ننھیال و ددھیال ہر دو پشتوں  سے میں پہلی فرد تھی جو مغربی پنجاب کی جانب عازمِ سفرتھی،  ممکن ہےکہ دوسرے نمبر پر میرا بیٹایہ سفر کرے۔ میں نے کبھی ارادہ نہیں کیا تھا کہ میں پاکستان جاؤں،اگرچہ میں درد ِ ہجرکے سبب جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتی تھی۔تاہم انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ نے بہت سےافسانوی  قصے کہانیوں کو طشت ازبام کیا اور یوں حکومتوں کی جانب سے پھیلائی گئی نفرتیں اپنا اثر کھونے لگیں۔ متحدہ پنجاب کی زلفِ سیہ ریشم کے  اسیرمیرے پنجابی کے استاد اور  گُرو امرجیت چندن اورمیری کتاب  کے شاہ مکھی مرتب،  لیکھکھ ، شاعر اور پنجابی زبان کے محب  محمود اعوان  نےیہاں آنے میں میری معاونت کی۔

لاہور ہوائی اڈے پر موجودگی اور بعدازاں لاہور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں منعقدہ پہلی پنجابی ادبی کانفرنس میں شرکت میرے لیے ایک خواب کی مانند تھی۔مجھے یہاں اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں مدعو کیا گیا تھا۔یہ دو زبانی اور باتصویر کتاب بچوں کے لیے لکھی گئی لوک کہانیوں پر مشتمل ہے جو گرمکھی اور شاہ مکھی، دونوں رسم الخطو ط  میں تحریر کی گئی ہے۔میں نے بمشکل چند ایک اسکولوں میں منعقدہ تقاریب رونمائی میں شرکت کی ۔اس کے بعد میں اپنی خواہشِ دیرینہ  کی تکمیل کے لیے ننکانہ صاحب  حاضری  کے لیے چل پڑی۔

مجھے وہ دن نہیں بھولتاجس دن مجھے پاکستان کا ویزاملا۔میں فرطِ جذبات سے رورہی تھی،کسی بچے کی طرح اچھل کود کررہی تھی،  میں بے چینی، گبھراہٹ اور وارفتگی کے ملے جلے جذبات سے مغلوب ہوچکی تھی۔وہ دن اور یہاں حاضری کادن، میں نے ننکانہ صاحب کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے نہیں سوچا۔میں وہاں  ادب کی مقدس اور پوتر جا پر کس طرح کھڑی ہو پاؤں گی؟ میں بابا نانک کی جاے پیدائش  کو نظر میں کیسےسما پاؤں گی؟ لیکن جب میں وہاں پہنچی تو میرے خواب چکنا چور ہو گئے۔میری خواہشات نے دم توڑ دیا۔

گنجان آباد  اور بے ڈھنگے قصبے کی تنگ و تاریک گلیوں کے بیچوں بیچ اونچی حفاظتی دیوار کی تحویل میں واقع جنم استھان قصبے سے بمشکل نظر آتا تھا۔میری امیدوں کے برعکس یہ سکھوں کا ویٹی کن نہیں تھا۔ جب ہماری گاڑی حفاظتی چوکی پر رکی تو مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہم پہنچ چکے ہیں۔بیرونی دیوار  سے باہر کوئی بھی چیز اس بات کی نشاندہی نہیں کررہی تھی کہ میں دنیا بھرکے 2کروڑ 30 لاکھ سکھوں کی محبت و عقیدت کے مرکزو منبع ، جہاں زندگی میں صرف ایک بار حاضری اور زیارت کے لیے وہ عمر بھر  دن میں دو وقت گڑگڑاتے ہوئےدعا کرتے ہیں ، وہاں پہنچ چکی ہوں۔اندرونی حصہ بھی ، اگرچہ یہ کھلی جگہ تھی، مگر میرے لیے خوش کن نہیں تھا۔ مجھے یہاں کے درو دیوار کا رنگ روغن نہیں بھایا، یہاں روایتی پیلی زرد دیواروں پر، جو پھیکی پڑ چکی تھیں،کنندہ خستہ حال کھنڈامصوری میں دلکشی کا کوئی عنصر موجود نہیں تھا۔ یہاں کی ہر چیز میرے تصورات  اور میری توقعات کے برعکس تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بنائی گئی بارہ دری ایک کونے میں خاموش کھڑی تھی،  اپنی پژمردگی اور خستہ حالی پر افسردہ، جیسے آخری لمحے گن رہی ہو۔

