ناول میں نئے بیانیہ کی جستجو

82

ہر نئے دور کا اختصاص اس کا نیا پن ہوتا ہے جو اسے باقی ادوار سے ممتاز و منفرد بناتا ہے۔ یہ نیا پن اس کے اخلاقی اور جمالیاتی نظام میں جھلکتا ہے اور اس کی اقدار، فنون اور ادب میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ یہ نیا پن ہر دور میں اوراپنے اجزا میں جداگانہ ہوسکتا ہے، لیکن اس کے بنیادی اصول اورڈھانچہ نہیں بدلتا۔ یہ نیا پن کیا ہے جس سے دیگر ادوار محروم ہوتے ہیں، ایک ناول نگار اس نئے پن کو تلاش کرنے میں اپنے عصر کی مدد کرتا ہے۔
آج کے دور کا نیا پن حقیقت کو دیکھنے کا نیا انداز ہے، جس کی ساخت پرداخت سائنسی پیش رفت نے کی، اور یہ پیش رفت خاص کر بیسویں صدی میں ایسی غیر معمولی تیزی سے ہوئی جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس پیش رفت نے انسان کے سوچنے اور سمجھنے کے سبھی رنگ ڈھنگ بدل کر رکھ دیے۔ نیا ناول اسی بدلے ہوئے زاویہ نگاہ کے افق سے پھوٹتا ہوا سورج ہے۔
وہ زمانہ بھی برا نہیں تھا جب انسانی سوچ آرکی ٹائپل سانچوں میں ڈھلی ہوئی تھی۔ آرکی ٹائپل سوجھ بوجھ کے زمانے میں انسان اپنے آپ کو اور انسان اور کائنات کے باہمی تعامل و تعلق کو بہت سادگی سے دیکھنے کی سہولت اور جواز رکھتا تھا۔ اسی کی بنیاد پرسیاہ و سفید اور اچھے ، برے کی تقسیم بہت واضح اور آسان تھی۔ سارا سماج اسی تقسیم کی بنیاد پر مخصوص کرداروں میں بٹا ہوا تھا، جو یا تو اچھے تھے، یا برے،ہیرو تھے یا ولن۔لیکن پھر کائناتی پیچیدگیوں کا عام ہوا اور انسانی سوچ نے ایٹم سے آگے  سفر کیا تو انسانی شخصیت کے ایسے گوشے بے نقاب ہوئے کہ پھر جو کچھ دکھائی اور سجھائی دیا، اس نے دیکھنے اور سمجھنے کے پیمانے بدل کر رکھ دیے اور سب کچھ گڈمڈ ہوکر رہ گیا۔ اچھے اور برے کے لیے پرانے زمانے کے معیارات، بوسیدہ تسلیم کرلیے گئے۔ کرداروں کی شناخت بدل گئی۔ ہیرو کے چہرے میں سے ولن اور ولن کے چہرے میں ہیرو کے خدو خال ابھرآئے۔ شیطان اور فرشتہ ایک ہی قالب میں سے پھوٹے۔ انسان کو شر اور خیر کا ملغوبہ مان لیا گیا  نہ کہ ان میں سے کسی ایک کا نمائندہ۔ ان دونوں قوتوں کو یوں آپس میں رلا ملا دیاگیا کہ آرکی ٹائپل کرداروں کا سارا نظام منہ کے بل نیچے آرہا۔
رہا سہاکام نظریہ اضافیت اور اس قبیل کے دیگر تصورات نے کیا جنھوں نے فزیکل سائنسز کو بھی فلسفے کے خار زار منطق میں لا اتارا۔ اس ایک شخص نے بلیک بورڈ پر ای از ایکوئل ٹو ایم سی ٹوایکوئیشن لکھی اور مادے کا وجود، جو صدیوں سے انسانی سوچ اور تخیل کو اپنا اسیر بنائے ہوئے تھا، یک جنبش قلم منسوخ کردیا۔
یوں نئے پن کا سورج طلوع ہوا جس نے نئے انسان کے خدوخال واضح کیے۔ نئی سائنسی پیش رفت ، عظیم عالمی جنگوں اورتہذیبوں کے تصادم، اور تاریخ کے اختتام کی بحثوں نے نئے دور کا ابتدائیہ لکھا۔  یہ تمام واقعات جیسے پلک جھپکتے میں ہوگئے۔ صرف انسان کا پرانا تصور ہی نہیں بدلا، ادب میں روایتی جمالیات، روایتی اخلاقی و سماجی اقدار اور شناختوں کے پیمانے بھی اس تبدیلی کی زد میں آئے۔ نئے دور کے انسان نے نئے پن کا سنہرا قلم اٹھا رکھا تھا۔ اسی سے اس نے یولیسز لکھا۔  ٹرائل اور دی فال اور ٹن ڈرم لکھا۔ یہ سبھی نئے افق روشن کرنے والے ادیب ہیں۔ یہ تمام آفاق مل کر نئے منظرنامے کو تشکیل دیتے ہیں۔ آج کا ناول نگار ان تمام آفاق کا وارث ہے۔ اس لیے اس کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری کا بوجھ ہے۔
