ریاست سمیت تمام مذہبی و سماجی طبقات کو مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی ایک روزہ نشست ’’پاکستان میں مسلکی حرکیات کی تفہیم‘‘ کا احوال

196

مرتبہ : شفیق منصور، حذیفہ مسعود

۱۶ دسمبر۲۰۱۸ء بروز بدھ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس ا سٹڈیز کے زیرِ اہتمام ایک روزہ مکالماتی سیمینار بعنوان ”پاکستان میں مسلکی حرکیات کی تفہیم“کا انعقاد عمل میں لایا گیاجس میں مختلف طبقہ ہائے فکر کی نمائندہ ممتازعلمی شخصیات نے شرکت کی۔ تعارفی نشست کا آغاز پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے سینئر ریسرچرصفدر سیال نے کیا۔انہوں نے سیمینار کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسلکی یا فرقہ وارانہ حرکیات کو سمجھنے اور اس کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت اگرچہ ہر جگہ ہے لیکن ہمارے ملک کے منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تواس کی اہمیت دوچندہو جاتی ہے۔ مسلکی وفرقہ وارانہ واقعات کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کی نسبت  رواں سال صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہےتاہم انفرادی وریاستی سطح پر مزید سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ابھی باقی ہے اور اسی ضرورت کاا دراک کرتے ہوئے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیزنے اس تقریب کا اہتمام کیا ہے۔

تعارفی نشست میں سیمینار کے مہمانِ خصوصی جرمن سفیر مارٹن کوبلر(Martin Kobler)نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ سماجی تفریق  اورمسلکی اختلافات کا عنصر صرف پاکستان میں ہی موجود نہیں بلکہ ماضی بعید سے آج تک دنیا مسلسل ایسے مسائل کا شکار رہی ہے۔ہم خود ماضی قریب میں جنگِ عظم اول ودوم اور فرانس جرمنی جنگ جیسے تباہ کن حالات سے گزر چکے ہیں۔لیکن وقت کے ساتھ ہمیں ادراک ہوا کہ ا من وہم آہنگی سے ہی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ آج جرمنی وفرانس کے مابین نہ صرف اچھے روابط قائم ہیں بلکہ ماضی کے دیرینہ دشمن جرمنی اور فرانس کی مشترکہ تاریخ کی کتاب ہر دو ممالک میں شاملِ نصاب ہے۔مسائل کا حل ناممکن نہیں ہے تاہم اقتدار پرست قوتیں اپنے مفادات کی آبیاری کے لیےعوام میں موجود اختلافات کو ہوا دے کر سماج میں بدامنی ونتشار پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔مغرب میں اسلاموفوبیا اور دیگر نسلی امتیازات اسی طرزِ سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔اس سب کے باوجودہمیں نہ صرف برداشت اور احترامِ باہمی کو سیکھنا چاہیے بلکہ اس سے بھی اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ سماجی تنوع سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس سے مثبت جذبات واحساسات کے فروغ کا کام لینا چاہیے۔یورپ اس کی بہترین مثال ہے جو خون ریز جنگوں کے بعد اب امن اور ہم آہنگی کے ساتھ مشترکہ طور پر آگے بڑھ رہاہے۔انہوں نے سماجی  و عوامی سطح پر قابلِ قبول اور قابلِ عمل جدید عمرانی معاہدے کی ضرورت پر زوردیا۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے اثرو رسوخ کے باوصف مثبت عوامی ومعاشرتی رویوں کے فروغ کے لیے علماء اور مذہبی وسماجی قائدین رہنمایانہ کردار ادا کریں۔

سیمینار کی پہلی مکالماتی نشست میں ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بطور صدر مہمانِ خصوصی مارٹن کوبلر(Martin Kobler) کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امن و ہم آہنگی کے فروغ  کے لیے یورپی تاریخ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی چند دن قبل سعودی عرب میں ”امتِ واحدہ“ کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی جس میں باقی مسلم ممالک کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایران کے سنی و شیعہ علما  نے بھی شرکت کی۔کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ سعودیہ ایران کشمکش کا سبب مذہبی نہیں سیاسی ہے۔امید ہے تمام مسلم دنیا ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ہم آہنگی ورواداری کی جانب بڑھے گی۔