ان سب میں جو چیز بہت زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئی، وہ یہ تھی کہ اس دوران ایک لمحہ بھی تنہائی کا میسر نہیں آیا تھا۔جب سے ہم جنم استھان میں داخل ہوئے تھے، یہاں کے نگہبان مستقل طور پر ہمراہ رہے تھے اور باہر حفاظتی دستہ اپنے حصار میں لیے رہا۔ہم چاہنے کے باوجود ان سےیہ نہیں کہہ سکے کہ ہم یہاں کسی  عجائب گھر کی سیر کو آئے ہیں نہ ہی اہم شخصیات کے طور پر یہاں کا دورہ کرنے ، ہم یہاں فقط بابا نانک کی مقدس روح کو محسوس کرنے آئے ہیں۔مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھااور شرمندگی  بھی کہ میں نے اس طرح کی چیزوں سے اپنے  تجربے کو آلودہ کیوں کیا؟ میں بوجھل دل کے ساتھ لاہور واپس آئی تھی لیکن میں نے کرتارپور صاحب کی زیارت کرنے کا ارادہ نہیں بدلا تھا، چہ جائیکہ آج رات مجھے واپس نکلنا تھا۔

خوش قسمتی سے کرتار پور صاحب کی زیارت اور وہاں حاضری کا تجربہ  ننکانہ صاحب  حاضری کے تجربے کے برعکس تھا۔جوں ہی ہم وہاں پہنچے، ہر کوئی سواری سے اترا اور بھیڑ میں گم ہو گیا، کسی کی رہبری و رہنمائی اور کسی سے بات کیے بغیر، ہم نےایک قطار میں کھڑے یکے بعد دیگرے  اپنے بابا کی زیارت کی اور یہاں کا ماحول  اس کے لیے بالکل موزوں تھا۔درخت، پرندے، ہوا کی پاکیزگی و  تازگی، مٹی کی سوندھی مہک، یہ سب ہمیں مسحور کررہے تھے۔ ہم ماضی میں لوٹ چکے تھے۔

اسی لمحےجب میں نے اپنا پاؤں مٹی پر رکھا جذب و مستی کی کیفیت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔احاطے کی جانب جاتے ہوئے تنگ راستے اور کچا صحن، ہر ایک کو اس مٹی کو محسوس کرنے اور لذتِ لمس سے آشنا ہونے کا موقع فراہم کررہے تھے ،جسے کبھی بابا نانک نے اپنے ہاتھوں سے سینچا تھا۔جس لمحے میں نے اپنی پیشانی اس مٹی سے لگائی، میری آنکھیں بھرا گئیں، میری دیرینہ آرزو پوری ہوچکی  تھی، برسوں کی بے قراری کو جیسے قرار مل گیاتھا، وہ منظر، وہ خوشبو، وہ سکون ،  سبھی ایک روح پروریاد کی صورت میرے سفرِ زیست کا حصہ ہوگئے تھے۔آئندہ کچھ گھنٹے جو ہم نے وہاں گزارے، ان میں ہمارا کاسہِ  وجود بابا نانک کی بے پناہ محبت و عقیدت  سے لبریز ہو چکا تھا۔

بٹوارے سے پہلے کی سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی زمین ، جو بابا نانک اور بعد ازاں گردوارے کی ملکیت تھی، ان میں سے چند ایکڑ ایک خیراتی ادارے کی طرف سے دوبارہ خریدی گئی ہے جس میں گردوارے آنے والے زائرین اور یاتریوں کے لنگر کے انتظام کے لیے کھیتی باڑی کی جاتی ہے جسے دیسی کھیتی کا نام دیا گیا ہے۔ان کھیتوں کے درمیان چلتے ہوئے کوئی بھی بابا نانک کی موجودگی کو محسوس کر سکتا ہے اورکِرت اور ونڈ چکھنا جیسی روحانی تعلیمات کے بارے میں جان سکتا ہے۔ یہاں انسان اپنے آپ کو نام میں گھرا ہو محسوس کرتا ہے۔

