تحریکِ لبیک کا مستقبل

161

پنجاب میں تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف حکومتی کارروائی اور کارکنا ن کی پکڑ دھکڑ کے بعد سماجی ذرائع ابلاغ پر بہت دلچسپ اعلانات و بیانات گردش کرتے رہے۔ یہ دراصل تحریکِ لبیک کے چند ممبران کی طرف سے اخبارات میں شائع شدہ  اشتہارات کے تراشے تھے جن میں ان ممبران کی جانب  سے  جماعت سے لا تعلقی کا اعلان کیا گیا تھا اور حکومتی اداروں سےاستدعا بھی کہ انہیں اس ضمن میں’’مشکل‘‘ میں نہ ڈالا جائے۔ ایسے اعلانات اور جس طور تحریکِ لبیک  منتشر ہورہی ہے،ا  س سے بظاہر لگتا ہے کہ  یہ تحریک محض مانندِ حباب تھی۔

تاہم سوال یہ ہے کہ2018کے عام انتخابات میں مذکورہ جماعت کو پڑنے والے20 لاکھ سے زائد ووٹ کس بات کی غمازی کرتے ہیں؟ اس سوال کے کئی ایک جواب دیے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ  بریلوی بیداری یا پھر خادم حسین رضوی کی طلسماتی شخصیت اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خادم حسین رضوی یا پھر باباجی، جیسا کہ وہ اپنے  مریدوں کے ہاں جانے جاتے ہیں کی متاثر کن شخصیت نے بریلوی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔تاہم خادم حسین رضوی کے گزشتہ و حالیہ رفقا ءان کے بعد تحریک کے مستقبل کے بارے میں حتمی رائے  دینے سے قاصر ہیں۔

یہ خادم حسین رضوی کی شرربار شخصیت ہی تھی جس کے سبب حالیہ چند ایک سماجی و سیاسی واقعات بریلوی احساسات کی برانگیختگی کا ذریعہ بنے اور نتیجتاً  گزشتہ عام انتخابات میں انہیں سیاسی نام آوری  میں کامیابی حاصل ہوئی۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ تحریکِ لبیک چند ایک جذباتی مذہبی رہنماؤں کا گروہ ہے جو چند ایک برسوں سے معجزانہ کامیابی کے لیے گھات لگائے بیٹھے تھے۔تحریکِ لبیک کو ایک وقتی ابھار قرار دینے والے بعض افراد اس کی ذمہ داری پیر افضل قادری پر عائد کرتے ہیں جو حبِ جاہ کی خواہشات کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

1998 میں پیرا فضل قادری ابلاغِ عامہ کی توجہ حاصل کرنے میں اس وقت کامیاب رہے تھے جب انہوں نے بڑی بریلوی سیاسی تنظیم جماعتِ اہلِ سنت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے عالمی تنظیم اہلِ سنت کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا تھا ۔ ان کا مقصد ملک میں نظامِ مصطفیٰ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ یہ وہی دن تھے جن دنوں سابق  وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اپنی حکومت کی بقا  کے لیے تگ ودو کررہے تھے۔ وہ قانون میں ترمیم کے لیے مقننہ میں بل پاس کروانے کے خواہشمند تھے تاکہ ان کے اختیارات میں توسیع ممکن بنائی جا سکے۔بہ ایں اثنا جب عوام اور ابلاغِ عامہ میں اس ترمیمی بل کا چرچا تھا، پیر افضل قادری نے12 اکتوبر1998 کو جی  ایچ کیو کے سامنےاس مقصد کے لیے احتجاجی کیمپ لگا لیاکہ چونکہ  نواز شریف اور ان کی پارلیمان شریعت کے نفاذ کی اہلیت نہیں رکھتی، چنانچہ فوج اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر ملک میں شرعی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ان دنوں پیر افضل قادری اتنے معروف تھے جتنے کے آج ہیں اورنہ ہی  ان کے پیروؤں کی تعداد اس وقت ایک سو کا عدد مکمل کرپائی تھی۔تاہم جب فوج اقتدار پر قابض ہوئی تو پیر افضل قادری اور ان کے کارکنان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ان کا احتجاجی کیمپ اٹھوا لیا گیا اور انہیں اپنے کئی ساتھیوں سمیت چار ماہ کے لیے جیل میں بند کردیا گیا۔

عالمی تنظیم اہلِ سنت کا اساسی یک نکاتی ایجنڈا ملک میں نظامِ مصطفیٰ کےقیام کا مطالبہ تھا۔’’ہر جمعے کو تمام ممبران9 بجے صبح خاموشی سے ہاتھوں میں پلےکارڈز  اٹھائے کھڑے ہوتے جن پر تحریر ہوتا ’’ اے حکمرانوں! اپنی ذات  پر اور ملک میں نظامِ مصطفیٰ کا قیام عمل میں لاؤ‘‘۔‘‘ تاہم عددی قوت کی کمی کے سبب یہ تنظیم اپنے منصوبے میں کامیابی حاصل نہ کرپائی۔

