قبائلی عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی

431

ستر سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے بارے  میں پاکستانی آئین و قانون میں توسیع کی گئی ۔پاکستان کے قبائلی علاقوں کی جغرافیائی سیاست اور تزویراتی  اہمیت کو دیکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے سابق قبائلی علاقوں میں ایک ایساغیر مہذب اور غیر انسانی قانون ایف سی آر نافذ کردیاتھا جس کے تحت نہ صرف وہاں آباد لوگوں کا منظم استحصال اورا ن کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوتا رہا بلکہ ایک ایسا طرزِحکومت پروان چڑھا جس کی وجہ سے ان علاقوں میں رشوت خوری، ڈرانے دھمکانے ، استحصالی نظام ،دہشت گردی ، بربریت اور تقسیم کرو اور حکومت کروکی پالیسی کو فروغ ملا۔

گزشتہ سال مئی میں تاریخ ساز پچیسویں آئینی و قانونی ترامیم کے ذریعے قبائلی علاقوں میں ایک صدی سے زیادہ عرصے تک قائم رہنے والے نظام کو ختم کرکے وفاق کے زیرانتظام سات ایجنسیوں اور چھ سرحدی علاقہ جات کو باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کردیاگیاتاکہ یہاں کے لوگوں کے احساس ِمحرومی وکمتری کو ختم کرکے باقی ملک کی طرح ان کو بھی سیاسی، صنعتی، کاروباری اور بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔تاہم پیچیدگیوں، الجھاؤ اور مختلف قسم کی مشکلات اور غیریقینی صورتِ حال سے بھرپور اس قوانین کونافذ تو کردیا گیالیکن ساتھ ہی کئی سوالات اور خدشات نےبھی جنم لیا۔ یہ مسائل موجودہ قبائلی انتظامی نظم  میں تبدیلی ، مختلف اداروں میں موجودحکا م اور قبائلی افواج جیسے لیویز اور خاصہ دار فورس کے کردار اور ذمہ داریوں میں تبدیلی سے متعلق ہیں۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں گورنمنٹ کے مختلف ڈھانچے کو قائم کرنے ، مقامی عدلیہ کی بھرتی اور پولیس تھانوں  کی تشکیل کا ضابطہ ِکار کیا ہوگا، یہ بھی واضح نہیں کیاگیا ۔ان علاقوں کی تنظیم وتعمیرِنو اور بحالی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جوعسکریت پسندی اور فوجی کارروائیوں کے سبب بری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔

یہ ہیں وہ مسائل جن کی وجہ سے سابق قبائلی علاقوں میں رہنے والےباشندوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھنے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔بطورِ خا ص ان لوگوں میں جو نظام  کا حصّہ ہیں یا کسی  کاروبار سے وابستہ ہیں۔ کیونکہ ان کو اداروں اور ذمہ داریوں کی حوالے سے اُن سفارشات کے بارے میں کوئی علم نہیں جس کی بنیاد پر ان علاقوں کوضم کیا گیا ہے جس کے وجہ سے مقامی آبادی ذہنی دباؤ اور مستقبل میں سرکاری خدمات جاری رکھنے کے بارے میں بڑی پریشانی کا سامنا کررہی ہے۔خاصہ دار فورسکی مثال لیجیے، ابھی تک ان سابق قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال رکھنے کی ذمہ داریاں نبھانے والے لگ بھگ تیس ہزار اہلکاروں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا جس کے وجہ سے یہ اہلکار کئی طرح  کے خدشات کا اظہار کررہےہیں۔

گزشتہ سال خیبر پختونخوا کے انتظامی اور پولیس افسران نے قبائلی علاقوں میں پولیس کے نظام کو وسعت دینے کے بارے میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی تھی مگر ابھی تک اس بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا ہے ۔خاصہ دار فورس کا قیام 1919 میں عمل میں لایا گیاتھا ۔شروع ہی سے خاصہ دار فورس ایک غیرروایتی فورس تھی ، انہیں کسی قسم کی تربیت دی جاتی تھی نہ ہی ان کی بھرتی کے لئے کوئی خاص طریقہ کار موجود تھا ۔ان کی خدمات کا دائرہ انتہائی محدودتھا۔ سڑک، سرکاری عمارت، ریل پٹڑی اور املاک کی حفاظت کےساتھ ساتھ علاقے میں وی آئی پی موومنٹ اور حکومتی پیغامات علاقے کے لوگوں تک پہنچانا ان کے ذمہ تھے۔ جن میں مختلف حکومتی نوٹسز، بیرونی وفود کی علاقے میں آمد،حکومت اور علاقے کے عوام کے درمیان مسائل کے حل کے لیےجرگوں کے انعقاد کی اطلاع وغیرہ جیسے افعال شامل تھے۔

