امریکاطالبان بات چیت: کیا یہ بیل منڈھے چڑھ پائے گی؟

ستمبر 2018 میں امریکا کی جانب سے زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیاگیا۔ اس تقرری کے بعد زلمے خلیل زاد دو بار قطر میں افغان طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کرچکے ہیں اور امریکاطالبان براہِ راست مذاکرات کےدوسرےمرحلے میں  پیر کے روز متحدہ عرب امارات میں انہوں نے پاکستان، متحدہ عرب امارات اور  سعودی عرب کے حکومتی نمائندگان کی موجودگی میں افغان طالبان کے وفد سےتیسری ملاقات کی ۔ تاہم اس ملاقات میں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔

افغان امن عمل کا آغاز 2012 میں طالبان کے دوحہ دفتر کے قیام سے ہوا ، 2013 میں امریکا کی جانب سے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے ارادے کے اظہار پر سابق افغان صدر حامد کرزئی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو معطل کردیا ۔بعد ازاں 2015 میں پاکستان کی ثالثی کے تحت  افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین ملاقات میں فریقین نے باہم بات چیت کے آغاز پر اتفاق کیا۔ امسال ، یعنی 2018 میں زلمے خلیل زاد کی طالبان نمائندوں سے تیسری ملاقات اسی امن عمل کی کڑی ہے جس میں افغان طالبان نے مکمل فوجی انخلا کے اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہتے ہوئے ملک میں سیاسی و انتظامی امور کےحوالے سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔

یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ فریقین صورتِ حال کاا دراک کرتے ہوئے باہم بات چیت پر آمادہ ہوئے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ حالیہ ملاقات میں افغان حکومت کی عدم نمائندگی مذاکراتی عمل پر کیا اثرات مرتب کرے گی؟ کیا کسی براہِ راست فریق کو نظر انداز کرنے سے بات چیت آگے بڑھ سکے گی؟ کیا افغان طالبان کی جانب سے  انخلا کے موقف میں کچھ نرمی برتنے سے مذاکرات کی کامیابی کی امید بندھ سکتی ہےاوراس سلسلے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان یا دیگر ہمسایہ ممالک کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟  کیا افغان جنگ کے تینوں براہِ راست فریق قیامِ امن کے لیےجزیات سے قطع نظرکرتے ہوئے  ایک بڑے مقصد کے لیے  باہم بات چیت کا عمل مستقل بنیادوں پر جاری رکھ سکتے ہیں؟

تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آرا کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...