نئے ناول نگار کی سب سے بڑی ذمہ داری ایسے ہمہ گیر بیانیہ کو تلاش کرنا ہے جو بیک وقت پیچیدہ اظہار کے موافق ہو لیکن بنیادی سادگی جو انسانی فہم کو ہنوز جکڑے ہوئے ہے، سے تہی نہ ہو۔ ایسا بیانیہ جو موجودہ پیچیدہ انسانی صورت حال کو اس کے تمام پہلوؤں سے بیان کرنے پر قادر ہو۔ جو انسانی وجود کی تہہ داری کی شناور ی کا حق ادا کرسکے اور ایک مشاق غوطہ خود کی طرح کبھی خالی ہاتھ نہ لوٹے، مٹھیاں موتیوں سے بھری ہوئیں اور نئے جہانوں کی مہک میں لپٹا ہوا جو پرانی مٹی میں اگا ایک نئے پھول جیسا ہو، جس کی خوش بو نئی حسیات کو اپنا اسیر بنالے۔ روایتی پیرایہ اظہار ان تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ نیا ناول نگار لسانی تجربات اور تکنیک اوراسلوب کے تنوع کی دریافت کے ذریعے اس بیانیہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ معلومات کا جادو جگانے والی چھڑی سے بھی محروم ہوچکا ہے جو کبھی بیانیہ کی وقعت بڑھانے میں جادو کا سا اثر رکھتی تھی۔ معلومات کا حصول فی زمانہ اتنا آسان ہوچکاہے کہ جیسے ان کی وقعت باقی ہی نہیں رہی۔
نئے ناول نگار کے لیے وجود کی دریافت بنیادی ہدف کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ وجود ہی جس سے پوری کائنات تخلیق ہوئی اور یہ آج کے ناول کا سب سے اہم موضوع ہے۔
وجود کے بیرون میں جتنی بھی مہمات رونما ہوتی ہیں، ان کے ڈانڈے میں بھی کہیں موجود ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے یہ سب مہمات جو ہمیں خارج میں دکھائی دیتی ہیں، اصل میں اندرون کی مہمات ہیں۔کائنات کا تعین وجود کے وسیلے سے ہوتا ہے، یہ ویسی ہی ہے جیسی وجود کے تجربے میں آتی ہے۔ کیوں کہ وجود بنیادی حوالہ ہےاور یہ جو کچھ بھی ہے، وجود کے اندرون کی کارفرمائی ہے۔ اسی کارفرمائی کو بیانیہ کی گرفت میں لانا نئے ناول نگار کے لیے ایک چیلنج ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ داخل کو اپنے بیانیہ کی قوت سے تسخیر کیے بغیر وہ خارج میں سانس بھی نہیں لے سکتا۔
یوں تان ٹوٹتی ہے وجود کی دریافت نو اوراس کے داخل کی وساطت سے خارج کی مہم جوئی پر۔خارجی مہم جوئی، یک رخے کردار اور سادہ حقیقت نگاری کی رنگ آمیزی تک محدود بیانیہ اب متروک ہوجانا چاہیے۔ زمانے کی کروٹ نے کبھی داستانوں کے وجود کو نگل لیا تھا تو اس کا سوگ منایا گیا تھا۔ ناول اسی کروٹ کا نتیجہ ہے۔ اب پھر سے کروٹ کی لہر ابھر رہی ہے۔ ناول ایک نئی صورت بھرنے کو ہے جو اسے نئی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدہ برآ کرنے کے لائق بنا سکے۔نہ   جانے اس کروٹ کے بعد ناول کی کیا صورت ہمارے سامنے آئےلیکن یہ حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر اس کروٹ کے اولین آثار ہمیں جیمز جوائس اور کافکا کے ہاں ملتے ہیں۔ یہ سفر مارکیز کے فکشن میں طلسمی حقیقت نگاری کی صورت میں آگے بڑھا۔اردو میں مرزا اطہر بیگ اس کے نقیب ہیں۔یہ سفر مسلسل خارج سے داخل کی طرف جاری ہے، جہاں تاریک گھپاؤں میں، جن تک رسائی کی انسان صدیوں سے جستجو کر رہا ہے اور اب کہیں اسے کچھ کامیابی کے آثار دکھائی دیے ہیں، وہاں کیا کچھ پنہاں ہو کون جانتا ہے۔ نیا ناول وجود کا صحیفہ ہے۔
شاید یہ بات اب سے پہلے ایسی آسانی سے نہیں کہی جا سکتی تھی کہ جو کچھ بھی ہے، وہ اندرون کے رنگوں سے بیرون میں بننے والے عکس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اندرون ہی سے بیرون کی تمام تر معنویت پھوٹتی ہے۔ وجود ہی سے کائنات کی تخلیق اور اس کی معنویت کی روشنی کا ظہور ہوا، اور اب یہ روشنی آنکھوں میں بھرے نیا ناول نگار نئے سرے سے خود کو، اور انسان کے کائنات سے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لائق ہوجانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...