یہ جنگ کس کی ہے؟

95

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے نئی بحث چھڑگئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے فوج کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ کے ہمراہ  شمالی وزیرستان کے حالیہ دورے کے دوران اعلان کیاہے کہ  دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک یا افواج نے کردار ادا نہیں کیا ، ہم نے اپنے ملک پر مسلط جنگ کی بھاری جانی و مالی قیمت ادا کی، ہم پرائی جنگ دوبارہ نہیں لڑیں گے۔ اس سے پہلے وزیراعظم نے کہاتھاکہ اس جنگ میں پاکستان کو123بلین ڈالرز کا نقصان ہوا اور70ہزارافراد ہلاک ہوئے۔ یوں وزیراعظم کا استدلال ہے کہ یہ جنگ،پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان نے فاٹا میں ڈرون حملوں اورپاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے بھی دیے تھے۔ اس طرح عمران خان کوشروع ہی سے اس جنگ پرتحفظات ہیں۔

وزیراعظم نے دہشت  گردی کے خلاف جنگ کو ملک پرتھوپی ہوئی یامسلط کردہ  جنگ قراردیا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ، پاکستان نے اپنی مرضی سے نہیں لڑی بلکہ پاکستان کواس جنگ میں ایک طریقے سے جھونکا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان ایک ایسے موقع پرکیاہے جب ممبئی پرحملوں کے دس سال پورے ہوئے، جس کاالزام پاکستان پرلگتاہے اورایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا جائزہ اگلے ماہ لیاجارہاہے۔ اس کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کوملنے والے قرضہ کوبھی پاکستان کے منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کیلئے ہونے والی فائنانس کوروکنے سے مشروط کردیاہے۔ یوں اگرپاکستان کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ منفی آتی ہے تویہ پاکستان کی معاشی پوزیشن پراثراندازہوگی۔

عالمی سطح پریہ اعتراض کیاجاتاہے کہ پاکستان  اس جنگ کوبے دلی سے لڑتاہے یا پوری قوت سے مگرملک کے اندرموجودشدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، پاکستان نے اچھے اوربرے طالبان کی تمیز پیداکی ہے اورافغانستان اورانڈیا میں برسرپیکارطالبان اورکشمیری مجاہدین کی مدد کرتاہے اوران کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتاہے۔ شدت پسند تنظیمیں آزادانہ اپنی سرگرمیاں برقراررکھے ہوئے ہیں، یہ ناصرف آزادی کے ساتھ اپنے اجتماعات منعقدکرتے ہیں بلکہ تعصب اورجنگ کی حامی شدت پسند وفرقہ ورانہ مذہبی تنظمیں انتخابات میں شریک ہوتی ہیں اورچندہ جمع کرنے میں ان کوکسی رکاوٹ کاسامنانہیں کرناپڑتا۔ اس طرح اگرپاکستان بلاواسطہ شدت پسندی اوردہشت گردی کوفروغ بھی نہیں دیتا توبالواسطہ اس کاحصہ ضروربنتاہے۔ امریکہ سمیت دوپڑوسی ممالک افغانستان اوربھارت کواس حوالے سے خصوصی تشویش ہے۔ یہ پاکستان پرالزام لگاتے ہیں کہ پاکستان، پڑوسی ممالک میں مداخلت کی راہیں ہموارکرنے میں مددگارثابت ہوتاہے۔

صدرجنرل مشرف سے لے کروزیراعظم عمران خان تک پاکستانی حکمران جنگ کے حوالے سے متضاد موقف اپناتے رہے ہیں۔ نیوزویک کے مطابق مارچ 2017میں اس وقت کی حکمران مسلم لیگ ن نے مطالبہ کیاتھاکہ سابق صدرجنرل مشرف کوافغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کواپنانے پرپھانسی دی جائے کیونکہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ایک عام تاثریہ ہے کہ نائن الیون کے وقت صدرجنرل مشرف کومجبوراً یہ جنگ اپنانی پڑی کیونکہ پاکستان پرعالمی دباؤ بہت زیادہ تھایا پاکستان کویہ جنگ اپنانے پرمجبورکردیاگیاتھا۔ یہی نہیں بلکہ بعدازاں پاکستان کواس جنگ کوسپورٹ کرنے کیلئے افغانستان میں نیٹوافواج کو  سپلائی کیلئے راستہ دینا پڑا اورافغانستان میں بڑھتی ہوئی مداخلت کوروکنے کے لیے افغان بارڈرکے ساتھ واقع  فاٹا میں فوجیں بھیجنی پڑیں جس سے جنگ پھیل گئی۔

