انڈے پیداکرنے والےدس بڑے ممالک

بچپن میں انڈوں کے بارے کئی واقعات سن رکھے ہیں،جن میں ایک واقعہ یہاں لکھتا ہوں ،کہ ایک بار جاپان میں انڈوں کی کمی واقع ہونے پر حکمران وقت نے اپنی عوام سے کہا تھا، کہ انڈے فریج میں جمع کرنے کی بجائے ،فریجوں سے نکال کر بازار میں فروخت کر دئیے جائیں ،تاکہ انڈوں کی کمی واقع نہ ہو،لوگوں نے حکمران وقت کے اوپر اعتماد کرتے ہوئے، ایسے ہی کیا،تو یوں جاپانی عوام انڈوں کی قلت سے بچ گئی ،نیچے آپ کو بتائیں ،کہ آج وہی جاپان انڈوں کی پیدوار میں ٹاپ 10میں کس نمبر پر آچکا ہے۔

بہرحال انڈوں کی اہمیت عام دنوں میں بھی یقینی ہوتی ہے ،لیکن سردیوں میں ان انڈوں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ سردی کے موسم میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے امیروں او رغریبوں کو مرغی کے انڈوں کے پیچھے ایسے لگا دیا ہے،جیسے انہوں نے ماضی میں’’ کرپشن ‘‘کے ایک ہی موضوع پر بات کر کر کے عوام کو شعور دیا تھا۔

انڈوں کا کاروبار نہ صرف انتہائی منافع بخش ہے ،بلکہ انڈے میں شامل اجزا ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ انڈے پروٹین کے حصول کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ ہیں، یہ امینوایسڈز، اینٹی آکسائیڈنٹس اور آئرن سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اس کی زردی جسم میں چربی کے خلاف مزاحمت کرنے والے کولین کو بڑھاتی ہے جس سے موٹاپے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ایک برطانوی تحقیق کے مطابق انڈوں میں شامل جز کولین دماغی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے اس کی کمی مختلف دماغی امراض اور افعال کی کارکردگی میں تنزلی لانے کا باعث بنتی ہے۔تحقیق کے مطابق انڈے میں سلینیم کی اتنی مقدار ہوتی ہے جو جسمانی دفاعی نظام کو سپورٹ کرکے تھائی رائیڈہارمون کو ریگولیٹ کرتی ہے جس سے مختلف امراض سے تحفظ ملتا ہے۔

ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60.78 فیصد لوگ دیہات اور 40.22 فیصد لوگ شہروں میں رہتے ہیں۔ جن میں 29.5 فیصد لوگ غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،ایم پی آئی(Multidimensional Poverty (Index اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی مدد سے تیار کی گئی، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 39 فیصد لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔جن کی زیادہ تعداد بلوچستان اور فاٹا میں مقیم ہے. شہروں میں یہ سطح 9.3 فیصد جبکہ دیہات میں 54.6 فیصد ہے۔ پاکستان میں 5.90 فیصد لوگ بے روزگاری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت سے لوگ سرمایہ کاری اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار کرنے سے محروم ہیں۔ مرغیوں اور انڈوں کا کاروبار ایسا ہے، جس میں سرمایہ کاری نہایت کم ہے۔ اس کاروبار کو گھریلو سطح پر صرف 10 ہزار روپے سے شروع کیا جاسکتا ہے. اس کاروبار کو نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی کامیابی کے ساتھ چلا سکتی ہیں ۔10 ہزار کی سرمایہ کاری کے ساتھ 30 انڈے دینے والی مرغیاں 3 مہینوں میں 57 ہزار روپے منافع دے سکتی ہیں۔ اس کے بعد ان مرغیوں کو فروخت کر کے مزید پیسے بھی کمائے جا سکتے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ انڈوں کی پیداوار چائنہ میں 24.8 بلین کلوگرام ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی ایف او یو کے مطابق 2020 میں یہ پیداوار 34.2 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گی۔ انڈوں کی سب سے زیادہ پیداوار چائنہ کے صوبوں henna, Shandong, Hebei, Liaoning, Jiangsu, میں کی جاتی ہے۔ دوسرے نمبر پر انڈوں کی سب سے زیادہ پیداوار امریکہ میں 5.6 بلین کلو گرام سالانہ ہے۔سب سے زیادہ پیداوار پنسلوینیا، اوہیو، لووا، اور کیلیفورنیا میں ہوتی ہے۔بھارت تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں انڈوں کی سالانہ پیداوار 3.8 بلین کلوگرام ہے، جس میں سالانہ 8 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔جاپان میں ہر سال 2.522 بلین کلو گرام انڈوں کی پیداوار ہوتی ہے،جاپان ایشیاء میں انڈوں کی برآمد میں سب سے اوپر ہے اور پیداوار میں چوتھا بڑا ملک ہے۔انڈوں کی پیداوار میں میکسیکو دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ،جہاں انڈوں کی سالانہ پیداوار 2.516 بلین کلوگرام ہے۔ برازیل 2.2 بلین کلوگرام کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔ 1.22 بلین کلوگرام انڈوں کی پیداوار کی وجہ سے انڈونیشیا دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ترکی میں سالانہ 1.03 بلین کلوگرام پروڈکشن ہوتی ہے۔ ترکی کے انڈوں کا معیار یورپین یونین پولٹری اسٹینڈرز کے مطابق ہے۔(آپ کو یہاں حیرانگی ہوگی ،کہ دنیا نے ایگ کمیشن بھی بنا رکھے ہیں اور لوگ انڈوں کی پیدوار کے حوالے سے احساس ہیں ،تو تب یہ لوگ انڈوں کی کمی کو نہ صرف پورا کرتے ہیں ،بلکہ انڈوں سے اپنی معیشت کو سہارا بھی دیتے ہیں )۔ یہاں انڈوں کی پروڈکشن کا تعلق انٹرنیشنل ایگ کمیشن سے ہے۔فرانس میں انڈوں کی سالانہ پیداوار 0.94 بلین کلوگرام ہے اور یہ دنیا کا نواں بڑا پروڈیوسر ہے۔جرمنی 0.89 بلین کلوگرام کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔
آخر میں یہ ہی کہوں گا،کہ انڈے وہ ہی اچھے ہیں، جوگندے انڈے نہ ہوں

نوٹ :سوشل میڈیا کے عام قارئین کے لئے عرض ہے ،کہ یہاں ایک بلین کلوگرام سے سے مراد ایک سو کڑور انڈے ہیں

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...