2019:رواداری کا سال

ہر سال دسمبر اپنے  ساتھ ماضی  کی تلخ یادیں لے کر آتا ہے اور پھر جاتے جاتے ہر تلخی کے مقابلے میں ایک نئی امید دے کر جاتا ہے،اس طرح  ہم ماضی کی تمام تلخیوں کو بھلا کر ایک روشن اور اجلے مستقبل  کی امید کے ساتھ نئے سال میں داخل ہوتے ہیں۔ سال نو کی آمد سے قبل ہی ہر ذی شعور اپنے  لیے نئے سال کے اہداف مقرر کرتا ہے اور اپنے ماضی کا محاسبہ کرتے ہوئے نئے سال  کے لیے نئے جوش،ولولے اور عزم کے ساتھ آگےبڑھتا ہے۔

آئندہ سال کے اہداف کی تعیین  افراد کی سطح پر بھی ہوتی ہے اور قوموں کی سطح پر بھی، ہر فرد اپنے  شخصی دائرے کو دیکھتے ہوئے ایسی ترجیحات طے کرتا ہے جو اسے خاندان اور سماج میں  بہتر  مقام دے سکیں،اسی طرح  اقوام عالم اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے  بین الاقوامی  سطح پر اپنی قوم کو نمایاں اور ممتاز مقام دلانے کے لیے  اپنی ترجیحات کا جائزہ لیتی ہیں   اور نئے اہداف مقرر کر کے ان کے حصول کے لیے کوشاں ہو جاتی ہیں۔ بین  الاقوامی سطح پر اب تک صرف متحدہ عرب امارات  کےصدر  کی جانب سے نئے سال کے لیے  ترجیحات    راقم کی نظر سے گزری ہیں جن کے مطابق   شیخ خلیفہ زید بن النہیان نے سال 2019کو رواداری کا سال قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ  رواداری  کا سال منانے کا مقصد متحدہ عرب امارات میں رواداری کی اقدار کو مضبوط بنانے اور رواداری کے مرکز کے طور پر اس کے کردار کو مستحکم بنانا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں 200 سے زائد قومیتوں کے لوگ پر امن طور پر رہ رہے ہیں  اور اسی رواداری کے ذریعے  ہم دہشتگردانہ اور انتہاپسندانہ سوچ کو شکست دیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دنیا میں پہلی وفاقی حکومت ہے جس نے وزیر رواداری تعینات کرکے قومی رواداری پروگرام شروع کیا ہے۔

شیخ خلیفہ نے رواداری کے سال کے لیے  سات اہداف بیان کیےہیں۔

ملک بھر میں کمیونٹی سنٹرزکے کردار کو فعال بنا کر روادار اور ہم آہنگ معاشرے کو فروغ دینا۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے نظام کے اندر رواداری  کی اقدار کو  مضبوط  کرنا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے نسل نو کو رواداری کا درس دینا۔سرکاری و نجی   اداروں میں سب کے لیے یکساں مواقع کی اہمیت کے حوالے سے تعلیمی پروگراموں کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں اور تنظیموں میں محفوظ، روادار اور ہم آہنگ ماحول  کو فروغ دینا۔ثقافتی رواداری کے ذریعے ملک بھر میں رہنے والے 200 سے زائد قومیتوں کے افراد کیلئے مختلف پروگراموں کے انعقاد سے فن اور ثقافت کے شعبے کے ذریعے ان کے درمیان رابطوں کو بڑھانا۔   مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان رواداری اور بات چیت کیلئے خصوصی اقدامات اور منصوبوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کو  رواداری کے عالمی مرکز   بنا کر اسے ماڈل کے طور پر پیش کرنا۔  سپریم نیشنل کمیٹی برائے رواداری  کے ذریعے ہم آہنگی کیلئے پالیسی، قانون سازی اور انتظامی قواعد و ضوابط پر کام کرنا۔ معاشرے میں رواداری اور بقائے باہمی کی اقدار پھیلانے میں میڈیا  کا کردار کلیدی ہےالیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے  رواداری کے ماڈل کو فروغ دینا۔

امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید کی جانب سے2019کو رواداری کا سال قرار دینے کے فیصلے کے تسلسل میں نائب صدر، اور دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے رواداری کے بارے میں سپریم نیشنل کمیٹی کے قیام کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کو اس کی پالیسیوں، قوانین اور طریقوں کے ذریعے ایک روادار ثقافت کے لیے عالمی ریفرنس پوائنٹ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رواداری سے طاقت اور برداشت میں اضافہ اور عالمی ہم آہنگ معاشرے کے قیام میں مدد ملتی ہے۔انھوں نے کمیٹی کے ارکان پر زور دیا کہ رواداری کے سال کے لیے ایک جامع فریم ورک پر کام کریں اور اس کے ساتوں نکات و اہداف  پر مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر تمام پروگراموں اور اقدامات کے دوران عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

شیخ خلیفہ کے  اس اعلان کو  بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے اور  عالمی پریس  میں امارات کی رواداری  کے فروغ میں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔فرانس کے اخبار   Lepetitjournalنے  اپنے اداریے میں لکھا کہ متحدہ عرب امارات میں200 سے زائد ممالک کے لوگ آپس میں جس رواداری اور باہمی  محبت و احترام سے رہتے ہیں وہ   دنیا بھر کے لیے  ماڈل ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے نئے سال کو رواداری کے فروغ کے لیے مختص کرنے کا اعلان   پاکستان کے لیے بھی لائق تقلید ہے۔رواں برس “پیغام پاکستان” کے عنوان سے  پاکستان میں بھی      ہم آہنگی اور رواداری  کے فروغ  پر خاصا کام ہوا جس کے لیے   ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل  ڈاکٹر ضیاء الحق اور اسلامی نظریاتی کونسل کے  چیئرمین ڈاکٹر  قبلہ ایاز   کی خدمات      قابل ستائش  ہیں۔ اس باب میں پرائیویٹ سیکٹر میں محمد عامر رانا اور ان  کے ادارے  پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز(PIPS  (     کا کام  ناقابل فراموش ہے۔حکومت پاکستان  کو  چاہیے کہ  وہ آئندہ سال کو رواداری کا سال قرار دے  کر  پیغام پاکستان    کی وسیع پیمانے پر تشہیر کرے اور   میڈیا کے تمام ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے ملک کے چپے  چپے  میں اس پیغام کو  عام کرے۔خدا کرے کہ نیا سال پاکستان کے لیے امن،رواداری اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔

قارئین تجزیات کو نیا سال مبارک۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...