بلوچستان:حقائق کو نظر انداز کیا جارہا ہے

275

وزیراعظم عمران خان نے قلعہ سیف اللہ کیڈٹ کالج کے طلبہ سے ملاقات کے دوران  کہاکہ بلوچستان کے مسائل کاحل گڈگورننس اورسی پیک ہیں۔ وزیراعظم  کا کہنا تھاکہ صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن اس کاسب سے بڑا مسئلہ گورننس رہاہے۔ انہوں نے طاقت وراورکمزورکے لیے قانون کے اطلاق میں امتیاز برتنے اورکرپشن کومسائل کی جڑقراردیا۔ ان کے نزدیک نچلی سطح تک اقتدارکی منتقلی سے معاملہ بہترکیاجاسکتاہے اور بلدیاتی نظام میں اگرفنڈزدیہات کی سطح پردیےجائیں توبہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

سی پیک کے بارے میں روزِاول سے ہی کہاجارہاہے کہ یہ بڑا منصوبہ بلوچستان کی تقدیربدل دے گا۔ چین کی مددسے چلنے والایہ پراجیکٹ پاکستان کے عوام کے لیےبالعموم اوربلوچستان کے عوام کے لیے بالخصوص خوشحالی کا باعث ہوگا۔ عمومی سطح پر یہ تاثرپھیلایاگیاہے کہ سی پیک کی وجہ سے آنے والی خوشحالی کے باعث بلوچستان سمیت ملک میں امن ہوجائے گا۔ لیکن بلوچستان کابینہ کوسی پیک پرجوبریفنگ دی گئی، اس کے اختتام پرکابینہ کے اراکین یہ جان کرحیران رہ گئے کہ پروپگنڈے کے برعکس سی پیک کے مجموعی حجم میں صوبے کاحصہ بہت ہی معمولی ہے۔ ایک روزہ اجلاس میں  چارگھنٹے کی بریفنگ میں انکشاف ہواکہ سی پیک میں بلوچستان کاحصہ محض 9 فی صد ہے جس کی مجموعی مالیت ساڑھے پانچ ارب ڈالرزکے برابرہے اور یہ کہ مغربی حصے سے منسلک منصوبوں پرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی اورکسی حدتک سی پیک کاحصہ ہی نہیں۔ گزشتہ چارسال کے دوران گوادراورحب پاورپلانٹ پرہی زیادہ کام ہوا۔ یوں چارسال میں ایک ارب ڈالرزخرچ کیے جاچکے ہیں جس کابڑا حصہ یعنی 200ملین حب پاورپلانٹ پرخرچ کیےجاچکے ہیں۔ بلوچستان میں سات سومیگاواٹ بجلی کی کمی کوپوراکرنے پرکام نہیں ہوا،پیٹ فیڈر،کوئٹہ ماس ٹرانزٹ پراخراجات اورقرضوں کا بوجھ صوبہ کوبرداشت کرناپڑے گا۔ صرف کوئٹہ ماس ٹرانزٹ پر9سوارب ڈالرزسے زیادہ خرچ ہوگا جوصوبے کے کل بجٹ سے تجاوزکرجاتاہے۔ اس میں زمین خریدنے، بے گھرافرادکی آبادکاری وغیرہ پرآنے  والی لاگت شامل نہیں ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے انڈکس کے مطابق 2017میں پاکستان کانمبر117تھاجبکہ 2016میں 169ممالک میں پاکستان کانمبر116تھا۔ یوں بدعنوانی کے اعتبارسے پاکستان کی حالت گھمبیرہے۔

