اختصاص اور تدریس کا مسئلہ ۔۔۔ اشکالات سے امکانات تک

181

ایک تصور یہ ہے کہ علم کا آغازاشیا کے نام جاننے سے ہوا۔ پھر جوں جوں انسان آگے بڑھتا گیا علم کا دائرہ پھیلنا شروع ہوا۔ اشیا کی ماہیت، خواص، اثرات سے بات بڑھتی ہوئی،تعلق، تاثر اور تاثیر سے ہوتی ہوئی، اختراع، ایجاد اور تخلیق تک جا پہنچی۔  یہاں سے علوم کے نئے سوتے پھوٹ پڑے۔ ہر دائرے میں نئے دائرے بننے لگے، ہر دائرہ پھیلتا رہا، ہر نئے دائرے سے کچھ نئے رستے نکلنے لگے اور یوں شاخ در شاخ ہوتا ہوا یہ علم مختلف مضامین میں بٹتا چلا گیااور ہر علمی مضمون ایک نیا اور مکمل علم بن گیا۔

زیادہ عرصہ کی بات نہیں جب اکثر اکابرین کی سوانح میں لکھا جاتا تھا کہ آپ نے اپنے زمانے کے تمام متداولہ علوم حاصل کر لیے اور پھر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ جی بالکل ایک زمانہ تھا جب ایک شخص تمام مروجہ اور متداولہ علوم بشمول فلسفہ، مذہب، نفسیات، طب، ریاضی، فلکیات، ادب، سائنس وغیرہ وغیرہ کا بیک وقت ماہر ہوسکتا تھا۔ پھر ان تمام علوم میں اتنی ترقی ہوئی، اتنا پھیلاؤ پیدا ہوا، اتنی گہرائی آگئی کہ کسی کے لئے ان کا احاطہ کرنا ممکن نہ رہا۔ بلکہ اب نوبت یہاں تک ہے کہ ہر علمی مضمون بذات خود مختلف اختصاصی شاخوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا، اس طرح کہ اکثر ایک شاخ کو دوسری سے واسطہ نہ رہا یا یہ واسطہ قائم کرنے کی ہمت، صلاحیت اور وقت نہ رہا۔ جب علوم یوں ہاتھوں سے نکلنے لگے تو فکر پیدا ہوئی کہ علوم میں تعمل اور ضروری انضمام کے بغیر خود یہ علمی ترقی ہمیں نہ لے ڈوبے کیونکہ دوسرے علوم کی مدد کے بغیر صرف کسی ایک علم پر انحصار کرتے ہوئے کسی میدان کے مسائل پوری طرح حل نہیں کیے جاسکتے۔

علوم جوں جوں گنجلک، پیچیدہ اور اختصاصی ہوتے چلے گئے تعلیم و تدریس کا مسئلہ بھی پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ آج دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو علم کے بہاؤ، زمانے کی رفتار، وقت کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اپنے تعلیمی نظام و نصاب سے مطمئن ہوں۔ امریکہ جیسی عالمی طاقت جس کو اپنے ہتھیاروں، اپنی معیشیت، اپنے نظم و انصرام کے علاوہ اپنی جامعات پر بھی ناز ہے، وہاں بھی ماہرین تعلیم اپنے تعلیمی نظام سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں اور امریکی سکول سسٹم کی ناکامیوں کا رونا روتے ہیں کہ اس نصاب اور نظام سے نکلنے والے طالب علم اکثر زندگی کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے، نئے دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور اور ضروری مہارتیں حاصل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

تعلیم و تدریس کے میدان میں جو تجربے کیے جارہے ہیں ان میں سے ایک بہت دلچسپ تجربہ ’پراجیکٹ بیسڈ لرننگ‘ یا فنامنن بیسڈ‘ لرننگ کا ہے۔ تعلیم و تدریس کا یہ نیا تصور علوم کو مختلف مضامین جیسے تاریخ، سماجیات، لسانیات، طبیعیات، معاشیات، حساب وغیرہ کے خانوں میں تقسیم کر کے الگ الگ پڑھانے کی بجائے، جیسا کہ روایتی تدریس کا معمول ہے، حقیقی زندگی کے موجودہ مسائل اور فطری مظاہر کی بنیاد پر تعلیم دینے کو ترجیح دیتا ہے جس میں کسی ایک منتخب مسئلے یا مظہر کو سمجھنے کے لیے تمام متداولہ علوم کی ضروری مہارتیں بروئے کار لائی جاتی ہیں۔ عملی طور پر ان مسائل کو ایک پراجیکٹ کی شکل دے کر طلبہ کو ایک ٹیم کے اندر کام کرتے ہوئے مسائل کا حل پیش کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر آج کے انسانوں کو درپیش حقیقی مسائل جیسے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، پانی کی قلت، ہجرت یا امیگریشن کے مسائل، آبادی کا بڑھنا، مختلف خطوں میں شرح اموات و خواندگی، غربت، حقوق، میڈیا اور ٹیکنالوجی وغیرہ وغیرہ کو سمجھنے کے لیے پراجیکٹ بنائے جاتے ہیں اور ان سے متعلقہ جتنے بھی مضامین ہوسکتے ہیں جیسے حسابیات، تاریخ، جغرافیہ، معاشیات، سیاسیات، طبیعات، کیمیا، حیاتیات، ٹیکنالوجی وغیرہ کی مہارتوں کو ان مسائل اور مظاہر کی مناسبت اور مطابقت سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بظاہر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ علوم کی ترقی اور اختصاص اپنی جگہ بہت خوش آئند ہے لیکن اس کے نتیجے میں علوم کی کمپارٹمنٹالیزیشن (مختلف خانوں میں تقسیم) ہماری ذہنی تربیت اس طرح کرتی ہے کہ ہم چیزوں کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر سوچتے ہیں اور مسائل اور اشیا کا ایک جامع، کلی یا ہمہ گیر تصور قائم کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ یہ ناکامی معاشرے میں نئی تقسیم در تقسیم کا باعث بن جاتی ہے۔ ایک مسئلہ حل ہوتا ہے لیکن اس کے حل کے نتیجے میں اور بہت سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

مسائل و مظاہر کی بنیاد پرسکولوں میں  تدریس کا یہ تجربہ شمالی یورپ کے ملک فن لینڈ میں بڑی حد تک کامیابی سے کیا جارہا ہے۔ شائد کسی کو یہ گمان گزرے کہ اس طرح کی تدریس کا تجربہ صرف اعلی درجے کے طلبہ کے ساتھ کیا جا رہا ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس یہ طریقہ تدریس صرف سات سے پندرہ سال کے بچوں کو پڑھانے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

(جاری ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...