کہنے کوتو پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373کے تحت دہشت کے خلاف جنگ کاحصہ بنا۔ مگریہ اب زبان  زدعام ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دنیابھرکے ممالک کوخبردارکیاتھاکہ یا توآپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔ صدرجنرل مشرف کہتاہے کہ جارج بش انتظامیہ نے جنگ میں ساتھ نہ دینے کی سزا کے طورپرپاکستان پربمباری کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جارج بش انتظامیہ کی طرف سے رچرڈ آرمٹیج  نے پاکستان انٹیلی جنس کے سربراہ کوفون پردھمکی دیتے ہوئے جنگ میں ساتھ دینے کوکہا۔

افغانستان میں طالبان کے لوٹ آنے اورجنگ میں شدت نے پاکستان پردباؤبڑھادیاہے۔ اب امریکہ کی طرف سے جنگ میں پاکستان کے کردارکے حوالے سے تحفظات کااظہارشروع ہوکر براہ راست الزامات اوردھمکیوں تک آگیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ مشکلات میں اضافہ پرپاکستان پرطالبان اورحقانی نیٹ ورک کوسپورٹ کرنے کے الزامات لگے۔ اس کے ساتھ جنگ، افغانستان سے پھیل کرفاٹا اورملک کے دیگرحصوں تک وسیع ہوتی گئی۔ پاکستانی طالبانی کی طرف سے فوج، سیاسی کارکنوں اورعوام کوکھلی جنگ اوردہشت گردحملوں میں نشانہ بنایاگیاتوپاکستان کی طرف سے جنگ کواپنانے کی صدائیں بھی بلندہونے لگیں۔ ہربڑے حملے کے بعد یہ دعوی شد ومد سے ہونے لگاکہ اب یہ ہماری جنگ ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ سے مارچ 2008میں اعتماد کاووٹ حاصل کرنے کے بعد قومی اسمبلی میں تقریرکرتے ہوئےکہاکہ “دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ہمارے معصوم بچے اورجوان شہید ہوئے۔”

16دسمبر2014کو پشاورمیں آرمی پبلک اسکول پردہشت گردحملہ ہوا جس میں 132طلبہ سمیت 149افرادمارے گئے۔ جس کے بعدسابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی بلائی گئی آل پارٹیزکانفرنس کے نتیجہ میں ایک مربوط لائحہ عمل بیس نکاتی “نیشنل ایکشن پلان” کے نام سے مرتب کیاگیا۔ یوں پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت نے جنوری 2015میں پانچ گھنٹوں کے اس اجلاس میں ایک بارپھرجنگ کواپنانے کااعلان کیا۔

پاکستانی ریاست اورریاستی اداروں کی طرف سے جنگ کے بارے میں متضاد رائے اورپالیسی نے سول سوسائٹی کوبھی تقسیم کردیاہے۔ مذہبی جماعتیں عام طورپردہشت گردی کے خلاف جنگ کی مخالف مگرپاکستان میں طالبان کے حملوں پرتحفظات کااظہارکرتی ہیں۔ یہ فوجی آپریشنوں پرشورمچاتے ہیں لیکن کسی بھی بڑے حملے اورہلاکتوں کے بعد مذمتی بیانات جاری کرتے ہیں اورجنگ سے نکلنے کی بات کرتے ہیں۔ دوسری طرف این جی اوز اورلبرل حلقے جنگ کواپنانے پرزوردیتے ہیں۔نوازشریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اقدامات اورخبریں اب ماندپڑگئیں ہیں۔ اب شاذونادرہی اس کاتذکرہ کیاجاتاہے۔

دوسری طرف امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے رویہ میں بھی بہت بڑی تبدیلی نوٹ کی جاسکتی ہے۔ پاکستان، امریکہ سے دوراورچین اورروس کاقریبی اتحادی بنتاجارہاہے۔ خطے میں حکمت عملی کے اعتبارسے نئےبننے والے اتحادوں کی وجہ سے دہشت کے خلاف جنگ کے حوالے سے تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔ افغان جنگ میں شدت پیداہوگئی ہے جبکہ پاکستان نے قبائلی علاقوں اورشہروں میں جنگ کے خلاف کافی حدتک اقدامات کیے ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود امریکی خدشات برقرارہیں اوراب انتہائی اقدامات کے طورپرپاکستان کی ہرقسم کی امدادبند کی گئی ہے۔ ان حالات میں پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے بیان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ بیان دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے  پاکستان کی نئی پالیسی کوواضح کرتاہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...