بدعنوانی کے مضمرات ہمیشہ چارطرح سے سامنے آتے ہیں۔  اس کی ایک سیاسی قیمت جمہوریت اورقانون  کے متاثرہونے کی صورت سامنے آتی ہے۔ کرپشن کی وجہ سے جمہوری حکومت پرعوام کایقین متزلزل ہوجاتاہے اورقانون شکنی ہوتی ہے۔ یہ صورتِ حال مزیدقانون شکنی کی راہیں ہموارکرتی ہے۔ دوسری صورت میں معاشی قیمت قومی دولت لوٹے جانے کی صورت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں مختلف سرکاری شعبوں میں بدعنوانی جی ڈی پی کے دس فی صد کے برابرہے۔ تیسری صورت کرپشن کی ایک سماجی قیمت ہوتی ہے، جس کاخمیازہ   عام افراد کی پسماندگی اورکام کی خرابی کے ساتھ ساتھ  سیاسی نظام، حکومت، سیاسی جماعتوں اورلیڈرز پر عوام کے عدم ِاعتماد کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ چوتھی اور آخری صورت  کرپشن کی ماحولیاتی قیمت، ماحول کی بربادی کی صورت چکانی پڑتی ہے۔ ورلڈبینک کے مطابق پاکستان میں سالانہ ماحولیاتی قیمت جی ڈی پی کے چھے  فی صدیا 365بلین ڈالرزکے قریب ہے۔ اس کی مثال وہ صنعتی اورتعمیراتی منصوبے ہیں جس کی اجازت کرپشن کی وجہ سے دی جاتی ہے۔ پاکستان میں نیب اورسپریم کورٹ اس وقت اس حوالے سے سرگرم ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے دیگرحصوں کی طرح بلوچستان میں بھی کرپشن عام ہے۔ وزیراعلی بلوچستان کہتےہیں کہ 600ترقیاتی اسکیمیں محض کاغذات میں ہیں اورزمین پران کاکوئی وجودنہیں۔

غربت بڑھنے کی ایک اہم وجہ گورننس سے متعلق ایشوزہیں۔ ماہرین کے  مطابق 1988تک غربت میں کمی دیکھی گئی۔ 1999تک غربت7.6 سے بڑھ کر32.6 ہوگئی۔ اس کامطلب ہے کہ اگلی دہائی میں غربت کی شرح ملک میں دگنی ہوگئی۔ اگرچہ عالمی مالیاتی اداروں کے تجویزکردہ اسٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگرامز، شرح نمومیں سست روی، کم ہیومین ریسورس ڈیولیمنٹ، امنِ عامہ کے خراب حالات نے غربت کوبڑھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن اس کی بنیادی وجہ خراب نظم وضبط ہے۔یہ محض ایک نقطہ نظرہے۔

بیشترمحققین نے دنیامیں گزشتہ 30سال میں بڑھتی ہوئی غربت اورپسماندگی کی وجہ  عالمی اداروں اورآگنائزیشنز کی نیولبرل پالیسیوں پرعملدرآمد کوقراردیاہے۔ یہی نہیں بلوچستان کی حالت قیام پاکستان سے ہی خراب ہے۔ یہاں پاکستانی ریاست پانچویں بارفوجی آپریشن کررہی ہےجبکہ کرپشن میں اضافہ تو حال ہی کی  بات ہے۔ بلوچستان میں بلوچ اورپشتون قوم پرست آزادی کی تحریکوں کی  جڑیں کہیں زیادہ گہری اورتاریخی ہیں۔ بلوچ علاقوں میں علیحدگی کی سیاسی تحریک کے ساتھ مسلح جدوجہد بھی  ہورہی ہے۔ فرقہ وارانہ معاملات الگ ہیں۔ دس ہزارسے زائد افرادکےجبری لاپتہ ہونے کادعویٰ کیاجارہاہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں نے حال ہی میں کراچی میں چینی قونصل خانے پرحملہ کیا۔ فرقہ وارانہ اورنسلی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ خودکش حملوں میں بھی  لوگ مارے جارہے ہیں۔ جبکہ بلوچ علاقوں میں پاکستانی ریاست اس وقت ایک بھرپورفوجی آپریشن میں مصروف ہے۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ان حقائق کوبالکل نظراندازکرکے محض اچھی حکومت اورکرپشن کوبلوچستان کے تمام مسائل کی جڑقراردینا اوردیگرعوامل کونظراندازکرناباعث حیرت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...