تشکیلِ قوم میں مذہب کا کردار

304

ملکی تاریخ کے ہر اہم موڑ پر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کا سوال سر اٹھائے آن کھڑا ہوتا ہے ۔قوم کو ایک بار پھر سیاسی ارتقاکےسفر کا ایک اہم مرحلہ درپیش ہےجہاں اسٹیبلشمنٹ اقتدار پر اپنی گرفت مزیدپختہ  کرنے کی تگ و دو کررہی ہے۔پیہم تغیر کے موجودہ مرحلے میں ریاست کے سیاسی  خدو خال اور سماج سے اس کے تعلق کا سوال ایک بار پھر سامنے آنے لگا ہے۔گزشتہ ہفتے بانیِ پاکستان کے یومِ پیدائش پرکئی اہلِ علم نےقائدِ اعظم اور ہمارے  تصورِ ریاست کے مابین بڑھتی خلیج کی نشاندہی کی ہے،جس سےتشکیلِ قوم کے حوالے سے دو متضاد تصورات نمایاں ہوتے ہیں۔

قائد کے خواب کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے ملک کی مقتدر اشرافیہ نے مذہب کو نظمِ ریاست کی تشکیل میں رہنما اصول کے طور پر استعمال کیا۔ ملک کے مقتدر طبقات نے مذہبی اقلیتوں ، بڑی سیاسی جماعتوں اور سابقہ مشرقی پاکستان کے تمام تر تحفظات کے باوجود ۱۹۵۶ سے لے کر آج تک مذہب اور مذہبی گروہوں کو استعمال کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔چار آئینی مسودات پر خاطر خواہ بحث کے باوجود قانون ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد کی مخالف تواناآوازوں کو نظر انداز کرتے ہوئےاسے سرنامے کے طور پرپہلےملکی  آئین کا حصہ بنا دیا۔۱۹۵۶ کے آئین نے ریاستی ڈھانچے کےمستقبل کی بنیادرکھی اور اس کے بعد کے تمام تر واقعات و حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

مذہب اور مقتدر اشرافیہ کا باہمی رومانس مد و جزر کے کئی مناظر و مراحل دیکھنے اور طے کرنے کے بعد اس  موڑ پر آ پہنچا ہے  جہاں تشکیلِ قوم کے عمل میں ایک نئی مذہبی حساسیت کی آمیزش کے امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔یقیناً یہ نئی مذہبی حساسیت ریاستی چھتری تلے ہی پروان چڑھی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے قراردادِ مقاصدمیں موجود حاکمیتِ اعلیٰ کے تصور سے جڑے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔مذہبی گروہ اس نعرے کو اختیارات  کے حصول  اور قانون سازی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ریاست دو وجوہات کی بنا پر ان گروہوں کے ساتھ بڑے اطمینان سے  تعاون کرتی ہے؛ اولاً یہ گروہ اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے میں مقتدر اشرافیہ کےلیے مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ثانیاًوہ ریاست کے تزویراتی  مفادات  کے تحفظ  جیسی خدمات بھی بجا لاتے ہیں۔ مذہب سے بلا واسطہ معاملہ کرنے میں ریاستی اداروں کی ناکامی بھی اس باہمی تعاون کی اہم وجہ ہو سکتی ہے۔ریاست نے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت جیسے کئی ایک ادارے قائم تو کیے ہیں لیکن ان اداروں کے پاس قانونی اور عدالتی اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ان اداروں کے قیام کا ایک مقصد جہاں مذہبی رہنماوں کی خوشنودی  ہے وہیں اسٹیبلشمنٹ نے ان اداروں کو اپنے اقدامات کی تائید کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستانی جنگ نہ صرف مادی  حوالے سے کٹھن تھی بلکہ  دہشت گردوں کی نظریاتی و سیاسی بنیادوں  کو کمزرو کرنا بھی ایک تھکا دینے والا عمل تھا۔تاہم اسٹیبلشمنٹ کے لیے اداراتی بالا دستی برقرار رکھنے کے لیےمذہبی اتحادیوں کے حوالے سے اپنے طرزِ عمل سےرجوع کرنا مشکل تھا۔مذہبی گروہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اخلاقی جواز کی فراہمی کا موجب بنتےاور بدلے میں اسٹیبلشمنٹ ان پر عنایات کرتی  جن  کی بنیاد پر مذہبی ادارے پروان چڑھے اوران کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوا۔بیشتر مواقع پر مذہبی رہنماؤں نے ملک میں نفاذِ شریعت  کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں پراختلافی یادداشت بھی قلم بند کی مگر ہمیشہ ریاست نے ان کی مخالفت کو برداشت کرتے ہوئے انہیں مزید مراعات دے کرمطمئن رکھنے کی کوشش کی۔