ماضی کے برعکس 2005-2006 میں افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں جب دہشت گردی اور انتہا پسندی کا دور دورہ ہوا تو ان اہلکاروں کو باقاعدہ تربیت دینا شروع کی گئی  اور تربیت کی تکمیل پر خاصہ دار فورس کو لیویز فورس کا نام دیا گیا۔دہشت گردی کی روک تھا م میں خاصہ دارفورس کا کردار قابل تعریف ہے۔ مغربی سرحدی علاقے کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لیا تو سب سے پہلے اس کا شکار  مذکورہ فورس کے اہلکا ر بنے اورانہیں شہداء اور زخمیوں کی شکل میں بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ 27ما رچ 2009کو پاک افغان شاہراہ بھگیاڑی چیک پوسٹ کے قریب مسجد میں ایک خود کش دھماکے میں 113افراد مارے گئے جن میں 83خاصہ دار فورس کے اہلکار تھے۔تحصیل باڑہ اور جمرود کی سرحد پر واقع مختلف مقامات پر قائم چیک پوسٹوں سے خاصہ دار فورس کے 48 اہلکار شدت پسند تنظیموں نے اغوا کرکے قتل کردیا۔علاوہ ازیں مختلف واقعات میں 30اہلکار اغوا ہوئے جن میں سے  ایک کو مار دیا گیا جبکہ باقی اہلکاروں کو بات چیت کے بعد رہاکردیا گیا۔اتنی قربانیوں کے باوجود خاصہ دار فورس کو تنخواہ کے علاوہ کوئی مراعات حاصل نہیں ہیں۔

اسی طرح فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں تقریباََ گیارہ سو ملازمین کام کررہے تھے جن کا مستقبل خطرے میں ہے۔اسی طرح سابق قبائلی علاقوں میں بیشتر کاروی حضرات میں بھی بے چینی پائی جاتی ہےکیونکہ سابق قبائلی علاقوں میں زیادہ تر کاروبار غیر قانونی نوعیت کا ہے ۔ درہ آدم خیل غیر قانونی اسلحہ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ جہاں تقریباًچالیس سے پچاس ہزار لوگ براہ ِراست وابستہ ہیں جن میں ہنر مند افراد کی تعدا د آٹھ سے دس ہزارہے۔ حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے کہ آیا اس کاروبار کو قانونی حیثیت دی جائے گی کہ نہیں۔ اسی طرح بھنگ کے کاروبار سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ منسلک ہیں ۔اگر اس کاروبارکوختم کرنا ہےجیسا کہ  ظاہر ہے ختم کرنا چاہیے تو کیا حکومت نے اس کے متبادل کچھ سوچ رکھا ہے ؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جو قبائلیوں میں احساس محرومی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

بجائے اس کے کہ صوبائی اور مرکزی حکومت ان علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کرتی، ہسپتالوں ، سکول، کالجوں پر کام کیا جاتا اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جاتے ، حکومت نے پولیس اسٹیشنز کے قیام پر کام شروع کیا جو کسی بھی صورت قبائلیوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے اور اس کا ردِعمل ہم نے خیبر ، مومند، باجوڑ اضلاع میں دیکھا ہے لوگوں نے خیبرپختونخوا پولیس کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ محمود خان نے ابھی تک اس بات کا ادراک ہی نہیں کرپائے کہ قبائلی علاقے ان کے زیر اہتمام ہیں ۔اُنہوں نے ابھی ان علاقوں کی بہتری کے لیےکوئی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔گزشتہ چند سالوں کے دوران نہ صرف یہ کہ  دہشت گردی وانتہاپسندی نے قبائلی ڈھانچے کو تقسیم کیا بلکہ ریاست کے طرف سے بھی ان دشواریوں اور مسائل کو مکمل نظرانداز کیا گیا۔سوال یہ ہے کہ یہ نیا نظام کس طرح قدامت پسند روایتی  قبائلی ڈھانچے کو جدید ڈھانچے میں تبدیل کرےگا اور کس طرح عوام کی ذہنی حالت کو مصالحت، غیر جانبداری اور اس نظام سے ہم آہنگ کرے گا۔

اگرحکومت ان مسائل  اور مشکلات پر توجہ دیتی ہے تو قبائلی علاقوںمیں  قدرتی وسائل کی فراوانی کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں جو ان علاقوں کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ان علاقوں میں تجارت اور سیاحت کی ترقی کے لئے صنعتی اور اقتصادی مراکز اور ٹرانزٹ کی سہولیات کی تعمیر مقامی باشندوں کے لیے سود مند ہو سکتی ہے۔تاہم اس کے لیے ان علاقوں میں بنیادی شہری ڈھانچے کی ترجیحی بنیادوں پر بحالی ضروری ہے۔حکومت اگر چاہتی ہے کہ قبائلیوں میں احساس ِمحرومی نہ بڑھے تو اسے چاہیےکہ وہ ان مسائل کا سنجیدہ و دیرپا حل تلاش کرےورنہ غیر ریاستی عناصر اور ملک دشمن قوتیں اس احساسِ محرومی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کو ایک بار پھر تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...