پیر افضل قادری جہادی میدان  میں بھی دیوبندیوں کو مات دینے کا ارداہ رکھتے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے لشکرِ اہلِ سنت بھی ترتیب دیا جس کا مقصد راہِ خدامیں لڑنا اور اسلامی نظام کا قیام عمل میں لانا تھا۔ تاہم بعد ازاں  عسکری تنظیموں کے خلاف حکومتی اقدامات کے پیشِ نظر انہوں نے اس لشکر کو غیر فعال کردیا لیکن وہ ہنوزاپنے مسلکی ایجنڈے پر کام کررہےہیں۔ ان کے اپنے رفقا سمیت بیشتر لوگوں کو اس بات کی قطعاً توقع نہیں تھی کی انہیں اس قدر پذیرائی و حمایت میسر آئےگی یہاں تک کہ ان کی مسلکی بیان بازی آسیہ بی بی مقدمے تک آ پہنچے گی۔

دوسری جانب خادم حسین رضوی داتا دربار لاہور کی مسجد میں امام کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ چونکہ یہ مسجد محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام تھی اور خادم حسین رضوی یہاں حکومت کی جانب سے امام تعینات کیے گئے تھے اورکسی دوسرے مسلک اور بالخصوص  ریاست کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی  کے مجاز نہیں تھے۔ چنانچہ وہ اپنے خطبات میں محتاط تھے۔ لیکن جب آسیہ بی بی  کی حمایت کے سبب اپنے ہی  محافظ ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل ہونے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی نمازِ جنازہ کے لیے خادم حسین رضوی سے  کہا گیا تو انہوں نے مقتول گورنر کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا۔ یہ واقعہ ان کی زندگی میں ایک ہمہ گیر تبدیلی لایا اور انہوں نے اہانتِ مذہب سے متعلق قوانین کے حق میں اپنی  نئی تنظیم کے قیام کافیصلہ کیا۔

ایک ہی مقصد کے لیے جدوجہد پیر افضل قادری اور خادم حسین رضوی کو باہم قریب لے آئی۔ایک طرف خادم حسین رضوی کو تنظیمی نظم و نسق کا تجربہ نہیں تھا تو دوسری جانب پیر افضل قادری اپنی شخصیت میں کرشماتی یا متاثر کن خوبی نہیں رکھتے تھے۔ تحریکِ لبیک کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر دو رہنماؤں کا خیال تھا کہ  تحریک کی بنا  و نمواس نے کی ہے اور تمام تر جماعتی اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کے دعوے دار تھے۔  مشکل یہ تھی  کہ علامہ اشرف جلالی کی قیادت میں ایک گروہ پہلے ہی جماعت کو خیر باد کہہ چکا تھا  اور دونوں اس بات سے واقف تھے کہ جماعت میں مزید تفریق  تنظیمی ساخت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گی۔خادم حسین رضوی کے قریبی رفقا اس بات کی نفی نہیں کرتے کہ پیر افضل قادری کی جانب سے نفرت انگیز بیان بازی کے بعد جماعت میں پھوٹ پڑ سکتی ہے اور یہ کہ حالیہ حکومتی کارروائی اس عمل کو مہمیز عطا کر سکتی ہے۔

گزشتہ تین دہائیوں سے بریلوی جماعتیں گروہ بندی کا شکار رہی ہیں اور بریلوی قوت  انتشار کا شکار رہی ہے۔ تحریکِ لبیک پاکستان کے ظہور سے اس بات کی امید ہو چلی تھی کہ  یہ جماعت بریلویوں کی سیاسی قوت کو مجتمع کرنے میں کامیابی حاصل کرلے گی ،تاہم خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی جماعتی قیادت کے حوالے سے  باہمی چپقلش نے ان کے راستےجدا جدا کردیے۔ اگرچہ طاہر القادری کی منہاج القرآن اور   تحریکِ لبیک  کا باہم ان کے نظریات و عزائم  کے حوالے سے  کوئی تقابل نہیں بنتا لیکن  ہر دو جماعتوں کی قیادت کھوئی ہوئی اور منتشر بریلوی قوت کو مجتمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بریلوی جماعتوں نے جو سبق سیکھا ہے اور جو باقی ماندہ تنظیموں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہو سکتا ہے، وہ یہ کہ کوئی بھی واقعاتی  تحرک یا مقصد ایک پرجوش تحریک کو توجنم دے سکتا ہے لیکن یہ ایک منظم و مستحکم سیاسی جماعت کے قیام کے لیے ناکافی چیز ہے۔کئی ماہرین کا خیال ہے کہ آسیہ بی بی مقدمے پر عدالتِ عظمیٰ کے آخری فیصلے سے ایک دائرہِ عمل مکمل ہوا جس نے اس مقدمے کے ساتھ ہی جنم لیا تھا، اس دوران  کئی لوگوں کی جان گئی، ایک انتہا پسند تحریک کی نمو ہوئی  اور یہ مقدمہ مستقل سیاسی انتشار کا باعث بنا۔اب ایک بار پھر ماضی لوٹ آنے کو ہے۔ تحریکِ لبیک کو اپنا زور  برقرار رکھنے کے لیے نئے مواقع کی تلاش رہے گی۔ یقیناً اس کا انحصار  حکومتی رویے پربھی رہے گا کہ وہ کس طرح اس گروہ سے معاملہ کرتی ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان سے متعلق نرم حکومتی  رویہ نئے بنیاد پرست عناصر کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔

(ترجمہ: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...