بعد ازاں ڈاکٹر خالد مسعود نے سب سے پہلے مسلکیت اورفرقہ واریت کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مسلکیت یا Sect اپنی اصل میں منفی معنی نہیں رکھتا،اس کے اندر منفیت اس وقت در آتی ہے جب اس میں تشدد اور حتمیت کاعنصر پیدا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا ذمہ دار جہاں ایک طرف مذہبی طبقہ ہے وہاں ریاست نے بھی اس کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ تاریخ ِاسلام کی ابتدائی صدیوں میں مروجہ متشدد مسلکیت اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔اختلاف کی موجودگی کو رحمت سمجھا جاتا تھا۔پھر آہستہ آہستہ مذہبی تعبیر کے تمام شعبوں میں یہ سوچ غالب آگئی کہ برحق صرف وہی ہے جس سے مسائل نے جنم لینا شروع کیااور یہ روایت ابھی تک چلی آرہی ہے۔قیامِ  پاکستان کے بعد قومیتی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے مذہب کا سہارا لیا گیا اور اس کے لیے آئین میں تحفظ ِشریعت کی بات کی گئی جو ریاستی مفادات کے سبب فرقہ واریت اور مسلکیت کے تحفظ پر منتج ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن ایسے مثبت تنوع اور تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس میں رواداری اور باہمی مکالمہ کی روایت موجود ہو۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں اسلام کی اولین دہائیوں کی تنقید ی روایت کے احیا اور قرآن و سنت کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔

اس نشست سے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمدعامر رانا نے بھی اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ مسئلے کا ادراک اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن بنیادی چیز یہ ہے کہ ہم آہنگی کو عملی طور پر فروغ کیسے دیا جاسکتا ہے۔ آئینی اقدامات کے ساتھ ساتھ نچلی سطح کے سماجی رویوں پربھی نظرِثانی کی ضرورت ہے۔سوال یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو پرکھنے اور دیکھنے کے تناظر کو مثبت اور صحت مند کیسے بنا سکتے ہیں۔

سیمینار کی دوسری نشست کی صدارت معروف دانشورخورشیدندیم نے کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں اس چیز پر زور دیا کہ مسلک اور فرقے کے درمیان فرق ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔فرقہ بری چیز ہے مگر مسلک بری شئے نہیں ہے۔فرقہ واریت میں سیاسی یا دنیاوی مفادات پنہاں ہوتے ہیں جبکہ مسلک صحت مندعلمی مشق کے نتیجے میں وجود پذیر ہوتا ہے۔اس مقدمہ کو انہوں نے تاریخی تناظرمیں تفصیلاً پیش کیا کہ جب کبھی مذہبی تعبیر سیاسی یا دنیاوی عنصر کے زیرِ اثر آتی ہے معا شرے میں تشدد اور عدمِ برداشت بڑھ جاتا ہے۔

سیمینار کی اسی نشست میں ثاقب اکبرنے فرقہ واریت کے تدارک کے لیے فنونِ لطیفہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا پاکستان میں اس کی فعالیت کمزور ہوگئی ہے جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ دیگر مقررین میں صاحب زادہ امانت رسول،ڈاکٹر رشید احمد،عبدالحق ہاشمی، سید احمد بنوری، اکبر زاہدی اور ڈاکٹر خدیجہ عزیز شامل تھے۔شرکا کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں بین الوفاق امتحانات کی ضرورت پر زور دیاگیا اورسفارش کی گئی کہ مدارس کے تمام وفاق طلبہ کو موقع دیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی وفاق کے تحت امتحان دے سکیں تاکہ رواداری کو فروغ ملے۔ ڈاکٹر خدیجہ عزیز نے ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور سماجی ذرائع ابلاغ کی آمد سے پیش تر اور بعد فرقہ وارانہ رجحانات  کے اثرات ونتائج کے تقابلی جائزے کی ضرورت پر زوردیا۔

کانفرنس کی تیسری نشست کی صدارت آئی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین نے کی۔انہوں نے کہا کہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ذمہ داری عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ علماء سے مل کر بات چیت کریں اور تشدد کو ختم کرنےکا طریقہ کار وضع کرنے میں ان کی معاونت کریں۔اس نشست میں ڈاکٹر حسن الامین کے علاوہ مولانا امجدعباس، مجتبی راٹھور، ضیاء الحق نقشبندی، ڈاکٹرعبدالمہیمن اورمحمد رشید نے بھی اظہارِ خیال کیا۔نشست کے شرکا ء کا کہنا تھا کہ ہر مسلک میں معتدل اور شدت پسند دونوں عناصر ہوتے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ معتدل مذہبی رہنما شدت پسند عناصر کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنا مثبت کردار ادا کریں۔


یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...