ایک مسیحی لنگری تندوری پرساد بناتا ہے جسےدربار صاحب کی جانب جاتے ہوئے کھلے صحن کے درمیان  پنگٹ میں مسلمان اور سکھ مل بیٹھ کر کھاتے ہیں۔سبزیاں، دالیں اور اور اناج بابا نانک کے کھیتوں سے ہی آتا ہے۔میں نے آج سے پہلے اتنی پوترکوئی شئےنہیں چکھی تھی۔لنگر کھانے کے بعد ہم ان کے کھیتوں میں چہل قدمی کے لیے گئے۔ وہاں کے پکے ہوئے گنوں کا رس  چوستے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا کہ اس رس سے زیادہ  میٹھا اور عمدہ ذائقہ میری زبان نے آج تک نہیں چکھا ہے۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ جنت سے لایا گیا ہو۔

یہاں کرتارپور صاحب میں بھی کچھ ایسی چیزیں نظر سے گزریں جو کبیدہ خاطر  کر گئیں۔حفاظت کی خاطر تعمیر کی گئی اونچی بیرونی دیوار اور اس پر لگی خاردار تاریں آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھ رہی تھیں۔اسی طرح خستہ حال تختوں پر بابانانک کی تصویریں ، بجائے خودپرشکوہ دربار صاحب کی آرائش کی غرض سے لگائے گئے برقی قمقمے اور سستے پلاسٹک سے بنے پھول بھی ایسی ہی آزردگی کا سامان تھے، تاہم اس سب کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے ،یہی سوچ کرمیں وہاں سےیک گونہ احساسِ تشکر کے ساتھ رخصت ہورہی تھی۔

کرتارپور راہداری  کھولے جانے کا خیر مقدم نہ صرف بھارت، بلکہ دنیا بھر کے سکھوں نے کیا۔تاہم چند روزہ جشن اور طرفین کی حکومتوں کے لیےدادِ تحسین کے بعد کچھ اندیشے جنم لینے لگے۔اسی طرح کے ایک اندیشے کا اظہار میں نے پنجابی زبان کے ایک اخبار میں کیا، حیرت انگیز طور پر چند لمحات میں ہی سینکڑوں سکھ آوازیں اس اندیشے سے ہم آہنگ ہونے لگیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان جوں ہی اس حوالے سے میسر سہولیات کی بات کرنے لگے تومیرا انٹینا جواب دے گیا۔ چند دن بعد ایک پنج ستارہ ہوٹل کے بارے میں سنا تو راہداری کھلنے کی خوشی کاتمام تر جوش ماند پڑ گیا۔اب  مجھے خستہ حال ننکانہ صاحب کی طرح کرتار پور کی شان و سطوت بھی قصہِ پارینہ ہو جانے کا خوف لاحق ہو گیا تھا۔

کوتاہ بینی،ورثے کے حفاظتی لائحہِ عمل اور دور اندیش قیادت کے فقدان کے باعث  ہم سکھ اپنی تاریخی یادگاریں کھو رہے ہیں۔مشرقی پنجاب میں کار سیوا نامی تنظیم نے تمام گردواروں کو سنگِ مرمر سے مزین کردیا ہے اور ان میں گرو نانک کے دور کی کوئی قدیمی و تاریخی علامات باقی نہیں رہیں۔خوش قسمتی سے پاکستان میں واقع لمحہ بہ لمحہ شکست و ریخت کا شکار ثقافتی تاریخی عمارتیں کم آمدورفت  کے باعث  جوں کی توں برقرار ہیں۔

بیشتر سکھ کرتار پور صاحب کو امرتسر کے دربار صاحب کی طرح ایک سیرگاہ نہیں بنانا چاہتے۔ وہ راحت ، وہ راوی کنارے جنگلات میں بابانانک کا وجود ، وہ درخت، وہ کھیت کھلیان، وہ پر سکون احاطہ،  وہ چہچہاتے پرندے، وہ کھلے صحن میں پیش کیے جانے والا خالص دیسی لنگر ، یہ سبھی خوبیاں کرتار پورصاحب کو ایک منفرد جگہ بناتے ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔

