سماجی ہم آہنگی: ہمیں رویے بدلنا ہوں گے!

186

فرقہ واریت صرف مذہبی نہیں ہوتی، یہ خاندانی، سیاسی اور علاقائی بھی ہوتی ہے، ایک طرف یہ بات مثبت ہے کہ یہاں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ہی نہیں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بستے ہیں۔ گویا پاکستانی معاشرہ ایک متنوع معاشرہ ہے۔ دنیا میں تنوع پر مبنی معاشرے ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہیں۔افراد اورمعاشرے کی صلاحیتوں ،رجحانات اور نظریات کا تنوع معاشرے کو آگے بڑھنے میں مدد  دیتا ہے۔ زندگی کے میدان مختلف ہوتے ہیں اور مختلف میدانوں میں مختلف صلاحیتیں اور مختلف رجالِ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ تنوع فرقہ واریت کا روپ اس وقت دھارتا ہے جب ایک گروہ برتری کی نفسیات میں مبتلا ہوتا ہے،اپنی رائے کو حتمی اور اٹل خیال کرتا ہے۔ خاندان اور ذات پات میں خود کو سب سے اعلیٰ اور برترمانتا ہے یاعلاقے کو اپنے آباؤاجداد کی جاگیر خیال کرتے ہوئےاس کے وسائل و ذرائع سے کسی اور کو مستفید ہونے کا حق نہیں دیتا۔ یہ نفسیات اور رویے درحقیقت فساد و فرقہ کی بنیاد بنتے ہیں ۔ ان رویوں سے معاشرہ  اخلاق، علم اور باہمی ربط میں انحطاط کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس مشکل سے باہر نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ معاشرے کی اکائیوں میں جہاں جہاں خرابی ہے اسے دور کیا جائے۔ مثلاً سماج کی تشکیل میں نظام ِتعلیم کا کرداراہم  ہوتاہے۔ نظام ِتعلیم میں طریقہ تدریس و تربیت ایسا ہو کہ طلبا کا باہمی ربط و تعلق بڑھے، وہ ایک دوسرے کی معاشرت ،ثقافت اور زبان سے واقف ہوسکیں۔ مروّجہ نظامِ تعلیم میں مزید تبدیلیاں لا کر اس میں علاقائی زبانوں سے واقفیت پیدا کی جائے تاکہ  پاکستان میں رہنے والے ایک دوسرے سے اجنبی نہ رہیں بلکہ انہیں ایک دوسرے کے ماحول ،رہن سہن اور علاقائی روایات کا علم ہو ۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیےپیغام ِپاکستان کے نام سے ایک دستاویز وجود میں آئی جس پر تقریباً دو ہزار کے قریب علما کرام نے دستخط کیے ہیں، یہ دستاویز بہت اہم ہے لیکن اس کے اثرات اس طرح مرتب نہیں ہوئے جیسے توقع کی جا رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ سمجھ آتی ہےکہ مدارس کا نظام ِتعلیم ،طریقہِ تدریس ، ان کا ماحول اوراس نظام ِتعلیم کے زیر اثر پروان چڑھنے والے فارغ التحصیل فضلاپاکستان کی مساجد میں امام اور خطیب کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں ۔اگر مدارس کا نظامِ تعلیم ،ماحول اور اساتذہ فرقوں کی بنیاد پرتعلیم دیتے ہوں،کلامی مسائل کو بیان کرتےہوئےان کی بنیاد پر دوسرے فرقے کے علما کی تکفیرو تضلیل کرتے ہیں تو معاشرے میں ہم آہنگی کیسے پیدا ہوگی؟ مدارس میں فضلا کرام کے رویے اسی ماحول میں پرورش پاتے ہیں تو وہ مساجد میں ایسے ہی موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں۔ اس لیے پیغام پاکستان پر دستخط کرنے والے علما کرام کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے مدارس میں موجود فرقہ واریت کو علمی اختلاف کے ماحول میں بدلنے کی کوشش کریں ،یعنی مدارس کا ایسا ماحول بنائیں جس میں دیگر علماے کرام کی رائے سے اختلاف کیا جائے تو اس میں توہین وتنقیص کا انداز نہ ہو بلکہ اپنی رائے علمی انداز سے پیش کر دی جائے۔ اس ماحول کو بہتر کرنے کے لیے اپنے اداروں میں دیگر مسالک کے علماے کرام کو دعوت دی جاسکتی ہے تاکہ اُن کا نقطہِ نظر اُن کی زبان سے سنا جائے ۔

پیغامِ پاکستان کی اہمیت کا انکار نہیں کیاجا سکتا اور میرا ماننا یہ ہے کہ ایسی دستاویز ات ارتقائی عمل میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں بشرطیکہ عملی اقدامات پر آمادگی اور ارادہ بھی ہو۔ معاشرہ مختلف اکائیوں سے قائم ہوتا اور آگے بڑھتا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ان مسائل کی نشاندہی کریں ،تشخیص کریں اور حل پیش کریں۔ اس سے آگے بڑھ کر معاشرے میں تذکیر و تلقین کا کام کریں ،ہماری یہ گزارشات اہل ِحل و عقد تک بھی ضرور پہنچتی ہیں جس سے ریاست و حکومت کو ایسے مسائل پر آگاہی ہوتی اور انہیں اقدامات لینے اور فیصلے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اقدامات میں سے چند اقدامات بہت ضروری ہیں، ایک یہ ہے کہ ٹیکس کا مربوط و مضبوط نظام قائم ہو  تا کہ آمدن و اخراجات کا مصرف جائز اور مثبت رہے۔ ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی ہے، پاکستانی عوام مذہب سے بے پناہ محبت کرتےہیں اور اسی محبت کی وجہ سے جذباتی استحصال کا بھی شکار ہوتے رہتے ہیں، جس نے بھی اسلام کا نعرہ لگایاعوام نے اپنا دھن دولت سب کچھ اس شخص پر وار دیا۔ گویا کاروباری طبقہ ایسے گروہوں اور اشخاص کی بہت زیادہ مددو نصرت کرتا ہے جس سے اِن کے دیے ہوئے پیسوں کو انہی کے مفاد کیخلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔دھرنوں ،جلوسوں اور مظاہروں سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔دوسرا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ ایسے Phenomena جن سے سماج، خاص طور پر نوجوان نسل انتہا پسندی یا جذباتیت کی طرف راغب ہوتی ہے ان کا کھوج لگایا جائے کہ ان کے پیچھے کونسی قوتیں کار فرماہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں، ایسے ہر ذریعے پر پابندی لگانی چاہیے جو معاشرے میں اضطراب اور بے چینی کا سبب بنتاہے۔

افلاطون نے کہا تھا کہ عمر رسید ہ لوگ ماضی اور نوجوان مستقبل کا سوچتے ہیں ۔حمزہ یوسف (مغربی سکالر) کہتے ہیں امت مسلمہ بوڑھی ہو چکی ہے اس کے پاس ماضی کا حوالہ ہے لیکن حال اور مستقبل کا حوالہ نہیں ہے۔ لمحہِ موجود میں زمانہ استقبال کو بدلنے کی خواہش اور ارادہ رکھنا در حقیقت ایک نوجوان اور زندہ قوم کی علامت ہے ۔بحیثیت پاکستانی ہم سب کو اپنا سماج بدلنے کی ہر کوشش میں شریک ہونا چاہیے۔ سماج تب بدلے گا جب ہم اپنے رویوں کوبدلیں گے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...