سالِ نو: روشن فردا کی آرزو تو ہےمگر۔۔۔۔

181

قارئین تجزیات کو سال نو مبارک ہو

آج اکیسویں صدی کے انیسویں برس کا پہلا دن ہے۔ اٹھارہواں برس کئی کہانیاں، کئی فسانے اپنے دامن میں لیے رخصت ہو چکا ہے۔ عالمی، علاقائی اور بالخصوص قومی سطح پر کئی طرح کے تغیرات تاریخ کے سینے پر ثبت کیے اب خود بھی تاریخ بن چکا ہے۔ ملک ِ پاکستان میں گزشتہ برس کا آغاز دہشت گردی و فرقہ واریت کے تدارک میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والی دستاویز ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کی رونمائی اور نشر و اشاعت سے ہوا جس پر ملک بھر میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ عام انتخابات کا سال ہونے کے باعث گزشتہ برس  کے دوران  سیاسی حوالے سے انتہائی گہما گہمی  رہی۔ پاکستانی پارلیمانی تاریخ کی تیسری حکومت تمام تر مسائل و تنازعات کے باوجوداپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعدایوانِ اقتدار سے رخصت ہوئی اور نتائج کے حوالے سے متنازعہ عام انتخابات کے  نتیجے میں پاکستان تحریکِ انصاف کامیاب قرار پائی اور عمران خان وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر متمکن ہوئے۔نئی حکومت کو مذہبی معاملات کی بنا پر  مذہبی جماعتوں کی جانب سے انتہائی دباؤ کا سامنا رہا تاہم اس دوران  حالیہ برسوں میں پر اسرار طور پر  زور پکڑ جانے والی بریلوی تنظیم  تحریکِ لبیک  کے خلاف ریاست نے گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کے آگے بند باندھ دیا جو ریاست کے لیے نیک شگون ہے۔

گزشتہ برس کے اوائل  میں پچھلی حکومت  اورعسکری قیادت  میں کافی تناؤ رہا اور اس دوران محض ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے علاوہ شاید ہی کوئی معاملہ ہو، جس پر سیاسی و عسکری قیادت ہم آہنگ رہی  ہو۔  اس دوران عسکری قیادت سیاسی قیادت پر دباؤ کے لیے  بریلوی  تحرک  کی پشت پناہی کے الزامات کے زیرِ اثر رہی۔ تاہم نئی حکومت کے قیام کے بعد سیاسی و عسکری قیادت کے مابین بہتر تعلقات کے مظاہر سامنے آئے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے انتخابی ایجنڈے کے اہم نکات بدعنوانی کے خاتمے، معیشت کی بہتری  اور  انتظامی اصلاحات پر مشتمل تھے۔ حکومت قائم ہوئے  نصف برس گزرنے کو ہے مگر ابھی تک  حکومت اپنے کسی بھی انتخابی وعدے پر پوری اترتی نظر آرہی ہے نہ ہی ان تمام اصلاحات کے حوالے سےاس کی کوئی سمت متعین ہوئی ہے۔ ادھر عسکری قیادت ایک بار پھر اپنے پرانے دوستوں سے ایک بار ہاتھ ملاتی نظر آرہی ہے جس کا مظہرکالعدم مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں  پر مشتمل وفد کے دورہ وزیرستان کی صورت دیکھا جاسکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا2018 کی مانند2019 بھی ایسی ہی بے سمتی اور گومگو کی کیفیت کا شکار رہے گا جیسا کہ سیاسی و عسکری قیادت کے حالیہ اقدامات سے لگتا ہے؟ کیا مڈٹرم انتخابات اور حکومتیں گرانے کی بازگشت کے ساتھ ساتھ سینٹ  میں  کھینچاتانی  اس نئے سال کے سیاسی منظرنامے کی عکاسی کررہی ہے ؟  کیا ہم واقعتاً دہشت گردی و شدت پسندی کے خلاف عملی و نظریاتی طور پر یکسو ہو سکیں گے یا یہی حالیہ وگذشتہ چلن جاری رہے گا؟ امیدِ بہار اور خوابِ روشن فردا کسی بھی نئے سال کے ساتھ مخصوص ہے ، تو پاکستانی قوم اس طرح کے کسی خوبصورت اور دلکش خواب کی تعبیر کی طرف پیش قدمی کر سکتی ہے ؟ اہم سوال یہ ہے کہ ان غیر واضح حالات میں سیاسی و سماجی استحکام ، معاشی ترقی اور ریاستی نظم میں بہتری کی امیدکس حد تک  کی جاسکتی ہے؟

 اس بارے میں تجزیات کے قارئین اپنی آرا کا اظہار اسی صفحے پر  نیچے جا کر کر سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...