چنانچہ سوال یہ ہے کہ پاکستانی حکومت ان دونوں میں توازن کیسے قائم رکھے گی؟ یہ اتنا مشکل نہیں ہے۔ تھوڑی  سی سوچ بچار اور حسنِ انتظام کی بدولت ایک  بڑے سانحے سے بچا جاسکتا ہے۔ماحول دوست سیاحت آگے بڑھنے کا عمدہ طریقہ ہو سکتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ایک کمیشن تشکیل  دیا جائے جو درج ذیل چیزوں کا احاطہ کرے:

1۔ گردوارے کی ملکیت اور اس کی انتظامیہ کے زیرِ تصرف زرعی اراضی کو بالکل نہ چھیڑا جائے تاکہ یہاں دیسی کھیتی کی کاشت جاری رہے۔یہ تمام کے تما م سو (100) ایکڑ قدرتی حیات کے لیے وقف کردینے چاہییں ، جس میں آدھا رقبہ جنگلات کے لیے وقف ہو جہاں گرو نانک کے دور کی طرح متنوع نباتات و حیوانات کی نمود و افزائش کی جائے۔

2۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ موجودہ عمارت کا نقشہ جوں کا توں برقرار رکھا جائے ۔ نمائش کی غرض سے کرتارپور کے بابانانک سے وابستہ ورثے کو ازسرِ نو تعمیر کیا جائے اور سیاحوں کے نظارے کے لیے پیدل چلنے کے لیےراستہ بنایا جائےجس کے اطراف درخت لگائے گئے ہوں۔

3۔ مذہبی یاتریوں کی سہولیات کے لیے سادہ اور ماحول دوست بندو بست کیا جائے اور ان کا طرزِ تعمیر بابانانک کے دور سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اس کے لیے قطعاً نئی اور جدید طرز کی بلند و بالا عمارتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔اور یہ سہولیات موجودہ احاطے سے دور مہیا کی جائیں تاکہ اس کا فطری ماحول اورقدرتی مناظر اپنی تمام تر حسن و رعنائی کے ساتھ باقی رہیں۔

4۔ فی یوم زائرین اور سیاحوں کی تعداد کو منظم کیا جائے اور پیدل چلنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ضعیف اور معذور زائرین کی آمد و رفت کے لیے برقی ریل گاڑی کا اہتمام کیا جائے ۔ذاتی گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی جائے۔

5۔ اسی طرح کی حکمتِ عملی بھارتی جانب واقع ڈیرہ بابا نانک کے لیے بھی اپنائی جائے۔ آخر کار یہ دونوں مقدس جگہیں باہم منسلک ہیں۔ یہ جگہ بھارتی زائرین کے وقوف اور یہاں سے کرتار پور صاحب کے لیے جانے والے زائرین کو منظم رکھنے کے کام آتی ہے۔

گُرو نانک یونی ورسٹی امرتسر کے اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکٹیکچر ان دونوں منصوبوں  پر عملدرآمد کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اس طرح کے اقدامات سے کرتار پور صاحب کو سیاحوں اور زائرین کی دست بردی و بے رحمی کی نذر ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔گردوارے کے احاطے میں پلاسٹک کی بوتلوں  ،تھیلوں اور اس طرح کی دیگر مصنوعات پر پابندی ہونی چاہیے۔یہاں فقط روایتی  کھانوں، دستکاری مصنوعات اور ثقافتی اشیا کے بازار کی اجازت ہونی چاہیے۔بابا نانک کو خراجِ عقیدت پیش کرنے  کے لیےموسیقاروں، رباب  ، طبلہ نواز وں اور لوک گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اورآخری مگر سب سے اہم بات یہ کہ کرتار پور راہداری بلا تفریق مذہب و نسل تمام افراد کے لیے کھولی جائے کیوں کہ بابا نانک سکھوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں، ہندوؤں اور حتیٰ کہ ملحدین کے لیے بھی قابلِ احترام شخصیت ہیں۔خدارا کرتار پور کو اسم بامسمی رہنے دو۔۔۔۔ مسکنِ خدا!

گرمیت کور بچوں کی مصنفہ ہیں۔ ان کی دو زبانوں میں مرتبہ کتاب ’’پنجاب کی دلچسپ لوک کہانیاں‘‘ کافی معروف ہیں۔وہ ماہرِ تعلیم  کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہیں۔وہ پنجابی زبان کی ترویج و اشاعت اور ماں بولی سے محبت کی بیداری کے لیے ایک سرگرم اور متحرک کارکن ہیں۔

 

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...