تاہم 9/11 کے بعد ملک میں خود ساختہ ’’عوضی عسکریت پسندوں‘‘ نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور مذہبی رہنماوں کی اکثریت نے ان کے اقدامات کی مخالفت میں کوئی گرم جوشی نہیں دکھائی تو مذہبی رہنماوں اور ان کی جماعتوں کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوئی ۔ اسٹیبلشمنٹ کی قابل ِ اعتماد اتحادی مذہبی سیاسی جماعتوں؛جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماے اسلام (ف) نے اپنے راستے باہم جد اکر لیے۔

ان کی علیحدگی میں دو واقعات نے اہم کردار ادا کیا۔اول؛ متحدہ مجلسِ عمل کا کامیاب تجربہ جس نے۲۰۰۲ء کے عام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی، اس کامیابی نے ہر دو جماعتوں میں انفرادی پرواز کا اعتماد پید اکیا اور دونوں جماعتیں اپنی اپنی آزادانہ سیاسی حکمتِ عملی مرتب کرنے کی کوشش میں جت گئیں۔دوم؛ تمام ، بالخصوص ان جماعتوں سے بالواسطہ یابلاواسطہ وابستہ مذہبی عسکریت پسندوں میں اسٹیبلشمنٹ اور ان کی مذہبی نظریاتی قیادت کےمابین  تعلقات کے باعث بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب۔اسی بنا پر  کسی بھی نا خوشگواری سے بچنے کے لیے دونوں جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ مخالف  تاثر قائم کرنے کی کوششوں کی شروعات کیں مگر ان کی یہ کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں، جیسا کہ  متحدہ مجلسِ عمل کی جانب سے  گزشتہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر  حلقہِ انتخاب کو متاثر کرنے میں ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے۔

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ایک نیا کھیل شروع کر چکی تھی، عسکریت پسند جماعتوں اور چند ایک چھوٹی مذہبی و سیاسی جماعتوں پر مشتمل دفاعِ پاکستان کونسل ڈرون حملوں  اور امریکہ مخالف جذبات کی بنیاد پر عوام کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی تھی۔تاہم یہ اتحاد بھی انتخابی کامیابی کے حصول کے لیے ناکافی تھا۔ادھر تحریکِ لبیک اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین رومانوی تعلق بھی جزوقتی ثابت ہوا اور دیوبندی عسکریت پسندوں کے خلاف بریلوی جذبات کی برانگیختگی کا تصور بھی ناکامی سے دوچار ہوا۔ تاہم اس دوران اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف تمام مکاتبِ فکر کے نمائندہ  سینکڑوں علما کےزیرِ دستخطی پیغامِ پاکستان جیسی  متفقہ دستاویز کی اشاعت و رونمائی میں کامیاب ٹھہری۔کئی سنجیدہ علما اس دستاویز پر دستخط کرنے سے ہچکچاتے نظر آئے لیکن بیشتر کالعدم جماعتوں کے سربراہ اس حوالے سے کافی پر جوش نظر آئے کیوں کہ وہ اس عمل میں اپنی بقا دیکھ رہے تھے۔ ملکی سلامتی کے ادارے بھی تعلیمی اداروں میں پیغامِ پاکستان کی ترویج و تشہیر میں مصروف بہ عمل ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے کئی افراد ابھی بھی ان کالعدم جماعتوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کے حامی ہیں جو ماضی میں ریاست کے عوضی کردار کے طور پر کام کرتی رہی ہیں تاہم وہ ان جماعتوں کو ریاستی بیانیوں پر اختیار دینے کے حق میں نہیں ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کو محض اپنے نظریاتی ڈھانچے کی تائید و توثیق کے  آلات کی ضرورت ہے اور وہ ملک میں وطن پرست  منصوبے کی حقیقی مالک  بن چکی ہے اور اس کے دروازے ہر اس مذہبی گروہ وں کے لیے کھلے رہیں گے جو مذہبی بیانیوں پر ریاستی اختیار کو تسلیم کریں گے۔

اسٹیبلشمنٹ مذہبی حساسیت کے اپنے نئے تصورکی بنیاد پر نئے مذہبی عہدو پیماں طے کرے گی  تاہم بظاہر وہ اس بات پر مطمئن نظر آتی ہے کہ مذہبی آئینی و قانونی عمل اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور اس حوالے سے اس پر کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی ہے۔سماج میں بڑھتی ہوئی مذہبیت کی بنیاد پر مذہب لوگوں کو باہم جوڑ رہا ہے۔غالباً اسے یہ بھی یقین ہے کہ بنیاد پرستانہ  رجحانات کے تدارک کے لیےتبلیغی جماعت جیسی مذہبی سیاسی تحریک کی دست گیری اور ایک مخصوص طرز کا تصوف اور ایک خاص قسم کی روحانیت کافروغ  کافی ہو گا۔

اب  اسٹیبلشمنٹ اعتماد کے ساتھ دیگر دائرہ ہاے کار کی طرف قدم بڑھا سکتی ہے۔جوں جوں اس کی طاقت میں اضافہ ہو گا، ’قومی یکجہتی‘ کے مقصد کا حصول سہل ہوتا جائے گا۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...